تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 30

فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۳۰﴾
تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا، سو اس نے اسے قتل کر دیا، پس خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ En
مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا
En
پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈاﻻ، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰؔسِرِیْنَ پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يرتدِع ذلك الجاني، ولم ينزَجِر، ولم يزل يعزم نفسه ويجزمها، حتَّى طوَّعت له قتلَ أخيه الذي يقتضي الشرع والطبع احترامه، {فقتَلَه فأصبح من الخاسرين}: دنياهم وآخرتهم، وأصبح قد سنَّ هذه السُّنة لكلِّ قاتل، ومن سنَّ سنةً سيئةً؛ فعليه وِزْرها ووِزْر من عمل بها إلى يوم القيامة، ولهذا ورد في الحديث الصحيح: أنه «ما من نفس تُقتَل؛ إلا كان على ابن آدم الأول شطرٌ من دمها؛ لأنه أوَّلُ مَنْ سنَّ القتل».