تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} اس سے پہلے آیت (۴۲) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں آپ کی مرضی ہے، لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں۔
➌ {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا:} اس کے مخاطب یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہیں، یعنی گو تمام انبیاء کا دین ایک ہے مگر اپنے اپنے وقت میں ہر امت کی شریعت (احکام فرعیہ) اور طریقے مختلف رہے ہیں، ہر بعد میں آنے والے نبی کی شریعت میں پہلی شریعت سے مختلف احکام پائے جاتے ہیں، اب نبی آخر الزماں کی شریعت ہر لحاظ سے مکمل اور قیامت تک کے لیے ہے۔ ایک حدیث میں ہے: ”انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ: «واذكر في الكتاب مريم……» : ۳۴۴۳] یعنی سب کا دین اور اصول تو ایک ہیں، اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ صرف فروعی احکام کی حد تک ہے۔ اب آخری نبی کے بعد نہ کسی پہلے نبی کے احکام و مسائل پر عمل ہو گا اور نہ اس امت کے کسی امام و مجتہد کے قول، رائے اور فتویٰ پر۔
➍ {وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ:} یعنی اگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو جبراً ایک ہی امت بنا دیتا مگر یہ اختلاف اس لیے ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمھارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اس عقل اور ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے ہو جو اس نے تمھیں دیے ہیں، تاکہ اس پر جزا و سزا ہو سکے۔
➎ {فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ:} یعنی خواہ مخواہ کی کج بحثیوں کو چھوڑ کر ان نیکیوں کو اختیار کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھو جن کا اب تمھیں آخری شریعت میں حکم دیا جا رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ انجیل و تورات میں جو مضمون قرآن کے مطابق ہو گا وہ یقیناً اللہ ہی کا کلام ہو گا۔
2۔ اور جو مضمون قرآن کے خلاف ہو گا وہ ہرگز اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔ وہ یقیناً لوگوں کا کلام ہے۔ جو کتاب اللہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جیسے موجودہ اناجیل میں عقیدہ تثلیث اور الوہیت مسیح اور کفارہ مسیح کے عقائد پائے جاتے ہیں اور بائیبل میں انبیاء کی توہین کے علاوہ کئی ایسے مضامین پائے جاتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتے۔
3۔ اور جو مضمون قرآن کے نہ مطابق ہو نہ مخالف اس کے متعلق مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ اس کی تصدیق کریں اور نہ تکذیب۔
[90] یعنی فرقہ پرستوں کے اختلافات ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور باہمی ضد کی وجہ سے اس دنیا میں ختم نہیں ہو سکتے۔ ان کا آخری فیصلہ نہ مجالس مناظرہ میں ہو سکتا ہے اور نہ میدان جنگ میں۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن کر دے گا اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جن جھگڑوں میں انہوں نے اپنی عمریں ضائع کر دی تھیں ان میں حق کا پہلو کتنا تھا اور باطل کا کتنا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔
جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔“ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔
امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے ”یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔“ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10]
’ ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے ‘۔
کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔
جیسے حدیث شریف میں ہے { ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443]
ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔
اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36]، ’ ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔
ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ’ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے ‘۔
اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔
پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔
یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔
لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔
جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] یعنی ’ گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں ‘۔
اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ’ اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے ‘۔
یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف]
یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔
ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔
حسن رحمة الله فرماتے ہیں ”اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔“ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے } }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6882]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وأنزلنا إليكَ الكتابَ}: الذي هو القرآنُ العظيم، أفضلُ الكتب وأجلها، {بالحقِّ}؛ أي: إنزالاً بالحقِّ ومشتملاً على الحقِّ في أخباره وأوامره ونواهيه، {مصدِّقاً لما بين يديه من الكتاب}: لأنَّه شهد لها، ووافَقَها، وطابقت أخبارُه أخبارَها، وشرائعُه الكبار شرائعَها، وأخبرت به، فصار [وجوده] مصداقاً لخبرها، {ومهيمناً عليه}؛ أي: مشتملاً على ما اشتملت عليه الكتب السابقة، وزيادة في المطالب الإلهية والأخلاق النفسية؛ فهو الكتاب الذي تَتَبَّعَ كلَّ حقٍّ، جاءت به الكتب فأمر به، وحثَّ عليه، وأكثر من الطُّرق الموصلة إليه، وهو الكتاب الذي فيه نبأ السابقين واللاحقين، وهو الكتاب الذي فيه الحكم والحكمة والأحكام، الذي عُرِضت عليه الكتب السابقة؛ فما شهد [له] بالصدق؛ فهو المقبول، وما شهد له بالردِّ؛ فهو مردود قد دخله التحريف والتبديل، وإلاَّ؛ فلو كان من عند الله لم يخالفه.
{فاحكُم بينهم بما أنزل الله}: من الحكم الشرعيِّ الذي أنزله الله عليك، {ولا تتَّبع أهواءهم عمَّا جاءك من الحقِّ}؛ أي: لا تجعل اتِّباع أهوائهم الفاسدة المعارضة للحقِّ بدلاً عما جاءك من الحقِّ، فتستبدل الذي هو أدنى بالذي هو خير.
لكلٍّ منكم أيُّها الأمم جعلنا: {شِرْعَةً ومنهاجاً}؛ أي: سبيلاً وسنة، وهذه الشرائع التي تختلف باختلاف الأمم، هي التي تتغيَّر بحسب تغيُّر الأزمنة والأحوال، وكلُّها ترجع إلى العدل في وقت شِرعتها، وأما الأصول الكبار التي هي مصلحةٌ وحكمةٌ في كلِّ زمانٍ؛ فإنها لا تختلف، فتُشَرَّع في جميع الشرائع، {ولو شاء الله لَجَعَلَكُم أمةً واحدةً}: تبعاً لشريعة واحدة، لا يختلف متأخِّرها ولا متقدِّمها. {ولكن لِيَبْلُوَكَم فيما آتاكم}: فيختبِرُكم وينظُرُ كيف تعملون، ويبتلي كلَّ أمةٍ بحسب ما تقتضيه حكمتُه، ويؤتي كلَّ أحدٍ ما يليق به، وليحصل التنافس بين الأمم؛ فكلُّ أمةٍ تحرص على سبق غيرها. ولهذا قال: {فاستبقوا الخيرات}؛ أي: بادروا إليها وأكملوها؛ فإنَّ الخيرات الشاملة لكلِّ فرضٍ ومستحبٍّ من حقوق الله وحقوق عبادِهِ لا يصير فاعلها سابقاً لغيره مستولياً على الأمر إلا بأمرين: المبادرة إليها، وانتهاز الفرصة حين يجيء وقتها ويعرِضُ عارضها، والاجتهاد في أدائها كاملة على الوجه المأمور به.
ويستدلُّ بهذه الآية على المبادرة لأداء الصلاة وغيرها في أول وقتها، وعلى أنه ينبغي أن لا يقتصر العبد على مجرد ما يجزي في الصلاة وغيرها من العبادات من الأمور الواجبة، بل ينبغي أن يأتي بالمستحبَّات التي يقدر عليها لتتمَّ وتكْمُل ويحصل بها السبق. {إلى الله مرجعكم جميعاً}: الأمم السابقة واللاحقة، كلهم سيجمعهم الله ليوم لا ريب فيه، {فينبِّئكم بما كنتم فيه تختلفون}: من الشرائع والأعمال، فيثيب أهلَ الحقِّ والعمل الصالح، ويعاقبُ أهل الباطل والعمل السيئ.