لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱۰۳﴾
اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔
En
(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے
En
اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 103) {لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ …: ” اَدْرَكَ يُدْرِكُ “} کا معنی کسی چیز کو پالینا ہے، اس لیے اس کا معنی دیکھنا بھی ہو سکتا ہے اور کسی چیز کی حقیقت کو پا لینا بھی۔ ادراک کا معنی اگر آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اس کے متعلق ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”جو تمھیں بیان کرے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ …» پھر فرمایا: ”لیکن آپ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو دفعہ دیکھا ہے۔“ [بخاری، التفسیر، سورۃ والنجم: ۴۸۵۵] عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا (سورۂ نجم میں مذکور آیات) «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ [بخاری، التفسیر، باب: {فکان قاب قوسین أو أدنی}: ۴۸۵۶]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہی صحیح معلوم ہوتا ہے، صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما دیکھنے کے قائل ہیں، مگر وہ کبھی ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ مزید تفصیل سورۂ نجم میں آئے گی۔ یہ تمام بحث دنیا میں نہ دیکھ سکنے کی ہے، مگر قرآن مجید کی متعدد آیات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کے علاوہ مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جیسے چاند کے دیکھنے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جنت کی سب سے بڑی نعمت یہی ہو گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ(22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [القیامۃ: 23،22] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ لیکن ادراک کا معنی اگر حقیقت کو پالینا ہو تو یہ تو قیامت کے دن بھی نہ کسی فرشتے کے لیے ممکن ہے نہ رسول کے لیے، کیونکہ محدود مخلوق لا محدود کی حقیقت کو کیسے پا سکتی ہے۔ پھر زیر تفسیر آیت کے مطابق دنیا اور آخرت کسی جگہ بھی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ یہی صحیح معلوم ہوتا ہے، صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما دیکھنے کے قائل ہیں، مگر وہ کبھی ساتھ یہ بھی فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی آنکھ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ مزید تفصیل سورۂ نجم میں آئے گی۔ یہ تمام بحث دنیا میں نہ دیکھ سکنے کی ہے، مگر قرآن مجید کی متعدد آیات اور صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن انبیاء کے علاوہ مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی اپنی جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جیسے چاند کے دیکھنے میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جنت کی سب سے بڑی نعمت یہی ہو گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ(22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [القیامۃ: 23،22] ”کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔“ لیکن ادراک کا معنی اگر حقیقت کو پالینا ہو تو یہ تو قیامت کے دن بھی نہ کسی فرشتے کے لیے ممکن ہے نہ رسول کے لیے، کیونکہ محدود مخلوق لا محدود کی حقیقت کو کیسے پا سکتی ہے۔ پھر زیر تفسیر آیت کے مطابق دنیا اور آخرت کسی جگہ بھی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نہیں پاسکتیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 ابصار بصر نگاہ کی جمع ہے۔ یعنی انسان کی آنکھیں اللہ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اور اگر اس سے مراد روئیت بصری ہو تو اس کا تعلق دنیا سے ہوگا۔ یعنی دنیا کی آنکھ سے کوئی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم یہ صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار سے مشرف ہونگے۔ اس لئے مسلمانوں کا ایک فرقہ کا اس آیت سے ثبوت و دلیل کرتے ہوئے یہ کہنا کہ اللہ کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا، دنیا میں نہ آخرت میں، صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اس نفی کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتی ہیں، جس شخص نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (شب معراج میں) اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے، اس نے قطعًا جھوت بولا (صحیح بخاری)، کیونکہ اس آیت کی روح سے پیغمبر سمیت کوئی بھی اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے۔ البتہ آخرت کی زندگی میں دیدار ممکن ہوگا، جیسے دوسرے مقام پر قرآن نے اس کا اثبات فرمایا:۔ (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23ۚ) 75۔ القیامۃ:23-22) کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
103۔ نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں [105] جبکہ وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے اور وہ بڑا باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے
[105] ان تمام مذکورہ اشیاء کو پیدا کرنے والی ہستی ایسی ہے جسے انسان اپنی ان آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ کیا اس دنیا میں دیدار الٰہی ممکن ہے؟ مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا تھا۔ انہوں نے مجھے (مخاطب کر کے) کہا: ابو عائشہ (مسروق کی کنیت) تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی اگر کسی نے کہی تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ جس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (شب معراج میں) اپنے پروردگار کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ﴾ نیز فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗيِِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ﴾ میں اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہا: ام المومنین! جلدی نہ کیجئے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْريٰ﴾ نیز فرمایا: ﴿وَلَقَدْ رَاٰهُ بالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ﴾ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے اس بارے میں رسول اللہ سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جبریل تھے جنہیں میں نے دیکھا تھا۔ اور دونوں بار ان کی اصلی صورت میں نہیں بلکہ آسمان سے اترتے دیکھا اور وہ اتنے بڑے تھے کہ زمین و آسمان کے درمیان کی فضا بھر گئی تھی۔ اور جس نے یہ سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے منزل من اللہ وحی سے کچھ چھپایا۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿يٰٓاَيّهُاَ الرَّسُوْلُ بَلِّغْ﴾ اور جس نے یہ سمجھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات جانتے تھے۔ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللٰه﴾ [ترمذي ابواب التفسير] البتہ قیامت کو انسان اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکے گا جیسا کہ بے شمار آیات اور احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو کائنات کی رتی رتی چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر لمحہ ان کی خبر گیری کر رہا ہے۔ پھر ان کی ہر چھوٹی موٹی ضرورت کو پورا بھی کرتا رہتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ ٭٭
جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو -اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ رضی اللہ عنہا نے یہی آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» [6-الأنعام:103] پڑھی }۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف مروی ہے { انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا } -۱؎ [صحیح مسلم:176] سورۃ النجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
اسمعیل بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور حضرات فرماتے ہیں ”یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کر لیا ہے۔“ ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہو گا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22-23] یعنی ’ اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے ‘۔
اور فرمان ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83۔المطففین:15] یعنی ’ کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے ‘۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا“، متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ ابوسعید، ابوہریرہ، انس، جریج، صہیب، بلال رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے کہ { حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ { مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے } }۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین!
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لیے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے؟ پس اللہ تعالیٰ تو بے مثل ہے۔
ابن علیہ فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہٰ کر لینے کو اور عدم احاطہٰ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہٰ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا -احاطہٰ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ «يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]۔
صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح مسلم میں ہے { «لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» یعنی { اے اللہ میں تیری ثناء کا احاطہٰ نہیں کر سکتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثناء کا نہ کرنا نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ”کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔“ عکرمہ رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا“؟ اس نے کہا ہاں، فرمایا ”پھر سب دیکھ چکا ہے؟“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کر لیں۔“
چنانچہ ابن جریر میں آیت «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ» ۱؎ [75-القيامة:22] کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہٰ نہ کر سکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے { اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہٰ کرسکیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:7736/4:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا“، تو میں نے کہا ”کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’ اللہ کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے ‘، تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا ”یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:179]
اگلی کتابوں میں ہے کہ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ ’ اے موسیٰ (علیہ السلام) جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مر جائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہو جائے گا ‘۔ خود قرآن میں ہے کہ «فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ’ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں ‘۔
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔
یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہو سکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آ سکتی ہے؟
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا“ اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لیے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہو گا جیسے فرمان ہے آیت «اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [67-الملک:14] ’ کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے ‘ اور ہو سکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جیسے کہ لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے ‘۔