اور ہم نے اس میں ان پر لکھ دیا کہ جان کے بدلے جان ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں میں برابر بدلہ ہے، پھر جو اس (قصاص) کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
En
اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں
اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وه اس کے لئے کفاره ہے، اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ﻇالم ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ احکام تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیون اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔
آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ ﴿ وَالْجُرُوْحَقِصَاصٌ ﴾”اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے“ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے۔ تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لیے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ ﴿ فَ٘مَنْتَصَدَّقَبِهٖ ﴾”پھر جس نے معاف کر دیا“ یعنی جو کوئی جان، اعضا اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کر دیتا ہے۔ دراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا ﴿ فَهُوَؔكَفَّارَةٌلَّهٗ ﴾”تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے“ یعنی مجرم کے لیے کفارہ ہے کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کر دینے والا ہے۔ نیز یہ معاف کر دینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے۔ کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف یا اس کو معاف کر دیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَمَنْلَّمْیَحْكُمْبِمَاۤاَنْزَلَاللّٰهُفَاُولٰٓىِٕكَهُمُالظّٰلِمُوْنَ ﴾”اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو یہی لوگ ظالم ہیں “ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے“.... پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الأحكام من جملة الأحكام التي في التوراة، يحكُم بها النبيُّون الذين أسلموا للذين هادوا والربَّانيون والأحبار؛ فإنَّ الله أوجب عليهم أنَّ النفسَ إذا قَتلت تُقتلُ بالنفسِ بشرط العمد والمكافأة، والعينَ تُقلع بالعينِ، والأذنَ تُؤخذُ بالأذنِ، والسنَّ يُنزعُ بالسنِّ، ومثل هذه ما أشبهها من الأطراف التي يمكن الاقتصاص منها بدون حيف. {والجروح قصاص}: والاقتصاص أن يُفعَل به كما فعل؛ فمن جرح غيره عمداً؛ اقتصَّ من الجارح جرحاً مثل جرحه للمجروح حَدًّا وموضعاً وطولاً وعرضاً وعمقاً. وليُعْلَم أنَّ شرع من قبلنا شرعٌ لنا ما لم يَرِدْ شرعُنا بخلافه، {فمن تصدَّق به}؛ أي: بالقصاص في النفس وما دونها من الأطراف والجروح؛ بأن عفا عمَّن جنى وثبت له الحقُّ قِبَلَه، {فهو كفارةٌ له}؛ أي: كفارة للجاني؛ لأن الآدميَّ عفا عن حقِّه، والله تعالى أحقُّ وأولى بالعفو عن حقِّه، وكفارة أيضاً عن العافي؛ فإنه كما عفا عمَّن جنى عليه أو على من يتعلَّق به؛ فإن الله يعفو عن زلاَّته وجناياته.
{ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون}: قال ابن عباس: كفرٌ دون كفرٍ، وظلمٌ دون ظلمٍ، وفسقٌ دون فسقٍ؛ فهو ظلم أكبر عند استحلالِهِ، وعظيمةٌ كبيرةٌ عند فعله غير مستحلٍّ له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔