تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا: ” الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا “} سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کر سکتا ہے، جیساکہ فرمایا: «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [النحل: ۹۷] ” جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ “
➌ { لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۴)کی تفسیر۔
➍ { وَ زِيْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ:} یہ سچے اور مخلص اہل ایمان یعنی صدیقین و شہداء کے مقابلے میں ایمان سے محروم دنیا دار لوگوں کا حال ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرما دیا ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” آدمی کو اوّل عمر میں کھیل چاہیے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار، پھر ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب ہو تو مال اور اولاد کی فکر کرنا کہ میرے بعد میرا گھر بنا رہے اور اولاد آسودگی سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب دھوکے کا سامان ہے، آگے کچھ اور کام آئے گا (ایمان اور عملِ صالح) یہ کچھ کام نہ آئے گا۔“ (موضح بتصرف)
➎ {كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ …:” غَيْثٍ “} بارش، جیساکہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا» [الشورٰی: ۲۸] ” اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے، اس کے بعد کہ وہ نا امید ہو چکے ہوتے ہیں۔“ {” الْكُفَّارَ “} سے مراد یہاں کاشت کار ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ» [الفتح: ۲۹] ”کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے۔“ کیونکہ کفر کا معنی چھپانا ہے اور کاشت کار بیج کو زمین میں چھپا دیتا ہے۔ آیت کے دوسرے الفاظ اور تمثیل کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۴)، زمر(۲۱) اور سورۂ کہف(۴۵) کی تفسیر۔ اس کے علاوہ دیکھیے سورۂ آل عمران (15،14) کی تفسیر۔ بعض مفسرین نے {” الْكُفَّارَ “} سے مراد حقیقی کافر لیے ہیں، ان کے مطابق اگرچہ بارش سے اگنے والی کھیتی مومن و کافر سبھی کو خوش کرتی ہے، مگر کفار کا ذکر خصوصاً اس لیے فرمایا کہ وہ اس پر زیادہ خوش ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی خوشی کا تمام سرمایۂ حیات دنیا ہے۔
➏ {وَ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ:} یعنی بات صرف اتنی نہیں کہ دنیا کی زندگی ختم ہو اور جان چھوٹ جائے، بلکہ اصل معاملہ اس کے بعد آخرت کا اور اس کی ہمیشہ کی زندگی کا ہے کہ وہاں دو میں سے ایک بات سے ہر حال میں واسطہ پڑنے والا ہے، ایک طرف شدید عذاب ہو گا اور دوسری طرف اللہ کی بخشش اور اس کی زبردست رضا ہوگی۔ {” رِضْوَانٌ “} مصدر میں مبالغے کا مفہوم ہے۔
➐ { وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ:} یعنی جس نے ساری جدوجہد دنیا کی زندگی بنانے کے لیے کی وہ دھوکے میں پڑ گیا، کیونکہ اس نے جو کچھ کمایا دنیا کی زندگی ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گیا اور آخرت میں اس کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی دھوکا نہیں جنھوں نے اسے آخرت کے حصول کا ذریعہ بنایا، کیونکہ ان کے اعمال دنیا کے فنا ہونے کے باوجود باقی رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا» [الکھف: ۴۶] ” مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میں بہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«غَيْثٍ» کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ» ۱؎ [42-الشورى:28]، ’ اللہ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔ ‘
پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی تروتازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے، دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟
جیسے ارشاد باری ہے آیت «اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ» ۱؎ [30-سورةالروم:54] ’ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔‘
اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے }۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:685/11:صحیح]۔ آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3250] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حقيقة الدُّنيا وما هي عليه، ويبيِّن غايتها وغاية أهلها؛ بأنَّها {لعبٌ ولهوٌ}: تلعب بها الأبدان وتلهو بها القلوب، وهذا مصداقُه ما هو موجودٌ وواقعٌ من أبناء الدُّنيا؛ فإنَّك تجِدُهم قد قطعوا أوقاتَ عُمُرِهِم بلهوِ قلوبهم وغفلتهم عن ذكر الله وعمَّا أمامهم من الوعد والوعيد، وتراهم قد اتَّخذوا دينَهم لعباً ولهواً؛ بخلاف أهل اليقظة وعُمَّال الآخرة؛ فإنَّ قلوبَهم معمورةٌ بذكر الله ومعرفته ومحبَّته، وقد شغلوا أوقاتهم بالأعمال التي تقرِّبهم إلى الله من النفع القاصر والمتعدِّي. وقوله: {وزينةٌ}؛ أي: تزين في اللباس والطعام والشراب والمراكب والدُّور والقصور والجاه وغير ذلك، {وتفاخرٌ بينكم}؛ أي: كلُّ واحدٍ من أهلها يريد مفاخرةَ الآخر، وأن يكونَ هو الغالبَ في أمورها، والذي له الشهرةُ في أحوالها، {وتكاثرٌ في الأموال والأولادِ}؛ أي: كلٌّ يريدُ أن يكون هو الكاثر لغيره في المال والولد، وهذا مصداقُهُ وقوعُهُ من محبِّي الدُّنيا والمطمئنين إليها؛ بخلاف مَنْ عَرَفَ الدُّنيا وحقيقتها، فجعلها معبراً، ولم يجعلها مستقرًّا، فنافس فيما يقرِّبُه إلى الله، واتَّخذ الوسائل التي توصلُه إلى دار كرامته ، وإذا رأى من يكاثُره وينافسه في الأموال والأولاد؛ نافَسَه بالأعمال الصالحة.
ثم ضرب للدُّنيا مثلاً بغيثٍ نزل على الأرض، فاختلط به نباتُ الأرض مما يأكُلُ الناسُ والأنعام، حتى إذا أخذتِ الأرضُ زُخْرُفَها، وأعجب نباتُه الكفارَ الذين قَصَروا نَظَرَهم وهِمَمَهم على الدُّنيا ؛ جاءها من أمرِ الله ما أتلفها، فهاجتْ ويبستْ وعادتْ إلى حالها الأولى ؛ كأنَّه لم ينبتْ فيها خضراءُ ولا رُإِيَ لها مَرْأَى أنيق، كذلك الدُّنيا؛ بينما هي زاهيةٌ لصاحبها زاهرةٌ؛ مهما أراد من مطالبها حصل، ومهما توجَّه لأمر من أمورها؛ وجد أبوابه مفتَّحة؛ إذ أصابها القَدَرُ، فأذهبها من يده، وأزال تسلُّطه عليها، أو ذهب به عنها، فرحل منها صفر اليدين؛ لم يتزَّود منها سوى الكفن، فتبًّا لمن أضحتْ هي غايةَ أمنيَّته ولها عمله وسعيه.
وأما العمل للآخرة؛ فهو الذي ينفع ويُدَّخر لصاحبه ويصحب العبدَ على الأبد، ولهذا قال تعالى: {وفي الآخرة عذابٌ شديدٌ ومغفرةٌ من الله ورضوانٌ}؛ أي: حال الآخرة ما يخلو من هذين الأمرين: إمَّا العذابُ الشديدُ في نار جهنَّم وأغلالها وسلاسلها وأهوالها لمن كانت الدُّنيا هي غايتَهُ ومنتهى مطلبِهِ، فتجرَّأ على معاصي الله، وكذَّب بآيات الله، وكفر بأنعم الله، وإمَّا مغفرةٌ من الله للسيئات، وإزالةُ العقوبات، ورضوانٌ من الله يُحِلُّ من أحَلَّه عليه دارَ الرضوان لمن عرف الدُّنيا وسعى للآخرة سعيها؛ فهذا كلُّه مما يدعو إلى الزهد في الدنيا والرغبة في الآخرة، ولهذا قال: {وما الحياةُ الدُّنيا إلاَّ متاعُ الغُرور}؛ أي: إلاَّ متاعٌ يُتَمَتَّعُ به ويُنْتَفَعُ به ويُسْتَدْفَعُ به الحاجات؛ لا يغترُّ به ويطمئنُّ إليه إلاَّ أهل العقول الضعيفة، الذين يغرُّهم بالله الغرور.