تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ:} {” بِمَا “} کی باء کا تعلق {”الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ“} سے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوتا تھا تو یہ درویش اور تعلیم یافتہ لوگ یہودیوں کے مابین تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، کیونکہ انبیاء نے انھی کو اﷲ تعالیٰ کی کتاب تورات کا محافظ مقرر کیا تھا اور {” شُهَدَآءَ “} کے معنی یہ ہیں کہ وہ تورات کے اﷲ کی طرف سے ہونے پر گواہ تھے۔ بعض علماء نے {” بِمَا اسْتُحْفِظُوْا “} کی ”باء“ کا تعلق {” يَحْكُمْ “} سے بیان کیا ہے کہ اﷲ کی کتاب کی جو امانت ان کے سپرد کی گئی تھی وہ اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ (قرطبی، کبیر)
➌ تورات کی حفاظت کے ذمے دار اور اس کے محافظ تو علماء اور رب والے لوگ بنائے گئے تھے مگر قرآن مجید اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا: «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» [الحجر: ۹] ”بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“ اگرچہ قرآن کی حفاظت کا کام بھی اﷲ تعالیٰ نے علماء اور ربانیین ہی سے لیا مگر اس کا ذمہ خود اٹھانے کی وجہ سے تورات اور قرآن کے محفوظ رہنے میں جو فرق ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
➍ {فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ:} یعنی تم بھی اپنے انبیاء اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلو اور تورات میں کوئی تحریف نہ کرو، نہ اسے چھپا کر نہ غلط مسئلہ بتا کر دنیا کا فائدہ اٹھاؤ، کیونکہ دنیا جتنی بھی ہو قلیل ہے اور حق بات کہنے میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جو حالات اس میں مذکور ہیں ان کے بیان کرنے میں لوگوں کی پروا مت کرو، نہ ان سے ڈرو، بلکہ صرف میرے انتقام اور عذاب کا ڈر اپنے دلوں میں رکھو۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حکام پر اﷲ تعالیٰ نے تین چیزیں لازم کی ہیں: (1) خواہش کی پیروی نہ کریں: «وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [صٓ: ۲۶] اور فرمایا: «يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا» [المائدۃ: ۴۴] (2) صحیح فیصلہ کرنے میں لوگوں سے نہ ڈریں: «فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ» [المائدۃ: ۴۴] (3) اور رشوت لے کر غلط فیصلہ نہ کریں: «وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلًا» [المائدۃ: ۴۴] [بخاري، الأحكام، باب متي يستوجب الرجل القضاء، قبل ح: ۷۱۶۳] یہ تینوں باتیں اس آیت میں مذکور ہیں۔
➎ {وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ:} یہ خطاب یہود سے ہے، یعنی جب وہ جان بوجھ کر تورات کے فیصلے کو چھپاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ باوجود زبانی دعویٰ کرنے کے یہ کافر ہیں۔ مسلم حاکم پر کفر کا فتویٰ اسی وقت لگا سکتے ہیں جب وہ قرآن و حدیث کا انکار کر کے ان کے خلاف فیصلہ صادر کرے، ایسے شخص کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[81] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ میں خطاب یہود کو ہے لیکن نفس مضمون کے لحاظ سے اس کا خطاب عام ہے جس میں یہود و نصاریٰ کے علاوہ مسلمان بھی شامل ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی کے مطابق فیصلہ نہ کرنا کافروں کا کام ہوتا ہے مسلمانوں کا نہیں۔
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا؟ فلاں نے یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا ہاں وہ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کر لیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔
[مسلم۔ كتاب القسامه۔ باب ثبوت القصاص فى القتل بالحجر۔ بخاري۔ كتاب الديات۔ باب سوال القاتل حتي يقرو الاقرار فى الحد۔ باب اقاد بحجر]
2۔ سیدنا یعلیؓ کہتے ہیں کہ میں ایک جنگ میں گیا۔ وہاں ایک شخص نے دوسرے کو دانت سے کاٹا۔ اس نے زور سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا۔ پھر وہ قصاص کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا قصاص باطل قرار دیا اور فرمایا ”کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا کہ تو اسے یوں چبا جائے جیسے اونٹ چبا ڈالتا ہے“
[بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب اذا عض رجلا]
3۔
[نسائی۔ کتاب القسامۃ والقود الدیۃ۔ باب ذکر حدیث عمر و بن حزم فی العقول]
4۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کا دانت توڑ ڈالا۔ لڑکی کے وارثوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ انس بن نضرؓ جو انس بن مالکؓ کے چچا (اور ربیع کے بھائی) تھے کہنے لگے ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ایسا کبھی نہ ہو گا کہ ربیع کا دانت توڑا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انس (یہ کیا کہہ رہے ہو) قصاص تو اللہ کا حکم ہے“ پھر (اللہ کی قدرت کہ) لڑکی کے وارث قصاص کی معافی اور دیت لینے پر راضی ہو گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ (اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے) قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔“
[بخاری۔ کتاب التفسیر۔ نیز کتاب الدیات۔ باب السن بالسن۔ مسلم کتاب القسامۃ]
5۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص قتل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے وارث کے حوالہ کر دیا۔ قاتل کہنے لگا ”یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میرا قتل کا ارادہ نہ تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے فرمایا ”اگر قاتل (اپنے بیان میں) سچا ہے اور تو نے اسے قتل کر دیا تو تو دوزخ میں جائے گا۔“ چنانچہ وارث نے اسے چھوڑ دیا۔
[ترمذی۔ ابواب الدیات۔ باب ماجاء فی حکم ولی القتیل فی القصاص والعفو]
[84] قرآن کریم کے الفاظ ﴿فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ﴾ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ اگر مجروح جارح کو معاف کر دے تو اس کا یہ معافی دینا اس کے اپنے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ اور دوسرا یہ کہ مجروح کا معافی دینا جارح کے جرم کا کفارہ بن جائے گا اور ان دونوں کو ملانے سے مطلب یہ نکل سکتا ہے کہ مجروح کا معاف کر دینا جارح کے جرم کا بھی کفارہ بن جاتا ہے اور مجروح کے اپنے گناہوں کا بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّا أنْزَلنا التوراةَ}: على موسى بن عمران عليه الصلاة والسلام {فيها هدىً}: يهدي إلى الإيمان والحقِّ ويَعْصِمُ من الضَّلالة، {ونورٌ} يُسْتَضاء به في ظُلَم الجهل والحيرة والشكوك والشُّبهات والشَّهوات؛ كما قال تعالى: {ولقد آتينا موسى وهارون الفرقان وضياءً وذكرى للمتقين}، {يحكُمُ بها} ـ بين الذين هادوا؛ أي: اليهود، في القضايا والفتاوى ـ {النبيُّون الذين أسلموا} لله وانقادوا لأوامره، الذين إسلامهم أعظم من إسلام غيرهم، وهم صفوة الله من العباد؛ فإذا كان هؤلاء النبيُّون الكرام والسادة للأنام، قد اقتدوا بها، وائتَمُّوا، ومشوا خلفها؛ فما الذي مَنَعَ هؤلاء الأراذل من اليهود من الاقتداء بها؟! وما الذي أوجب لهم أن ينبذوا أشرف ما فيها من الإيمان بمحمد - صلى الله عليه وسلم - الذي لا يُقبل عمل ظاهر وباطنٌ إلا بتلك العقيدة؟! هل لهم إمام في ذلك؟! نعم؛ لهم أئمة دأبهم التحريف وإقامة رياستهم ومناصبهم بين الناس والتأكُّل بكتمان الحقِّ وإظهار الباطل، أولئك أئمة الضَّلال الذين يدعون إلى النار. وقوله: {والرَّبَّانيُّون والأحبار}؛ أي: وكذلك يحكم بالتوراة للذين هادوا أئمة الدين من الربانيين؛ أي: العلماء العاملين المعلِّمين، الذين يربون الناس بأحسن تربية، ويسلكون معهم مسلك الأنبياء المشفقين، والأحبار؛ أي: العلماء الكبار الذين يُقتدَى بأقوالهم وتُرمَق آثارُهم ولهم لسانُ الصدق بين أممهم.
وذلك الحكم الصادر منهم الموافق للحق {بما استُحْفِظوا من كتاب الله وكانوا عليه شهداء}؛ أي: بسبب أنَّ الله استحفظهم على كتابه، وجعلهم أمناء عليه، وهو أمانة عندهم، أوجب عليهم حفظه من الزيادة والنقصان والكتمان وتعليمه لمن لا يعلمه، وهم شهداء عليه بحيث إنّهم المرجوع إليهم فيه وفيما اشتبه على الناس منه؛ فالله تعالى قد حمَّل أهل العلم ما لم يحمِّله الجُهَّال، فيجب عليهم القيام بأعباء ما حُمِّلوا، وأن لا يقتدوا بالجُهَّال بالإخلادِ إلى البطالة والكسل، وأن لا يقتصِروا على مجرَّد العبادات القاصرة من أنواع الذِّكْر والصلاة والزَّكاة والحجِّ والصوم ونحو ذلك من الأمور التي إذا قام بها غير أهل العلم؛ سلموا ونجوا، وأما أهل العلم؛ فكما أنهم مطالبون بالقيام بما عليهم أنفسهم فإنهم مطالبون أن يعلِّموا الناس، وينبِّهوهم على ما يحتاجون إليه من أمور دينهم، خصوصاً الأمور الأصولية، والتي يكثر وقوعها، وأن لا يخشوا الناس، بل يخشون ربَّهم، ولهذا قال: {فلا تَخْشَوُا الناس واخْشَوْنِ ولا تَشْتَروا بآياتي ثمناً قليلاً}؛ فتكتموا الحقَّ، وتُظْهِروا الباطل لأجل متاع الدُّنيا القليل.
وهذه الآفات إذا سلم منها العالم؛ فهو من توفيقه وسعادته؛ بأن يكون همه الاجتهاد في العلم والتعليم، ويعلم أنَّ الله قد استحفظه بما أودعه من العلم واستشهده عليه، وأن يكون خائفاً من ربِّه، ولا يمنعه خوف الناس وخشيتُهم من القيام بما هو لازمٌ له، وأن لا يُؤْثِرَ الدُّنيا على الدين؛ كما أنَّ علامة شقاوة العالم أن يكون مخلداً للبطالة، غير قائم بما أمر به، ولا مبالٍ بما استُحفظ عليه، قد أهمله وأضاعه، قد باع الدين بالدنيا، قد ارتشى في أحكامه، وأخذ المال على فتاويه، ولم يُعَلِّم عباد الله إلا بأجرة وجعالة؛ فهذا قد مَنَّ الله عليه بِمِنَّةٍ عظيمة كَفَرها، ودَفَعَ حَظًّا جسيماً محروماً منه غيره، فنسألك اللهمَّ علماً نافعاً وعملاً متقبّلاً، وأن ترزُقَنا العفو والعافية من كلِّ بلاء يا كريم.
{ومَن لم يَحْكُمْ بما أنزل الله}: من الحقِّ المُبين، وحكمَ بالباطل الذي يعلمُهُ لغرض من أغراضِهِ الفاسدة؛ {فأولئك هم الكافرون}: فالحكم بغير ما أنزل الله، من أعمال أهل الكفر، وقد يكون كفراً ينقُل عن المِلَّة، وذلك إذا اعتقد حِلَّه وجوازه، وقد يكون كبيرةً من كبائر الذُّنوب، ومن أعمال الكفر؛ قد استحقَّ من فَعَلَه العذابَ الشديدَ.