تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں بھی فرمایا ’ اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے «فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَـٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ» ۱؎ [22-الحج:46] ’ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہو جاتے ہیں ‘۔
میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ کوئی جاہل نہ رہ جائے اور مشرکین مکذبین اور کافرین یہ نہ کہہ دیں کہ تو نے اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اہل کتاب سے یہ درس لیا ہے ان سے پڑھا ہے انہی نے تجھے سکھایا ہے۔
اور آیتوں میں ان کے بڑے کا قول ہے کہ «إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ» ۱؎ [74-المدثر:18-25] ’ اس نے بہت کچھ غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے، یقیناً یہ انسانی قول ہے اور اس لیے کہ ہم علماء کے سامنے وضاحت کر دیں تاکہ وہ حق کے قائل اور باطل کے دشمن بن جائیں ‘۔
رب کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ جو ایک گروہ کو ہدایت اور دوسرے کو ضلالت عطا کرتا ہے، جیسے فرمایا «يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [2-البقرہ:26] ’ اس کے ساتھ بہت کو ہدایت کرتا ہے اور بہت کو گمراہ کرتا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [22-الحج:53] ’ تاکہ وہ شیطان کے القا کو بیمار دلوں کیلئے سبب فتنہ کر دے ‘۔
اور فرمایا آیت «وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰىِٕكَةً ۠ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا» ۱؎ [74-المدثر:31] یعنی ’ ہم نے دوزخ کے پاسبان فرشتے مقرر کئے ہیں ان کی مقررہ تعداد بھی کافروں کے لیے فتنہ ہے تاکہ اہل کتاب کامل یقین کرلیں ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں اہل کتاب اور مومن شک شبہ سے الگ ہو جائیں اور بیمار دل کفر والے کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے اسی طرح جسے اللہ چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے راہ راست دکھاتا ہے، تیرے رب کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت و شفاء ہے اور بے ایمان وں کے کانوں میں بوجھ ہے اور ان پر اندھا پن غالب ہے یہ دور کی جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں اور گمراہ بھی ہوتے ہیں۔ «دَارَسْتَ» کی دوسری قرأت «دَرَسْتَ» بھی ہے یعنی پڑھا اور سیکھا اور یہ معنی ہیں کہ اسے تو مدت گزر چکی یہ تو تو پہلے سے لایا ہوا ہے، یہ تو تو پڑھایا گیا ہے اور سکھایا گیا ہے۔ ایک قرأت میں «دَرَسَ» بھی ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:] لیکن یہ غریب ہے
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے «درَسْتَ» پڑھایا ہے۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:70/3:]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قد جاءكم بصائرُ من ربِّكم فمن أبصر فلنفسِهِ ومن عَمِيَ فعليها وما أنا عليكم بحفيظٍ}: لما بيَّن تعالى من الآيات البينات والأدلة الواضحات الدالة على الحقِّ في جميع المطالب والمقاصد؛ نبَّه العباد عليها، وأخبر أن هدايتهم وضدها لأنفسهم، فقال: {قد جاءَكُم بصائِرُ من ربِّكُم}؛ أي: آيات تبيِّن الحقَّ وتجعله للقلب بمنزلة الشمس للأبصار؛ لما اشتملت عليه من فصاحة اللفظ وبيانه ووضوحه ومطابقته للمعاني الجليلة والحقائق الجميلة؛ لأنَّها صادرةٌ من الربِّ الذي ربَّى خلقه بصنوف نعمه الظاهرة والباطنة، التي من أفضلها وأجلها تبيين الآيات وتوضيح المشكلات. {فمن أبصر}: بتلك الآياتِ مواقعَ العبرة وعمل بمقتضاها {فلنفسه}: فإنَّ الله هو الغنيُّ الحميد، ومن عَمِيَ بأن بُصِّرَ فلم يَتَبَصَّر، وزُجِرَ فلم ينزجِرْ، وبُيِّن له الحقُّ فما انقاد له ولا تواضع؛ فإنما عماه مضرَّتُه عليه. {وما أنا}: أيها الرسول، {عليكم بحفيظٍ}: أحفظ أعمالَكم وأراقِبُها على الدوام، إنما عليَّ البلاغُ المبين، وقد أدَّيته وبلَّغت ما أنزل الله إليَّ؛ فهذه وظيفتي، وما عدا ذلك فلست موظفاً فيه.