ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 30

فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾
تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا، سو اس نے اسے قتل کر دیا، پس خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ En
مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا
En
پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈاﻻ، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) {فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ:} یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہو گئی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھہرا، کیونکہ ہر بعد والے قتل کا گناہ اس کی گردن پر بھی ہو گا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 چناچہ حدیث میں آتا ہے (لَا تَقْتُلُ نَفْسً ظُلُمًَا اِلَّا کَانَ عَلٰی اِبْنِ آدَمْ کفل من دمہا، لانہ کان اول من سن القتل) (الصحیح بخاری) جو قتل بھی ظلمًا ہوتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم کے اس پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں ' کہ ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قابیل کو ہابیل کے قتل ناحق کی سزا دنیا میں ہی فوری طور پردے دی گئی تھی۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی یہ دونوں گناہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرنے والوں کو دنیا میں ہی جلد سزا دے دے، تاہم آخرت کی سزا اس کے علاوہ اس کے لئے الگ ہوگی جو انہیں وہاں بھگتنی ہوگی۔ قابیل میں یہ دونوں گناہ جمع ہوگئے تھے ' اِنْا للہِ وَ اِنِّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) 2:156 (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ بالآخر دوسرے کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر ہی لیا۔ [62] چنانچہ اسے مار ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا
[62] قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک ہابیل زندہ رہے گا اس کا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہو سکتا لہٰذا اسے ختم کر دینے سے ہی اسے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نفس کے شیطان نے اسے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے۔ پھر جب اس نے اسے مار ڈالا تو اس پر ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پڑنے لگی کہ ایسے نیک سیرت اور مشفق بھائی کو اس نے بے قصور مار ڈالا ہے اور آخرت میں جو اس کے لیے سزا ہے وہ تو بہرحال مل کے رہے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰؔسِرِیْنَ پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يرتدِع ذلك الجاني، ولم ينزَجِر، ولم يزل يعزم نفسه ويجزمها، حتَّى طوَّعت له قتلَ أخيه الذي يقتضي الشرع والطبع احترامه، {فقتَلَه فأصبح من الخاسرين}: دنياهم وآخرتهم، وأصبح قد سنَّ هذه السُّنة لكلِّ قاتل، ومن سنَّ سنةً سيئةً؛ فعليه وِزْرها ووِزْر من عمل بها إلى يوم القيامة، ولهذا ورد في الحديث الصحيح: أنه «ما من نفس تُقتَل؛ إلا كان على ابن آدم الأول شطرٌ من دمها؛ لأنه أوَّلُ مَنْ سنَّ القتل».