تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[163] یہ مشرکوں کے اس عذر لنگ کا جواب ہے جو یہ ہے کہ فی الواقع اس کی مشیئت یہی ہے کہ تمہیں ہدایت نصیب نہ ہو لیکن یہ اس کی رضا نہیں۔ اور چونکہ اللہ اتمام حجت کر چکا ہے لہٰذا تمہیں تمہارے جرائم کی سزا ضرور دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔
ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔
فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35] ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99] ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119] ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومنها: أن الحجة لله، البالغة، التي لم تبقِ لأحدٍ عذراً، التي اتَّفقت عليها الأنبياء والمرسلون والكتب الإلهية والآثار النبوية والعقول الصحيحة والفطر المستقيمة والأخلاق القويمة، فعلم بذلك أن كلَّ ما خالف هذه الآية القاطعة باطلٌ؛ لأن نقيض الحقِّ لا يكون إلاَّ باطلاً.
ومنها: أن الله تعالى أعطى كلَّ مخلوق قدرةً وإرادةً يتمكَّن بها من فعل ما كُلِّفَ به؛ فلا أوجب الله على أحدٍ ما لا يقدر على فعله، ولا حرَّم على أحدٍ ما لا يتمكَّن على تركه؛ فالاحتجاج بعد هذا بالقضاء والقدر ظلمٌ محضٌ وعنادٌ صرفٌ.
ومنها: أن الله تعالى لم يجبر العباد على أفعالهم، بل جعل أفعالهم تبعاً لاختيارهم؛ فإن شاؤوا فعلوا وإن شاؤوا كَفُّوا، وهذا أمر مشاهدٌ لا ينكره إلا مَن كابر وأنكر المحسوسات؛ فإنَّ كلَّ أحد يفرق بين الحركة الاختياريَّة والحركة القسريَّة، وإن كان الجميع داخلاً في مشيئة الله ومندرجاً تحت إرادته.
ومنها: أن المحتجِّين على المعاصي بالقضاء والقدر يتناقضون في ذلك؛ فإنهم لا يمكنهم أن يطردوا ذلك؛ بل لو أساء إليهم مسيء بضرب أو أخذ مال أو نحو ذلك، واحتج بالقضاء والقدر لما قبلوا منه هذا الاحتجاج ولغضبوا من ذلك أشد الغضب. فيا عجباً كيف يحتجون به على معاصي الله ومساخطه ولا يرضون من أحد أن يحتج به في مقابلة مساخطهم.
ومنها: أن احتجاجهم بالقضاء والقدر ليس مقصوداً، ويعلمون أنَّه ليس بحجةٍ، وإنما المقصود منه دفع الحقِّ ويرون أن الحقَّ بمنزلة الصائل؛ فهم يدفعونه بكلِّ ما يخطر ببالهم من الكلام، [ولو كانوا يعتقدونه خطأً].