تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ذُو الرَّحْمَةِ:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ایک رحمت اس نے جنوں، آدمیوں، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، وہ اسی ایک رحمت کی وجہ سے ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں اور رحم کرتے ہیں اور اسی ایک رحمت کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اﷲ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہیں جو اپنے بندوں پر قیامت کے دن کرے گا۔“ [مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی ……: 2752/19]
➌ { اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ ……:} یعنی جس طرح تمھیں پہلے لوگوں کا جانشین بنایا اسی طرح تمھیں تباہ کر کے دوسروں کو تمھارا جانشین بنا سکتا ہے، یا یہ کہ اس کی قدرت جن و انس کو پیدا کرنے ہی پر منحصر نہیں، بلکہ وہ ان کے بجائے کوئی تیسری قسم کی مخلوق بھی پیدا کر سکتا ہے۔ (رازی) دیکھیے سورۂ نساء(۱۳۳)، سورۂ ابراہیم (20،19) اور سورۂ فاطر (۱۵ تا ۱۷)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:143] ’ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے ‘، تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» ۱؎ [4-النساء:133] ’ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کر سکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں ‘۔
یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے، دوسرے کو پیدا کر دیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے۔ جیسے فرمان ہے ’ اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے ‘۔ فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [35-فاطر:17-15] ’ لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ‘۔
’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجئیے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقیناً سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہو جاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں ‘۔
جیسے فرمایا «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-ھود:121-122] ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہیں سب اٹل ہیں ‘۔
چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دوبھر تھا، جو یکہ و تنہا تھا، جو وطن سے نکال دیا گیا تھا، جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا، اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہو گئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا۔
پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ ’ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں ‘۔ فرما دیا تھا کہ «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» ۱؎ [58-المجادلة:20] ’ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ‘۔
«إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51-52] ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ «وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، بَاطِنًا وَظَاهِرًا» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإنما أمر الله العباد بالأعمال الصالحة ونهاهم عن الأعمال السيئة رحمةً بهم وقصداً لمصالحهم، وإلاَّ؛ فهو الغني بذاته عن جميع مخلوقاته؛ فلا تنفعه طاعة الطائعين؛ كما لا تضره معصية العاصين. {إن يشأ يُذْهِبْكم}: بالإهلاك، {ويستخلِفْ من بعدِكم ما يشاء كما أنشأكم من ذُرِّيَّة قوم آخرين}: فإذا عرفتم بأنكم لا بدَّ أن تنتقلوا من هذه الدار كما انتقل غيركم، وترحلون منها وتخلونها لمن بعدكم كما رَحَلَ عنها مَنْ قبلكم وخلَّوها لكم؛ فَلِمَ اتَّخذتموها قراراً، وتوطنتم بها، ونسيتم أنها دار ممرٍّ، لا دار مقرٍّ وأن أمامكم داراً هي الدار التي جمعتْ كلَّ نعيم وسلمتْ من كلِّ آفة ونقص؟ وهي الدار التي يسعى إليها الأوَّلون والآخرون، ويرتحل نحوها السابقون واللاحقون، التي إذا وصلوها؛ فثم الخلودُ الدائم والإقامة اللازمة والغاية التي لا غاية وراءها والمطلوب الذي ينتهي إليه كل مطلوب والمرغوب الذي يضمحلُّ دونه كل مرغوب، هنالك والله ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين ويتنافس فيه المتنافسون من لذَّة الأرواح وكثرة الأفراح ونعيم الأبدان والقلوب والقرب من علام الغيوب؛ فلله همةٌ تعلَّقت بتلك الكرامات، وإرادة سَمَتْ إلى أعلى الدرجات، وما أبخس حظَّ من رضي بالدُّون، وأدنى همة من اختار صفقة المغبون!