(آیت 3) ➊ { ءَاِذَامِتْنَاوَكُنَّاتُرَابًا: ”اِذَا“} فعل محذوف کا ظرف ہے: {”أَيْأَنَرْجِعُإِذَامِتْنَاوَكُنَّاتُرَابًا“} ”یعنی کیا ہم اس وقت دوبارہ لوٹیں گے جب ہم مر گئے اور مٹی ہو گئے۔“ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۵) اور سورئہ صافات (۱۶)۔ ➋ { ذٰلِكَرَجْعٌۢبَعِيْدٌ:} یہ لوٹنا تو عقل سے بہت دور ہے، یعنی ان کے خیال میں ممکن ہی نہیں۔ ➌ حقیقت یہ ہے کہ کفار نے جن باتوں کو باعث تعجب قرار دیا وہ قابل تعجب نہیں، بلکہ قابل تعجب کفار کی باتیں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس بات کو قابل تعجب قرار دیا کہ انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے والا خود ان میں سے آیا، حالانکہ اپنی جنس کا فرد ڈرانے اور آگاہ کرنے میں زیادہ مخلص اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے کوئی فرشتہ آتا، یا عربوں کی طرف کوئی چینی آتا۔ پھر وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انسان رسول کیسے ہو گیا اور انھیں اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ وہ پتھر کو رب مان کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ پھر وہ مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو عجیب کہہ رہے ہیں اور انھیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ پہلی مرتبہ اسی مٹی سے انھیں پیدا کیا گیا اور زندگی عطا کی گئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قیامت کے انکار کی بات کو عجیب قرار دیا، فرمایا: «وَاِنْتَعْجَبْفَعَجَبٌقَوْلُهُمْءَاِذَاكُنَّاتُرٰبًاءَاِنَّالَفِيْخَلْقٍجَدِيْدٍ» [الرعد: ۵]”اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔“ (بقاعی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 حالانکہ عقلی طور پر اس میں بھی کوئی استحالہ نہیں ہے۔ آگے اس کی کچھ وضاحت ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی بن جائیں گے (تو پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟) یہ واپسی [4] تو (عقل سے) بعید ہے۔
[4] بعث بعد الموت :۔
یہ کفار مکہ کا دوسرا اعتراض یا انکار ہے جو بعث بعد الموت سے تعلق رکھتا ہے کہ جب انسان مر کر مٹی میں مل جائے گا اور مٹی ہی بن جائے گا تو اس کے دوبارہ جی اٹھنے کا معاملہ عقل سے بھی بعید ہے، قیاس کے بھی اور عادت کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا ہم اسے تسلیم نہیں کر سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے تعجب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ءَاِذَامِتْنَاوَؔكُنَّاتُرَابً٘ا١ۚذٰلِكَرَجْعٌۢبَعِیْدٌ﴾”بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا پھر زندہ ہوں گے) یہ زندہ ہونا بعید ہے۔“ انھوں نے اس ہستی کی قدرت کو، جو ہر چیز پر قادر اور ہر لحاظ سے کامل ہے محتاج بندے کی قدرت پر قیاس کیا ہے جو ہر لحاظ سے عاجز ہےاور جاہل کو، جسے کسی چیز کا علم نہیں، اس ہستی پر قیاس کیا ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے اور برزخ میں قیام کی مدت کے دوران، زمین ان کے اجساد میں جو کمی کرتی ہے، وہ اسے بھی جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں درج کر رکھا ہے، یعنی جو کچھ ان کی زندگی اور موت میں ان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گا، اس کے بارے میں یہ کتاب ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل اور وسیع علم کے ذریعے سے، جس کا اس کے سوا اور کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، اس کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر وجه تعجُّبهم، فقال: {أإذا مِتْنا وكُنَّا تراباً ذلك رَجْعٌ بعيدٌ}: فقاسوا قدرة من هو على كلِّ شئٍ قديرٌ الكامل من كلِّ وجهٍ، بقدرة العبد الفقير العاجز من جميع الوجوه! وقاسوا الجاهلَ الذي لا علمَ له، بمن هو بكلِّ شيءٍ عليمٌ، الذي يعلم {ما تَنقُصُ الأرضُ}: من أجسادهم مدَّة مقامِهم في البرزخِ ، وقد أحصى في كتابه الذي هو عنده - محفوظٌ عن التغيير والتبديل - كلَّ ما يجري عليهم في حياتهم ومماتهم. وهذا استدلالٌ بكمال سعة علمه ، التي لا يحيطُ بها إلاَّ هو على قدرته على إحياء الموتى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔