ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 3

وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ ﴿۳﴾
اور انھوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام انجام کو پہنچنے والا ہے۔ En
اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے
En
انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ {وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ: اَهْوَآءَ هَوًي} کی جمع ہے، خواہشات۔ یعنی کفار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے معجزات کو جھٹلانے کا باعث کوئی معقول بات نہ تھی، بلکہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی تھی۔ لفظ {هَوًي} (خواہش) اسمِ جنس ہے جو واحد پر صادق آتا ہے اور جمع پر بھی، مگر یہاں { اَهْوَآءَ } (جمع) اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ کفار کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا باعث ان کی ایک خواہش نہ تھی بلکہ بہت سی خواہشیں تھیں جو انھیں آپ کے تابع فرمان ہونے سے روکتی تھیں۔ مثلاً سرداری کی خواہش، حسد، آباء کی پیروی کی خواہش، اپنے داتاؤں پر جمے رہنے کی خواہش، شتر بے مہار رہنے اور کسی کے تابع فرمان نہ ہونے کی خواہش وغیرہ۔
➋ { وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ: قَرَّ يَقِرُّ} (ض) قرار پکڑنا۔ {اِسْتَقَرَّ} میں مبالغہ ہے، یعنی جس طرح ہر چلنے والا آخر کار کہیں نہ کہیں جا کر ٹھہر جاتا ہے اور ہر کام کا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا، کوئی نہ کوئی انجام ہوتا ہے، اسی طرح یہ مت سمجھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حق کی طرف بلاتے رہیں گے اور تم انھیں جھٹلاتے رہو گے اور آپ کا حق پر ہونا اور تمھارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہیں ہو گا، بلکہ ایک وقت آئے گا جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی اور ثابت ہو جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا اور جادوگر قرار دینا غلط تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۶۷): «لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

قیامت قریب آگئی (1) اور چاند پھٹ گیا (2)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ انہوں نے اسے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات ہی کی پیروی [3] کی جبکہ ہر کام کا ایک وقت مقرر [4] ہے۔
[3] یعنی نبیوں اور ان کے معجزات سے انکار کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی پابندیوں سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔
[4] یعنی ہر عمل کا کوئی نہ کوئی انجام یا نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور اس وقت تمہارے اور اللہ کے رسول کے درمیان جو کشمکش جاری ہے۔ اس کا بھی نتیجہ نکل کے رہے گا اور ایسا وقت لازماً آنے والا ہے جب تم پر واضح ہو جائے گا کہ یہ نبی حق پر تھا اور جس بات پر تم اڑے ہوئے تھے وہ غلط تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَؔهُمْ اور انھوں نے (اسے)جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ (القصص:28؍50) پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔
﴿ وَكُ٘لُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وكذَّبوا واتَّبعوا أهواءهم}؛ كقوله تعالى: {فإن لم يستجيبوا لك فاعْلَمْ أنَّما يتَّبِعون أهواءَهم}؛ فإنَّه لو كان قصدُهم اتِّباعَ الهدى؛ لآمنوا قطعاً واتَّبعوا محمداً - صلى الله عليه وسلم -؛ لأنه أراهم الله على يديه من البينات والبراهين والحجج القواطع ما دلَّ على جميع المطالب الإلهيَّة والمقاصد الشرعيَّة، {وكلُّ أمرٍ مستقرٍّ}؛ أي: إلى الآن لم يبلغ الأمر غايته ومنتهاه، وسيصير الأمر إلى آخره؛ فالمصدِّق يتقلَّب في جنَّات النعيم ومغفرة الله ورضوانه، والمكذِّب يتقلَّب في سخط الله وعذابِهِ خالداً مخلداً أبداً.