تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ اُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ:} یعنی بندگی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں، جو نبوت کے بعد دوسرا درجہ ہے، یعنی نہایت سچی اور اﷲ اور اس کے رسولوں کی بہت تصدیق کرنے والی تھیں۔ دیکھیے سورۂ تحریم (۱۲) اور سورۂ نساء (۶۹) وہ نبی نہیں تھیں، جیسا کہ ابن حزم وغیرہ کا خیال ہے، کیونکہ انبیاء رجال (مردوں) ہی سے ہوئے ہیں۔ دیکھیے یوسف(۱۰۹)، نحل (۴۳) اور انبیاء (۷) ابو الحسن اشعری نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ (ابن کثیر) یعنی مریم علیھا السلام خدا تو کجا نبیہ بھی نہیں تھیں، یاں! صدیقہ ضرور تھیں۔
➌ {كَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ:} یعنی وہ دونوں عام انسانوں جیسے انسان تھے، ان میں وہ تمام بشری خصوصیتیں اور ضروریات پائی جاتی تھیں جو دوسرے انسانوں میں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا کلام نہایت ہی نفیس اور بلیغ ہے۔ کھانا کھانے کا لازمی نتیجہ قضائے حاجت ہے، مگر اﷲ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا، صرف یہ کہہ دیا کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ اب کھانا کھانے سے جتنی چیزوں کا انسان محتاج ہوتا ہے ان کے ہوتے ہوئے اسے خدا یا اس کی بیوی یا اس کا بیٹا قرار دینا کتنی بڑی جہالت اور ظلم ہے۔ جو خود محتاج ہو وہ دوسروں کی حاجت کیا پوری کرے گا!؟
➍ {اُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ……:} یعنی توحید کے اتنے صاف بیان اور تثلیث کی اتنی واضح تردید کے باوجود وہ اپنے گروہی تعصب کی بنا پر اپنے غلط عقیدے سے چمٹے رہیں تو چمٹے رہیں، ورنہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے پاس نہیں ہے جس کے بودے پن کو ”دو اور دو چار“ کی طرح واضح نہ کردیا گیا ہو۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1)
(2)
(3) تیسری دلیل یہ ہے کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے یعنی وہ اپنی زندگی کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے کھانے کے محتاج تھے اور جو خود محتاج ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے بےنیاز ہے۔ پھر جو شخص کھانا کھاتا ہے اس کے اندر سے پاخانہ، پیشاب اور گندی ہوا جیسے فضلات اور نجاستوں کا اخراج بھی ہوتا ہے اور یہ سب ایسی نجاستیں ہیں جن سے طہارت لازم آتی ہے۔ پھر اگر یہی کھانا کسی انسان کے اندر جا کر رک جاتا ہے یا کوئی اور خرابی پیدا کردیتا ہے تو انسان بیمار اور پریشان حال ہوجاتا ہے جب تک ایسے عوارضات کا علاج نہ کیا جائے۔ لہذا جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اللہ یا الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اس لحاظ سے بھی سیدنا عیسیٰ اور ان کی والدہ دونوں کی الوہیت کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ان عام فہم اور موٹی موٹی باتوں کے باوجود بھی اگر یہ لوگ سیدنا عیسیٰ کو الٰہ سمجھیں تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی عقل جواب دے گئی ہے۔ واضح رہے کہ جب عقیدہ تثلیث وضع کیا گیا تو اس کے تین ارکان یا عیسائیوں کی اصطلاحی زبان میں تین اقنوم باپ، بیٹا اور روح القدس تھے لیکن کچھ مدت بعد ان میں سے روح القدس کو خارج کر کے اس کی جگہ مریم کو داخل کیا گیا گویا نئے عقیدہ تثلیث کے مطابق اس کے تین اقنوم۔ باپ، بیٹا اور ماں قرار پا گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ حقيقة المسيح وأمِّه الذي هو الحق، فقال: {ما المسيحُ ابن مريم إلَّا رسولٌ قد خَلَتْ من قَبْلِهِ الرُّسل}؛ أي: هذا غايته ومنتهى أمره؛ أنَّه من عباد الله المرسلين، الذين ليس لهم من الأمر ولا من التشريع إلا ما أرسلهم به الله، وهو من جنس الرسل قبله، لا مزية له عليهم تخرِجُه عن البشرية إلى مرتبة الرُّبوبية. {وأمُّه} مريم {صدِّيقةٌ}؛ أي: هذا أيضاً غايتُها أنْ كانت من الصِّدِّيقين الذين هم أعلى الخلق رتبةً بعد الأنبياء، والصديقيَّة هي العلم النافع المثمر لليقين والعمل الصالح، وهذا دليلٌ على أنَّ مريم لم تكن نبيَّةً، بل أعلى أحوالها الصِّديقيَّة، وكفى بذلك فضلاً وشرفاً، وكذلك سائر النساء، لم يكن منهنَّ نبيَّة؛ لأن الله تعالى جعل النبوَّة في أكمل الصنفين؛ في الرجال؛ كما قال تعالى: {وما أرسلنا مِن قَبْلِكَ إلاَّ رجالاً نُوحي إليهم}؛ فإذا كان عيسى عليه السلام من جنس الأنبياء والرسل من قبله، وأمه صدِّيقةٌ؛ فلأيِّ شيءٍ اتَّخذهما النَّصارى إلهين مع الله.
وقوله: {كانا يأكلان الطعام}: دليلٌ ظاهر على أنهما عبدان فقيران محتاجان كما يحتاج بنو آدم إلى الطعام والشراب؛ فلو كانا إلهين؛ لاستَغْنَيا عن الطعام والشراب، ولم يحتاجا إلى شيءٍ؛ فإن الإله هو الغني الحميد. ولما بيَّن تعالى البرهان؛ قال: {انظرْ كيفَ نبيِّنُ لهم الآياتِ} الموضحةَ للحقِّ الكاشفة لليقين، ومع هذا لا تفيدُ فيهم شيئاً، بل لا يزالون على إفكهم وكَذِبِهم وافترائهم، وذلك ظلمٌ وعنادٌ منهم.