تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ بعض لوگ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کے آنے کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اﷲ تعالیٰ کے آنے کا مطلب اس کے حکم کا یا عذاب کا آنا ہے، یہ لوگ اﷲ تعالیٰ کے زمین و آسمان کو پیدا فرما کر عرش پر بلند ہونے کے بھی منکر ہیں اور اس کے آسمان دنیا پر اترنے کے بھی، بلکہ عرش کو بھی نہیں مانتے۔ سورۂ حاقہ (۱۷) میں ہے کہ قیامت کے دن اﷲ کا عرش آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے۔ یہاں لاجواب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ متشابہات سے ہے، مگر اﷲ تعالیٰ کا آنا پھر بھی نہیں مانتے۔ اﷲ کے بندو! تم نے اﷲ تعالیٰ کو اپنے سے بھی عاجز سمجھ لیا کہ تم اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہو جاؤ، مگر اﷲ تعالیٰ کے لیے اپنی مرضی سے آنا جانا ممکن ہی نہیں مانتے۔ یہ سب نتیجہ یونانی فلسفے اور ان کے خدا کے متعلق تصورات سے متاثر ہونے کا ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق ہمارا ایمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ عرش پر ہے، ہر رات آسمانِ دنیا پر اترتا ہے، قیامت کے دن زمین پر آئے گا اور زمین اس کے نور سے روشن ہو جائے گی، مگر اس کا آنا مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ اس طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
➌ {اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ:} اس سے مراد صحیح احادیث کے مطابق قیامت کے قریب نمودار ہونے والی چند نشانیاں ہیں، جن میں سے سب سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج اپنے مغرب سے طلوع ہو گا، جب اسے لوگ دیکھیں گے تو جو بھی زمین پر ہوں گے ایمان لے آئیں گے، تو یہ وہ وقت ہو گا جب کسی جان کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو گی۔“ [بخاری، التفسیر، باب «لا ينفع نفسا إيمانها» : ۴۶۳۵] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین نشانیاں جب نمودار ہوں گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا آنا اور زمین سے جانور کا نکلنا۔“ [مسلم، الإیمان، باب بیان الزمن الذی لا یقبل فیہ الإیمان: ۱۵۸] عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے پہلے نکلنے والی نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے اور زمین سے ایک جانور کا دوپہر کے وقت لوگوں کے سامنے نکلنا ہے۔ دونوں میں سے جو بھی پہلے ہوئی دوسری قریب ہی اس کے پیچھے ہو گی۔“ [مسلم، الفتن، باب فی خروج الدجال و مکثہ فی الأرض……:۲۹۴۱]
اس جانور کا ذکر سورۂ نمل(۸۲) میں بھی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ مراد قیامت کی کوئی بھی بڑی نشانی ہے جس کے بعد اختیار ختم ہو جائے گا اور ایمان لانے اور توبہ کرنے کے بغیر چارہ ہی نہیں رہے گا، البتہ اکثر اہل ایمان کا رجحان مغرب سے سورج طلوع ہونے کی طرف ہے، جیسا کہ ہمارے استاد مولانا محمد عبدہٗ رحمہ اللہ نے صرف اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔
➍ {يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ ……:} طبری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ کسی کافر کو جو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے ایمان نہ لایا ہو اس کے طلوع ہونے کے بعد اس کا ایمان لانا اسے کوئی نفع نہیں دے گا اور کسی مومن کو بھی، جس نے طلوع سے پہلے نیک عمل نہ کیا ہو گا طلوع کے بعد وہ اسے نفع نہیں دے گا، کیونکہ اس وقت ایمان اور عمل کا حکم اس شخص کے ایمان و عمل جیسا ہے جو موت کے غرغرہ کے وقت ایمان لائے یا عمل کرے، جبکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا» [المؤمن: ۸۵] ” پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ اور جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ اﷲ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اس کا غرغرہ(موت کے وقت گلا بولنا) شروع نہ ہو۔ (ترمذی: ۳۵۳۷) اور ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کافر اس دن ایمان لائے گا تو اس سے قبول نہیں ہو گا لیکن جو اس سے پہلے مومن ہو گا تو اگر اپنے عمل میں درست ہو گا تو وہ بہت بڑی بھلائی پر ہو گا اور اگر درست نہیں ہو گا اور اس وقت توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے اور یہی مطلب ہو گا «أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَاخَيْرًا» کا، یعنی اس کا نیک عمل اس وقت قبول نہیں ہو گا جب وہ اس سے پہلے اسے کرنے والا نہ ہو گا۔
➎ { قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ:} ایمان لانے اور نافرمانی ترک کرنے میں دیر کرنے والوں کے لیے شدید دھمکی ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۱۸) اور سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین چیزیں ظاہر ہوں گی تو کسی کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا۔ جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو۔ دجال اور دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا“ [ترمذي۔ ابواب التفسير] اور موت کے وقت ایمان کے فائدہ نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نجات کا دار و مدار ایمان اور اعمال صالحہ دو باتوں پر ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر ایمان کے زبانی اقرار کی تصدیق تو اعمال صالحہ سے ہی ہو سکتی ہے۔ اور مرنے والے کو عمل کا وقت ہی نہیں ملتا لہٰذا مرتے وقت ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے جب یہ نشان ظاہر ہو جائے گا تو زمین پر جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لائیں گے لیکن اس وقت کا ایمان محض بے سود ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3635]
اور حدیث میں ہے { جب قیامت کی تین نشانیاں ظاہر ہو جائیں تو بے ایمان کو ایمان لانا، خیر سے رکے ہوئے لوگوں کو اس کے بعد نیکی یا توبہ کرنا کچھ سود مند نہ ہوگا۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دجال کا آنا، دابتہ الارض کا ظاہر ہونا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:158]
ایک اور روایت میں اس کے ساتھ ہی ایک دھویں کے آنے کا بھی بیان ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:158]
اور حدیث میں ہے { سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے بیشتر جو توبہ کرے اس کی توبہ مقبول ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2703]
{ ایک مرتبہ لوگ قیامت کی نشانیوں کا ذکر کر رہے تھے اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے { قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم کا آنا اور دجال کا نکلنا، مشرق، مغرب اور جزیرہ عرب میں تین جگہ زمین کا دھنس جانا اور عدن کے درمیان سے ایک زبردست آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانک لے جائے گی رات دن ان کے پیچھے ہی پیچھے رہے گی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2901]
ایک حدیث میں { حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کے اس جملے کو تلاوت فرما کر اس کی تفسیر میں سورج کا مغرب سے نکلنا فرمانا بھی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3071،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف ایک بڑا دروازہ کھول رکھا ہے جس کا عرض ستر سال کا ہے یہ توبہ کا دروازہ ہے یہ بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے نہ نکلے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3536، قال الشيخ الألباني:حسن]
اور حدیث میں ہے { لوگوں پر ایک رات آئے گی جو تین راتوں کے برابر ہوگی اسے تہجد گزار جان لیں گے یہ کھڑے ہوں گے ایک معمول کے مطابق تہجد پڑھ کر پھر سو جائیں گے پھر اٹھیں گے اپنا معمول ادا کر کے پھر لیٹیں گے لوگ اس لمبائی سے گھبرا کر چیخ پکار شروع کردیں گے اور دوڑے بھاگے مسجدوں کی طرف جائیں گے کہ ناگہاں دیکھیں گے کہ سورج طلوع ہوگیا یہاں تک کہ وسط آسمان میں پہنچ کر پھر لوٹ جائے گا اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوگا، یہی وہ وقت ہے جس وقت ایمان سود مند نہیں }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:111/3:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ تین مسلمان شخص مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے مروان ان سے کہہ رہے تھے کہ سب سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے یہ سن کر یہ لوگ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ بیان کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اس نے کچھ نہیں کہا مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان خوب محفوظ ہے کہ { سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا ہے اور دآبتہ الارض کا دن چڑھے ظاہر ہونا ہے }۔ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہو اسی کے بعد دوسری ظاہر ہوگی، عبداللہ کتاب پڑھتے جاتے تھے فرمایا ”میرا خیال ہے کہ پہلے سورج کا نشان ظاہر ہوگا وہ غروب ہوتے ہی عرش تلے جاتا ہے اور سجدہ کر کے اجازت مانگتا ہے اجازت مل جاتی ہے جب مشیت الٰہی سے مغرب سے ہی نکلنا ہوگا تو اس کی بار بار کی اجازت طلبی پر بھی جواب نہ ملے گا رات کا وقت ختم ہونے کے قریب ہوگا اور یہ سمجھ لے گا کہ اب اگر اجازت ملی بھی تو مشرق میں نہیں پہنچ سکتا تو کہے گا کہ یا اللہ دنیا کو سخت تکلیف ہوگی تو اس سے کہا جائے گا ’ یہیں سے طلوع ہو ‘ چنانچہ وہ مغرب سے ہی نکل آئے گا پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلات فرمائی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2941]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”بہت سے نشانات گزر چکے صرف چار باقی رہ گئے ہیں، سورج کا نکلنا دجال، دابتہ الارض اور یاجوج ماجوج کا آنا جس علامت کے ساتھ اعمال ختم ہو جائیں گے وہ طلوع شمس منجانب مغرب ہے۔“
ایک طویل مرفوع غیب منکر حدیث میں ہے کہ ”اس دن سورج چاند ملے جلے طلوع ہوں گے آدھے آسمان سے واپس چلے جائیں گے پھر حسب عادت ہو جائینگے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:114/3:ضعیف] اس حدیث کا تو مرفوع ہونے کا دعویٰ اس حدیث کے موضوع ہونے کا ثبوت ہے۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا وہیب بن منبہ رحمہ اللہ پر موقوف ہونے کی حیثیت سے ممکن ہے موضوع کی گنتی سے نکل جائے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”قیامت کی پہلی نشانی کے ساتھ ہی اعمال کا کاتمہ ہے اس دن کسی کافر کا مسلمان ہونا بے سود ہوگا، ہاں مومن جو اس سے پہلے نیک اعمال والا ہوگا وہ بہتری میں رہے گا اور جو نیک عمل نہ ہوگا اس کی توبہ بھی اس وقت مقبول نہ ہوگی۔“ جیسے کہ پہلے حدیثیں گزر چکیں برے لوگوں کے نیک اعمال بھی اس نشان عظیم کو دیکھ لیں گے بعد کام نہ آئیں گے۔
پھر کافروں کو تنبیہہ کی جاتی ہے کہ ’ اچھا تم انتظار میں ہی رہو تا آنکہ توبہ کے اور ایمان کے قبول نہ ہونے کا وقت آ جائے اور قیامت کے زبردست آثار ظاہر ہو جائیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ» ۱؎ [47-محمد:18]، ’ قیامت کے اچانک آ جانے کا ہی انتظار ہے اس کی بھی علامات ظاہر ہو چکی ہیں اس کے آچکنے کے بعد نصیحت کا وقت کہاں؟ ‘
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» [40-غافر:84-85] یعنی ’ پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نا معتقد ہوئے لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے۔ ہمارے عذابوں کا مشاہدہ کر لینے کے بعد کا ایمان اور شرک سے انکار بے سود ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: هل ينظر هؤلاء الذين استمر ظلمُهُم وعنادهم، {إلَّا أن يأتِيَهم}؛ مقدمات العذاب ومقدمات الآخرة؛ بأن تأتيهم {الملائكة} لقبض أرواحهم؛ فإنهم إذا وصلوا إلى تلك الحال؛ لم ينفعهم الإيمان ولا صالح الأعمال، {أو يأتي ربُّك}: لفصل القضاء بين العباد ومجازاة المحسنين والمسيئين {أو يأتي بعض آيات ربك}: الدالَّة على قرب الساعة. {يوم يأتي بعضُ آيات ربِّك}: الخارقة للعادة، التي يعلم بها أن الساعة قد دنت وأن القيامة قد اقتربت. {لا ينفعُ نفساً إيمانُها لم تكنْ آمنتْ من قبلُ أو كسبتْ في إيمانها خيراً}؛ أي: إذا وجد بعض آيات الله؛ لم ينفع الكافرَ إيمانُه إنْ آمنَ ولا المؤمنَ المقصرَ أن يزدادَ خيرُهُ بعد ذلك، بل ينفعه ما كان معه من الإيمان قبل ذلك، وما كان له من الخير الموجود قبل أن يأتي بعضُ الآيات. والحكمة في هذا ظاهرة؛ فإنه إنَّما كان الإيمان ينفع إذا كان إيماناً بالغيب وكان اختياراً من العبد. فأما إذا وجدت الآيات؛ صار الأمر شهادةً، ولم يبق للإيمان فائدةٌ؛ لأنه يشبه الإيمان الضروري؛ كإيمان الغريق والحريق ونحوهما ممَّن إذا رأى الموت أقلع عمَّا هو فيه؛ كما قال تعالى: {فلمَّا رأوا بأسنا قالوا آمنَّا بالله وحدَه وكَفَرْنا بما كنا به مشركينَ. فلم يَكُ ينفعُهم إيمانُهم لما رأوا بأسنا سُنَّةَ اللَّهِ التي قد خلتْ في عبادِهِ}
وقد تكاثرت الأحاديث الصحيحة عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنَّ المرادَ ببعض آيات الله طلوعُ الشمس من مغربها، وأنَّ الناس إذا رأوْها؛ آمنوا، فلم ينفعْهم إيمانُهم، ويغلقُ حينئذٍ باب التوبة. ولمَّا كان هذا وعيداً للمكذِّبين بالرسول - صلى الله عليه وسلم - مُنْتَظَراً وهم ينتظرون بالنبي - صلى الله عليه وسلم - وأتباعه قوارعَ الدهر ومصائب الأمور؛ قال: {قل انتَظِروا إنَّا منتَظِرون}: فستعلمون أيُّنا أحقُّ بالأمن.
وفي هذه الآية دليل لمذهب أهل السنة والجماعة في إثبات الأفعال الاختيارية لله تعالى؛ كالاستواء والنزول والإتيان لله تبارك وتعالى من غير تشبيه له بصفات المخلوقين، وفي الكتاب والسنة من هذا شيءٌ كثير.
وفيه أن من جملة أشراط الساعة طلوعَ الشمس من مغربها.
وأنَّ الله تعالى حكيمٌ قد جرت عادته وسنَّته أن الإيمان إنما ينفع إذا كان اختياريًّا لا اضطراريًّا كما تقدَّم، وأن الإنسان يكتسب الخير بإيمانه؛ فالطاعة والبرُّ والتقوى إنما تنفع وتنمو إذا كان مع العبد إيمانٌ، فإذا خلا القلب من الإيمان؛ لم ينفعْه شيءٌ من ذلك.