تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہی صحیح معلوم ہوتا ہے، صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما دیکھنے کے قائل ہیں، مگر وہ کبھی ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ مزید تفصیل سورۂ نجم میں آئے گی۔ یہ تمام بحث دنیا میں نہ دیکھ سکنے کی ہے، مگر قرآن مجید کی متعدد آیات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کے علاوہ مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جیسے چاند کے دیکھنے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جنت کی سب سے بڑی نعمت یہی ہو گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ(22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [القیامۃ: 23،22] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ لیکن ادراک کا معنی اگر حقیقت کو پالینا ہو تو یہ تو قیامت کے دن بھی نہ کسی فرشتے کے لیے ممکن ہے نہ رسول کے لیے، کیونکہ محدود مخلوق لا محدود کی حقیقت کو کیسے پا سکتی ہے۔ پھر زیر تفسیر آیت کے مطابق دنیا اور آخرت کسی جگہ بھی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا تدركه الأبصار}: لعظمته وجلالِهِ وكماله، أي: لا تحيط به الأبصار وإن كانت تراه وتفرح بالنظر إلى وجهه الكريم، فنَفْيُ الإدراك لا يَنْفي الرؤية، بل يثبتها بالمفهوم؛ فإنه إذا نفى الإدراك الذي هو أخص أوصاف الرؤية؛ دلَّ على أن الرؤية ثابتة؛ فإنه لو أراد نفي الرؤية؛ لقال: لا تراه الأبصارُ ... ونحو ذلك، فعلم أنه ليس في الآية حجة لمذهب المعطلة الذين ينفون رؤية ربِّهم في الآخرة، بل فيها ما يدل على نقيض قولهم. {وهو يدرِكُ الأبصار}؛ أي: هو الذي أحاط علمُهُ بالظواهر والبواطن، وسمعُهُ بجميع الأصوات الظاهرة والخفية، وبصرُهُ بجميع المبصرات صغارها وكبارها، ولهذا قال: {وهو اللطيف الخبير}؛ أي: الذي لَطُفَ علمه وخبرته ودقَّ حتى أدرك السرائر والخفايا والخبايا والبواطن، ومن لطفه أنه يسوقُ عبدَه إلى مصالح دينه، ويوصلها إليه بالطرق التي لا يشعر بها العبد ولا يسعى فيها، ويوصله إلى السعادة الأبدية والفلاح السرمديِّ من حيث لا يحتسب، حتى إنه يقدِّرُ عليه الأمورَ التي يكرهها العبدُ ويتألَّمُ منها ويدعو اللهَ أن يزيلَها؛ لعلمه أن دينَهُ أصلح؛ وأن كمالَه متوقِّفٌ عليها؛ فسبحان اللطيفِ لما يشاء الرحيم بالمؤمنين.