تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ:} یعنی نبوت و رسالت محض وہبی چیز ہے، اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت کی امانت اس کے سپرد کر دیتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا کرنی ہے، مکہ کے ایک یتیم کو یا مکہ اور طائف کے کسی متکبر سردار کو۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۳۱، ۳۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا کہ ’ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے ‘ اور آیت میں ہے «وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] ’ ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آ جاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آ جاتا ہے ‘۔
«مَكْرً» سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت «وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا» ۱؎ [71-نوح:22]۔
اور آیت میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن نُّؤْمِنَ بِهَـٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ’ قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہو جاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا؟ تم تو خود گنہگار تھے، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کر دیا ‘۔ «مَكْرً» کے معنی سفیان رحمہ اللہ نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنکبوت:13] یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا ‘۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں۔
کہا کرتے تھے کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:21] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے ‘۔
ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ «وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:31-32] ’ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا؟ ‘ جس کے جواب میں اللہ عزوجل نے فرمایا ’ کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں؟ ‘
پس مکے یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بناء پر تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شریف النسب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کا خطاب ملا تھا -
ابوسفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7] جس سے شاہ روم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا۔
مسند کی حدیث میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم علیہ السلام سے اسمعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا۔ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2276]
فرمان ہے کہ ’ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3557]
{ ایک مرتبہ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا { میں کون ہوں؟ } انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرمایا: { میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:3073،]
{ جبرائیل علیہ السلام نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا“ }۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:176/1:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصحاب رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر بنایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:379/1:حسن]
ایک باہر کے شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے عبداللہ بن عباس ہیں رضی اللہ عنہ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» [الانعام: 124] ’ نبوت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہوگا اور اعلان ہوتا ہوگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3186]
پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔ اللہ ہمیں بچائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإنما ثبتَ أكابر المجرمين على باطلهم، وقاموا بردِّ الحقِّ الذي جاءت به الرسل، حسداً منهم وبغياً، فقالوا: {لن نؤمنَ حتَّى نُؤتى مثلَ ما أوتي رسلُ الله}: من النبوة والرسالة، وفي هذا اعتراض منهم على الله، وعجبٌ بأنفسهم، وتكبُّرٌ على الحقِّ الذي أنزله على أيدي رسله، وتحجُّرٌ على فضل الله وإحسانه، فردَّ الله عليهم اعتراضهم الفاسد، وأخبر أنهم لا يصلحون للخير، ولا فيهم ما يوجِبُ أن يكونوا من عبادِ الله الصالحين، فضلاً أن يكونوا من النبيين والمرسلين، فقال: {الله أعلم حيثُ يجعلُ رسالَتَه}؛ فمَنْ عَلِمَهُ يَصْلُحُ لها ويقوم بأعبائها وهو متَّصفٌ بكلِّ خلق جميل ومتبرئ من كل خلق دنيء، أعطاه الله ما تقتضيه حكمتُه أصلاً وتبعاً، ومَن لم يكن كذلك؛ لم يضع أفضل مواهبه عند من لا يستأهله ولا يزكو عنده.
وفي هذه الآية دليل على كمال حكمة الله تعالى: لأنَّه وإن كان تعالى رحيماً واسع الجود كثير الإحسان؛ فإنه حكيمٌ لا يضع جوده إلا عند أهله. ثم توعَّد المجرمين، فقال: {سيصيبُ الذين أجرموا صَغارٌ عند الله}؛ أي: إهانةٌ وذُلٌّ؛ كما تكبَّروا على الحقِّ؛ أذلَّهم الله، {وعذابٌ شديدٌ بما كانوا يمكُرون}؛ أي: بسبب مكرِهم لا ظلماً منه تعالى.