ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 129

وَ کَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪
اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنا دیتے ہیں، اس کی وجہ سے جو وہ کمایا کرتے تھے۔ En
اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں
En
اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 129){ وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا ……: } یعنی جس طرح ہم نے جنات اور بعض انسانوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیا اسی طرح ہم ظالم اور فاسق و فاجر انسانوں کو ان کے اعمال کے سبب ایک دوسرے کا دوست بنا دیتے ہیں، جیسا کہ دیکھیے سورۂ توبہ(۶۷، ۷۱)۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسی طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیں گے کہ جس طرح وہ دنیا میں گناہوں کے ارتکاب میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار تھے اسی طرح آخرت کا عذاب بھگتنے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔ بعض نے { نُوَلِّيْ } کا ایک معنی یہ کیا ہے کہ ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر والی اور حاکم بنا دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کر دیا، اسی طرح دنیا میں ہم ظالموں کو بھی ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں کہ ظالم ماتحت پر ظلم کرتا ہے اور کمزور زبردست کا ظلم سہتا ہے، مگر آیات کے سیاق اور الفاظ{ اَوْلِيٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ } کی یہاں حاکم کے معنی کے ساتھ مناسبت محل نظر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

129۔ 1 یعنی جہنم میں جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کو ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بنایا اسی طرح ہم نے ظالموں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر ہم مسلط کردیتے ہیں اس ایک ظالم دوسرے ظالم کو ہلاک اور تباہ کرتا ہے اور ایک ظالم کا انتقام دوسرے ظالم سے لے لیتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

129۔ اس طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیں گے کیونکہ وہ (مل کر ہی) ایسے کام کیا کرتے تھے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں ٭٭
لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں -ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔
اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے ’ میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا ‘۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ’ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا ‘ یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔ پھر آپ نے آیت «وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ» ۱؎ [43-الزخرف:36]‏‏‏‏ کی تلاوت کی اور فرمایا کہ ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کر دیں گے۔‏‏‏‏
ایک مرفوع حدیث میں ہے { جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1937]‏‏‏‏
کسی شاعر کا قول ہے، ؎ «وَمَا مِنْ يَدٍ إِلَّا يَدُ اللَّهِ فَوْقَهَا» «وَلَا ظَالِمٍ إِلَّا سَيُبلَى بِظَالِمٍ» یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنا دیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْ٘سِبُوْنَ اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (حم السجدۃ: 41؍46) اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكذلك نُوَلِّي بعضَ الظالمين بعضاً بما كانوا يكسِبون}؛ أي: وكما ولَّيْنا الجنَّ المردة وسلَّطْناهم على إضلال أوليائهم من الإنس وعقَدْنا بينهم عقد الموالاة والموافقة بسبب كسبِهم وسعيهم بذلك؛ كذلك من سنَّتنا أن نولِّي كلَّ ظالم ظالماً مثلَه يؤزُّه إلى الشرِّ ويحثُّه عليه ويزهِّده في الخير وينفِّره عنه، وذلك من عقوبات الله العظيمة الشنيع أثرها البليغ خطرها، والذنب ذنبُ الظالم؛ فهو الذي أدخل الضرر على نفسه وعلى نفسه جنى، وما ربك بظلاَّم للعبيد.

ومن ذلك أنَّ العباد إذا كَثُرَ ظلمُهم وفسادُهم ومنعُهم الحقوق الواجبة؛ وُلِّي عليهم ظلمةٌ يسومونهم سوء العذاب، ويأخذون منهم بالظُّلم والجَوْر أضعاف ما منعوا من حقوق الله وحقوق عباده على وجه غير مأجورين فيه ولا محتسبين؛ كما أن العباد إذا صلحوا واستقاموا؛ أصلح الله رعاتهم، وجعلهم أئمة عدل وإنصاف، لا ولاة ظلم واعتساف.