تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذلكم الذي خلق ما خلق وقدَّر ما قدَّر؛ {اللهُ ربُّكم}؛ أي: المألوهُ المعبودُ الذي يستحقُّ نهاية الذُّلِّ ونهاية الحبِّ، الربُّ الذي ربَّى جميع الخلق بالنعم، وصرف عنهم صنوف النقم، خالق كل شيءٍ لا إله إلا هو {فاعبدوه}؛ أي: إذا استقرَّ وثبت أنه الله الذي لا إله إلاَّ هو؛ فاصرِفوا له جميع أنواع العبادة، وأخلصوها لله، واقصدوا بها وجهه؛ فإنَّ هذا هو المقصود من الخلق الذي خُلِقوا لأجله، {وما خَلَقْتُ الجنَّ والإنسَ إلا لِيَعبُدُونِ}. {وهو على كل شيء وكيل}، أي: جميع الأشياء تحت وكالة الله وتدبيره خلقاً وتدبيراً وتصريفاً. ومن المعلوم أن الأمر المتصرَّف فيه يكون استقامته وتمامه وكمال انتظامه بحسب حال الوكيل عليه، ووكالته تعالى على الأشياء ليست من جنس وكالة الخلق؛ فإن وكالتهم وكالة نيابة، والوكيل فيها تابع لموكله، وأما الباري تبارك وتعالى؛ فوكالته من نفسه لنفسه، متضمنة لكمال العلم وحسن التدبير والإحسان فيه والعدل، فلا يمكن أحداً أن يستدرك على الله، ولا يرى في خلقه خللاً ولا فطوراً، ولا في تدبيره نقصاً وعيباً، ومن وكالته أنه تعالى توكَّل ببيان دينه وحفظه عن المزيلات والمغيِّرات، وأنه تولَّى حفظ المؤمنين وعصمتهم عما يزيل إيمانهم ودينهم.