تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 132

وَ لِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾
اور ہر ایک کے لیے مختلف درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تیرا رب اس سے ہرگز بے خبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ En
اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں
En
اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔
﴿وَلِكُ٘لٍّ اور ہر ایک کے لیے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوْا بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔
پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنَّهم وإن اشتركوا في الخسران؛ فإنهم يتفاوتون في مقداره تفاوتاً عظيماً، {ولكلٍّ}: منهم {درجات مما عملوا}: بحسب أعمالهم، لا يُجعل قليل الشرِّ منهم ككثيره، ولا التابع كالمتبوع، ولا المرؤوس كالرئيس؛ كما أن أهل الثواب والجنة وإن اشتركوا في الربح والفلاح ودخول الجنة؛ فإن بينهم من الفرق ما لا يعلمه إلا الله، مع أنهم كلهم [قد] رضوا بما آتاهم مولاهم وقنعوا بما حباهم، فنسأله تعالى أن يجعلَنا من أهل الفردوس الأعلى التي أعدَّها الله للمقربين من عباده والمصطَفَيْن من خلقه وأهل الصفوة من أهل وداده. {وما ربُّك بغافل عما يعملونَ} فيجازي كلًّا بحسب عمله، وبما يعلمه من مقصده.