(آیت 13) ➊ {لَاَانْتُمْاَشَدُّرَهْبَةًفِيْصُدُوْرِهِمْمِّنَاللّٰهِ:} اس میں مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا ہے، کیونکہ جب انھیں معلوم ہوگا کہ دشمن ان سے شدید خوف زدہ ہے تو وہ بڑھ چڑھ کر حملے کریں گے۔ ➋ { ذٰلِكَبِاَنَّهُمْقَوْمٌلَّايَفْقَهُوْنَ:} کیونکہ اگر وہ سمجھ دار ہوتے تو مخلوق کے بجائے خالق سے ڈرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یہود کے یا منافقین کے یا سب کے ہی دلوں میں۔ 13۔ 2 یعنی تمہارا یہ خوف ان کے دلوں میں ان کی ناسمجھی کی وجہ سے ہے، ورنہ اگر سمجھدار ہوتے تو سمجھ جاتے کہ مسلمانوں کا غلبہ و تسلط، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لئے ڈرنا اللہ تعالیٰ سے چاہیے نہ کہ مسلمانوں سے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ ان کے دلوں میں اللہ کے خوف سے زیادہ تمہاری دہشت [17] ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ سمجھ بوجھ نہیں [18] رکھتے۔
[17] یعنی منافقوں کا بنو نضیر سے اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ سے ڈر گئے ہیں۔ یا انہیں اپنے دعویٰ اسلام کا کچھ پاس ہونے لگا ہے۔ یا انہیں یہ خطرہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں کافروں کی حمایت کے جرم کی پاداش میں سزا ملے گی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہارے جیسے سچے مسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق اور اللہ کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگا دینے سے وہ کچھ اس طرح مرعوب ہو چکے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہو چکا ہے کہ اگر وہ یہودیوں کی حمایت میں لڑنے کو نکلے تو یہودیوں کے ساتھ یہ خود بھی پس جائیں گے۔ [18] اصل سوجھ بوجھ یہ ہے کہ صرف اللہ سے ڈرا جائے اللہ کے مقابلے میں اور کسی سے نہ ڈرا جائے۔ مگر یہ لوگ بس ایک اللہ سے نہیں ڈرتے۔ باقی سب طرح کے خطرات ان کے سروں پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ لہٰذا جس طرف انہیں اپنے بچاؤ کی صورت نظر آتی ہے۔ اپنے تمام وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر ادھر ہی اپنا رخ موڑ لیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّرَهْبَةًفِیْصُدُوْرِهِمْمِّنَاللّٰهِ﴾”تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔“ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَبِاَنَّهُمْقَوْمٌلَّایَفْقَهُوْنَ﴾”یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔“ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والسبب الذي حملهم على ذلك أنَّكم أيُّها المؤمنون {أشدُّ رهبةً في صدورِهِم من اللهِ}: فخافوا منكم أعظم ممَّا يخافون الله، وقدَّموا مخافَة المخلوق الذي لا يملك لنفسه [ولا لغيره] نفعاً ولا ضرًّا على مخافة الخالق الذي بيده الضرُّ والنفع والعطاء والمنع. {ذلك بأنَّهم قومٌ لا يفقهون}: مراتب الأمور، ولا يعرفون حقائق الأشياء، ولا يتصوَّرون العواقب، وإنَّما الفقه كلُّ الفقه أن يكون خوفُ الخالق ورجاؤه ومحبَّتُه مقدمةً على غيرها، وغيرها تبعاً لها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔