ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 133

وَ رَبُّکَ الۡغَنِیُّ ذُو الرَّحۡمَۃِ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفۡ مِنۡۢ بَعۡدِکُمۡ مَّا یَشَآءُ کَمَاۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ ذُرِّیَّۃِ قَوۡمٍ اٰخَرِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ؕ
اور تیرا رب ہی ہر طرح بے پروا، کمال رحمت والا ہے، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور تمھارے بعد جانشین بنا دے جسے چاہے، جس طرح اس نے تمھیں کچھ اور لوگوں کی اولاد سے پیدا کیا ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے
En
اور آپ کا رب بالکل غنی ہے رحمت واﻻ ہے۔ اگر وه چاہے تو تم سب کو اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کردے جیسا کہ تم کو ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 133) ➊ {وَ رَبُّكَ الْغَنِيُّ:} یہاں { الْغَنِيُّ } خبر معرفہ ہونے اور { الرَّحْمَةِ } پر الف لام ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے اور تیرا رب ہی ہر طرح بے پروا، کمال رحمت والا ہے اس کے سوا کوئی اور نہ ہی بے پروا ہے نہ کمال رحمت والا، یعنی اسے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں، پھر بھی بطور احسان کمال رحمت والا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پہلے جو نعمتیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً رسولوں کا بھیجنا وغیرہ، محض رحمت کی بنا پر ہیں، اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں۔
➋ { ذُو الرَّحْمَةِ:} رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ایک رحمت اس نے جنوں، آدمیوں، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، وہ اسی ایک رحمت کی وجہ سے ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں اور رحم کرتے ہیں اور اسی ایک رحمت کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اور ننانویں رحمتیں اﷲ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہیں جو اپنے بندوں پر قیامت کے دن کرے گا۔ [مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی ……: 2752/19]
➌ { اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ ……:} یعنی جس طرح تمھیں پہلے لوگوں کا جانشین بنایا اسی طرح تمھیں تباہ کر کے دوسروں کو تمھارا جانشین بنا سکتا ہے، یا یہ کہ اس کی قدرت جن و انس کو پیدا کرنے ہی پر منحصر نہیں، بلکہ وہ ان کے بجائے کوئی تیسری قسم کی مخلوق بھی پیدا کر سکتا ہے۔ (رازی) دیکھیے سورۂ نساء(۱۳۳)، سورۂ ابراہیم (20،19) اور سورۂ فاطر (۱۵ تا ۱۷)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

133۔ 1 وہ غنی بےنیاز ہے اپنی مخلوقات سے۔ ان کا محتاج ہے نہ ان کی عبادتوں کا ضرورت مند ہے، ان کا ایمان اس کے لیے نفع مند ہے نہ ان کا کفر اس کے لیے ضرر رساں لیکن اس شان غنا کے ساتھ وہ اپنی مخلوق کے لیے رحیم بھی ہے۔ اس کی بےنیازی اپنی مخلوق پر رحمت کرنے میں مانع نہیں ہے۔ 133۔ 2 یہ اس کی بےپناہ قوت اور غیر محدود قدرت کا اظہار ہے جس طرح پچھلی کئی قوموں کو اس نے حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور ان کی جگہ نئی قوموں کو اٹھا کھڑا کیا، وہ اب بھی اس بات پر قادر ہے کہ جب چاہے تمہیں نیست و نبود کردے اور تمہاری جگہ ایسی قوم پیدا کردے جو تم جیسی نہ ہو۔ مزید ملاحظہ ہو سورة نساء 133، سورة ابراہیم 20، سورة فاطر 15، 17، سورة محمد 38۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

133۔ اور آپ کا پروردگار بے نیاز اور مہربان [140] ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے۔ جیسے تمہیں اور لوگوں (کی نسل) سے پیدا کیا ہے
[140] تم پر اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ تم سے دین کی خدمت لے رہا ہے:۔
یعنی اللہ کی کوئی غرض تمہاری وجہ سے ان کی ہوئی نہیں ہے نہ ہی اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑتا ہو اور فرمانبرداری سے اس کا کچھ سنورتا ہو بلکہ یہ اس کی انتہائی رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت کی راہ دکھائی۔ جس پر عمل کر کے تم عذاب سے بھی بچ سکتے ہو اور بلند درجات بھی حاصل کر سکتے ہو۔ اس کے مہربان ہونے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں فوراً سزا نہیں دے رہا اور تمہارے قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو تمہارے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ تمہیں اس دنیا سے رخصت کر دیتا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آتا۔ جیسے تمہیں پہلی قوموں کے بعد لایا گیا ہے اور یہ کام اس کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں۔ لہٰذا اس کی فرمانبرداری میں ہی تمہاری بھلائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب سے بےنیاز اللہ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں، اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں، ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [2-البقرۃ:143]‏‏‏‏ ’ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے ‘، تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ «إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا» ۱؎ [4-النساء:133]‏‏‏‏ ’ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کر سکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں ‘۔
یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں بھی کیا ہے۔ ایک قرن کے بعد دوسرا قرن وہی لاتا ہے ایک کو مار ڈالتا ہے، دوسرے کو پیدا کر دیتا ہے لانے لے جانے پر اسے مکمل قدرت ہے۔ جیسے فرمان ہے ’ اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو فنا کر دے اور دوسروں کو لے آئے وہ اس پر قادر ہے ‘۔ فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللّٰهِ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ» ۱؎ [35-فاطر:17-15]‏‏‏‏ ’ لوگو تم سب کے سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لے آئے اللہ کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں ‘۔
اور فرمان ہے آیت «وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ» [47-محمد:38]‏‏‏‏ ’ اللہ غنی ہے اور تم سب فقیر ہو ‘۔ فرماتا ہے ’ اگر تم نافرمان ہو گئے تو وہ تمہیں بدل کر اور قوم لائے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے ‘۔ «ذُّرِّيَّةُ» سے مراد اصل و نسل ہے۔
’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجئیے کہ قیامت جنت دوزخ وغیرہ کے جو وعدے تم سے کئے جا رہے ہیں وہ یقیناً سچے ہیں اور یہ سب کچھ ہونے والا ہے تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ تمہارے اعادے پر قادر ہے۔ تم گل سڑ کر مٹی ہو جاؤ گے پھر وہ تمہیں نئی پیدائش میں پیدا کرے گا اس پر کوئی عمل مشکل نہیں ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اے بنی آدم اگر تم میں عقل ہے تو اپنے تئیں مردوں میں شمار کرو واللہ اللہ کی فرمائی ہوئی سب باتیں بہ یقین ہونے والی ہیں کوئی نہیں جو اللہ کے ارادے میں اسے ناکام کر دے، اس کی چاہت کو نہ ہونے دے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7907/4:ضعیف]‏‏‏‏ لوگوں تم اپنی کرنی کئے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا کہ ہدایت پر کون تھا؟ اور ضلالت پر کون تھا؟ کون نیک انجام ہوتا ہے اور کون گھٹنوں میں سر ڈال کر روتا ہے۔
جیسے فرمایا «وَقُل لِّلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ» [11-ھود:121-122]‏‏‏‏ ’ بے ایمانوں سے کہہ دو کہ تم اپنے شغل میں رہو میں بھی اپنے کام میں لگا ہوں۔ تم منتظر رہو ہم بھی انتظار میں ہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کے لحاظ سے کون اچھا رہا؟ یاد رکھو اللہ نے جو وعدے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہیں سب اٹل ہیں ‘۔
چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کا چپہ چپہ مخالف تھا جس کا نام لینا دوبھر تھا، جو یکہ و تنہا تھا، جو وطن سے نکال دیا گیا تھا، جس کی دشمنی ایک ایک کرتا تھا، اللہ نے اسے غلبہ دیا لاکھوں دلوں پر اس کی حکومت ہو گئی اس کی زندگی میں ہی تمام جزیرہ عرب کا وہ تنہا مالک بن گیا یمن اور بحرین پر بھی اس کے سامنے اس کا جھنڈا لہرانے لگا۔
پھر اس کے جانشینوں نے دنیا کو کھنگال ڈالا بڑی بڑی سلطنتوں کے منہ پھیر دیئے، جہاں گئے غلبہ پایا جدھر رخ کیا، فتح حاصل کی، یہی اللہ کا وعدہ تھا کہ ’ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے، مجھ سے زیادہ قوت وعزت کسی کی نہیں ‘۔ فرما دیا تھا کہ «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي» ۱؎ [58-المجادلة:20]‏‏‏‏ ’ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ‘۔
«‏‏‏‏إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51-52]‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی مدد فرمائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘۔
رسولوں کی طرف اس نے وحی بھیجی تھی کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا» ۱؎ [24-النور:55]‏‏‏‏ ’ ہم ظالموں کو تہ و بالا کر دیں گے اور ان کے بعد زمینوں کے سرتاج تمہیں بنا دیں گے کیونکہ تم مجھ سے اور میرے عذابوں سے ڈرنے والے ہو ‘۔
وہ پہلے ہی فرما چکا تھا کہ تم میں سے ایمانداروں اور نیک کاروں کو میں زمین کا سلطان بنا دوں گا جیسے کہ پہلے سے یہ دستور چلا آ رہا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے دین میں مضبوطی اور کشائش دے گا جس کے دین سے وہ خوش ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا کہ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ تعالیٰ نے اس امت سے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا۔ «وَلَهُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، بَاطِنًا وَظَاهِرًا» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔
اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإنما أمر الله العباد بالأعمال الصالحة ونهاهم عن الأعمال السيئة رحمةً بهم وقصداً لمصالحهم، وإلاَّ؛ فهو الغني بذاته عن جميع مخلوقاته؛ فلا تنفعه طاعة الطائعين؛ كما لا تضره معصية العاصين. {إن يشأ يُذْهِبْكم}: بالإهلاك، {ويستخلِفْ من بعدِكم ما يشاء كما أنشأكم من ذُرِّيَّة قوم آخرين}: فإذا عرفتم بأنكم لا بدَّ أن تنتقلوا من هذه الدار كما انتقل غيركم، وترحلون منها وتخلونها لمن بعدكم كما رَحَلَ عنها مَنْ قبلكم وخلَّوها لكم؛ فَلِمَ اتَّخذتموها قراراً، وتوطنتم بها، ونسيتم أنها دار ممرٍّ، لا دار مقرٍّ وأن أمامكم داراً هي الدار التي جمعتْ كلَّ نعيم وسلمتْ من كلِّ آفة ونقص؟ وهي الدار التي يسعى إليها الأوَّلون والآخرون، ويرتحل نحوها السابقون واللاحقون، التي إذا وصلوها؛ فثم الخلودُ الدائم والإقامة اللازمة والغاية التي لا غاية وراءها والمطلوب الذي ينتهي إليه كل مطلوب والمرغوب الذي يضمحلُّ دونه كل مرغوب، هنالك والله ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين ويتنافس فيه المتنافسون من لذَّة الأرواح وكثرة الأفراح ونعيم الأبدان والقلوب والقرب من علام الغيوب؛ فلله همةٌ تعلَّقت بتلك الكرامات، وإرادة سَمَتْ إلى أعلى الدرجات، وما أبخس حظَّ من رضي بالدُّون، وأدنى همة من اختار صفقة المغبون!