تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس وقت مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے قرآن و سنت کے صریح خلاف ایسے احکام ایجاد کر لیے جن کی موجودگی میں قصاص تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے یہ قاعدہ بنا دیا کہ تیز دھار آلے کے ساتھ قتل کرے یا آگ سے جلائے تو قصاص ہے ورنہ نہیں۔ چنانچہ خواہ جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے بھاری سے بھاری پتھر مار مار کر قتل کر دے تو قصاص نہیں ہو گا بلکہ دیت ہو گی، حالانکہ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کا سر پتھروں سے اسی طرح کچلا تھا جس طرح اس نے ایک بچی کا سر کچلا تھا۔ [بخاری، الدیات، باب سؤال القاتل حتی یقرّ……: ۶۸۷۶] لہٰذا قرآن و حدیث کے مطابق قتل کے ارادے سے اگر جان بوجھ کر قتل کرنا ثابت ہو جائے تو پھر قصاص ہے، خواہ کسی طرح بھی قتل کرے۔ مگر ان بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی کسی کو ڈبو کر مار دے، یا بھوکا رکھ کر مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر مار دے، غرض بہت سی صورتیں بیان کر کے کہتے ہیں کہ ان میں قصاص نہیں، کیونکہ آلہ تیز دھار نہیں۔ ظاہر ہے جن عدالتوں میں ان لوگوں کا حکم چلتا ہو، وہاں قصا ص کا نشانہ صرف وہی لوگ بنتے ہوں گے جو ان حیلوں کو نہیں جانتے ہوں گے، پھر جب قانون ہی میں انصاف نہ رہے تو کوئی قوم اﷲ کی نصرت کے وعدے کی حق دار کیسے رہ سکتی ہے؟
➌ {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ:} عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگایا جائے، پھر وہ اسے معاف کر دے تو جتنا اس نے معاف کیا اﷲ تعالیٰ اتنا ہی اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ [أحمد: 316/5، ح: ۲۲۷۶۷۔ السنن الکبریٰ للنسائی، التفسیر: ۱۱۱۴۶]
➍ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی اگر قرآن و حدیث کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو یہ ظالم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا «وَالْعَيْنُ» پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3976،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لیے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔
چنانچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ { مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا }۔ ۱؎ [سنن نسائی:4857،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ { مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2751،قال الشيخ الألباني:صحیح] بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ ”مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی۔“ لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمة الله تو فرماتے ہیں کہ ”ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کر دیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کر دیا جائے گا۔“ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔
بخاری مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:111]
اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی رحمة الله تو فرماتے ہیں ”اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمة الله کے خلاف اجماع ہے۔“ لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ ”پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔“ نسائی وغیرہ میں ہے، { ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4590، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ہو سکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے سفارش کرکے معاف کرا لیا ہو۔
اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔
(قاعدہ:) اعضاء کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت امام مالک رحمة الله فرماتے ہیں کہ ”ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لیے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے۔“
ان کے برخلاف ابوحنیفہ رحمة الله اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ ”کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی رحمة الله کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔“ یہی مروی ہے سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہم بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمة الله علیہم بھی۔
امام احمد رحمہ اللہ سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله کی دلیل وہی انس رضی اللہ عنہ والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔
ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کو نہیں فرمایا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2636،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہو جانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔
اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ { ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو لنگڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں }۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:217/2:صحیح بالشواهد]
پھر فرماتا ہے ’ جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہو گیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ‘۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے۔“
ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ { اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کر لیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ }۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:510/2:ضعیف]
ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہےابو سفر راوی کا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:448/6:صحیح لغیره مرفوعا وهذا اسناد ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ { جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:368/10:ضعیف و منقطع]
مسند میں ہے کہ { جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/316:صحیح]
مسند میں یہ بھی حدیث ہے { اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں }۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الأحكام من جملة الأحكام التي في التوراة، يحكُم بها النبيُّون الذين أسلموا للذين هادوا والربَّانيون والأحبار؛ فإنَّ الله أوجب عليهم أنَّ النفسَ إذا قَتلت تُقتلُ بالنفسِ بشرط العمد والمكافأة، والعينَ تُقلع بالعينِ، والأذنَ تُؤخذُ بالأذنِ، والسنَّ يُنزعُ بالسنِّ، ومثل هذه ما أشبهها من الأطراف التي يمكن الاقتصاص منها بدون حيف. {والجروح قصاص}: والاقتصاص أن يُفعَل به كما فعل؛ فمن جرح غيره عمداً؛ اقتصَّ من الجارح جرحاً مثل جرحه للمجروح حَدًّا وموضعاً وطولاً وعرضاً وعمقاً. وليُعْلَم أنَّ شرع من قبلنا شرعٌ لنا ما لم يَرِدْ شرعُنا بخلافه، {فمن تصدَّق به}؛ أي: بالقصاص في النفس وما دونها من الأطراف والجروح؛ بأن عفا عمَّن جنى وثبت له الحقُّ قِبَلَه، {فهو كفارةٌ له}؛ أي: كفارة للجاني؛ لأن الآدميَّ عفا عن حقِّه، والله تعالى أحقُّ وأولى بالعفو عن حقِّه، وكفارة أيضاً عن العافي؛ فإنه كما عفا عمَّن جنى عليه أو على من يتعلَّق به؛ فإن الله يعفو عن زلاَّته وجناياته.
{ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون}: قال ابن عباس: كفرٌ دون كفرٍ، وظلمٌ دون ظلمٍ، وفسقٌ دون فسقٍ؛ فهو ظلم أكبر عند استحلالِهِ، وعظيمةٌ كبيرةٌ عند فعله غير مستحلٍّ له.