ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 151

قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمۡ عَلَیۡکُمۡ اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۵۱﴾
کہہ دے آئو میں پڑھوں جو تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے، (اس نے تاکیدی حکم دیا ہے) کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ خوب احسان کرو اور اپنی اولاد کو مفلسی کی وجہ سے قتل نہ کرو، ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور بے حیائیوں کے قریب نہ جائو، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔ En
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
En
آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 151) ➊ { قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ:} اب اﷲ تعالیٰ تفصیل سے بیان فرماتے ہیں کہ حرام وہ نہیں جو تم نے اپنی مرضی سے حرام بنا لیا، بلکہ وہ ہے جو تمھیں پیدا کرنے والے اور ہر لمحے پالنے والے نے تم پر حرام کیا ہے، آؤ! میں خود وہ تم سے بیان کرتا ہوں۔ یہ دس احکام ہیں جو اسلام کا خلاصہ ہیں۔
➋ { اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا: } یہاں بیان تو وہ چیزیں کرنی تھیں جو اﷲ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں، مگر بیان وہ چیزیں فرمائی ہیں جن کا نہایت تاکید کے ساتھ حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حرام کرنے سے تمھارے لیے جو حکم تاکید کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ گویا یہ مفہوم { حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ } کے ضمن ہی میں شامل ہے کہ یہاں { وَصَّاكُمْ بِهِ } محذوف ہے، یعنی اس نے تمھیں تاکیداً حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اس کی دلیل یہاں مذکور تینوں آیات کے آخری الفاظ ہیں: «ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ» ‏‏‏‏ یعنی یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے۔ اگر مراد ہوتا کہ یہ چیزیں حرام کی ہیں تو آخر میں یہ الفاظ ہونے چاہیے تھے: { ذٰلِكُمْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ } یعنی یہ ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلا تاکیدی حکم یہ دیا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نہ کسی انسان کو، نہ کسی جن کو، نہ کسی فرشتے کو، نہ کسی پہاڑ، پتھر، دریا یا درخت کو۔ غرض کوئی چیز کتنی بھی عظیم الشان ہو اسے اﷲ کا کسی بھی چیز میں شریک مت بناؤ، کیونکہ سب اﷲ کے پیدا کردہ ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اﷲ کا شریک بناؤ، حالانکہ اس نے تمھیں پیدا کیا۔ [بخاری، التفسیر، باب: ۴۴۷۷]
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک اﷲ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا۔ [النساء: ۱۱۶] اور اﷲ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کا قول ذکر فرمایا کہ جو بھی اﷲ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اﷲ نے اس پر جنت حرام کر دی۔ [المائدۃ: ۷۲]
➌ { وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا: اِحْسَانًا } فعل محذوف { اَحْسِنُوْا } کا مفعول مطلق ہے جس سے مقصود تاکید ہے، اس لیے ترجمہ خوب احسان کرو کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ والدین کو اﷲ تعالیٰ نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر ولادت اور دلی محبت کے ساتھ پالنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بندوں کے حقوق میں سے سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۲۳) اور سورۂ لقمان (۱۴، ۱۵)
➍ {وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ……: } پیدا ہو چکنے کے بعد یا جب کہ وہ ماؤں کے پیٹ میں ہوں، مثلاً کوئی دوا کھلا کر قبل از وقت حمل گرا دینا۔ سورۂ بنی اسرائیل (۳۱) میں بھی یہی حکم دیا گیا ہے، مگر یہاں اور وہاں دو فرق ہیں، یہاں {مِنْ اِمْلَاقٍ} (مفلسی کی وجہ سے) ہے اور وہاں{ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ } (مفلسی کے ڈر سے) ہے۔ اسی طرح یہاں { نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاهُمْ } (ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی) ہے اور وہاں{ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ } ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مقام پر ان لوگوں کی بات ہے جو مفلسی میں گرفتار ہیں۔ فرمایا کہ اس مفلسی میں انھیں قتل مت کرو، ہم مفلسی کے باوجود تمھیں جو روزی دیتے ہیں انھیں بھی دیں گے، جبکہ بنی اسرائیل میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مفلسی میں مبتلا تو نہیں مگر بچوں کے پیدا ہونے پر مفلسی سے ڈر رہے ہیں، فرمایا کہ ڈرو نہیں ہم انھیں بھی روزی دیں گے، تمھیں بھی تو دے رہے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ تمھارا یہ سمجھنا کہ روزی کے مالک تم خود ہو، بالکل غلط ہے، یہ ہمارا کام اور ہمارا ذمہ ہے۔ (دیکھیے ہود: ۶) کفار کا تو کہنا ہی کیا ہے، اس وقت مسلم حکومتیں اسی بہانے سے ضبطِ و ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر منظم طریقے سے قتل اولاد کا جرم کر رہی ہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، ہم زیادہ آبادی کی خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتے، حالانکہ یہ کفر کا کلمہ ہے۔ خوراک کا بندوبست تو اﷲ تعالیٰ کے ذمے ہے، بلکہ ان حکمرانوں کا تمام عیش ان مفلسوں کی محنت ہی کا نتیجہ ہے، جن کی خوراک کے وہ ذمہ دار بن رہے ہیں۔ ہر بچے کو اﷲ تعالیٰ کھانے کے لیے ایک منہ اور کمانے کے لیے دو ہاتھ دے کر بھیجتا ہے اور جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے زمین کے خزانوں کے منہ کھلتے جا رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر (۱۹ تا ۲۲)۔
➎ {وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ ……: اَلْفَاحِشَةُ }، { اَلْفَحْشَاءُ } اور { اَلْفَحْشُ} کا معنی ہے ہر وہ قول یا فعل جو قباحت میں بہت بڑھا ہوا ہو، مثلاً زنا، شدید بخل وغیرہ۔ (راغب) اس لیے اس کا ترجمہ بے حیائی کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے ایسے ہر کام کو خواہ ظاہر ہو، جیسے سب کے سامنے زنا یا قوم لوط کی حرکتیں کرنا، یا پوشیدہ، مثلاً چھپ کر زنا اور چوری وغیرہ کرنا، انھیں حرام قرار دیا۔ اس مقام پر ایسے ہر کام کے قریب جانے کو بھی حرام قرار دیا، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل (۳۲) میں زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا، کیونکہ قریب جانا ہی گناہ کے ارتکاب کا باعث بنتا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں، اسی لیے اس نے بے حیائی کی ظاہر اور پوشیدہ تمام شکلوں کو حرام قرار دیا ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «ولا تقربوا الفواحش ……» ‏‏‏‏: ۴۶۳۴]
➏ {وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ ……:} عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون، جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اﷲ کا رسول ہوں، تین صورتوں کے سوا کسی بھی صورت میں حلال نہیں:(1) جان کے بدلے جان (2) شادی شدہ زانی (3) دین سے جدا ہو کر (مسلمانوں کی) جماعت کو ترک کر دینے والا۔ [بخاری، الدیات، باب قول اﷲ تعالٰی: «‏‏‏‏إن النفس بالنفس والعين بالعين……» ‏‏‏‏: ۶۸۷۸] یا ان تینوں کے علاوہ جس کے قتل کرنے کا واضح حکم قرآن یا حدیث میں موجود ہو، مثلاً محارب (ڈاکو، باغی) یا محرم سے نکاح کرنے والا، انھیں قتل کرنا ناحق نہیں بلکہ حق ہے۔
➐ {لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ:} تاکہ تم سمجھو، عقل کرو، کیونکہ یہ ایسے کام ہیں کہ ان کا ارتکاب عقل کی خست کی دلیل ہے اور ان کاموں کی قباحت عقل بھی محسوس کرتی ہے، نصیحت اس لیے ہے کہ تم عقل کے تقاضے کے مطابق چلو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

151۔ 1 یعنی حرام وہ نہیں ہیں جن کو تم بلا دلیل، محض اپنے اوبام باطلہ اور ظنون فاسدہ کی بنیاد پر قرار دے رکھا ہے۔ بلکہ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کو تمہارے رب نے حرام کیا ہے، کیونکہ تمہارا پیدا کرنے والا اور تمہارا پالنہار وہی ہے ہر چیز کا علم بھی اسی کے پاس ہے اس لئے اسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس چیز چاہے حلال اور جس چیز کو چاہے حرام کرے۔ چناچہ میں تم کو ان باتوں کی تفصیل بتلاتا ہوں جن کی تاکید تمہارے رب نے کی ہے۔ 151۔ 2 ان لا تشرکوا سے پہلے اوصاکم محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو تم شریک مت ٹھہراؤ شرک سب سے بڑا گناہ ہے، جس کے لئے معافی نہیں، مشرک پر جنت حرام اور دوزخ واجب ہے۔ قرآن مجید میں ساری چیزیں مختلف انداز سے بار بار بیان ہوئی ہیں۔ اور نبی کریم نے بھی حدیث میں ان کو تفصیل اور وضاحت بیان فرمایا ہے۔ اس کے باوجود یہ واقع ہے کہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر شرک کا عام ارتکاب کرتے ہیں۔ 151۔ 3 اللہ تعالیٰ کی توحید و اطاعت کے بعد یہاں بھی (اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی) والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے جس سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اطاعت رب کے بعد اطاعت والدین کی بڑے اہمیت ہے، اگر کسی نے اس ربوبیت صغریٰ (والدین کی اطاعت اور ان سے حسن وَ لَوْ اَ نَّنَا 8 الا نعام 6 (سلوک) کے تقاضے پورے نہیں کیئے تو وہ ربوبیت کبریٰ کے تقاضے بھی پورے کرنے میں ناکام رہے گا۔ 151۔ 4 زمانہء جاہلیت کا یہ فعل قبیح آجکل ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے پوری دنیا میں زورو شور سے جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔ 151۔ 5 یعنی قصاص کے طور پر، نہ صرف جائز ہے بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف نہ کریں تو یہ قتل نہایت ضروری ہے ولکم (وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ) 2۔ البقرۃ:179) ' قصاص میں تمہاری زندگی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

151۔ آپ ان سے کہئے: ”آؤ! میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے [165] پروردگار نے تم پر کیا کچھ حرام کیا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک [166] نہ بناؤ۔ اور یہ کہ والدین [167] سے اچھا سلوک کرو، اور یہ کہ مفلسی کے ڈر [168] سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو (کیونکہ) ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں تو ان کو بھی ضرور دیں گے، اور یہ کہ بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ یہ کھلی [169] ہوں یا چھپی ہوں، اور یہ کہ جس جان کے مارنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرو الا یہ کہ حق [170] کے ساتھ ہو۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیداً حکم دیا ہے۔ شاید کہ تم عقل سے کام لو
[165] یعنی تم نے جو اپنی خود ساختہ شریعت بنا رکھی ہے اور خواہ مخواہ اپنے آپ پر کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کی تمہارے پاس کوئی علمی یا عقلی دلیل موجود نہیں۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں اور کتاب اللہ سے پڑھ کر سناتا ہوں کہ اللہ نے کیا کچھ تم پر حرام کیا ہے اور کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں جو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہیں اور ہمیشہ سے اللہ کی شریعت کا جزو رہی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ نے جن جن احکام کا ذکر فرمایا ہے مشرکین اور یہود دونوں ان کی خلاف ورزیاں کیا کرتے تھے۔
[166] مشرکین مکہ میں شرک کی تمام قسمیں پائی جاتی تھیں:۔
سب سے پہلی اور سر فہرست بات یہ ہے کہ کسی کو بھی اللہ کا شریک نہ بناؤ۔ شرک کی تین بڑی اقسام ہیں۔
(1) شرک فی الذات (2) شرک فی الصفات (3) شرک فی العبادات
اور یہ تینوں قسمیں ان مشرکوں اور یہودیوں میں موجود تھیں۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ پھر اپنے دیوی دیوتاؤں کی پوری نسل کو اللہ کی نسل بنا دیا تھا اور اس سے منسلک کر رکھا تھا۔ یہود عزیرؑ کو ابن اللہ کہتے تھے یعنی ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ عزیرؑ کے جسم میں حلول کر گیا تھا۔ شرک فی الصفات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرح کسی دوسری ہستی کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ یعنی جو کسی کی بگڑی بنا بھی سکتا ہو اور مشکلات میں پھنسا بھی سکتا ہو۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس ہستی کو عالم الغیب اور حاضر و ناظر اور صاحب تصرف و اختیار بھی سمجھا جائے۔ شرک کی یہ قسم بھی ان لوگوں میں عام تھی۔ اور شرک فی العبادات یہ ہے کہ جس ہستی کو مشکل کشا یا حاجت روا سمجھتا ہو اسے فریاد کے طور پر پکارے اس کی قربانی اور نذر و نیاز دے اور ان کی پرستش و تعظیم اس طرح کرے جیسے اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے۔
[167] والدین سے بہتر سلوک:۔
قرآن میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کے فوراً بعد والدین سے بہتر سلوک کا ذکر آیا ہے اس مقام پر بھی، سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 23 میں بھی اور سورۃ لقمان کی آیت نمبر 14 میں بھی۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کا حقیقتاً تربیت کنندہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے انسانی جسم کی ضروریات پیدا کیں۔ ہوا اور پانی پیدا فرمایا پھر انسان کی تمام تر غذائی ضروریات کو زمین سے متعلق کر دیا۔ پھر اس کے بعد ظاہراً انسان کی تربیت کے ذمہ دار اس کے والدین ہی ہوتے ہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی نافرمانی یا انہیں ستانے کو بڑے بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے۔ [بخاري۔ كتاب الادب۔ بابعقوق الوالدين من الكبائر]
والدین سے بہتر سلوک کے لیے دیکھئے۔ [سورة بني اسرائيل آيت نمبر 23، 24 كے حواشي نمبر 25 تا 28]
[168] قتل اولاد:۔
یعنی اگر خود تمہیں کھانے کو مل رہا ہے تو یقین رکھو کہ تمہاری اولاد کو بھی کھانے کو ملے گا اور وہ فاقہ سے مر نہیں جائیں گے۔ اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل کرنا صرف اللہ پر عدم توکل اور عدم اعتماد ہی کی دلیل نہیں بلکہ اس کی صفت رزاقیت پر براہ راست حملہ ہے جو مخلوق کو پیدا تو کیے جاتا ہے مگر اس کی تربیت کے لیے اس کی غذائی ضروریات فراہم نہیں کرتا۔ اسی لیے رسول اللہ نے اس گناہ کو بڑے بڑے گناہوں میں سے دوسرے نمبر پر شمار فرمایا ہے [بخاري۔ كتاب التفسير۔ باب ﴿فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادً]
قتل اولاد اور مالتھس نظریہ آبادی:۔
بات در اصل یہ ہے کہ انسان کی نظر محض ان ظاہری اسباب و عوامل پر ہوتی ہے جو اس وقت موجود ہوتے ہیں اور وہ مخفی اسباب جو اس وقت غیر موجود یا آئندہ زمانہ میں پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔ ظاہر بین ماہرین معاشیات اس مسئلہ میں اکثر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ برطانیہ کے مشہور ماہر معاشیات۔ مالتھس [1766۔ 1834ء] نے 1798ء میں ایک کتاب ’اصول آبادی‘ لکھ کر یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ انسانی آبادی جیومیٹری کے حساب یعنی 1۔ 2۔ 4۔ 8۔ 16 کی نسبت سے بڑھ رہی ہے جبکہ وسائل پیداوار حساب کی نسبت یعنی 1۔ 2۔ 3۔ 4۔ 5 کی نسبت سے بڑھتے ہیں اور اپنے اس نظریہ کے مطابق برطانیہ کی موجود آبادی اور وسائل پیداوار کا حساب لگا کر یہ پیشین گوئی کی کہ اگر انسانی پیدائش اور وسائل پیداوار کی یہی صورت حال رہی تو برطانیہ پچاس سال کے اندر اندر افلاس کا شکار ہو جائے گا۔ اور اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ انسانی پیدائش پر کنٹرول کیا جانا چاہیے اور شادی میں حتی الوسع تاخیر سے کام لینا چاہیے۔ لیکن تاریخ نے مالتھس کے اس نظریہ افلاس کو غلط ثابت کر دیا۔ پیدائش پر کنٹرول نہ کرنے کے باوجود برطانیہ کی خوشحالی بڑھتی گئی۔ اس کی اصل وجہ تو وہی ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جتنی خلقت پیدا کرتا ہے تو اس کے مطابق ان کے رزق کا بھی انتظام فرما دیتا ہے اور ظاہری سبب یہ بنا کہ برطانیہ میں صنعتی انقلاب آ گیا جس کے آغاز کا ذکر مالتھس نے خود بھی کیا ہے اور یہی وہ سبب تھا جو مالتھس کی نظروں سے اوجھل تھا مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا چنانچہ بعد میں آنے والے معیشت دانوں نے مالتھس کو ”جھوٹا پیشین گو“ کے نام سے یاد کیا۔ کیونکہ برطانیہ اس صنعتی انقلاب کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ خوشحال ہو گیا۔ مالتھس کا یہ سراسر مادی نظریہ ایک اور قباحت کو بھی اپنے ساتھ لایا اور یہ قباحت فحاشی اور بد کاری کی لعنت تھی جس کا اس آیت میں متصلاً ذکر ہوا ہے۔ مالتھس کے نزدیک برتھ کنٹرول یعنی حمل کو ادویات کے ذریعہ ضائع کر دینے کا عمل وقت کی بہت بڑی ضرورت تھی۔ یہی بات عیاشی، فحاشی اور بد کاری کا بہت بڑا سبب بن گئی۔ مالتھس کے بعد ایک تحریک اٹھی جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ نفس کی خواہش یعنی شہوانی خواہش کو آزادی کے ساتھ پورا کیا جائے۔ مگر اس کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو سائنٹیفک ذرائع سے روک دیا جائے۔ اس طبقہ کے لٹریچر میں جس طرز استدلال پر زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان کو فطری طور پر تین پر زور حاجتوں سے سابقہ پڑتا ہے اور وہ خوراک، آرام اور شہوت ہیں۔ اور تینوں باتوں کو پورا کرنے سے ہی انسان کو تسکین نصیب ہوتی ہے اور خاص لذت بھی۔ اب عقل اور منطق کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان کی تسکین کی طرف لپکے۔ پہلی دو باتوں کے متعلق تو انسان کا طرز عمل ہے بھی یہی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ تیسری چیز کے معاملہ میں انسان کا طرز عمل یکسر مختلف ہے۔ اجتماعی اخلاق نے یہ پابندی عائد کر رکھی ہے کہ اس خواہش کو نکاح سے باہر پورا نہ کیا جائے اور مزید پابندی یہ کہ اولاد کی پیدائش کو نہ روکا جائے یہ پابندیاں سراسر لغو، عقل اور منطق کے خلاف اور انسانیت کے لیے بدترین نتائج پیدا کرنے والی ہیں۔ یہ نظریات لوگوں میں مقبول ہوئے تو بے حجابی، فحاشی اور بد کاری کا بے پناہ سیلاب آ گیا پھر لطف کی بات یہ کہ انہی باتوں کو تہذیب و ترقی کی علامت سمجھا جانے لگا۔ اور مغرب اور مغربی تہذیب سے مرعوب تمام ممالک نے ان نظریات کو اپنے اپنے ممالک میں درآمد کرنا شروع کر دیا۔ تاکہ تہذیب و ترقی کی اس رفتار میں مغرب سے پیچھے نہ رہیں اور حد یہ کہ پردہ، عفت اور احکام الٰہیہ کا الٹا مذاق اڑایا جانے لگا اور آج یہ صورت حال ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اسی بے حجابی، بے حیائی، فحاشی اور بد کاری کو پھیلانے میں سرگرم عمل ہیں۔
خاندانی منصوبہ بندی:۔
دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی برتھ کنٹرول کا سرکاری محکمہ قائم ہو گیا اور اسے خوبصورت اور اچھے اچھے نام دیئے جانے لگے۔ پہلے اس محکمہ کا نام خاندانی منصوبہ بندی تجویز کیا گیا۔ پھر اسی محکمہ کا نام تبدیل کر کے محکمہ بہبود آبادی رکھ دیا گیا۔ لیکن چونکہ حمل کو ادویات کے ذریعہ روکنے کا عمل فطرت کے خلاف جنگ ہے لہٰذا اس کے نتائج توقعات کے خلاف نکلنا شروع ہو گئے۔ پہلے ایک آدمی کی اولاد اوسطاً چار بچے ہوتی تھی اور اب یہ اوسط 8 بچے تک سمجھی جاتی ہے اور پاکستان میں یہ محکمہ قائم ہونے کے بعد پیدائش کی رفتار پہلے کی نسبت سے بہت زیادہ ہو گئی ہے اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ ایسی مانع حمل ادویات استعمال کرنے والی عورتیں طرح طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
فطرت کے خلاف جنگ کے نتائج:۔
اب لوگوں کی معیشت کی طرف نظر کیجئے تو بھی حکومت کے خدشات لغو اور باطل ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان جب بنا تھا تو اس وقت اس کی آبادی پانچ اور چھ کروڑ کے درمیان تھی اور آج 51 سال بعد تیرہ کروڑ یعنی دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اب ہر شخص اپنے ہی حالات پر نظر کر کے دیکھ لے کہ پاکستان بننے کے وقت اس کی معاشی حالت کیا تھی اور آج کیا ہے؟ آج ہر شخص اس وقت کی نسبت سے بہت زیادہ خوشحال ہے اور اس دوران اللہ تعالیٰ نے کئی زمینی خزانے پاکستان کو عطا فرمائے جن کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔ ان چشم دید اور ہر شخص کے تجربہ میں آنے والے واقعات کے بعد اللہ تعالیٰ کی رزاقیت، اس کے وسعت علم اور اس کی قدرت کاملہ میں کوئی شک کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟
[169] یعنی ایسے وسائل بھی اختیار نہ کرو جو تمہیں بے حیائی کے کاموں کے قریب لے جائیں اور انسان کے جنسی جذبات میں تحریک پیدا کریں۔ جیسے بے حجابی۔ غیر محرم عورت کی طرف دیکھنا، تماش بینی، سینما، ٹی وی، جنسی لٹریچر کا مطالعہ، عورتوں کی تصاویر کی عام نشر و اشاعت سب کچھ اس ضمن میں آتا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آنکھوں کا زنا (غیر عورتوں کو دیکھنا ہے) کانوں کا زنا (فحاشی کی باتیں سننا ہے) زبان کا زنا (فحاشی کی بات چیت کرنا ہے) ہاتھ کا زنا (پکڑنا ہے) اور پاؤں کا زنا (چلنا ہے) دل کا زنا، اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے۔ پھر شرمگاہ، ان سب کی یا تو تصدیق کر دیتی ہے۔ یا تکذیب۔“ [مسلم۔ كتاب القدر۔ باب قدر على ابن آدم حظه الزنا]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں۔ اسی لیے تو اس نے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کر دیا۔“ نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کو سب سے زیادہ غیرت اس بات پر آتی ہے جب وہ اپنے کسی بندے یا بندی کو زنا کرتے دیکھتا ہے۔“ [بخاري۔ كتاب النكاح۔ باب الغيرة]
[170] قتل بالحق کی صورتیں:۔
قرآن کی رو سے تین صورتوں میں قتل کرنا برحق اور جائز ہے۔
(1) قتل عمد کے قصاص کی صورت میں (2) میدان میں کفار کا قتل (3) بغاوت یعنی دیار اسلام میں بدامنی پھیلانے والے اور اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے والے کا قتل۔
اور سنت کی رو سے دو صورتیں ہیں (1) شادی شدہ جو زنا کرے اور (2) جو شخص ارتداد کا مرتکب ہو یعنی اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لے۔ یہ کل پانچ صورتیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی کو قتل کرنا قتل ناحق کہلاتا ہے۔ اور اس گناہ کو رسول اللہ نے سات بڑے ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے تیسرے نمبر پر شمار کیا ہے۔ [بخاري۔ كتاب المحاربين۔ باب رمي المحصنات]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں ٭٭
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں کو «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» [الأنعام:151تا153]‏‏‏‏ تک پڑھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3070،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سورۃ الأنعام میں محکم آیتیں ہیں پھر یہی آیتیں [الأنعام:151تا153]‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائیں۔
{ ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: { تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے }، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا: { جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے چاہے تو سزا دے} }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:318/2:صحیح]‏‏‏‏
بخاری مسلم میں ہے { تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:18]‏‏‏‏
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سلام علیہ سے فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین کو جو اللہ کی اولاد کے قائل ہیں اللہ کے رزق میں سے بعض کو اپنی طرف سے حلال اور بعض کو حرام کہتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسروں کو پوجتے ہیں کہہ دیجئیے کہ سچ مچ جو چیزیں اللہ کی حرام کردہ ہیں انہیں مجھ سے سن لو جو میں بذریعہ وحی الٰہی بیان کرتا ہوں تمہاری طرح خواہش نفس، توہم پرستی اور اٹکل و گمان کی بناء پر نہیں کہتا ‘۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کی وہ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ کلام عرب میں ہوتا ہے کہ ایک جملہ کو حذف کر دیا پھر دوسرا جملہ ایسا کہہ دیا جس سے حذف شدہ جملہ معلوم ہو جائے اس آیت کے آخری جملے «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم» سے «أَلَّا تُشْرِكُوا» اس سے پہلے کے محذوف جملے «وَصَّاكُمْ» پر دلالت ہوگئی۔ عرب میں یوں بھی کہہ دیا کرتے ہیں «أَمَرْتُكَ أَلَّا تَقُومَ»
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ داخل جنت ہوگا تو میں نے کہا { گو اس نے زنا کیا ہو، گو اس نے چوری کی ہو؟ } آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں گو اس نے زنا اور چوری کی ہو۔‏‏‏‏ میں نے پھر یہی سوال کیا مجھے پھر یہی جواب ملا پھر بھی میں نے یہ بات پوچھی اب کے جواب دیا کہ گو شراب نوشی بھی کی ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6443]‏‏‏‏
بعض روایتوں میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موحد کے جنت میں داخل ہونے کا سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا تھا اور آخری مرتبہ فرمایا تھا { اور ابوذر کی ناک خاک آلود ہو } چنانچہ راوی حدیث جب اسے بیان فرماتے تو یہی لفظ دوہرا دیتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5727]‏‏‏‏
سنن میں مروی ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور میری ذات سے امید رکھے گا میں بھی تیری خطاؤں کو معاف فرماتا رہوں گا خواہ وہ کیسی ہی ہوں کوئی پرواہ نہ کروں گا تو اگر میرے پاس زمین بھر کر خطائیں لائے گا تو میں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت اور بخشش لے کر آؤں گا بشرطیکہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو گو تونے خطائیں کی ہوں یہاں تک کہ وہ آسمان تک پہنچ گئی ہوں پھر بھی تو مجھ سے استغفار کرے تو میں تجھے بخش دوں گا ‘ }۔ [مسند احمد:172/5:حسن لغیره]‏‏‏‏
اس حدیث کی شہادت میں یہ آیت آسکتی ہے «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا» ۱؎ [4-النساء:48]‏‏‏‏ یعنی ’ مشرک کو تو اللہ مطلق نہ بخشے گا باقی گنہگار اللہ کی مشیت پر ہیں جسے چاہے بخش دے ‘۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { جو توحید پر مرے وہ جنتی ہے }۔ [صحیح مسلم:92]‏‏‏‏
اس بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں -ابن مردویہ میں ہے کہ { اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گو تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں یا تمہیں سولی چڑھا دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے } -
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا [١]‏‏‏‏ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا گو تم جلا دیئے جاؤ یا کاٹ دیئے جاؤ یا سولی دے دیئے جاؤ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:8058/5:اسنادہ فیہ جھالتہ]‏‏‏‏
اس آیت میں توحید کا حکم دے کر پھر ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہوا «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23]‏‏‏‏ بعض کی قرأت «وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» بھی ہے۔
قرآن کریم میں اکثر یہ دونوں حکم ایک ہی جگہ بیان ہوئے ہیں جیسے آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [31-لقمان:14-15]‏‏‏‏ میں مشرک ماں باپ کے ساتھ بھی بقدر ضرورت احسان کرنے کا حکم ہوا ہے۔
اور آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» ۱؎ [2-البقرۃ:83]‏‏‏‏، میں بھی دونوں حکم ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں اور بھی بہت سی اس مفہوم کی آیتیں ہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے { سیدنا ابن مسعود فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نماز وقت پر پڑھنا } -میں نے پوچھا پھر؟ فرمایا: { ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا }، میں نے پوچھا پھر؟ فرمایا: { اللہ کی راہ میں جہاد کرنا } -میں اگر اور بھی دریافت کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5970]‏‏‏‏
ابن مردویہ میں عبادہ بن صامت اور ابودرداء سے مروی ہے کہ { مجھے میرے خلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ اپنے والدین کی اطاعت کر اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو ان کیلئے ساری دنیا سے الگ ہو جائے تو بھی مان لے }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:5589/5:حسن]‏‏‏‏ اس کی سند ضعیف ہے۔
باپ داداؤں کی وصیت کرکے اولاد اور اولاد کی اولاد کی بات وصیت فرمائی کہ انہیں قتل نہ کرو جیسے کہ شیاطین نے اس کام کو تمہیں سکھا رکھا ہے لڑکیوں کو تو وہ لوگ بوجہ عار کے مار ڈالتے تھے اور بعض لڑکوں کو بھی بوجہ اس کے کہ ان کے کھانے کا سامان کہاں سے لائیں گے، مار ڈالتے تھے۔
{ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کے ساتھ شریک کرنا حالانکہ اسی اکیلے نے پیدا کیا ہے }۔ پوچھا پھر کون سا گناہ ہے؟ فرمایا: { اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ یہ میرے ساتھ کھائے گی }۔ پوچھا پھر کون سا ہے؟ فرمایا: { اپنی پڑوس کی عورت سے بدکاری کرنا } پھر حضور نے آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68]‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7420]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے «وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:31]‏‏‏‏ ’ اپنی اولاد کو فقیری کے خوف سے قتل نہ کرو ‘، اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہاری روزی بھی ہمارے ذمہ ہے ‘۔
یہاں چونکہ فرمایا تھا کہ ’ فقیری کی وجہ سے اولاد کا گلا نہ گھونٹو ‘ تو ساتھ ہی فرمایا ’ تمہیں روزی ہم دیں گے اور انہیں بھی ہم ہی دے رہے ہیں ‘۔
پھر فرمایا کسی ظاہر اور پوشیدہ برائی کے پاس بھی نہ جاؤ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:33]‏‏‏‏، یعنی ’ تمام ظاہری، باطنی برائیاں، ظلم و زیادتی، شرک و کفر اور جھوٹ بہتان سب کچھ اللہ نے حرام کر دیا ہے ‘ -اس کی پوری تفسیر آیت «وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:120]‏‏‏‏ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
صحیح حدیث میں ہے { اللہ سے زیادہ غیرت ولا کوئی نہیں اسی وجہ سے تمام بے حیائیاں اللہ نے حرام کردی ہیں خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4634]‏‏‏‏
{ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تو ایک ہی وار میں اس کا فیصلہ کر دوں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا یہ قول بیان ہوا تو فرمایا: { کیا تم سعد کی غیرت پر تعجب کر رہے ہو؟ واللہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور میرا رب مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، اسی وجہ سے تمام فحش کام ظاہر و پوشیدہ اس نے حرام کر دیئے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7316]‏‏‏‏
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ہم غیرت مند لوگ ہیں۔‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ میں بھی غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ یہ غیرت ہی ہے جو اس نے تمام بری باتوں کو حرام قرار دے دیا ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:326/2:صحیح وهذا اسناد ضعیف]‏‏‏‏ اس حدیث کی سند ترمذی کی فباء پر ہے ترمذی میں یہ حدیث ہے کہ { میری امت کی عمریں ساٹھ ستر کے درمیان ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2331،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
اس کے بعد کسی کے ناحق قتل کی حرمت کو بیان فرمایا گو وہ بھی فواحش میں داخل ہے لیکن اس کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ کرکے بیان فرما دیا۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { جو مسلمان اللہ کی توحید اور میری رسالت اقرار کرتا ہو اسے قتل کرنا بجز تین باتوں کے جائز نہیں یا تو شادی شدہ ہو کر پھر زنا کرے یا کسی کو قتل کر دے یا دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6878]‏‏‏‏
مسلم میں ہے { اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کسی مسلمان کا خون حلال نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1676]‏‏‏‏
ابوداؤد اور نسائی میں تیسرا شخص وہ بیان کیا گیا ہے { جو اسلام سے نکل جائے اور اللہ کے رسولوں سے جنگ کرنے لگے اسے قتل کر دیا جائے گا یا صلیب پر چڑھا دیا جائے گا یا مسلمانوں کے ملک سے جلا وطن کردیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4502،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ باغی آپ رضی اللہ عنہ کو محاصرے میں لیے ہوئے تھے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کسی مسلمان کا خون بجز ان تین کے حلال نہیں ایک تو اسلام کے بعد کافر ہو جانے والا دوسرا شادی ہو جانے کے بعد زنا کرنے والا اور بغیر قصاص کے کسی کو قتل کر دینے والا -اللہ کی قسم نہ تو میں نے جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام لانے کے بعد، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی میں نے کسی اور دین کی تمنا کی اور نہ میں نے کسی کو بلا وجہ قتل کیا۔ پھر تم میرا خون بہانے کے درپے کیوں ہو؟۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابوداود:4502،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
حربی کافروں میں سے جو امن طلب کرے اور مسلمانوں کے معاہدہ امن میں آجائے اس کے قتل کرنے والے کے حق میں بھی بہت وعید آئی ہے اور اس کا قتل بھی شرعاً حرام ہے۔
بخاری میں ہے { معاہدہ امن کا قاتل جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے راستے تک پہنچ جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3166]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے { کیونکہ اس نے اللہ کا ذمہ توڑا اس میں ہے پچاس برس کے راستے کے فاصلے سے ہی جنت کی خوشبو پہنچی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1403،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں اللہ کی وصیتیں اور اس کے احکام تاکہ تم دین حق کو، اس کے احکام کو اور اس کی منع کردہ باتوں کو سمجھ لو ‘۔