ترجمہ و تفسیر — سورۃ الواقعة (56) — آیت 81

اَفَبِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡہِنُوۡنَ ﴿ۙ۸۱﴾
پھر کیا اس کلام سے تم بے توجہی کرنے والے ہو؟ En
کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟
En
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82،81){ اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ …:} پھر کیا اس ساری تفصیل کے بعد کہ قیامت حق ہے اور اللہ تعالیٰ اکیلا معبود برحق ہے اور قسم کے ساتھ تاکید کے بعد بھی کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، تم اس سے بے توجہی کرتے ہو اور اس پر ایمان لانے میں سستی کرتے ہو اور اتنی بڑی نعمت میں سے تم یہی حصہ حاصل کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ پھر کیا اس کلام سے [38] تم مداہنت کر رہے ہو
[38] ﴿مُدْهِنُوْنَ ﴿دُهْنٌ بمعنی روغن، تیل، چکنائی اور ﴿اَدْهَنَ بمعنی کسی چیز کو تیل لگا کر نرم کرنا مداھنت کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً کسی بات میں لچک پیدا کر لینا۔ ڈھیلا پڑنا۔ منافقت کا رویہ اختیار کرنا۔ کسی چیز کو اپنی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہ سمجھنا۔ یعنی اے کفار مکہ! قرآن جیسی بلند پایہ کتاب کے بارے میں تمہارا رویہ یہ ہے کہ تم اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔