وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾
اور ہر ایک کے لیے مختلف درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تیرا رب اس سے ہرگز بے خبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
En
اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں
En
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 132){ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ……:} اس سے معلوم ہوا کہ جنوں میں سے بھی جو نیک ہیں وہ جنت میں اور جو بدکار ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔ سورۂ رحمن میں اس کی تفصیل موجود ہے اور جنت اور جہنم میں بھی ان کے درجات و دَرکات مختلف ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
132۔ 1 یعنی ہر انسان اور جن کے، ان کے با ہمی درجات میں، عملوں کے مطابق، فرق، تفاوت ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح جنتی اور جہنمی ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
132۔ اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا اور جو کچھ وہ کام کر رہے ہیں، آپ کا پروردگار اس سے بے خبر نہیں ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حجت تمام ٭٭
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کر دیئے اس لیے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے -
فرماتا ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» ۱؎ [35-فاطر:24] یعنی ’ کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ‘۔
سورۃ تبارک میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9] ’ جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ ”کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا، خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔“
بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
فرماتا ہے آیت «وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» ۱؎ [35-فاطر:24] یعنی ’ کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36] ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو! اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا» ۱؎ [17-الإسراء:15] ’ ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے ‘۔
سورۃ تبارک میں ہے «تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ» ۱؎ [67-الملك:8-9] ’ جب جہنم میں کوئی جماعت جائے گی تو وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس آ گاہ کرنے والے نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے آئے تھے ‘ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔
اس آیت کے پہلے جملے کے ایک معنی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اور بھی بیان کئے ہیں اور فی الواقع وہ معنی بہت درست ہیں امام صاحب نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ ”کسی بستی والوں کے ظلم اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اسی وقت ہلاک نہیں کرتا جب تک نبیوں کو بھیج کر انہیں غفلت سے بیدار نہ کر دے، ہر عامل اپنے عمل کے بدلے کا مستحق ہے۔ نیک نیکی کا اور بد بدی کا، خواہ انسان ہو خواہ جن ہو۔“
بدکاروں کے جہنم میں درجے ان کی بدکاری کے مطابق مقرر ہیں جو لوگ خود بھی کفر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ الہیہ سے روکتے ہیں انہیں عذاب پر عذاب ہوں گے اور ان کے فساد کا بدلہ ملے گا ہر عامل کا عمل اللہ پر روشن ہے تاکہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کا بدلہ مل جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔
﴿وَلِكُ٘لٍّ ﴾ ”اور ہر ایک کے لیے۔“ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوْا ﴾ ”بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔
پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ﴾ ”اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے“ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكنَّهم وإن اشتركوا في الخسران؛ فإنهم يتفاوتون في مقداره تفاوتاً عظيماً، {ولكلٍّ}: منهم {درجات مما عملوا}: بحسب أعمالهم، لا يُجعل قليل الشرِّ منهم ككثيره، ولا التابع كالمتبوع، ولا المرؤوس كالرئيس؛ كما أن أهل الثواب والجنة وإن اشتركوا في الربح والفلاح ودخول الجنة؛ فإن بينهم من الفرق ما لا يعلمه إلا الله، مع أنهم كلهم [قد] رضوا بما آتاهم مولاهم وقنعوا بما حباهم، فنسأله تعالى أن يجعلَنا من أهل الفردوس الأعلى التي أعدَّها الله للمقربين من عباده والمصطَفَيْن من خلقه وأهل الصفوة من أهل وداده. {وما ربُّك بغافل عما يعملونَ} فيجازي كلًّا بحسب عمله، وبما يعلمه من مقصده.