تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[29] حق ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور پرانا ہے لہٰذا محض پرانا ہونا غلط ہونے کی دلیل نہیں: انبیاء علیہم السلام جتنے بھی دنیا میں آتے رہے سب دعوت حق ہی پیش کرتے رہے اور ان کے منکر اور ہٹ دھرم بھی ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ یہ پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے بھی سن چکے ہیں گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ دین کے معاملہ میں کوئی نئی بات وہی پیش کر سکتا ہے جسے حق سے دشمنی ہو اور وہ اپنے ذہن سے کوئی نئی بات گھڑ کر اسے حق کے نام سے پیش کر دے کسی نئے فرقہ کی بنیاد ڈال دے۔ اس طرح اسے اس دنیا میں تو شاید بعض لوگوں کی پیشوائی کا مقام حاصل ہو جائے لیکن حقیقتاً وہ خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا شخص ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن هؤلاء المشركين قومٌ يحمِلُهم بعض الأوقات بعض الدواعي إلى الاستماع [لما تقول]، ولكنه استماعٌ خالٍ من قصد الحقِّ واتباعِهِ، ولهذا لا ينتفعونَ بذلك الاستماع لعدم إرادتِهِم للخير. {وجَعَلْنا على قلوبهم أكِنَّةً}؛ أي: أغطيةً وأغشيةً لئلاَّ يَفْقَهوا كلام الله، فصان كلامَه عن أمثال هؤلاء. {وفي آذانِهِم}: جعلنا {وَقْراً}؛ أي: صمماً، فلا يستمِعون ما ينفعهم، {وإن يَرَوْا كلَّ آيةٍ لا يؤمنوا بها}: وهذا غاية الظُّلم والعناد: أنَّ الآيات البيِّنات الدالَّة على الحقِّ لا ينقادون لها ولا يصدِّقون بها، بل يجادِلون الحق بالباطل لِيُدْحِضوه، ولهذا قال: {حتَّى إذا جاؤوك يجادِلونك يقولُ الذين كفروا إنْ هذا إلَّا أساطيرُ الأوَّلين}؛ أي: مأخوذ من صحف الأولين المسطورة التي ليست عن الله ولا عن رسله، وهذا من كفرِهم، وإلاَّ؛ فكيف يكون هذا الكتاب الحاوي لأنباء السابقين واللاحقين والحقائق التي جاءت بها الأنبياء والمرسلون والحق والقسط والعدل التام من كل وجهٍ أساطير الأولين؟!