ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 20

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمۡ وَ تَکَاثُرٌ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعۡجَبَ الۡکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕ وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۙ وَّ مَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٌ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۲۰﴾
جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے اوردل لگی ہے اور بناؤ سنگار ہے اور تمھارا آپس میں ایک دوسرے پر بڑائی جتانا ہے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے، اس بارش کی طرح جس سے اگنے والی کھیتی نے کاشت کاروں کو خوش کر دیا، پھر وہ پک جاتی ہے، پھر تو اسے دیکھتا ہے کہ زرد ہے، پھر وہ چورا بن جاتی ہے اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بڑی بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ En
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے
En
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال واوﻻد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ {اِعْلَمُوْۤا:} پچھلی آیات سے اس آیت کی مناسبت یہ ہے کہ نفاق کا سبب اور اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز اور مال خرچ کرنے سے دریغ کا باعث دنیا کی زندگی کی محبت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی۔
➋ { اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا: الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا } سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کر سکتا ہے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [النحل: ۹۷] جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔
➌ { لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۴)کی تفسیر۔
➍ { وَ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ:} یہ سچے اور مخلص اہل ایمان یعنی صدیقین و شہداء کے مقابلے میں ایمان سے محروم دنیا دار لوگوں کا حال ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرما دیا ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: آدمی کو اوّل عمر میں کھیل چاہیے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار، پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب ہو تو مال اور اولاد کی فکر کرنا کہ میرے بعد میرا گھر بنا رہے اور اولاد آسودگی سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب دھوکے کا سامان ہے، آگے کچھ اور کام آئے گا (ایمان اور عملِ صالح) یہ کچھ کام نہ آئے گا۔ (موضح بتصرف)
➎ {كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ …: غَيْثٍ } بارش، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا» ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۲۸] اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں۔ { الْكُفَّارَ } سے مراد یہاں کاشت کار ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ» ‏‏‏‏ [الفتح: ۲۹] کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ کیونکہ کفر کا معنی چھپانا ہے اور کاشت کار بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ آیت کے دوسرے الفاظ اور تمثیل کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۴)، زمر(۲۱) اور سورۂ کہف(۴۵) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ دیکھیے سورۂ آل عمران (15،14) کی تفسیر۔ بعض مفسرین نے { الْكُفَّارَ } سے مراد حقیقی کافر لیے ہیں، ان کے مطابق اگرچہ بارش سے اگنے والی کھیتی مومن و کافر سبھی کو خوش کرتی ہے، مگر کفار کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ وہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی خوشی کا تمام سرمایۂ حیات دنیا ہے۔
➏ {وَ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ:} یعنی بات صرف اتنی نہیں کہ دنیا کی زندگی ختم ہو اور جان چھوٹ جائے، بلکہ اصل معاملہ اس کے بعد آخرت کا اور اس کی ہمیشہ کی زندگی کا ہے کہ وہاں دو میں سے ایک بات سے ہر حال میں واسطہ پڑنے والا ہے، ایک طرف شدید عذاب ہو گا اور دوسری طرف اللہ کی بخشش اور اس کی زبردست رضا ہوگی۔ { رِضْوَانٌ } مصدر میں مبالغے کا مفہوم ہے۔
➐ { وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ:} یعنی جس نے ساری جدوجہد دنیا کی زندگی بنانے کے لیے کی وہ دھوکے میں پڑ گیا، کیونکہ اس نے جو کچھ کمایا دنیا کی زندگی ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گیا اور آخرت میں اس کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں جنھوں نے اسے آخرت کے حصول کا ذریعہ بنایا، کیونکہ ان کے اعمال دنیا کے فنا ہونے کے باوجود باقی رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا» [الکھف: ۴۶] مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1یعنی اہل کفر کے لئے جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔ 20-2یعنی اہل ایمان وطاعت کے لئے، جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عارضی، فانی اور دارالا متحان سمجھتے ہوئے اللہ کی ہدایات کے مطابق اس میں زندگی گزاری۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کر دیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب [35] ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے
[35] انسانی اور نباتاتی زندگی کا تقابل :۔
اس آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا نباتات کی زندگی سے تقابل پیش کیا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کر کے ان دونوں قسم کی زندگی کا تقابل بتایا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا بچپن کھیل کود میں گزار دیتا ہے۔ پھر جب اس پر جوانی آتی ہے تو اس کا محبوب مشغلہ اپنے آپ کو بن سنور کر پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ اگر وہ مرد ہے تو وہ عورتوں کی توجہ کا مرکز بنے اور عورت ہے تو مردوں کے لیے دلکشی کا باعث ہو۔ پھر جب اس عمر سے گزرتا ہے تو اس کو ’ہمچو ما دیگرے نیست‘ قسم کی چیز بننے کی خواہش لاحق ہوتی ہے اور آخری عمر میں اس کی ہوس میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کی خوش حالی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنی اولاد کے لیے جان کھپانا شروع کر دیتا ہے حتیٰ کہ اسے موت آلیتی ہے۔ نباتات کا بھی یہی حال ہے۔ پیدا ہوتی ہے اپنے کسانوں یا مالکوں کو خوش کرتی ہے اور ان کی کئی توقعات اس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ پھر اس پر جوانی کا دور آتا ہے تو ہر ایک کا دل موہ لیتی ہے پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور وہ زرد پڑنے لگتی ہے۔ اور انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ جانوروں کی خوراک بنتا ہے باقی پاؤں تلے روندا جاتا ہے اور اس مثال سے سمجھانا یہ مقصود ہے کہ جیسے نباتات کی بہار بھی عارضی چیز ہے اور خزاں بھی۔ اسی طرح انسان کی زندگی کی خوشحالیاں بھی عارضی چیزیں ہیں اور تنگدستی اور مصائب بھی۔ اس کے مقابلہ میں جنت کی بہار اور اس کی تمام تر نعمتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں اور اس کی خزاں یعنی جہنم اور اس کا عذاب مصیبتیں بھی دائمی اور مستقل ہیں۔ لہٰذا انسان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عارضی اور نا پائیدار چیزوں کے حصول کے بجائے دائمی اور مستقل چیزوں کو اپنا مطمح نظر بنائے اور انہیں کے لیے تمام تر تگ و دو کرے۔ اور جو شخص دنیا کی دلکشیوں میں کھو گیا اور اس کی بہار پر مست ہو گیا وہ بہت بڑے دھوکے میں پڑ گیا۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی کو محض کھیل کود سمجھنے کی بجائے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی سمجھے اور اپنی عاقبت کو سنوارنے کی کوشش کرے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے ٭٭
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ ’ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا؟‘ جیسے اور آیت میں ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ» ۱؎ [3-آل عمران:14]‏‏‏‏، یعنی ’ لوگوں کے لیے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کر دیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔‘
«غَيْثٍ» کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ» ۱؎ [42-الشورى:28]‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ ‘
پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی تروتازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟
جیسے ارشاد باری ہے آیت «اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-سورةالروم:54]‏‏‏‏ ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔‘
اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے۔
پس فرماتا ہے عنقریب آنے والی قیامت اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضا مندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کر لو، سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ، دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے }۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:685/11:صحیح]‏‏‏‏۔ آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3250]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے۔
اورفرمایا: ﴿ وَّزِیْنَةٌ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ اور آپس میں فخر کرنا ہے۔ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔
رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَفِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ وَمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْ٘غُرُوْرِ اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حقيقة الدُّنيا وما هي عليه، ويبيِّن غايتها وغاية أهلها؛ بأنَّها {لعبٌ ولهوٌ}: تلعب بها الأبدان وتلهو بها القلوب، وهذا مصداقُه ما هو موجودٌ وواقعٌ من أبناء الدُّنيا؛ فإنَّك تجِدُهم قد قطعوا أوقاتَ عُمُرِهِم بلهوِ قلوبهم وغفلتهم عن ذكر الله وعمَّا أمامهم من الوعد والوعيد، وتراهم قد اتَّخذوا دينَهم لعباً ولهواً؛ بخلاف أهل اليقظة وعُمَّال الآخرة؛ فإنَّ قلوبَهم معمورةٌ بذكر الله ومعرفته ومحبَّته، وقد شغلوا أوقاتهم بالأعمال التي تقرِّبهم إلى الله من النفع القاصر والمتعدِّي. وقوله: {وزينةٌ}؛ أي: تزين في اللباس والطعام والشراب والمراكب والدُّور والقصور والجاه وغير ذلك، {وتفاخرٌ بينكم}؛ أي: كلُّ واحدٍ من أهلها يريد مفاخرةَ الآخر، وأن يكونَ هو الغالبَ في أمورها، والذي له الشهرةُ في أحوالها، {وتكاثرٌ في الأموال والأولادِ}؛ أي: كلٌّ يريدُ أن يكون هو الكاثر لغيره في المال والولد، وهذا مصداقُهُ وقوعُهُ من محبِّي الدُّنيا والمطمئنين إليها؛ بخلاف مَنْ عَرَفَ الدُّنيا وحقيقتها، فجعلها معبراً، ولم يجعلها مستقرًّا، فنافس فيما يقرِّبُه إلى الله، واتَّخذ الوسائل التي توصلُه إلى دار كرامته ، وإذا رأى من يكاثُره وينافسه في الأموال والأولاد؛ نافَسَه بالأعمال الصالحة.

ثم ضرب للدُّنيا مثلاً بغيثٍ نزل على الأرض، فاختلط به نباتُ الأرض مما يأكُلُ الناسُ والأنعام، حتى إذا أخذتِ الأرضُ زُخْرُفَها، وأعجب نباتُه الكفارَ الذين قَصَروا نَظَرَهم وهِمَمَهم على الدُّنيا ؛ جاءها من أمرِ الله ما أتلفها، فهاجتْ ويبستْ وعادتْ إلى حالها الأولى ؛ كأنَّه لم ينبتْ فيها خضراءُ ولا رُإِيَ لها مَرْأَى أنيق، كذلك الدُّنيا؛ بينما هي زاهيةٌ لصاحبها زاهرةٌ؛ مهما أراد من مطالبها حصل، ومهما توجَّه لأمر من أمورها؛ وجد أبوابه مفتَّحة؛ إذ أصابها القَدَرُ، فأذهبها من يده، وأزال تسلُّطه عليها، أو ذهب به عنها، فرحل منها صفر اليدين؛ لم يتزَّود منها سوى الكفن، فتبًّا لمن أضحتْ هي غايةَ أمنيَّته ولها عمله وسعيه.

وأما العمل للآخرة؛ فهو الذي ينفع ويُدَّخر لصاحبه ويصحب العبدَ على الأبد، ولهذا قال تعالى: {وفي الآخرة عذابٌ شديدٌ ومغفرةٌ من الله ورضوانٌ}؛ أي: حال الآخرة ما يخلو من هذين الأمرين: إمَّا العذابُ الشديدُ في نار جهنَّم وأغلالها وسلاسلها وأهوالها لمن كانت الدُّنيا هي غايتَهُ ومنتهى مطلبِهِ، فتجرَّأ على معاصي الله، وكذَّب بآيات الله، وكفر بأنعم الله، وإمَّا مغفرةٌ من الله للسيئات، وإزالةُ العقوبات، ورضوانٌ من الله يُحِلُّ من أحَلَّه عليه دارَ الرضوان لمن عرف الدُّنيا وسعى للآخرة سعيها؛ فهذا كلُّه مما يدعو إلى الزهد في الدنيا والرغبة في الآخرة، ولهذا قال: {وما الحياةُ الدُّنيا إلاَّ متاعُ الغُرور}؛ أي: إلاَّ متاعٌ يُتَمَتَّعُ به ويُنْتَفَعُ به ويُسْتَدْفَعُ به الحاجات؛ لا يغترُّ به ويطمئنُّ إليه إلاَّ أهل العقول الضعيفة، الذين يغرُّهم بالله الغرور.