ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 30

ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اہۡتَدٰی ﴿۳۰﴾
یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔ En
ان کے علم کی انتہا یہی ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا
En
یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ {ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ: مَبْلَغٌ بَلَغَ يَبْلُغُ} (ن) سے ظرف ہے، پہنچنے کی جگہ۔ { ذٰلِكَ } کا لفظ تحقیر کے لیے ہے کہ ان لوگوں کے علم کی پہنچ اور انتہا اس حقیر حیاتِ دنیا تک ہی ہے، جو آخرت کے مقابلے میں قلیل بھی ہے اور ناپائیدار بھی، اس سے آگے نہ انھیں کچھ علم ہے نہ وہ اس سے آگے جاننے یا سوچنے کے لیے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں: [وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا] [ترمذي، الدعوات، باب دعاء { اللهم اقسم لنا… }: ۳۵۰۲، قال الألباني حسن] اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنانا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔
➋ {اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ …:} اس سے اللہ تعالیٰ کا کمال علم ثابت ہوتا ہے کہ اسے ان تمام لوگوں کا علم ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان کا بھی جو اس کی راہ پر قائم ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ ان کے علم کی پرواز بس یہیں تک [20] ہے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ گم کئے ہوئے ہے اور کون ٹھیک راہ پر چل رہا ہے۔
[20] مشرکین مکہ کا مبلغ علم کیا تھا؟
یعنی وہ اپنے دنیا کے مفادات سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ان کا تمام تر علم اسی مقصد میں صرف ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ زیادہ مال و دولت کیسے کما سکتے ہیں۔ پھر بھی اگر وہ سمجھیں کہ وہی راہ حق پر ہیں تو یہ فیصلہ نہ ان کے اختیار میں ہے اور نہ ان کی صواب دید پر منحصر ہے بلکہ یہ فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے کیونکہ کائنات کی ہر چیز کو اس نے پیدا کیا ہے اور وہی اپنی مخلوق کے حالات کو سب سے بہتر جان سکتا ہے لہٰذا آپ کو ان سے بحث و تکرار میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، نہ ہی انہیں راہ راست پر لا کر چھوڑنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ یہ ان کے علم کی غایت اور انتہا ہے۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے اور اس کی تصدیق کرنے والے عقل مند اور خرد مند لوگ تو ان کی ہمت اور ارادہ آخرت پر مرتکز رہتاہے۔ ان کے علوم سب سے افضل اور سب سے جلیل القدر علوم ہیں، یہ علوم کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے، پس وہ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہدایت کا مستحق نہیں ہے، اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے اور اس سے الگ ہو جاتا ہے، پس وہ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ٘١ۙ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰؔى بے شک آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جواس کے راستے سے بھٹک گیا، اور وہی اس شخص سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس محل و مقام پر رکھتا ہے جو اس کے لائق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك مبلغُهم من العلم}؛ أي: هذا منتهى علمهم وغايته، وأمَّا المؤمنون بالآخرة المصدِّقون بها أولو الألباب والعقول؛ فهمتهم وإرادتهم للدار الآخرة، وعلومُهم أفضلُ العلوم وأجلُّها، وهو العلم المأخوذُ من كتاب الله وسنَّة رسوله - صلى الله عليه وسلم -، والله تعالى أعلمُ بمن يستحقُّ الهداية فيهديه ممَّن لا يستحقُّ ذلك فيكِلُه إلى نفسه ويخذُلُه فيضلُّ عن سبيل الله، ولهذا قال تعالى: {إنَّ ربَّك هو أعلمُ بمن ضلَّ عن سبيله وهو أعلم بمنِ اهتدى}: فيضع فضلَه حيث يعلم المحلَّ اللائقَ به.