ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 149

قُلۡ فَلِلّٰہِ الۡحُجَّۃُ الۡبَالِغَۃُ ۚ فَلَوۡ شَآءَ لَہَدٰىکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾
کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔ En
کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا
En
آپ کہیے کہ بس پوری حجت اللہ ہی کی رہی۔ پھر اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لے آتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 149){ قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ……:} آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کامل دلیل تو اﷲ تعالیٰ ہی کی ہے جو واقع کے عین مطابق ہے کہ اس کی مشیت، ارادہ اور اختیار الگ چیز ہے اور کسی کام پر راضی اور خوش ہونا الگ چیز ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے کہ اس نے تمھیں ہدایت اور گمراہی کا اختیار دے کر آزمایا ہے، اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا، پھر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا تھا، مگر یہ جبر ہوتا، جو اس کی حکمت کا تقاضا نہیں ہے۔ دیکھیے سورۂ ھود (۱۱۸، ۱۱۹) اور سورۂ یونس(۹۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

149۔ آپ ان سے کہئے کہ (تمہارے قیاسات کے مقابلہ میں) اللہ کی حجت کامل [162] ہے لہذا اگر وہ چاہتا تو تم سب [163] کو ہدایت دے دیتا
[162] یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اتمام حجت کر دی ہے اور اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر تمام لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہوں اور ان کے انجام سے پوری طرح مطلع کر دیا ہے اور حلت و حرمت کے احکام بھی واضح کر دیئے ہیں۔
[163] یہ مشرکوں کے اس عذر لنگ کا جواب ہے جو یہ ہے کہ فی الواقع اس کی مشیئت یہی ہے کہ تمہیں ہدایت نصیب نہ ہو لیکن یہ اس کی رضا نہیں۔ اور چونکہ اللہ اتمام حجت کر چکا ہے لہٰذا تمہیں تمہارے جرائم کی سزا ضرور دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

غلط سوچ سے باز رہو ٭٭
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ چاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے۔ جیسے ان کا یہی قول آیت «وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:20]‏‏‏‏ میں اور سورۃ النحل میں ہے۔
اللہ فرماتا ہے «كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ» ’ اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کر دیا ‘۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و کفر پر مصر رہنے کی وجہ سے وہ روئے زمین سے ذلت کے ساتھ یوں ہٹا دیئے جاتے؟ اچھا تمہارے پاس اللہ کی رضا مندی کا کوئی سرٹیفکیٹ ہو تو پیش کرو۔
ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم وہم پرست ہو فاسد عقائد پر جمے ہوئے ہو اور اٹکل پچو باتیں اللہ کے ذمے گھڑ لیتے ہو۔ وہ بھی یہی کہتے تھے تم بھی یہی کہتے ہو کہ ہم ان معبودوں کی عبادت اسلئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے ملا دیں حالانکہ وہ نہ ملانے والے ہیں نہ اس کی انہیں قدرت ہے، ان سے تو اللہ نے سمجھ بوجھ چھین رکھی ہے، ہدایت و گمراہی کی تقسیم میں بھی اللہ کی حکمت اور اس کی حجت ہے، سب کام اس کے ارادے سے ہو رہے ہیں وہ مومنوں کو پسند فرماتا ہے اور کافروں سے ناخوش ہے۔
فرمان ہے آیت «وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَي الْهُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:35]‏‏‏‏ ’ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو راہ حق پر جمع کر دیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [10-یونس:99]‏‏‏‏ ’ اگر تیرے رب کی چاہت ہوتی تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔
اور جگہ ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-ھود:118، 119]‏‏‏‏ ’ یہ تو اختلاف سے نہیں ہٹیں گے سوائے ان لوگوں کے جن پر تیرا رب رحم کرے بلکہ انہیں اللہ نے اسی لیے پیدا کیا ہے تیرے رب کی یہ بات حق ہے کہ میں جنات اور انسان سے جہنم کو پر کر دونگا ‘۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ نافرمانوں کی کوئی حجت اللہ کے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کی حجت بندوں پر ہے۔
تم نے خواہ مخواہ اپنی طرف سے جانوروں کو حرام کر رکھا ہے ان کی حرمت پر کسی کی شہادت تو پیش کر دو۔ اگر یہ ایسی شہادت والے لائیں تو تو ان جھوٹے لوگوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانا۔ ان منکرین قیامت، منکرین کلام اللہ شریف کے جھانسے میں کہیں تم بھی نہ آ جانا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

(۳) حجت بالغہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو کسی کے لیے کوئی عذر نہیں رہنے دیتی، جس پر تمام انبیا و مرسلین، تمام کتب الہیہ، تمام آثار نبویہ، عقل صحیح، فطرت سلیم اور اخلاق مستقیم متفق ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ جو کوئی اس آیت قاطعہ کی مخالفت کرتا ہے وہ باطل ہے کیونکہ حق کی مخالفت کرنے والا باطل کے سوا کچھ بھی نہیں۔
(۴) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر انسان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا ہے جس کے ذریعے سے وہ ان تمام افعال کے ارتکاب پر قادر ہے جن کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی ایسی چیز واجب نہیں کی جس کے فعل پر وہ قدرت نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی چیز کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے جس کو ترک کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ پس اس کے بعد قضاء و قدر کو دلیل بنانا محض ظلم اور مجرد عناد ہے۔
(۵) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے افعال میں جبر نہیں کیا بلکہ ان کے افعال کو ان کے اختیار کے تابع بنایا ہے۔ پس اگر وہ چاہیں تو کسی فعل کا ارتکاب کریں اور اگر چاہیں تو اس فعل کے ارتکاب سے باز رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا انکار صرف وہی کر سکتا ہے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے اور محسوسات کا انکار کرتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص حرکت اختیاری اور حرکت جبری میں امتیاز کر سکتا ہے اگرچہ تمام حرکات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تحت آتی ہیں۔
(۶) اپنے گناہوں پر قضاء و قدر کو دلیل بنانے والے تناقض (تضاد) کا شکار ہیں۔ کیونکہ ان کے لیے اس کو درست ثابت کرنا ممکن نہیں۔ بلکہ اگر کوئی مارپیٹ یا مال وغیرہ چھین کر ان کے ساتھ برا سلوک کر کے تقدیر کا بہانہ پیش کرتا ہے تو وہ اس شخص کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اس شخص پر سخت ناراض ہوں گے۔ نہایت عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی ناراضی کے کاموں پر تو قضا و قدر کا عذر پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی ان کے ساتھ برا سلوک کر کے ان کو یہی دلیل پیش کرتا ہے تو اسے قبول نہیں کرتے۔
(۷) قضا و قدر سے استدلال کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قضا و قدر کا عذر دلیل نہیں۔ ان کا مقصد تو صرف حق کو ٹھکرانا اور اس کو روکنا ہے کیونکہ وہ حق کو یوں سمجھتے ہیں جیسے کوئی حملہ آور ہو، چنانچہ وہ ہر صحیح یا غلط خیال کے ذریعے سے، جو ان کے دل میں آتا ہے، حق کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومنها: أن الحجة لله، البالغة، التي لم تبقِ لأحدٍ عذراً، التي اتَّفقت عليها الأنبياء والمرسلون والكتب الإلهية والآثار النبوية والعقول الصحيحة والفطر المستقيمة والأخلاق القويمة، فعلم بذلك أن كلَّ ما خالف هذه الآية القاطعة باطلٌ؛ لأن نقيض الحقِّ لا يكون إلاَّ باطلاً.

ومنها: أن الله تعالى أعطى كلَّ مخلوق قدرةً وإرادةً يتمكَّن بها من فعل ما كُلِّفَ به؛ فلا أوجب الله على أحدٍ ما لا يقدر على فعله، ولا حرَّم على أحدٍ ما لا يتمكَّن على تركه؛ فالاحتجاج بعد هذا بالقضاء والقدر ظلمٌ محضٌ وعنادٌ صرفٌ.

ومنها: أن الله تعالى لم يجبر العباد على أفعالهم، بل جعل أفعالهم تبعاً لاختيارهم؛ فإن شاؤوا فعلوا وإن شاؤوا كَفُّوا، وهذا أمر مشاهدٌ لا ينكره إلا مَن كابر وأنكر المحسوسات؛ فإنَّ كلَّ أحد يفرق بين الحركة الاختياريَّة والحركة القسريَّة، وإن كان الجميع داخلاً في مشيئة الله ومندرجاً تحت إرادته.

ومنها: أن المحتجِّين على المعاصي بالقضاء والقدر يتناقضون في ذلك؛ فإنهم لا يمكنهم أن يطردوا ذلك؛ بل لو أساء إليهم مسيء بضرب أو أخذ مال أو نحو ذلك، واحتج بالقضاء والقدر لما قبلوا منه هذا الاحتجاج ولغضبوا من ذلك أشد الغضب. فيا عجباً كيف يحتجون به على معاصي الله ومساخطه ولا يرضون من أحد أن يحتج به في مقابلة مساخطهم.

ومنها: أن احتجاجهم بالقضاء والقدر ليس مقصوداً، ويعلمون أنَّه ليس بحجةٍ، وإنما المقصود منه دفع الحقِّ ويرون أن الحقَّ بمنزلة الصائل؛ فهم يدفعونه بكلِّ ما يخطر ببالهم من الكلام، [ولو كانوا يعتقدونه خطأً].