ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 14

قُلۡ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ ہُوَ یُطۡعِمُ وَ لَا یُطۡعَمُ ؕ قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۴﴾
کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی مالک بنائوں جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، حالانکہ وہ کھلاتا ہے اور اسے نہیں کھلایا جاتا۔ کہہ بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا شخص بنوں جو فرماں بردار بنا، اور تو ہرگز شریک بنانے والوں سے نہ ہو۔ En
کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا
En
آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا، جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور جو کہ کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا، اور کسی کو معبود قرار دوں، آپ فرما دیجئے کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور تو مشرکین میں ہرگز نہ ہونا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14) ➊ {قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا:} ولی کا معنی دوست بھی آتا ہے، مالک و مدد گار اور معبود و کارساز بھی، یہاں اس کا معنی مالک و مدد گار اور معبود و کارساز ہے، یعنی وہ زمان و مکاں کا خالق ہی نہیں بلکہ اسے باقی رکھنے والا اور چلانے والا بھی وہی ہے، اسے کسی سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں، باقی سب اسی کا دیا ہوا کھانے والے اور ہر لحاظ سے اس کے محتاج ہیں۔ اس ایک جملے سے مشرکین نے اللہ کے سوا جتنے معبود بنا رکھے تھے ان سب کی نفی ہو جاتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ذاریات (۵۶ تا ۵۸)۔
➋ {قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ …:} کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ تمام بندوں سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اپنے مالک کے احکام کو مانے اور «وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شرک میں مبتلا ہوتا ہے تو ہوتا پھرے، آپ کا یہ کام نہیں کہ اس کا خیال بھی اپنے ذہن میں لائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14۔ 1 ولی سے مراد یہاں معبود ہے جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے ورنہ دوست بنانا تو جائز ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ آپ ان سے کہئے: ”کیا میں اس اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو سرپرست بناؤں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سب کو کھانا کھلاتا [15] تو ہے لیکن کسی سے کھانا لیتا نہیں؟“ آپ ان سے کہئے: ”مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے سر تسلیم خم کروں اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں“
[15] الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت کسی کا محتاج نہ ہونا ہے :۔
یعنی اللہ کے حقیقی الٰہ ہونے کا ایک معیار تو یہ ہے کہ تمام کائنات کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق میں چونکہ کسی بھی دوسرے الٰہ کا حصہ نہیں لہذا وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرا معیار یہ ہے کہ وہ سب دوسروں کو کھلاتا ہے لیکن خود کسی سے کچھ نہیں کھاتا۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جو کھانا کھاتا ہے وہ کبھی الٰہ نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کھانے کا محتاج ہے اور اللہ کھانے کا محتاج نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سب لوگ کھانے تک کے لیے اس کے دست نگر ہیں۔ یعنی جو محتاج ہے الٰہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقی الٰہ وہی ہو سکتا ہے جو کسی کا دست نگر اور محتاج نہ ہو۔ اب دیکھئے مشرکوں نے جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق لینے کے محتاج ہیں کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ جما ہی نہیں سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ نہ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم رہ سکتی ہے جب تک اس کے عقیدت مند اور پرستار اس کا مقبرہ تعمیر نہ کریں اور کسی دیوتا کا دربار خداوندی اس وقت تک سج ہی نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں۔ گویا یہ سب مصنوعی الٰہ بے چارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ہی کی ذات وہ ذات ہے جو اپنے بل بوتے پر قائم ہے اسے کسی کی احتیاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں اور یہی اس کے حقیقی الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ لہذا اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ کہہ دیجیے۔ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے ﴿ قُ٘لْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّؔخِذُ وَلِیًّا کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں؟ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے ﴿ وَهُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ وہ سب کو کھلاتا ہے، اسے کوئی نہیں کھلاتا یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بے نیاز ہے نہ قابل تعریف۔ ﴿ قُ٘لْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ کہہ دیجیے! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں ﴿ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْ٘مُشْرِكِیْنَ اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں، یعنی ان کے اعتقادات میں، نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں۔ اور یہ حکم میرے لیے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} لهؤلاء المشركين بالله: {أغيرَ الله أتَّخِذُ وليًّا}: من هؤلاء المخلوقات العاجزة يتولاَّني وينصُرُني؛ فلا أتَّخذ من دونه تعالى وليًّا؛ لأنَّه {فاطر السموات والأرض}؛ أي: خالقهما ومدبِّرهما، {وهو يُطْعِمُ ولا يُطْعَمُ}؛ أي: وهو الرازق لجميع الخلق من غير حاجةٍ منه تعالى إليهم؛ فكيف يَليقُ أن أتَّخِذَ وليًّا غير الخالق الرازق الغني الحميد. {قل إنِّي أمِرْتُ أن أكونَ أولَ من أسلم}: لله بالتوحيدِ وأنقاد له بالطاعةِ؛ لأنِّي أولى من غيري بامتثال أوامر ربِّي، {ولا تكوننَّ من المشركين}؛ أي: ونُهيت أيضاً عن أن أكون من المشركين؛ لا في اعتقادِهِم، ولا في مجالستهم، ولا في الاجتماع بهم؛ فهذا أفرضُ الفروض عليَّ وأوجب الواجبات.