ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 128

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَکۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ ۚ وَ قَالَ اَوۡلِیٰٓؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ وَّ بَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثۡوٰىکُمۡ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، اے جنوں کی جماعت! بلاشبہ تم نے بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے اے ہمارے رب! ہمارے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنے اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ فرمائے گا آگ ہی تمھارا ٹھکانا ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو مگر جو اللہ چاہے۔ بے شک تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے
En
اور جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کرے گا، (کہے گا) اے جماعت جنات کی! تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لیے جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وه کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائده حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تونے ہمارے لئے معین فرمائی، اللہ فرمائے گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے، ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت واﻻ بڑا علم واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) ➊ {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا:} جنوں سے مراد یہاں شیطان جن ہیں۔ ان کا بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لینے کا مطلب انھیں گمراہ کر کے اپنے راستے پر لگا لینا ہے اور جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انھوں نے ان کو گمراہی کی دعوت دی اور انھوں نے اسے قبول کر لیا اور ان کی تعظیم و تکریم اور مصیبتوں کے وقت ان کو پکارنا شروع کر دیا اور یہی شیاطین کی کامیابی ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے سے مراد ان سے آسمان کے فرشتوں سے سنی ہوئی خبریں، جو وہ جھوٹ ملا کر بتاتے ہیں، سن کر اپنی جھوٹی غیب دانی کا بازار چمکانا، جادو ٹونے میں ان سے مدد لینا وغیرہ ہے اور پھر لوگوں سے پیسے بٹورنا، مزید کئی فوائد حاصل کرنا اور انھیں گمراہ کرنا ہے۔
➋ {قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ: } یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے بعد جو شخص بھی کسی جن سے کوئی فائدہ اٹھائے یا قید کر کے اس سے کوئی مقصد حاصل کرے تو اس شخص اور جن دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اسی لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شیطان جن کو نماز کے دوران آپ پر حملہ کرنے پر گرفتار کر لیا اور مسجد کے ستون سے باندھنے کا ارادہ کیا تو سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا کہ انھوں نے دعا کی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ……» [صٓ: ۳۴ تا ۴۰] مزید دیکھیے: سورۂ شعراء (۲۲۱ تا ۲۲۳) اور سورۂ جن(۶)۔
➌ { اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} اس لفظ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جہنم آخر ختم ہو جائے گی اس کے جواب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اﷲ تو یہ اس لیے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اسی کے چاہنے سے ہے، وہ چاہے تو موقوف کرے مگر وہ چاہ چکا۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

128۔ 1 یعنی انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تم نے گمراہ کرکے اپنا پیروکار بنا لیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة یٰسین میں فرمایا ' اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں خبردار نہیں کردیا تھا کہ تم شیطان کی پوجا مت کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے اور شیطان نے تمہاری ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کردیا ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے (یٰسین۔ 60، 62)۔ 128۔ 2 جنوں اور انسانوں نے ایک دوسر سے کیا فائدہ حاصل کیا؟ اس کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر تلذذ حاصل کرنا اور انسانوں کا جنوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ شیطان نے گناہوں کو ان کے لئے خوبصورت بنادیا جسے انہوں نے قبول کیا اور گناہوں کی لذت میں پھنسے رہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کی انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیاطین و جنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلائی جاتی تھیں ا۔ یہ گویا جنات نے انسانوں کو بیوقوف بنا کر فائدہ اٹھایا یہ ہی انسان جنات کا بیان کردہ جھوٹی اٹکل پچو باتوں سے لطف اندوز ہوتے اور کاہن قسم کے لوگ ان سے دنیاوی مفادات حاصل کرتے۔ 128۔ 3 یعنی قیامت واقع ہوگئی جسے ہم دنیا میں نہیں مانتے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب جہنم تمہارا دائمی ٹھکانا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ جس دن اللہ سب لوگوں کو اکٹھا کرے گا (تو فرمائے گا) ”اے جنوں کے گروہ! تم نے بہت سے آدمیوں کو اپنا تابع بنا رکھا تھا“ اور انسانوں میں سے جو ایسے جنوں کے دوست ہوں گے وہ کہیں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہم دونوں نے ہی ایک دوسرے سے [135] خوب فائدہ اٹھایا تا آنکہ وہ وقت آپہنچا جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اچھا! تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے [136] جس میں تم ہمیشہ رہو گے مگر جتنی مدت اللہ بچانا چاہے گا بچا لے [137] گا۔ بلا شبہ وہ بہت دانا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[135] جنوں کا انسانوں کے سر چڑھنا:۔
سورۃ جن میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون سے ملتا جلتا مضمون بیان فرمایا ہے کہ آدمیوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ انسانوں کے اس فعل نے جنوں کی سرکشی کو اور بڑھا دیا۔ یعنی جن انسانوں کے سر پر چڑھ گئے۔ دور جاہلیت میں جب کوئی شخص جنگل میں پھنس جاتا یا کسی سفر میں اسے جان کا خطرہ درپیش ہوتا تو وہ یوں کہتا میں اس جنگل کے مالک کی پناہ میں آتا ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے وہم کے مطابق ہر جنگل کا الگ الگ بادشاہ ہوتا تھا اور جو شخص اس سے پناہ مانگتا تو وہ اس کی فریاد کو بھی پہنچتا تھا اور یہ بادشاہ کوئی شیطان یا جن ہی ہوا کرتا تھا۔ جو آدمیوں کی ایسی فریاد سن کر خوشی سے پھولا نہ سماتا اور کہتا میں جنوں کے علاوہ آدمیوں کا بھی سردار بن گیا۔ جن ایک غیر مرئی مخلوق ہے جو مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اکثریت برے لوگوں کی ہے جنہیں خبیث روحیں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ روحیں بعض دفعہ سفر میں اور بالخصوص ناپاک جگہوں میں کوئی بری سی شکل دھار کر انسانوں کو خوفزدہ کرتی ہیں اور ان پر اپنا رعب جماتی ہیں۔ ایسی بد روحوں کو ہمارے ہاں عموماً بھوت اور چڑیل کہا جاتا ہے۔ بیت الخلاء میں جاتے وقت ہمیں جو دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے وہ یوں ہے ”اے اللہ! میں جنوں اور جننیوں (بد روحیں مذکر ہوں یا مونث) سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [بخاري۔ كتاب الاستيذان۔ باب الدعاء عندالخلاء] جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسی بد روحیں انسان کو تنگ اور پریشان کر سکتی ہیں۔
جنوں اور انسانوں کا ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانا:۔
اب جنوں اور انسانوں کی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کی صحیح صورتیں تو ہمیں معلوم نہیں تاہم ایک مشہور و معروف صورت جو ہم دیکھتے ہیں وہ تسخیر جنات کی صورت ہے۔ جنوں کو مسخر کرنے والے انسانوں کو ہماری زبان میں عامل کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کی مختلف سورتوں، آیتوں یا بعض دوسرے جنتروں منتروں کی زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ اور زکوٰۃ نکالنا، کی اصطلاح ان کے پورے عمل کو ظاہر کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ ان کے زکوٰۃ کے عمل کی یہ صورت ہوتی ہے کہ مثلاً ایک شخص سورۃ جن کی زکوٰۃ نکالنا چاہتا ہے تو وہ چالیس دن رات کو کسی جنگل میں جا کر مقر رہ تعداد میں سورۃ مذکور کو پڑھے گا اور اپنے گرد ایک حصار یا گول دائرہ کھینچ لے گا اور یہ عمل چالیس دن تک برابر جاری رکھے گا اور ان دنوں میں فلاں فلاں کھانے یا فلاں کام کرنے سے پرہیز رکھے گا۔ جب وہ یہ عمل رات کو کر رہا ہو گا تو جن طرح طرح کی شکلیں بن کر اسے ڈرانے آتے رہیں گے۔ لیکن حصار کے اندر داخل ہو کر اس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔ اگر اس دوران عامل جنوں سے ڈر گیا تو جن اس سے انتقام لیں گے۔ مثلاً بیمار کر دیں گے، اپاہج بنا دیں گے، پاگل بنا دیں گے، اس سے چمٹ کر طرح طرح کی اذیتیں دیں گے یا جان ہی سے مار ڈالیں گے۔ یہ سزا وہ اس عامل کے اس وقت تک کیے ہوئے عمل کے مطابق دیں گے۔ اور اگر وہ عامل پوری دلجمعی سے اپنا عمل جاری رکھے اور بد روحوں سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو اور چالیس دن کا کو رس پورا کر لے تو پھر وہ کامیاب ہے۔ کوئی نہ کوئی جن اس کا تابع بن جائے گا جس سے وہ طرح طرح کے کام لے سکتا ہے جب اس جن کی ضرورت پیش آئے تو ایک دفعہ سورۃ جن پڑھ کر اسے بلائے تو وہ حاضر ہو جائے گا اور عامل اس کو مطلوبہ کام پر مامور کر کے اس سے کام کروا سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جس عامل نے کوئی جن یا بدروح مسخر کر لی ہو وہ اسے مطلوبہ کام پر لگا کر دنیوی مفادات بھی حاصل کر سکتا ہے۔ جب کوئی جن کسی عورت کے جسم میں حلول کر کے اسے پریشان کر رہا ہو (یاد رہے کہ جن عموماً عورتوں کو ہی پڑتے ہیں مردوں کو کم ہی پڑتے ہیں) تو عامل کو بلایا جاتا ہے۔ وہ جن کو حاضر کر کے حالات معلوم کرتا، مریض کے علاج معالجہ کا وعدہ کرتا اور گھر والوں سے نذرانے وصول کرتا ہے یہاں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ جن عموماً اس بستی میں عورتوں کو پریشان کرتے ہیں جہاں کوئی عامل رہتا ہو۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر عامل بعض دفعہ خود ہی جن ڈالتے ہیں پھر جب اسے علاج کے لیے بلایا جائے تو اپنے نذرانے وصول کرتے ہیں۔ بہرحال جنوں کے انسانوں کو تنگ کرنے اور عاملوں کے کارناموں کے متعلق طرح طرح کی داستانیں مشہور ہیں اور کچھ واقعات دیکھنے میں بھی آتے رہتے ہیں اور حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔
[136] یہ سارا کاروبار چونکہ جادو سے ملتا جلتا ہے اور جنوں کے ذریعہ غیب کے حالات معلوم کرنے کا دھندا بھی اس میں شامل ہے۔ لہٰذا قرآن کی نظروں میں یہ بھی کفر ہے اسی لیے اللہ نے ایسے جنوں اور انسانوں کی سزا دوزخ مقرر کی ہے۔
[137] گناہوں کی سزا احوال و ظروف کو مد نظر رکھ کر دی جاتی ہے اور یہی انصاف کا تقاضا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے عذاب دوزخ کی مدت میں کمی بیشی عین انصاف کے مطابق ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یوم حشر ٭٭
وہ دن بھی قریب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا -جناب انسان عابد معبود سب ایک میدان میں کھڑے ہوں گے اس وقت جنات سے ارشاد ہوگا کہ ’ تم نے انسانوں کو خوب بہکایا اور ورغلایا -انسانوں کو یاد دلایا جائے گا کہ «أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ اعْبُدُونِي هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [يس:60-62]‏‏‏‏ ’ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا وہ تمہارا دشمن ہے میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے لیکن تم نے سمجھ سے کام نہ لیا اور شیطانی راگ میں آگئے ‘ ‘۔
اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے۔ جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ میں میں آتا ہوں۔ انسانوں سے جنات کو بھی فائدہ پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے سردار سمجھنے لگے تھے موت کے وقت تک یہی حالت رہی اس وقت انہیں کہا جائے گا کہ اچھا اب بھی تم ساتھ ہی جہنم میں جاؤ وہیں ہمیشہ پڑے رہنا۔
یہ استثناء جو ہے وہ راجع ہے برزخ کی طرف بعض کہتے ہیں دنیا کی مدت کی طرف، اس کا پورا بیان سورۃ ہود کی آیت «خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ» ۱؎ [11-هود:107]‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاء اللہ۔ اس آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ کوئی کسی کے لیے جنت دوزخ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ سب مشیت رب پر موقوف ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَوْمَ یَحْشُ٘رُهُمْ جَمِیْعًا اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿یٰمَ٘عْشَرَ الْ٘جِنِّ قَدِ اسْتَكْثَ٘رْتُمْ مِّنَ الْاِنْ٘سِ اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔
اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّ٘نَا اسْتَ٘مْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَاۤ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ويوم يحشُرُهم جميعاً}؛ أي: جميع الثقلين من الإنس والجن، مَنْ ضلَّ منهم ومَنْ أضلَّ غيره، فيقول موبخاً للجنِّ الذين أضلُّوا الإنس وزيَّنوا لهم الشرَّ وأزُّوهم إلى المعاصي: {يا معشر الجنِّ قد استكثرتُم من الإنس}؛ أي: من إضلالهم وصدِّهم عن سبيل الله؛ فكيف أقدمتم على محارمي، وتجرَّأتم على معاندة رسلي، وقمتم محاربين لله، ساعين في صدِّ عباد الله عن سبيله إلى سبيل الجحيم؟! فاليوم حقَّت عليكم لعنتي، ووجبت لكم نقمتي، وسنزيدكم من العذاب بحسب كفرِكُم وإضلالكم لغيرِكم، وليس لكم عذرٌ به تعتذِرون، ولا ملجأ إليه تلجؤون، ولا شافع يشفع، ولا دعاء يُسمع! فلا تسأل حينئذٍ عما يحل بهم من النَّكال والخِزْي والوَبال، ولهذا لم يذكِر الله لهم اعتذاراً، وأما أولياؤهم من الإنس؛ فأبدوا عذراً غير مقبول، فقالوا: {ربَّنا استمتعَ بعضُنا ببعض}؛ أي: تمتَّع كلٌّ من الجني والإنسي بصاحبه وانتفع به؛ فالجنيُّ يستمتع بطاعة الإنسيِّ له وعبادته وتعظيمه واستعاذته به، والإنسيُّ يستمتع بنيل أغراضه وبلوغه بحسب خدمة الجنيِّ له بعض شهواته؛ فإن الإنسيَّ يعبُدُ الجنيَّ فيخدمُهُ الجنيُّ ويحصِّلُ له بعض الحوائج الدنيويَّة؛ أي: حصل منا من الذنوب ما حصل، ولا يمكن ردُّ ذلك. {وبَلَغْنا أجَلَنا الذي أجَّلْتَ لنا}؛ أي: وقد وصلنا المحل الذي تُجازي فيه بالأعمال؛ فافعل بنا الآن ما تشاء، واحكم فينا بما تريدُ، قد انقطعت حُجَّتُنا، ولم يبق لنا عذرٌ، والأمر أمرُك والحكم حكمُك، وكأَن في هذا الكلام منهم نوع تضرُّع وترقُّق، ولكن في غير أوانه، ولهذا حكم فيهم بحكمه العادل، الذي لا جَوْر فيه، فقال: {النارُ مَثْواكم خالدين فيها}، ولما كان هذا الحكم من مقتضى حكمتِهِ وعلمِهِ؛ ختم الآية بقوله: {إنَّ ربَّك حكيمٌ عليمٌ}؛ فكما أن علمه وسع الأشياء كلَّها وعمَّها؛ فحكمتُهُ الغائيةُ شملت الأشياء، وعمَّتها، ووسعتها.