تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَاْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيْدٌ:} یعنی یہ یہودی اور منافقین تمھارے مقابلے میں تبھی آ سکتے تھے جب وہ آپس میں ایک ہوتے، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسلام دشمنی میں اکٹھے ہیں، ورنہ ان کی آپس کی لڑائی بہت سخت ہے۔ منافقین و یہود اور مشرکین کا ایک دوسرے سے یہی معاملہ ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک گروہ کے افراد آپس میں بھی ایک نہیں بلکہ ایک دوسرے سے شدید دشمنی رکھتے ہیں، ایسے لوگوں میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ تمھارے مقابلے میں اکٹھے ہو کر میدان میں نکلیں۔
➌ {تَحْسَبُهُمْ جَمِيْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى:” شَتّٰى “ ”شَتِيْتٌ“} کی جمع ہے، جیسے{” قَتِيْلٌ“} کی جمع {” قَتْلٰي“} ہے، یعنی تم انھیں گمان کرو گے کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں۔
➍ {ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ:} اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کام کے انجام کو نہیں سوچتے اور عقل سے کام نہیں لیتے، بلکہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں، جس کا نتیجہ باہمی اختلاف اور عداوت ہی ہے۔ {” قَوْمٌ “} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہ ان کے ایک آدھ آدمی کا معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مزاج ہی یہ ہے۔
➎ ان آیات میں مسلمانوں کی تربیت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت، عناد اور دشمنی سے بہت زیادہ اجتناب کریں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ کوئی بھی قوم دشمن پر اسی وقت غالب ہو سکتی ہے جب ان کے دل ایک دوسرے کے کینے اور عداوت سے پاک اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں اور وہ قومی و اجتماعی مفاد کو اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے یک زبان و یک جان ہوں۔
➏ مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں: ”اس آیت کے حکیمانہ مضمون کو اور مسلمانوں کی اندرونی حالت نوعی و صنفی، پھر صنفی در صنفی کو دیکھیں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے کہ یہ آیت ہمارے ہی حق میں اتری ہے۔ خواجہ حالی نے اس حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
نہ سنی میں اور جعفری میں ہو ملت
نہ نعمانی و شافعی میں ہو الفت
وہابی سے صوفی کی کم نہ ہو نفرت
مقلد کرے نامقلد پہ لعنت
رہے اہل قبلہ میں جنگ ایسی باہم
کہ دین خدا پر ہنسے سارا عالم
کسی ایک غرضِ عام کے لیے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، ابتدا میں اگر ہوتے ہیں تو انتہا میں بگڑ جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ اطوار انھی لوگوں میں ہوتے ہیں جو قومی اغراض عامہ سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے ان کے حق میں یہ الٰہی فیصلہ بالکل حق اور بجا ہے: «ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ» ”یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ (ثنائی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[20] یعنی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اتحاد بھی صرف وہ کام آتا ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں اور خیالات و نظریات میں ہم آہنگی ہو۔ جب تک وہ اس بات کو نہ سمجھیں گے عارضی طور پر اتحاد کر لینے کے باوجود بھی حق کے مقابلہ میں مار ہی کھاتے رہیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا يقاتِلونَكم جميعاً}؛ أي: في حال الاجتماع {إلاَّ في قرىً محصَّنةٍ أو من وراءِ جُدُرٍ}؛ أي: لا يثبتون على قتالكم ولا يعزِمون عليه إلاَّ إذا كانوا متحصِّنين في القرى أو من وراء الجدر والأسوار؛ فإنهم إذ ذاك ربَّما يحصُل منهم امتناعٌ اعتماداً على حصونهم وجُدُرهم لا شجاعةً بأنفسهم، وهذا من أعظم الذَّمِّ. {بأسُهُم بينَهم شديدٌ}؛ أي: بأسهم فيما بينهم شديدٌ، لا آفة في أبدانهم ولا في قوَّتهم، وإنَّما الآفة في ضعف إيمانهم وعدم اجتماع كَلِمَتهم، ولهذا قال: {تحْسَبُهُم جميعاً}: حين تراهم مجتمعين ومتظاهرين، {و} لكن {قلوبُهم شتًّى}؛ أي: متباغضة متفرِّقة متشتِّتة. {ذلك}: الذي أوجب لهم اتِّصافهم بما ذُكِرَ {بأنَّهم قومٌ لا يعقلونَ}؛ أي: لا عقل عندهم ولا لبَّ؛ فإنَّهم لو كانت لهم عقولٌ؛ لآثروا الفاضل على المفضول، ولَما رضوا لأنفسهم بأبخس الخطَّتين، ولكانت كلمتُهم مجتمعةً وقلوبهم مؤتلفةً؛ فبذلك يتناصرون ويتعاضدون ويتعاونون على مصالحهم [ومنافعهم] الدينيَّة والدنيويَّة؛ مثل هؤلاء المخذولين من أهل الكتاب، الذين انتصر الله لرسوله منهم، وأذاقَهم الخزيَ في الحياة الدنيا، وعدمَ نصرِ مَنْ وعدَهم بالمعاونة.