ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 43

وَ کَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ وَ عِنۡدَہُمُ التَّوۡرٰىۃُ فِیۡہَا حُکۡمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِکَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۳﴾
اور وہ تجھے کیسے منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر وہ اس کے بعد پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں۔ En
اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے
En
(تعجب کی بات ہے کہ) وه کیسے اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں احکام الٰہی ہیں تم کو منصف بناتے ہیں پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں، دراصل یہ ایمان ویقین والے ہیں ہی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43)➊ {وَ كَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ:} یہاں ان کی جہالت و عناد کا بیان ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ وہ آپ کے پاس لا رہے ہیں، اس کا فیصلہ تورات میں موجود ہے، تاہم آپ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو، لیکن جب آپ کا فیصلہ بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ پر۔ اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصدِ حیات ہی دنیوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر)
➋ {وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ:} اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے تورات میں موجود رجم کے فیصلے کو اﷲ کا فیصلہ قرار دیا ہے، جو لوگ رجم کے منکر ہیں اگرچہ بہت سی صحیح احادیث بھی ان کا رد کرتی ہیں، مگر یہ آیت پختہ ترین مضبوط دلیل ہے کہ قرآن نے تورات میں موجود رجم کے حکم کو اﷲ کا حکم قرار دیا ہے، پھر نہ اس کی تردید کی ہے نہ منسوخ کہا ہے، بلکہ اﷲ کے اس حکم کو یہود اور مسلمان دونوں پر نافذ فرمایا۔ معلوم ہوا قرآن میں بھی رجم کا ذکر موجود ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ اور آپ کو یہ کیسے حکم بنا سکتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے۔ اس کے باوجود وہ اس حکم سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ ایمان ہی نہیں [79] رکھتے
[79] یعنی ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نبی سمجھتے ہیں اور پھر فیصلہ بھی آپ کے پاس لاتے ہیں۔ اور دوسری طرف تورات ہے جسے اللہ کی سچی کتاب سمجھتے تو ہیں لیکن حکم اس کا بھی نہیں مانتے اس سے بڑھ کر ان کے بے ایمان ہونے کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُبِالْمُؤْمِنِیْنَ اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال متعجِّباً منهم: {وكيف يحكِّمونك وعندهم التوراةُ فيها حكم الله ثم يَتَوَلَّوْنَ من بعدِ ذلك وما أولئك بالمؤمنينَ}؛ فإنَّهم لو كانوا مؤمنينَ عاملينَ بما يقتضيه الإيمانُ ويوجِبُهُ؛ لم يصدفوا عن حكم الله الذي في التوراة التي بين أيديهم إلاَّ لعلَّهم أن يجدوا عندك ما يوافِقُ أهواءَهم، وحين حكمتَ بينهم بحُكْم الله الموافق لما عندهم أيضاً؛ لم يرضَوْا بذلك، بل أعْرَضوا عنه، فلم يَرْتَضوه أيضاً. قال تعالى: {وما أولئك}: الذين هذا صنيعهم، بمؤمنينَ؛ أي: ليس هذا دأب المؤمنين، وليسوا حَرِيِّين بالإيمان؛ لأنهم جَعَلوا آلهتهم أهواءهم، وجعلوا أحكام الإيمانِ تابعةً لأهوائِهِم.