تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِلسُّحْتِ:} اس کے لفظی معنی مٹانے اور ہلاک کرنے کے ہیں، گویا حرام مال وہ چیز ہے جو انسان کی نیکیوں کو اکارت کر دیتا ہے اور ہر اس خسیس مال پر {”سُحْتٌ“} کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے لینے میں عار ہو اور خفیہ طور پر لیا جائے، اس میں رشوت بھی شامل ہے اور احادیث میں زانیہ کی اجرت، کتے، شراب اور مردار کی قیمت کو{”سُحْتٌ“} کہا گیا ہے۔ سود، چوری کا مال اور جوئے سے کمایا ہوا مال بھی {”سُحْتٌ“} میں داخل ہے۔ (کبیر، قرطبی)
➌ جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی یہودیوں کی حیثیت محض ایک معاہد قوم کی تھی جس کے ساتھ صلح سے رہنے کا معاہدہ تھا اور وہ ذمی، یعنی اسلامی حکومت کی رعایا نہ تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کریں اور چاہیں تو انکار کر دیں اور یہی اختیار اسلامی حکومت کو کسی غیر مسلم معاہد قوم کے افراد کے درمیان فیصلہ کرنے کا ہے۔ رہے ذمی لوگ سو اگر وہ اپنے مقدمات اسلامی عدالت میں لائیں تو ان کے مقدمات کا فیصلہ کرنا ضروری ہو گا۔ (المنار) یہی تفصیل امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے، پس اس اختیار کا تعلق معاہد قوم سے ہے۔ (کبیر) مگر دوسرے علماء کا خیال ہے کہ یہ اختیار منسوخ ہے، اب اگر وہ فیصلہ لائیں تو فیصلہ کرنا ہو گا۔ ان علماء میں عمر بن عبد العزیز اور امام نخعی رحمھما اللہ شامل ہیں۔ نحاس نے بھی ناسخ و منسوخ میں یہی لکھا ہے کہ آیت: «فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ» [المائدۃ: ۴۸] سے یہ آیت منسوخ ہے، جس کے معنی ہیں کہ آپ اﷲ کے نازل کردہ کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا زیادہ صحیح قول بھی یہی ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” شروع سے یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ باہمی حقوق اور وراثت میں اہل کتاب کا فیصلہ ان کے دین کے مطابق کیا جائے، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کے خواہش مند ہوں تو پھر اسی کے مطابق کر دیا جائے۔“ اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ گو بعض جزئیات میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ان کی اکثریت نسخ ہی کی قائل ہے۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[78] گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار تو دے دیا گیا کہ چاہے تو یہودیوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کریں اور چاہے تو نہ کریں۔ لیکن اگر کرنا چاہو تو پھر انصاف کے ساتھ ہی فیصلہ کرنا ہو گا۔ اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے تھے۔ کچھ لوگ تو مقدمہ لانے والے تھے اور کچھ پیچھے بیٹھے ہدایات دینے والے تھے کہ اگر فیصلہ ایسے ہوا تو مان لینا ورنہ نہ ماننا۔ تاہم مسلم کی درج ذیل روایت میں اس بات میں اختلاف ہے کہ آپ کے پاس یہ مقدمہ کی صورت میں آیا تھا۔
﴿يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ ....﴾
”یہودی کہا کرتے، محمد کے پاس چلو۔ اگر وہ تمہیں منہ کالا کر کے کوڑے مارنے کا حکم دے تو اسے قبول کر لو اور اگر رجم کرنے کا فتویٰ دے تو بچو۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ﴾ [مسلم۔ كتاب الحدود۔ باب رجم اليهود اهل الذمة فى الزني]
اس حدیث میں یہود کے جس عالم کا ذکر ہے۔ بعض دوسری روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابن صوریا تھا۔ فدک کا رہنے والا تھا۔ اور اسے تورات کا سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا تھا۔ اور تمام یہودیوں کے ہاں وہ قابل اعتبار و قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا جس نے صحیح صورت حال کو کھول کر بیان کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44]، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42]، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔
بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49]
پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔
پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔
اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔
چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45]، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“
شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{سمَّاعون للكذبِ}: والسمعُ ها هُنا سمع استجابة؛ أي: من قلَّة دينهم وعقلهم أن استجابوا لمن دعاهم إلى القول الكذب، {أكَّالون للسُّحت}؛ أي: المال الحرام بما يأخذونه على سفلتهم وعوامِهم من المعلومات والرواتب التي بغير الحق، فجمعوا بين اتباع الكذب وأكل الحرام. {فإن جاؤوك فاحْكُم بينهم أوْ أعْرِضْ عنهم}؛ فأنت مخيَّرٌ في ذلك، وليست هذه منسوخة؛ فإنه عند تحاكم هذا الصنف إليه يخيَّر بين أن يحكمَ بينهم أو يعرِضَ عن الحكم بينهم؛ بسبب أنه لا قصدَ لهم في الحكم الشرعي إلاَّ أن يكون موافقاً لأهوائهم.
وعلى هذا؛ فكلُّ مستفتٍ ومتحاكم إلى عالم يَعلَمُ من حالِهِ أنَّه إن حَكَمَ عليه لم يرضَ؛ لم يَجِبِ الحكم ولا الإفتاء لهم؛ فإن حكم بينهم؛ وجب أن يحكمَ بالقِسْط. ولهذا قال: {وإن تُعْرِضْ عنهم فلن يَضُرُّوك شيئاً وإن حكمتَ فاحكُم بينَهم بالقسطِ إنَّ الله يحبُّ المقسِطين}: حتى ولو كانوا ظلمةً وأعداءً؛ فلا يَمْنَعُكَ ذلك من العدل في الحكم بينهم: وفي هذا بيان فضيلة العدل والقسط في الحكم بين الناس، وأنَّ الله تعالى يحبه.