تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے ’ میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا ‘۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ’ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا ‘ یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36] کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ”ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کر دیں گے۔“
ایک مرفوع حدیث میں ہے { جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1937]
کسی شاعر کا قول ہے، ؎ «وَمَا مِنْ يَدٍ إِلَّا يَدُ اللَّهِ فَوْقَهَا» «وَلَا ظَالِمٍ إِلَّا سَيُبلَى بِظَالِمٍ» یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنا دیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكذلك نُوَلِّي بعضَ الظالمين بعضاً بما كانوا يكسِبون}؛ أي: وكما ولَّيْنا الجنَّ المردة وسلَّطْناهم على إضلال أوليائهم من الإنس وعقَدْنا بينهم عقد الموالاة والموافقة بسبب كسبِهم وسعيهم بذلك؛ كذلك من سنَّتنا أن نولِّي كلَّ ظالم ظالماً مثلَه يؤزُّه إلى الشرِّ ويحثُّه عليه ويزهِّده في الخير وينفِّره عنه، وذلك من عقوبات الله العظيمة الشنيع أثرها البليغ خطرها، والذنب ذنبُ الظالم؛ فهو الذي أدخل الضرر على نفسه وعلى نفسه جنى، وما ربك بظلاَّم للعبيد.
ومن ذلك أنَّ العباد إذا كَثُرَ ظلمُهم وفسادُهم ومنعُهم الحقوق الواجبة؛ وُلِّي عليهم ظلمةٌ يسومونهم سوء العذاب، ويأخذون منهم بالظُّلم والجَوْر أضعاف ما منعوا من حقوق الله وحقوق عباده على وجه غير مأجورين فيه ولا محتسبين؛ كما أن العباد إذا صلحوا واستقاموا؛ أصلح الله رعاتهم، وجعلهم أئمة عدل وإنصاف، لا ولاة ظلم واعتساف.