تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ: } یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے بعد جو شخص بھی کسی جن سے کوئی فائدہ اٹھائے یا قید کر کے اس سے کوئی مقصد حاصل کرے تو اس شخص اور جن دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شیطان جن کو نماز کے دوران آپ پر حملہ کرنے پر گرفتار کر لیا اور مسجد کے ستون سے باندھنے کا ارادہ کیا تو سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا کہ انھوں نے دعا کی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ……» [صٓ: ۳۴ تا ۴۰] مزید دیکھیے: سورۂ شعراء (۲۲۱ تا ۲۲۳) اور سورۂ جن(۶)۔
➌ { اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} اس لفظ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جہنم آخر ختم ہو جائے گی اس کے جواب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اﷲ تو یہ اس لیے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اسی کے چاہنے سے ہے، وہ چاہے تو موقوف کرے مگر وہ چاہ چکا۔ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[136] یہ سارا کاروبار چونکہ جادو سے ملتا جلتا ہے اور جنوں کے ذریعہ غیب کے حالات معلوم کرنے کا دھندا بھی اس میں شامل ہے۔ لہٰذا قرآن کی نظروں میں یہ بھی کفر ہے اسی لیے اللہ نے ایسے جنوں اور انسانوں کی سزا دوزخ مقرر کی ہے۔
[137] گناہوں کی سزا احوال و ظروف کو مد نظر رکھ کر دی جاتی ہے اور یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے عذاب دوزخ کی مدت میں کمی بیشی عین انصاف کے مطابق ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے۔ جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ میں میں آتا ہوں۔ انسانوں سے جنات کو بھی فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سردار سمجھنے لگے تھے موت کے وقت تک یہی حالت رہی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اچھا اب بھی تم ساتھ ہی جہنم میں جاؤ وہیں ہمیشہ پڑے رہنا۔
یہ استثناء جو ہے وہ راجع ہے برزخ کی طرف بعض کہتے ہیں دنیا کی مدت کی طرف، اس کا پورا بیان سورۃ ہود کی آیت «خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ» ۱؎ [11-هود:107] کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ۔ اس آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ کوئی کسی کے لیے جنت دوزخ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سب مشیت رب پر موقوف ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ويوم يحشُرُهم جميعاً}؛ أي: جميع الثقلين من الإنس والجن، مَنْ ضلَّ منهم ومَنْ أضلَّ غيره، فيقول موبخاً للجنِّ الذين أضلُّوا الإنس وزيَّنوا لهم الشرَّ وأزُّوهم إلى المعاصي: {يا معشر الجنِّ قد استكثرتُم من الإنس}؛ أي: من إضلالهم وصدِّهم عن سبيل الله؛ فكيف أقدمتم على محارمي، وتجرَّأتم على معاندة رسلي، وقمتم محاربين لله، ساعين في صدِّ عباد الله عن سبيله إلى سبيل الجحيم؟! فاليوم حقَّت عليكم لعنتي، ووجبت لكم نقمتي، وسنزيدكم من العذاب بحسب كفرِكُم وإضلالكم لغيرِكم، وليس لكم عذرٌ به تعتذِرون، ولا ملجأ إليه تلجؤون، ولا شافع يشفع، ولا دعاء يُسمع! فلا تسأل حينئذٍ عما يحل بهم من النَّكال والخِزْي والوَبال، ولهذا لم يذكِر الله لهم اعتذاراً، وأما أولياؤهم من الإنس؛ فأبدوا عذراً غير مقبول، فقالوا: {ربَّنا استمتعَ بعضُنا ببعض}؛ أي: تمتَّع كلٌّ من الجني والإنسي بصاحبه وانتفع به؛ فالجنيُّ يستمتع بطاعة الإنسيِّ له وعبادته وتعظيمه واستعاذته به، والإنسيُّ يستمتع بنيل أغراضه وبلوغه بحسب خدمة الجنيِّ له بعض شهواته؛ فإن الإنسيَّ يعبُدُ الجنيَّ فيخدمُهُ الجنيُّ ويحصِّلُ له بعض الحوائج الدنيويَّة؛ أي: حصل منا من الذنوب ما حصل، ولا يمكن ردُّ ذلك. {وبَلَغْنا أجَلَنا الذي أجَّلْتَ لنا}؛ أي: وقد وصلنا المحل الذي تُجازي فيه بالأعمال؛ فافعل بنا الآن ما تشاء، واحكم فينا بما تريدُ، قد انقطعت حُجَّتُنا، ولم يبق لنا عذرٌ، والأمر أمرُك والحكم حكمُك، وكأَن في هذا الكلام منهم نوع تضرُّع وترقُّق، ولكن في غير أوانه، ولهذا حكم فيهم بحكمه العادل، الذي لا جَوْر فيه، فقال: {النارُ مَثْواكم خالدين فيها}، ولما كان هذا الحكم من مقتضى حكمتِهِ وعلمِهِ؛ ختم الآية بقوله: {إنَّ ربَّك حكيمٌ عليمٌ}؛ فكما أن علمه وسع الأشياء كلَّها وعمَّها؛ فحكمتُهُ الغائيةُ شملت الأشياء، وعمَّتها، ووسعتها.