تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ …:} مشرکین کی تردید کے بعد اب ان کی تردید کی ہے جو اللہ کی اولاد مانتے تھے۔ فرمایا، اللہ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے، جب کہ اولاد تو وہ ہوتی ہے جو بیوی کے ذریعے سے پیدا ہو اور اگر کسی کو بیوی کے بغیر بنایا جائے تو وہ مخلوق ہوتی ہے نہ کہ اولاد، جیسا کہ آسمان و زمین کی پیدائش یا آدم علیہ السلام کی پیدائش۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [19-مريم:88-95] ’ لوگ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے۔ ان کی بڑی فضول اور غلط افواہ ہے عجب نہیں کہ اس بات کو سن کر آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ رحمن اور اولاد؟ وہ تو ایسا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ سب پر اس کا علبہ سب پر اس کا علم سب اس کے سامنے فردا فرداً آنے والے۔ وہ خالق کل ہے اور عالم کل ہے۔ اس کی جوڑ کا کوئی نہیں وہ اولاد سے اور بیوی سے پاک ہے اور مشرکوں کے اس بیان سے بھی پاک ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{بديع السموات والأرض}؛ أي: خالقهما ومتقن صنعتهما على غير مثال سبق بأحسن خلق ونظام وبهاء لا تقترحُ عقول أولي الألباب مثله، وليس له في خلقهما مشارك. {أنَّى يكونُ له ولدٌ ولم تكن له صاحبةٌ}؛ أي: كيف يكون لله الولد وهو الإله السيد الصمد الذي لا صاحبةَ له؛ أي: لا زوجة، وهو الغني عن مخلوقاته، وكلها فقيرةٌ إليه مضطرةٌ في جميع أحوالها إليه، والولد لا بدَّ أن يكون من جنس والده، والله خالق كل شيء، وليس شيءٌ من المخلوقات مشابهاً لله بوجه من الوجوه. ولما ذكر عمومَ خَلْقِهِ للأشياء؛ ذكر إحاطة علمه بها، فقال: {وهو بكلِّ شيءٍ عليمٌ}، وفي ذكر العلم بعد الخلق إشارة إلى الدليل العقلي إلى ثبوت علمه، وهو هذه المخلوقات وما اشتملت عليه من النظام التامِّ والخلق الباهر؛ فإنَّ في ذلك دلالة على سَعَة علم الخالق وكمال حكمته؛ كما قال تعالى: {ألا يعلمُ مَنْ خَلَقَ وهو اللطيف الخبير}، وكما قال تعالى: {وهو الخلاَّقُ العليم}.