ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحديد (57) — آیت 19

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ وَ الشُّہَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ وَ نُوۡرُہُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿٪۱۹﴾
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے ہاں بہت سچے اور شہادت دینے والے ہیں، انھی کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بھڑکتی آگ میں رہنے والے ہیں۔ En
اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے ان (کے اعمال) کا صلہ ہوگا۔ اور ان (کے ایمان) کی روشنی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں
En
اللہ اوراس کے رسول پر جو ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے، اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کوجھٹلاتے ہیں وه جہنمی ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ …: الصِّدِّيْقُوْنَ} اور { الشُّهَدَآءُ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۶۹) کی تفسیر۔ اس آیت پر بھی ایک سوال ہے کہ صدیقین اور شہداء تو ایمان کے بلند درجے پر فائز لوگ ہوتے ہیں، جب کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والے سب لوگوں کو صدیقین و شہداء کہا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانے والوں سے مراد یہاں اس ایمان میں کامل لوگ ہیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت (۷): «‏‏‏‏اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» ‏‏‏‏ میں ایمان والوں کو ایمانِ کامل لانے کا حکم ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسولوں پر کامل ایمان رکھنے والے ہی صدیقین اور شہداء ہیں۔ { اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ} میں حصر کا مفہوم ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ ہر مدعی ٔ ایمان کو حاصل نہیں ہو جائیں گے، بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ کمال ایمان کے کئی مراتب ہیں، جیسا کہ صدیقیت و شہادت کے کئی مراتب ہیں، اگرچہ سب پر صدیق یا شہید کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهٗ الْمَطْعُوْنُ شَهِيْدٌ، وَالْغَرِيْقُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيْدٌ، وَالْمَبْطُوْنُ شَهِيْدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيْقِ شَهِيْدٌ، وَالَّذِيْ يَمُوْتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيْدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوْتُ بِجُمْعٍ شَهِيْدَةٌ] [مستدرک حاکم: 352/1، ح: ۱۳۰۰، وصححہ الألباني في صحیح الجامع: ۳۷۳۹] اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے اور غرق ہونے والا شہید ہے اور ذات الجنب والا شہید ہے اور پیٹ کی تکلیف سے مرنے والا شہید ہے اور آگ سے مرنے والا شہید ہے اور گرنے والی دیوار وغیرہ کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور ولادت کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔ ظاہر ہے کہ حدیث میں مذکور سب لوگ شہید ہیں، مگر اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کا درجہ سب سے بلند ہے۔
➋ {لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ:} یعنی صدیقیت یا شہادت کے مراتب کے مطابق اجر اور نور اہل ایمان ہی کا حصہ ہے، کفار یا منافقین کا نہیں۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جہنم میں ہمیشہ وہی لوگ رہیں گے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کیا اور ان کی تکذیب کی، کیونکہ{ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ } (بھڑکتی آگ کے ساتھی اور اس میں رہنے والے) وہی ہیں، گناہ گار مومن جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے، اس لیے وہ { اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ } نہیں ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق [32] اور شہید [33] ہیں انہیں (اپنے اپنے اعمال کے مطابق) اجر بھی ملے گا اور روشنی [34] بھی۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ایسے ہی لوگ اہل دوزخ ہیں۔
[32] صدیق کے دو مفہوم :۔
یعنی جو لوگ سچے دل اور خلوص نیت سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صدیق بن جاتے ہیں اور اللہ کے ہاں صدیق ہی شمار ہوتے ہیں۔ صدیق کے معنی و مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتا ہے بلاتامل اس کی تصدیق کر دیتے ہیں دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے قول اور وعدوں کے پابند اور اپنے اعمال و افعال میں راست رو اور راست باز ہوتے ہیں۔ جھوٹ، ہیرا پھیری، مکر و فریب، جانبداری، بد عہدی اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے انہیں نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
[33] صدیق کی گواہی کے دو مفہوم :۔
ایسے ہی صدیق لوگ قیامت کے دن دوسرے لوگوں پر گواہ بنیں گے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنے قول اور عمل سے نمونہ بن کر سب لوگوں پر واضح کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول پر صحیح طور پر ایمان لانے کے یہ اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے دربار میں یہ گواہی دیں گے کہ ہم نے فلاں فلاں شخص کو دعوت حق دی تھی اور اس کے رد عمل کے طور پر انہوں نے ایسے ایسے جواب دیئے تھے اور ہمارے خلاف فلاں فلاں مظالم ڈھائے تھے۔ بعض مفسرین اس آیت میں واؤ عاطفہ قرار نہیں دیتے۔ ان کے نزدیک یہ دو الگ الگ اور مستقل جملے ہیں۔ پہلا جملہ ﴿صِدِّيْقُوْنَ پر ختم ہو جاتا ہے اور ﴿والشُّهَدَاءُ سے دوسرا جملہ شروع ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ شہداء سے مراد راہ حق میں شہید ہو جانے والے لیتے ہیں۔ میرے خیال میں پہلا مفہوم ربط مضمون سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
[34] نور سے مراد وہی اعمال صالحہ کی روشنی ہے جس کی تشریح اسی سورۃ کی آیت نمبر 12 کے تحت کر دی گئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اجر و ثواب ٭٭
فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا، ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔ اللہ و رسول اللہ پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف باایمان لوگ ہیں،
بعض حضرات نے «الشُّهَدَاءُ» کو الگ جملہ مانا ہے، غرض تین قسمیں ہوئیں مصدقین صدیقین شہداء جیسے اور آیت میں ہے «وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» ۱؎ [4-النساء:69]‏‏‏‏ ’ اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں۔ ‘ پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں، صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالاخانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا: یہ درجے تو صرف انبیاء علیہ السلام کے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۱؎ [صحیح بخاری:3265]‏‏‏‏
ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مومن کے ہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کے مومن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33653:ضعیف]‏‏‏‏
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت کے دن آئیں گے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تا کہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1887]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { شہیدوں کی چار قسمیں ہیں۔ (‏‏‏‏۱)‏‏‏‏‏‏‏‏ وہ پکے ایمان والا مومن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔ (‏‏‏‏۲)‏‏‏‏‏‏‏‏ دوسرا وہ ایماندار، نکلا جہاد میں، لیکن دل میں جرات کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی یہ دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے۔ (‏‏‏‏۳)‏‏‏‏‏‏‏‏ تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہے۔ (‏‏‏‏۴)‏‏‏‏‏‏‏‏ چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:1644،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
«وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ٘ۤ اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُوْرُهُمْ اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790) اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔
﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَؔكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ الْجَحِیْمِ اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔
مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين آمنوا باللهِ ورسلِهِ}: والإيمانُ عند أهل السُّنَّة ما دلَّ عليه الكتاب والسنة، هو قول القلب واللسان وعمل القلب واللسان والجوارح، فيشمل ذلك جميع شرائع الدين الظاهرة والباطنة، فالذين جمعوا [بين] هذه الأمور {هم الصدِّيقون}؛ أي: الذين مرتبتهم فوق مرتبة عموم المؤمنين ودون مرتبة الأنبياء. وقوله: {والشهداءُ عند ربِّهم لهم أجرُهم ونورُهم}؛ كما ورد في الحديث الصحيح: «إنَّ في الجنَّة مائةَ درجةٍ، ما بين كلِّ درجتين كما بين السماء والأرض، أعدَّها الله للمجاهدين في سبيله». وهذا يقتضي شدَّة علوِّهم ورفعتهم وقربهم من الله تعالى، {والذين كفروا وكَذَّبوا بآياتِنا أولئك أصحابُ الجحيم}: فهذه الآيات جمعت أصناف الخلق المتصدِّقين والصِّديقين والشهداء وأصحاب الجحيم، فالمتصدِّقون الذين [كان] جُلُّ عملهم الإحسان إلى الخلق وبذلُ النفع لهم بغاية ما يمكنهم، خصوصاً بالنفع بالمال في سبيل الله، والصِّدِّيقون هم الذين كمَّلوا مراتب الإيمان والعمل الصالح والعلم النافع واليقين الصادق، والشهداء هم الذين قاتلوا في سبيل الله لإعلاء كلمة الله، وبَذَلوا أنفسَهم وأموالهم فَقُتِلوا، وأصحاب الجحيم هم الكفار الذين كذَّبوا بآيات الله. وبقي قسمٌ ذكرهم الله في سورة فاطر، وهم المقتصدون الذين أدَّوا الواجبات وتركوا المحرمات؛ إلاَّ أنَّهم حصل منهم بعض التقصير بحقوق الله وحقوق عباده؛ فهؤلاء مآلهم الجنة ، وإن حصل لبعضهم عقوبة ببعض ما فعل.