تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 14

لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾
وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔ تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں،یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ En
یہ سب جمع ہو کر بھی تم سے (بالمواجہہ) نہیں لڑ سکیں گے مگر بستیوں کے قلعوں میں (پناہ لے کر) یا دیواروں کی اوٹ میں (مستور ہو کر) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے۔ تم شاید خیال کرتے ہو کہ یہ اکھٹے (اور ایک جان) ہیں مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں یہ اس لئے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں
En
یہ سب مل کر بھی تم سے لڑ نہیں سکتے ہاں یہ اور بات ہے کہ قلعہ بند مقامات میں ہوں یا دیواروں کی آڑ میں ہوں، ان کی لڑائی تو ان میں آپس میں ہی بہت سخت ہے گو آپ انہیں متحد سمجھ رہے ہیں لیکن ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ اس لیے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِیْ قُ٘رًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَ٘اْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوْبُهُمْ شَتّٰى مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ یہ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔
اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يقاتِلونَكم جميعاً}؛ أي: في حال الاجتماع {إلاَّ في قرىً محصَّنةٍ أو من وراءِ جُدُرٍ}؛ أي: لا يثبتون على قتالكم ولا يعزِمون عليه إلاَّ إذا كانوا متحصِّنين في القرى أو من وراء الجدر والأسوار؛ فإنهم إذ ذاك ربَّما يحصُل منهم امتناعٌ اعتماداً على حصونهم وجُدُرهم لا شجاعةً بأنفسهم، وهذا من أعظم الذَّمِّ. {بأسُهُم بينَهم شديدٌ}؛ أي: بأسهم فيما بينهم شديدٌ، لا آفة في أبدانهم ولا في قوَّتهم، وإنَّما الآفة في ضعف إيمانهم وعدم اجتماع كَلِمَتهم، ولهذا قال: {تحْسَبُهُم جميعاً}: حين تراهم مجتمعين ومتظاهرين، {و} لكن {قلوبُهم شتًّى}؛ أي: متباغضة متفرِّقة متشتِّتة. {ذلك}: الذي أوجب لهم اتِّصافهم بما ذُكِرَ {بأنَّهم قومٌ لا يعقلونَ}؛ أي: لا عقل عندهم ولا لبَّ؛ فإنَّهم لو كانت لهم عقولٌ؛ لآثروا الفاضل على المفضول، ولَما رضوا لأنفسهم بأبخس الخطَّتين، ولكانت كلمتُهم مجتمعةً وقلوبهم مؤتلفةً؛ فبذلك يتناصرون ويتعاضدون ويتعاونون على مصالحهم [ومنافعهم] الدينيَّة والدنيويَّة؛ مثل هؤلاء المخذولين من أهل الكتاب، الذين انتصر الله لرسوله منهم، وأذاقَهم الخزيَ في الحياة الدنيا، وعدمَ نصرِ مَنْ وعدَهم بالمعاونة.