تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ:} یعنی صدیقیت یا شہادت کے مراتب کے مطابق اجر اور نور اہل ایمان ہی کا حصہ ہے، کفار یا منافقین کا نہیں۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ہمیشہ وہی لوگ رہیں گے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کیا اور ان کی تکذیب کی، کیونکہ{” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} (بھڑکتی آگ کے ساتھی اور اس میں رہنے والے) وہی ہیں، گناہ گار مومن جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے، اس لیے وہ {” اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ “} نہیں ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[34] نور سے مراد وہی اعمال صالحہ کی روشنی ہے جس کی تشریح اسی سورۃ کی آیت نمبر 12 کے تحت کر دی گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69] ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔“ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3265]
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887]
پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (۲) دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (۳) تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (۴) چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين آمنوا باللهِ ورسلِهِ}: والإيمانُ عند أهل السُّنَّة ما دلَّ عليه الكتاب والسنة، هو قول القلب واللسان وعمل القلب واللسان والجوارح، فيشمل ذلك جميع شرائع الدين الظاهرة والباطنة، فالذين جمعوا [بين] هذه الأمور {هم الصدِّيقون}؛ أي: الذين مرتبتهم فوق مرتبة عموم المؤمنين ودون مرتبة الأنبياء. وقوله: {والشهداءُ عند ربِّهم لهم أجرُهم ونورُهم}؛ كما ورد في الحديث الصحيح: «إنَّ في الجنَّة مائةَ درجةٍ، ما بين كلِّ درجتين كما بين السماء والأرض، أعدَّها الله للمجاهدين في سبيله». وهذا يقتضي شدَّة علوِّهم ورفعتهم وقربهم من الله تعالى، {والذين كفروا وكَذَّبوا بآياتِنا أولئك أصحابُ الجحيم}: فهذه الآيات جمعت أصناف الخلق المتصدِّقين والصِّديقين والشهداء وأصحاب الجحيم، فالمتصدِّقون الذين [كان] جُلُّ عملهم الإحسان إلى الخلق وبذلُ النفع لهم بغاية ما يمكنهم، خصوصاً بالنفع بالمال في سبيل الله، والصِّدِّيقون هم الذين كمَّلوا مراتب الإيمان والعمل الصالح والعلم النافع واليقين الصادق، والشهداء هم الذين قاتلوا في سبيل الله لإعلاء كلمة الله، وبَذَلوا أنفسَهم وأموالهم فَقُتِلوا، وأصحاب الجحيم هم الكفار الذين كذَّبوا بآيات الله. وبقي قسمٌ ذكرهم الله في سورة فاطر، وهم المقتصدون الذين أدَّوا الواجبات وتركوا المحرمات؛ إلاَّ أنَّهم حصل منهم بعض التقصير بحقوق الله وحقوق عباده؛ فهؤلاء مآلهم الجنة ، وإن حصل لبعضهم عقوبة ببعض ما فعل.