تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانعام (6) — آیت 130

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا شَہِدۡنَا عَلٰۤی اَنۡفُسِنَا وَ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾
اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا تمھارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے، جو تم پر میری آیات بیان کرتے ہوں اور تمھیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں؟ وہ کہیں گے ہم اپنے آپ پر گواہی دیتے ہیں اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ یقینا وہ کافر تھے۔ En
اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے
En
اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ یٰمَعْشَرَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ اَلَمْ یَ٘اْتِكُمْ رُسُلٌ مِّؔنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَیُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰؔذَا اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَغَ٘رَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ (الاعراف: 7؍38) یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وبَّخ الله جميع من أعرض عن الحق وردَّه من الجنِّ والإنس، وبيَّن خطأهم، فاعترفوا بذلك، فقال: {يا مَعْشَرَ الجنِّ والإنسِ ألم يأتِكُم رسلٌ منكم يقصُّونَ عليكُم آياتي}: الواضحات البيِّنات التي فيها تفاصيل الأمر والنهي والخير والشرِّ والوعد والوعيد، {وينذِرونَكم لقاءَ يومِكم هذا}: ويعلِّمونكم أنَّ النجاةَ فيه والفوزَ إنَّما هو بامتثال أوامر الله واجتناب نواهيه، وأنَّ الشقاء والخسران في تضييع ذلك، فأقروا بذلك واعترفوا، فقالوا: بلى، {شَهِدْنا على أنفُسِنا وغرَّتْهُمُ الحياةُ الدُّنيا}: بزينتها وزُخرفها ونعيمها، فاطمأنوا بها ورضوا وألهتْهم عن الآخرةِ، {وشهِدوا على أنفسهم أنَّهم كانوا كافرين}: فقامت عليهم حجةُ الله، وعَلِمَ حينئذٍ كلُّ أحدٍ حتى هم بأنفسهم عدلَ الله فيهم، [فقال لهم حاكماً عليهم بالعذاب الأليم: ادخُلوا في جملة أمم قد خلت من قبلكم من الجنِّ والإنس؛ صنعوا كصنيعكم، واستمتعوا بخلاقهم كما استمتعتم، وخاضوا بالباطل كما خضتم؛ إنهم كانوا خاسرين؛ أي: الأولون من هؤلاء والآخرون، وأيُّ خسرانٍ أعظم من خسران جنات النعيم وحرمان جوار أكرم الأكرمين] ؟!