تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ……:} یعنی کفر میں دوڑ کر جانے والے یہودی بھی آپ کو غمگین نہ کریں۔ { ”سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ“ } جو جھوٹی باتیں بہت سنتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ان کو ان کے مذہبی پیشوا تورات میں تحریف کر کے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر طعن کے طور پر کہتے ہیں اسے خوب سنتے اور قبول کرتے ہیں، {”سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ“} یعنی پھر یہ ان لوگوں کے جاسوس بن کر مسلمانوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں جا کر خوب سنتے ہیں، جو تکبر کی وجہ سے ان مجلسوں میں شریک ہونا پسند نہیں کرتے۔ (کبیر)
➌ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ:} کتب تفاسیر و احادیث میں لکھا ہے کہ یہود میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، ان کے علماء نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اس مقدمے کا فیصلہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کروا لیتے ہیں، کیونکہ وہ نرم شریعت لے کر آئے ہیں، اگر انھوں نے کوڑے مارنے کا حکم دیا تو ہماری مراد بر آئے گی اور اگر انھوں نے سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو ہم ان کا فیصلہ ٹھکرا دیں گے۔ چنانچہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [مسلم، الحدود، باب رجم الیہود أہل الذمۃ فی الزنٰی: ۱۶۹۹] مفصل واقعہ کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۵) کا حاشیہ (۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا، اب کہنے لگے چلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کر لیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔
چنانچہ یہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے؟ } انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ اور آیت میں ہے «قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] یعنی ’ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو) ‘، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اپنے ہاتھ کو تو ہٹا“، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:6841]
ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4449،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو؟ } تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا؟ } } اس نے کہا ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زناکاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کر دی جائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» ۱؎ [5-المائدہ:44]، اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں ۱؎ [سنن ابوداود:4450،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا }۔ اس پر آیت «يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:41] سے «وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:44] تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں اور آیت میں ہے کہ ’ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں ‘ اور آیت میں ہے ’ فاسق ہیں ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1700]
اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہو جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا}۔ اس پر آیت «فَاِنْ جَاءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:42]، اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4452،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لیے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کر لیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں۔
اسی لیے فرمان ہے کہ ’ جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے ‘۔
بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے «وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ۱؎ [5-المائدہ:49]
پھر فرمایا ’ اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گو یہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے ‘۔
پھر ان کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے ‘۔
پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء علیہ السلام جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ ’ اب تمہیں چاہیئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے ‘۔
اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے ان شاءاللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔
لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقیناً تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چپکے سے بھیج دو، وہ معلوم کر آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کیا کریں گے؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔
چنانچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلع فرما دیا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3576،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔
یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت «وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ» ۱؎ [5-المائدہ:45]، یعنی ’ ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کر دیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔“ سدی رحمة الله فرماتے ہیں ”جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور۔“
شعبی رحمة الله فرماتے ہیں ”مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے۔“ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو۔“ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «کتم» (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھر جانے والا جاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان الرسول - صلى الله عليه وسلم - من شدة حرصه على الخلق يشتد حزنه لمن يُظهر الإيمان ثم يرجع إلى الكفر، فأرشده الله تعالى إلى أنه لا يأسى ولا يحزنُ على أمثال هؤلاء؛ فإنَّ هؤلاء لا في العير ولا في النفير؛ إن حَضَروا؛ لم ينفعوا، وإن غابوا؛ لم يُفْقَدوا، ولهذا قال مبيِّناً للسبب الموجب لعدم الحزن عليهم، فقال: {من الذين قالوا آمنَّا بأفواهِهِم ولم تؤمِن قلوبُهم}؛ فإنَّ الذين يُؤسَى ويُحزَن عليهم مَن كان معدوداً من المؤمنين، وهم المؤمنون ظاهراً وباطناً، وحاشا لله أن يرجع هؤلاء عن دينهم ويرتدُّوا؛ فإنَّ الإيمان إذا خالطتْ بشاشتُه القلوبَ؛ لم يعدِلْ به صاحبُه غيرَه ولم يبغ به بدلاً. {ومن الذين هادوا}؛ أي: اليهود، {سمَّاعون للكذب سمَّاعون لقوم آخرين لم يأتوك}؛ أي: مستجيبون ومقلِّدون لرؤسائهم المبنيِّ أمرهم على الكذب والضَّلال والغيِّ. وهؤلاء الرؤساء المتبوعون {لم يأتوك}، بل أعرضوا عنك وفرِحوا بما عندهم من الباطل. وهو تحريف الكلم عن مواضعِهِ؛ أي: جلب معانٍ للألفاظ ما أرادها الله، ولا قصَدَها؛ لإضلال الخلق ولدفع الحق؛ فهؤلاء المنقادون للدُّعاة إلى الضلال المتبعين للمحال الذين يأتون بكل كذبٍ لا عقول لهم ولا همم؛ فلا تبال أيضاً إذا لم يتَّبعوك؛ لأنَّهم في غاية النقص، والناقص لا يُؤْبَه له ولا يبالَى به. {يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا}؛ أي: هذا قولهم عند محاكمتهم إليك، لا قصد لهم إلاَّ اتباع الهوى، يقول بعضُهم لبعض: إنْ حَكَمَ لكُم محمدٌ بهذا الحكم الذي يوافق هواكم؛ فاقبلوا حكمه، وإن لم يحكم لكم به؛ فاحذروا أن تتابِعوه على ذلك، وهذا فتنةٌ واتِّباع ما تهوى الأنفس. {ومَن يُرِدِ الله فتنتَه فلن تملك له من الله شيئاً}؛ كقوله تعالى: {إنَّك لا تهدي من أحببتَ ولكنَّ الله يهدي من يشاء}، {أولئك الذين لم يُرِدِ الله أن يطهِّر قلوبهم}؛ أي: فلذلك صدر منهم ما صدر.
فدل ذلك على أنَّ مَن كان مقصودُهُ بالتَّحاكم إلى الحكم الشرعيِّ اتباعَ هواه، وأنَّه إن حُكم له رضي، وإن لم يُحْكَم له سَخِطَ؛ فإنَّ ذلك من عدم طهارة قلبه؛ كما أنَّ من حاكم وتحاكم إلى الشرع، ورضي به وافَقَ هواه أو خالفه؛ فإنه من طهارة القلب، ودلَّ على أن طهارة القلب سببٌ لكلِّ خير، وهو أكبر داعٍ إلى كلِّ قول رشيدٍ وعمل سديدٍ. {لهم في الدُّنيا خزيٌ}؛ أي: فضيحة وعار، {ولهم في الآخرة عذابٌ عظيم}: هو النار وسَخَط الجبار.