(آیت 29) {اِنِّيْۤاُرِيْدُاَنْتَبُوْٓءَاۡبِاِثْمِيْوَاِثْمِكَ ……:} میرا گناہ، یعنی جو مجھے اس صورت میں ہوتا جب میں بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے، یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:”اگر اس کے کوئی نیک عمل ہوئے تو ان میں سے اس کے ظلم کے برابر لیے جائیں گے اور اگر اس کی کوئی نیکیاں نہ ہوئیں تو اس کے ساتھی کے گناہوں میں سے لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“[بخاری، المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل……: ۲۴۴۹]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 میرے گناہ کا مطلب قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا (صحیح بخاری و مسلم کتاب الفتن)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ میں چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ سب کچھ سمیٹ لے اور اہل دوزخ سے ہو جائے [61] اور ظالم لوگوں کی یہی سزا ہے“
[61] یعنی ناحق قتل کرنے والے کی سزا صرف یہی نہیں ہوتی کہ اسے اس جرم کے عوض جہنم میں ڈال دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ مقتول کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے دو لشکروں یا دو صفوں میں سے کسی ایک صف میں زبردستی لایا جائے پھر کسی شخص کی تلوار میری گردن اڑا دے یا کسی کا تیر مجھے مار ڈالے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قاتل اپنے اور تیرے گناہ سمیٹ کر اللہ کے پاس آئے گا اور وہ جہنمی ہے (اور تم پر کوئی گناہ نہیں)“ [مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن کمواقع القطر] نیز کئی احادیث میں صراحت سے مذکور ہے کہ قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنِّیْۤاُرِیْدُاَنْتَبُوْٓءَاۡ ﴾”میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔“﴿ بِـاِثْ٘مِیْوَاِثْمِكَ ﴾”میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ“ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوْنَمِنْاَصْحٰؔبِالنَّارِ١ۚوَذٰلِكَجَزٰٓؤُاالظّٰلِمِیْنَ ﴾”پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔“
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنِّي أريدُ أن تبوءَ}؛ أي: ترجع {بإثمي وإثمك}؛ أي: إنه إذا دار الأمر بين أن أكون قاتلاً أو تقتلني؛ فإني أوثر أن تقتلني فتبوء بالوزرين، {فتكونَ من أصحاب النارِ وذلك جزاء الظالمين}: دلَّ هذا على أن القتلَ من كبائر الذُّنوب، وأنَّه موجبٌ لدُخول النار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔