تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا انکار کریں گے، پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قائل کرے گا۔ (موضح) دیکھیے سورۂ انعام (۲۳ اور ۲۷ تا ۳۰)، سورۂ حٰم السجدۃ (۲۰، ۲۱) اور سورۂ یٰسٓ(۶۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے، بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔
ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لیے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ» ۱؎ [55-الرحمن:19] سے «يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:22] تک کی آیتیں صاف ظاہر ہے کہ موتی مرجان صرف کھاری پانی کے سمندروں میں نکلتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں نکلتے لیکن ان آیتوں میں دونوں قسم کے سمندروں میں سے موتیوں کا نکلنا پایا جاتا ہے کہ ان کی جنس میں سے مراد یہی ہے۔
پس ثابت ہوتا ہے کہ خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد نبوت کا انحصار آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں ہو رہا،،اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس انوکھی بات کا قائل ایک بھی نہیں کہ آپ علیہ السلام سے پہلے نبی ہوتے تھے اور پھر ان میں سے نبوت چھین لی گئی۔
اور آیت میں ہے اور اس نے یہ مسئلہ بالکل صاف کر دیا ہے فرماتا ہے «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى» ۱؎ [12-یوسف:109] یعنی ’ تجھ سے پہلے ہم نے مردوں کو ہی بھیجا ہے جو شہروں کے ہی تھے جن کی طرف ہم نے اپنی وحی نازل فرمائی تھی ‘۔
چنانچہ جنات کا یہی قول قرآن میں موجود ہے «وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّـهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّـهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:32-29] ’ جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف پھیرا جو قرآن سنتے رہے جب سن چکے تو واپس اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آگاہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی نازل شدہ کتاب سنی جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور راہ حق دکھاتی ہے اور صراط مستقیم کی رہبری کرتی ہے، پس تم سب اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی مانو اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں المناک عذابوں سے بچائے اللہ کی طرف سے جو پکارنے والا ہے اس کی نہ ماننے والے اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے نہ اس کے سوا اپنا کوئی اور کار ساز اور والی پا سکتے ہیں بلکہ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ‘۔
الغرض انسانوں اور جنوں کو اس آیت میں نبیوں کے ان میں سے بھیجنے میں بطور خطاب کے شامل کر لیا ہے ورنہ رسول سب انسان ہی ہوتے ہیں۔ نبیوں کا کام یہی رہا کہ وہ اللہ کی آیتیں سنائیں اور قیامت کے دن سے ڈرائیں۔ اس سوال کے جواب میں سب کہیں گے کہ ہاں ہمیں اقرار ہے تیرے رسول ہمارے پاس آئے اور تیرا کلام بھی پہنچایا اور اس دن سے بھی متنبہ کر دیا تھا۔
پھر جناب باری فرماتا ہے ’ انہوں نے دنیا کی زندگی دھوکے میں گزاری، رسولوں کو جھٹلاتے رہے، معجزوں کی مخالفت کرتے رہے دنیا کی آرائش پر جان دیتے رہے گئے۔ شہوت پرستی میں پڑے رہے قیامت کے دن اپنی زبانوں سے اپنے کفر کا اقرار کریں گے کہ ہاں بیشک ہم نے نبیوں کی نہیں مانی ‘۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وبَّخ الله جميع من أعرض عن الحق وردَّه من الجنِّ والإنس، وبيَّن خطأهم، فاعترفوا بذلك، فقال: {يا مَعْشَرَ الجنِّ والإنسِ ألم يأتِكُم رسلٌ منكم يقصُّونَ عليكُم آياتي}: الواضحات البيِّنات التي فيها تفاصيل الأمر والنهي والخير والشرِّ والوعد والوعيد، {وينذِرونَكم لقاءَ يومِكم هذا}: ويعلِّمونكم أنَّ النجاةَ فيه والفوزَ إنَّما هو بامتثال أوامر الله واجتناب نواهيه، وأنَّ الشقاء والخسران في تضييع ذلك، فأقروا بذلك واعترفوا، فقالوا: بلى، {شَهِدْنا على أنفُسِنا وغرَّتْهُمُ الحياةُ الدُّنيا}: بزينتها وزُخرفها ونعيمها، فاطمأنوا بها ورضوا وألهتْهم عن الآخرةِ، {وشهِدوا على أنفسهم أنَّهم كانوا كافرين}: فقامت عليهم حجةُ الله، وعَلِمَ حينئذٍ كلُّ أحدٍ حتى هم بأنفسهم عدلَ الله فيهم، [فقال لهم حاكماً عليهم بالعذاب الأليم: ادخُلوا في جملة أمم قد خلت من قبلكم من الجنِّ والإنس؛ صنعوا كصنيعكم، واستمتعوا بخلاقهم كما استمتعتم، وخاضوا بالباطل كما خضتم؛ إنهم كانوا خاسرين؛ أي: الأولون من هؤلاء والآخرون، وأيُّ خسرانٍ أعظم من خسران جنات النعيم وحرمان جوار أكرم الأكرمين] ؟!