ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 36

اِنَّمَا یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ یَسۡمَعُوۡنَ ؕؔ وَ الۡمَوۡتٰی یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿؃ ۳۶﴾
قبول تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور جو مردے ہیں انھیں اللہ اٹھائے گا، پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ En
بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے
En
وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں۔ اور مُردوں کو اللہ زنده کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف ﻻئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) {اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا بھی پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے، یعنی ان کفار کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور ان مردوں کو اگر عقل آئے گی تو اسی وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان کا محاسبہ کرے گا۔ سورۂ نمل کی آیات(۸۰، ۸۱) اس کی ہم معنی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 اور ان کافروں کی حیثیت تو ایسی ہے جیسے مردوں کی ہوتی ہے۔ جس طرح وہ سننے اور سمجھنے کی قدرت سے محروم ہیں یہ بھی چونکہ اپنی عقل فہم سے حق کو سمجھنے کا کام نہیں لیتے اس لئے یہ بھی مردہ ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ بات تو وہی لوگ مانتے ہیں جو (دل کے) کانوں سے سنیں۔ رہے [41] مردے تو اللہ انہیں (روز قیامت) زندہ کرے گا پھر وہ اسی کے حضور واپس لائے جائیں گے
[41] جن لوگوں کو ہدایت مطلوب ہوتی ہے وہ تمہاری باتوں کو غور سے سنتے ہیں پھر وہ ہدایت قبول بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کے دل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مر چکے ہیں وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے یہ لوگ جیتے جی اپنے اختیار سے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ البتہ جب مر جائیں گے اور اللہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا تب انہیں اضطراری طور پر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ صرف وہی قبول کریں گے۔ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امر و نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سرتسلیم خم کریں گے ﴿ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ جو سنتے ہیں۔ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بد سب شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ ﴿ وَالْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ اور مردوں کو، زندہ کرے گا اللہ، پھر اس کی طرف وہ لائے جائیں گے اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ یہ معنی، مذکور بالا معنی کے بالمقابل ہوں، یعنی آپ کی دعوت کا جواب صرف وہی لوگ دیں گے جن کے دل زندہ ہیں، رہے وہ لوگ جن کے دل مر چکے ہیں جنھیں اپنی سعادت کا شعور تک نہیں اور جنھیں یہ بھی احساس نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں نجات دلائے گی تو ایسے لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے۔ اور نہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ ان کے لیے وعدے کا دن تو قیامت کا دن ہے اس روز اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ معاد کو متحقق کر رہا ہے کہ وہ قیامت کے روز تمام مردوں کو زندہ کرے گا، پھر ان کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کی ترغیب اور اس کا جواب نہ دینے پر ترہیب کو متضمن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {إنَّما يستجيب} لدعوتك ويلبِّي رسالتك وينقادُ لأمرك ونهيك، {الذين يسمعونَ}: بقلوبهم ما ينفعُهم، وهم أولو الألباب والأسماع، والمراد بالسماع هنا سماعُ القلب والاستجابة، وإلا فمجرَّد سماع الأذن يشترك فيه البَرُّ والفاجر، فكل المكلَّفين قد قامت عليهم حجة الله تعالى باستماع آياته، فلم يبق لهم عذرٌ في عدم القبول. {والموتى يبعثُهُم اللهُ ثم إليه يُرْجَعون}: يُحتمل أنَّ المعنى مقابل للمعنى المذكور؛ أي: إنما يستجيب لك أحياءُ القلوب، وأما أموات القلوب الذين لا يشعرون بسعادتهم ولا يُحِسُّون بما ينجيهم؛ فإنهم لا يستجيبون لك ولا ينقادون، وموعدهم القيامة، يبعثهم الله ثم إليه يُرْجَعون. ويحتمل أنَّ المراد بالآية على ظاهرِها، وأنَّ الله تعالى يقرِّر المعادَ، وأنه سيبعث الأموات يوم القيامة، ثم ينبِّئهم بما كانوا يعملون، ويكون هذا متضمِّنا للترغيب في الاستجابة لله ورسوله، والترهيب من عدم ذلك.