تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ:} یہ دوسری بات ہے جسے کفار نے عجیب قرار دیا اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ یہاں {”فَقَالُوْا“} کہنے کے بجائے جو یہ فرمایا {” فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ “} تو لفظ {” الْكٰفِرُوْنَ “} ان کی مذمت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس تعجب کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں، کیونکہ جس نے پہلی دفعہ انھیں پیدا کیا، جب ان کا نام و نشان تک نہ تھا، وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے، بلکہ یہ تعجب محض ان کے کفر اور ”میں نہ مانوں“ کی ضد کی وجہ سے ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔
پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔
جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] پوری آیت تک ہے۔
لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا موجب لكمال اتِّباعه وسرعة الانقياد له وشكر الله على المنَّة به، ولكن أكثر الناس لا يقدِّر نعمَ الله قَدْرَها، ولهذا قال تعالى: {بلْ عَجِبوا}؛ أي: المكذِّبون للرسول - صلى الله عليه وسلم -، {أن جاءَهُم منذرٌ منهم}؛ أي: يُنْذرهم ما يضرُّهم ويأمرهم بما ينفعهم، وهو من جنسهم، يمكنُهم التلقِّي عنه ومعرفة أحوالِه وصدقِه، فتعجَّبوا من أمرٍ لا ينبغي لهم التعجُّب منه، بل يتعجَّب من عَقل من تعجب منه، {فقالَ الكافرون}؛ أي: الذين حَمَلَهُم كفرُهم وتكذيبُهم لا نقص بذكائِهِم وآرائِهِم: {هذا شيءٌ عجيبٌ}؛ أي: مستغربٌ.
وهم في هذا الاستغراب بين أمرين: إمَّا صادقونَ في استغرابهم وتعجُّبهم؛ فهذا يدلُّ على غاية جهلهم وضعف عقولهم؛ بمنزلة المجنون الذي يستغربُ كلامَ العاقل، وبمنزلة الجبانِ الذي يتعجَّب من لقاء الفارس للفرسان، وبمنزلة البخيل الذي يستغرب سخاء أهل السَّخاء؛ فأيُّ ضررٍ يلحق من تعجب مَن هذه حالُه؟! وهل تعجُّبه إلا دليلٌ على زيادة جهله وظلمه ؟! وإما أن يكونوا متعجِّبين على وجهٍ يعلمون خطأهم فيه؛ فهذا من أعظمِ الظُّلم وأشنعِه.