تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {الْمَيْتَةُ:} مردار میں سے مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں، کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دیے گئے ہیں، مردار تو مچھلی اور ٹڈی ہیں (کیونکہ ان میں دم مسفوح نہیں ہوتا) اور خون جگر اور تلی ہیں۔“ [أحمد:97/2 ح: ۵۷۲۵۔ ابن ماجہ: ۳۳۱۴، و صححہ الألبانی فی الصحیحۃ: ۱۱۱۸] حرام خون اور لحم خنزیر کی تفصیل سورۂ انعام (۱۴۵) میں ہے۔
➌ {وَ الْمُنْخَنِقَةُ:} گلا گھٹنے والا جانور، خواہ خود بخود رسی وغیرہ سے گھٹ کر مر جائے یا کوئی گلا گھونٹ کر مار دے۔
➍ {وَ الْمَوْقُوْذَةُ:} جسے کسی لاٹھی یا پتھر وغیرہ کی چوٹ سے مارا جائے۔
➎ {اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ:} اس کا تعلق اس سے پہلے مذکور پانچ چیزوں کے ساتھ ہے کہ ان پانچوں چیزوں میں سے کسی کے اندر اگر جان باقی ہو اور مرنے سے پہلے اسے ذبح کر لو تو وہ حلال ہے۔ شرعی ذبح یہ ہے کہ حلال جانور کو {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَر“} کہہ کر کسی تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی شرعی طریقہ ہے کہ کھڑے اونٹ کے حلق کے گڑھے میں چھری وغیرہ ماری جائے۔ ذبح اور نحر حلق یا لبہ (حلق کے گڑھے) ہی میں ہوتا ہے، البتہ اگر مجبوری ہو، مثلاً جانور قابو نہیں آ رہا، یا ایسی جگہ ہے جہاں پکڑ کر ذبح کرنا مشکل ہے تو {” بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ “} پڑھ کر جہاں سے بھی ہو سکے چھری یا نیزے سے خون بہا کر ذبح کیا جا سکتا ہے۔ اگر ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر نہیں بلکہ اتفاقاً گردن الگ ہو جائے تو وہ بھی حلال ہے۔
➏ {وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ:} مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں کے لیے جو جگہیں مقرر کرتے انھیں نصب کہا جاتا تھا، کیونکہ عموماً وہاں کوئی نشان نصب ہوتا، مثلاً بت، درخت، قبر یا دریا وغیرہ۔ پھر اس کے پاس ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔ ایسی جگہوں کو استھان، تھان اور آستانہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ایسے جانور بھی حرام ہیں خواہ ان پر {”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَر“} بھی پڑھا جائے، اگرچہ ان کا ذکر «وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» کے ضمن میں آ چکا تھا مگر مزید تاکید کے لیے ان کو الگ بھی ذکر فرمایا۔ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ”بوانہ“ مقام پر اونٹ نحر کرے گا، وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ”بوانہ “ مقام پر ایک اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی تھی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہاں ایام جاہلیت کے (انصاب) استھانوں میں سے کوئی استھان تھا؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں! “ آپ نے مزید پوچھا: ”کیا وہاں مشرکین کی عیدوں (میلوں) میں سے کوئی عید تھی؟“ لوگوں نے کہا:” نہیں!“ آپ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“ [أبو داوٗد، الأیمان والنذور، باب ما یؤمر بہ من وفاء النذر: ۳۳۱۳]
➐ {وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ:} {”اَزْلاَمٌ“} یہ {”زَلَمٌ “} کی جمع ہے، یہ وہ تیر تھے جو قسمت معلوم کرنے کے لیے ہبل بت کے پاس رکھے ہوئے تھے۔ خانہ کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویروں کے ہاتھوں میں بھی تھمائے ہوئے تھے، بلکہ لوگ اپنے ساتھ بھی قسمت آزمائی کے یہ تھیلے رکھ لیتے تھے، جیسا کہ سراقہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کرتے ہوئے ان تیروں سے فال نکالی تھی۔ ان میں سے کسی پر {”اِفْعَلْ“} (کر لو) لکھا ہوتا، کسی پر {” لَا تَفْعَلْ “} (مت کرو) لکھا ہوتا اور کوئی خالی ہوتا۔ قسمت معلوم کرنے والا تیر نکالتا، جو حکم نکلتا اس پر عمل کرتا، اگر خالی تیر نکلتا تو دوبارہ تیر نکالتا۔ اس قسم کے تمام کام، خواہ انھیں فال نامہ کہا جائے یا استخارہ یا کسی نجومی سے پوچھا جائے حرام ہیں، شرک ہیں کیونکہ غیب تو اﷲ کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں، مسنون استخارے میں اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ «وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ» کا ایک اور مطلب بھی ہے، یعنی جوئے کے تیروں کے ذریعے سے ذبح شدہ گوشت کے حصے تقسیم کرنا، اس میں کسی کا حصہ نکل آتا، کوئی محروم رہ جاتا، یہ وہی چیز ہے جسے آج کل لاٹری کہا جاتا ہے، یہ بھی حرام ہے۔ (قرطبی)
➑ {اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ……:} یعنی اب تمھاری طاقت اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ تمھارے دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس چیز سے قطعی مایوس ہو گئے ہیں کہ تمھارے دین کو نیچا دکھا سکیں۔
➒ {اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ……:} طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر ہم یہودیوں کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنا لیتے۔“ آپ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ اس نے یہ آیت پڑھی: «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا» [المائدۃ: ۳] یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس دن اور جگہ کو جانتے ہیں جب یہ (آیت) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، آپ (۹ذوالحجہ کو) عرفہ میں تھے (پچھلے پہر کا وقت تھا) اور جمعۃ المبارک کا دن۔“ [بخاری، الإیمان، باب زیادۃ الإیمان و نقصانہ: ۴۵]
دین کو مکمل کر دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے تمام ارکان، فرائض، سنن، حدود اور احکام بیان کر دیے گئے ہیں اور کفر و شرک کا خاتمہ کر کے اس نعمت کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ اب دین میں جو حرام ہونا تھا یا حلال ہونا تھا وہ ہو چکا، اب اگر کوئی اس میں تبدیلی یا اضافہ کرے گا، یا نئی چیز نکالے گا وہ دین نہیں ہو سکتی بلکہ دین میں بدعت ہے، جو سراسر گمراہی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ] ”جو ہمارے اس امر(دین) میں کوئی نئی چیز شروع کرے گا جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔“ [بخاری، الصلح، باب إذا اصطلحوا……: ۲۶۹۷]
➓ {فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ ……:} یعنی بھوک کی وجہ سے مجبور اور لاچار آدمی اگر حرام چیزوں میں سے کچھ کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ حرام کھانے کا شوق نہ ہو اور اسے جائز نہ سمجھنے لگے اور دوسرا بقدر ضرورت کھائے، حد سے نہ گزرے۔ معلوم ہوا حرام کھانے کا تعلق بھوک اور حقیقی مجبوری سے ہے۔ زندگی کا معیار بلند کرنے کے لیے اضطرار کا بہانہ بنا کر سود کھانا شروع کر دے، یہ مراد نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[12] اس آیت میں جن حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی چار چیزوں کا ذکر پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 173 میں آ چکا ہے اس کا حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔
[13] چونکہ خون حرام ہے اس لیے موت کی ہر وہ صورت جس میں خون جسم سے نکل نہ سکے وہ بدرجہ اولیٰ حرام ہوئی۔ ایسی ہی چار صورتوں کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ پہلی صورت اختناق یا گلا گھونٹ کر مرنے کی ہے پھر اسی کی آگے کئی صورتیں ہیں جیسے کوئی گلا دبا کر یا مروڑ کر مار ڈالے۔ یا اسی رسی کا پھندا لگ جائے یا گردن کسی درخت کی شاخوں میں پھنس جائے اور جانور مر جائے۔ دوسری صورت چوٹ یا ضرب سے مرنے کی ہے۔ یہ چوٹ کسی پتھر وغیرہ کی بھی ہو سکتی ہے اور لاٹھی وغیرہ کی بھی۔ تیسری صورت گر کر مرنا ہے خواہ کسی پہاڑی یا درخت سے گر کر مر جائے یا کسی کھڈ یا کنوئیں یا ندی نالے میں گر کر مر جائے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے لڑیں اور ان میں سے کوئی مر جائے ایسے سب مردار حرام ہیں۔
[مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ]
[15] ایسا مقام جس کی نسبت عوام میں مشہور ہو کہ وہاں جا کر قربانی دینے سے یا ایسی نذر ماننے سے انسانوں کی فلاں تکلیف رفع ہو جاتی ہے یا اسے فلاں فائدہ پہنچتا ہے اور لوگ اسے مقدس سمجھتے ہوں خواہ وہاں کوئی بت موجود ہو یا نہ ہو۔ اور اگر کسی درخت یا کسی پتھر سے ایسے ہی فوائد منسوب کیے گئے ہوں تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہو گا چنانچہ درج ذیل حدیث اس کی پوری وضاحت کرتی ہے۔
[ابو داؤد کتاب الایمان والنذور۔ باب۔ مایومر بہ من الوفاء عن النذر]
[16] قسمت کے تیروں کے ذریعہ غیب کی خبریں یا اپنی اچھی یا بری قسمت کا حال معلوم کرنا محض توہم پرستی ہے اور ایمان بالجبت میں داخل ہے۔ یہ تیر عموماً کسی بت خانہ میں یا کافروں کے گمان کے مطابق کسی مقدس مقام پر پڑے رہتے تھے۔ جب کوئی اہم کام یا سفر درپیش ہوتا تو پہلے ان تیروں سے حالات معلوم کرتے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے ظاہر ہے۔
1۔
[بخاری باب بنیان الکعبہ۔ باب ھجرۃ النبی واصحابہ الی المدینۃ]
2۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ (فتح مکہ کے موقع پر) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر تصویریں دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ کے حکم سے ساری تصویریں مٹا دی گئیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کی تصویروں کو دیکھا، ان کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی قسم انہوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی تھی۔“
[بخاری۔ کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ و اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا]
[17] یعنی اب اسلام کو اتنا عروج حاصل ہو چکا ہے کہ کافر اب اپنی پوری کوشش کے باوجود اس کی راہ نہیں روک سکتے۔ نہ ہی اب کفر کے غالب آنے کی امید رکھ سکتے ہیں۔
[20] یعنی جس طرح کائنات کی تمام اشیاء اللہ کے حکم کے سامنے بلا چون و چرا سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں اسی طرح انسان بھی اختیار رکھنے کے باوجود اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور کائنات سے ہم آہنگ ہو جائے اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اسی بات کو اپنا ضابطہ حیات بنا لے۔ ان معنوں میں سیدنا آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزماں تک تمام انبیاء کا یہی دین یعنی اسلام ہی دین رہا ہے۔ اور اسی کو اللہ نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ یہ آیت 9 ذی الحجہ 10ھ کو عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس دن جمعہ کا دن تھا جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔
[بخاري كتاب التفسير اور بخاري كي دوسري روايات مثلاً كتاب الايمان۔ باب زيادة الايمان و نقصانه اور كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة۔ نيز مسلم۔ كتاب التفسير ميں وضاحت هے كه يه جمعه كا دن تها۔]
2۔ سیدنا جابرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک (مدینہ میں) رہے مگر حج نہیں کیا۔ پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ آپ حج کرنے جا رہے ہیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی کے لئے مدینہ آگئے۔ [مسلم۔ كتاب الحج۔ باب حجة النبي]
[21] سورۃ بقرہ کی آیت 173 میں یہی مضمون آچکا ہے۔ یہاں ﴿غير متجانف لاثم﴾ کے الفاظ ہیں اور وہاں ﴿غير باغ ولا عاد﴾ کے اور مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے تفصیل مذکورہ آیت میں دیکھ لی جائے۔ سابقہ آیت میں حرام کردہ اشیاء مذکور ہوئی تھیں اس آیت کا یہ جملہ انہیں اشیاء سے متعلق ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«مُتَرَدِّیـةُ» وہ ہے جو پہاڑی یا کسی بلند جگہ سے گر کر مرگیا ہو تو وہ جانور بھی حرام ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو کنویں میں گر پڑے، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:498/9]
«نَـطِیْحَـہ» وہ ہے جسے دوسرا جانور سینگ وغیرہ سے ٹکر لگائے اور وہ اس صدمہ سے مر جائے، گو اس سے زخم بھی ہوا ہو اور گو اس سے خون بھی نکلا ہو، بلکہ گو ٹھیک ذبح کرنے کی جگہ ہی لگا ہو اور خون بھی نکلا، یہ لفظ معنی میں مفعول یعنی منطوحہ کے ہے، یہ وزن عموماً کلام عرب میں بغیر تے کے آتا ہے جیسے «عَیْـنٌ کَحِـیْلٌ» اور «کَفٌّ خَضِیْبٌ» ان مواقع میں «کَحِیْلَـةٌ» اور «خَضِیبْـَةٌ» نہیں کہتے، اس جگہ تے اس لیے لایا گیا ہے کہ یہاں اس لفظ کا استعمال قائم مقام اسم کے ہے، جیسے عرب کا یہ کلام «طَرِیْقَةٌ طَوِیْلةٌ» ۔
بعض نحوی کہتے ہیں تاء تانیث یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہی تانیث پر دلالت ہو جائے بخلاف «کَحِـیْلٌ» اور «خَضِیبْـَ» کے کہ وہاں تانیث کلام کے ابتدائی لفظ سے معلوم ہوتی ہے۔ «مَاۤ اَکَلَ السَّـبُعُ» سے مراد وہ جانور ہے جس پر شیر، بھیڑیا، چیتا یا کتا وغیرہ درندہ حملہ کرے اور اس کا کوئی حصہ کھا جائے اور اس سبب سے مر جائے تو اس جانور کو کھانا بھی حرام ہے، اگرچہ اس سے خون بہا ہو بلکہ اگرچہ ذبح کرنے کی جگہ سے ہی خون نکلا ہو تاہم وہ جانور بالاجماع حرام ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، سعید بن جیبر رضی اللہ عنہ، حسن اور سدی رحمة الله علیہم یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”اگر تم ان کو اس حالت میں پالو کہ چھری پھیرتے ہوئے وہ دم رگڑیں یا پیر ہلائیں یا آنکھوں کے ڈھیلے پھرائیں تو بے شک ذبح کرکے کھا لو۔“
ابن جریر میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جس جانور کو ضرب لگی ہو یا اوپر سے گر پڑا ہو یا ٹکر لگی ہو اور اس میں روح باقی ہو اور تمہیں وہ ہاتھ پیر رگڑتا مل جائے تو تم اسے ذبح کر کے کھا سکتے ہو۔“ طاؤس، حسن، قتادہ، عبید بن عمیر، ضحاک رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے حضرات سے مروی ہے کہ ”بوقت ذبح اگر کوئی حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/9]
جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔ جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے تینوں اماموں کا بھی یہی قول ہے۔
امام مالک رحمة الله اس بکری کے بارے میں جسے بھیڑیا پھاڑ ڈالے اور اس کی آنتیں نکل آئیں فرماتے ہیں ”میرا خیال ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے اس میں سے کس چیز کا ذبیحہ ہو گا؟“ ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ درندہ اگر حملہ کرکے بکری کی پیٹھ توڑ دے تو کیا اس بکری کو جان نکلنے سے پہلے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”اگر بالکل آخر تک پہنچ گیا ہے تو میری رائے میں نہ کھانی چاہیئے اور اگر اطراف میں یہ ہے تو کوئی حرج نہیں۔“ سائل نے کہا درندے نے اس پر حملہ کیا اور کود کر اسے پکڑ لیا، جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ”مجھے اس کا کھانا پسند نہیں کیونکہ اتنی زبردست چوٹ کے بعد زندہ نہیں رہ سکتی۔“ آپ رحمہ اللہ سے پھر پوچھا گیا کہ اچھا اگر پیٹ پھاڑ ڈالا اور آنتیں نہیں نکلیں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا ”میں تو یہی رائے رکھتا ہوں کہ نہ کھائی جائے۔“ یہ ہے امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب لیکن چونکہ آیت عام ہے اس لیے امام صاحب نے جن صورتوں کو مخصوص کیا ہے ان پر کوئی خاص دلیل چاہیئے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد اور سنن میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ”ذبیحہ صرف حلق اور نرخرے میں ہی ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تو نے اس کی ران میں بھی زخم لگا دیا تو کافی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2825،قال الشيخ الألباني:-منکر و ضعیف] یہ حدیث ہے تو سہی لیکن یہ حکم اس وقت ہے جبکہ صحیح طور پر ذبح کرنے پر قادر نہ ہوں۔ «نُصُب» پر جو جانور ذبح کیے جائیں وہ بھی حرام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ پرستش گاہیں کعبہ کے اردگرد تھیں،۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/9]
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ تین سو ساٹھ بت تھے، جاہلیت کے عرب ان کے سامنے اپنے جانور قربان کرتے تھے اور ان میں سے جو بیت اللہ کے بالکل متصل تھا، اس پر ان جانوروں کا خون چھڑکتے تھے اور گوشت ان بتوں پر بطور چڑھاوا چڑھاتے تھے“ ۱؎ [صحیح بخاری:1601]
پس اللہ تعالیٰ نے یہ کام مومنوں پر حرام کیا اور ان جانوروں کا کھانا بھی حرام کر دیا۔ اگرچہ ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی کہی گئی ہو کیونکہ یہ شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، اور اسی لائق ہے، اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی حرمت بیان ہو چکی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کے نام پر چڑھائے جائیں۔
«استسقام» کے معنی ان تیروں سے تقسیم کی طلب ہے، قریشیوں کا سب سے بڑا بت ہبل خانہ کعبہ کے اندر کے کنوئیں پر نصب تھا، جس کنویں میں کعبہ کے ہدیے اور مال جمع رہا کرتے تھے، اس بت کے پاس سات تیر تھے، جن پر کچھ لکھا ہوا تھا جس کام میں اختلاف پڑتا یہ قریشی یہاں آ کر ان تیروں میں سے کسی تیر کو نکالتے اور اس پر جو لکھا پاتے اسی کے مطابق عمل کرتے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کے مجسمے گڑے ہوئے پائے، جن کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ انہیں غارت کرے، انہیں خوب معلوم ہے کہ ان بزرگوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1601]
ابن مردویہ میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”وہ شخص جنت کے بلند درجوں کو نہیں پا سکتا جو کہانت کرے، یا تیر اندازی کرے یا کسی بدفالی کی وجہ سے سفر سے لوٹ آئے } ۱؎ [مجمع الزوائد:118/5:حسن بالشواهد]
مجاہد رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ”عرب ان تیروں کے ذریعہ اور فارسی اور رومی پانسوں کے ذریعہ جوا کھیلا کرتے تھے جو مسلمانوں پر حرام ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:512/9]
اسی سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو بھی حرام کیا ہے اور فرمایا، ’ ایمان والو! شراب، جواء، بت اور تیر نجس اور شیطانی کام ہیں، تم ان سے الگ رہو تاکہ تمہیں نجات ملے، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت و بغض ڈال دے ‘۔
اسی طرح یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ’ تیروں سے تقسیم طلب کرنا حرام ہے، اس کام کا کرنا فسق، گمراہی، جہالت اور شرک ہے ‘۔ اس کے بجائے مومنوں کو حکم ہوا کہ ’ جب تمہیں اپنے کسی کام میں تردد ہو تو تم اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرلو، اس کی عبادت کر کے اس سے بھلائی طلب کرو ‘۔ [مسند احمد]۔
یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا طالب ہوں، یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں محض مجبور ہوں، تو تمام علم والا ہے اور میں مطلق بے علم ہوں، تو ہی تمام غیب کو بخوبی جاننے والا ہے، اے میرے اللہ اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین دنیا میں آغاز و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان بھی کر دے اور اس میں مجھے ہر طرح کی برکتیں عطا فرما اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے دین کی دنیا زندگی اور انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لیے خیر و برکت جہاں کہیں ہو مقرر کر دے پھر مجھے اسی سے راضی و رضا مند کر دے }}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1162]
دعا کے یہ الفاظ مسند احمد میں ہیں۔ «ھٰذَا الاَمْرَ» جہاں ہے وہاں اپنے کام کا نام لے مثلاً نکاح ہو تو «ھٰذَا النّکَاحَ» سفر میں ہو تو «ھٰذَا السَّـفَـرَ» بیوپار میں ہو تو «ھٰذَا التِّجَارَۃَ» وغیرہ۔ بعض روایتوں میں «خَيْرٌ لي في دِيني» سے «أَمْرِي» تک کے بجائے یہ الفاظ ہیں۔ دعا «خَیْرٌ لِّیْ فِیْ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ» ۔ امام ترمذی اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی مسلمان جزیرہ عرب میں اس کی پرستش کریں، ہاں وہ اس کوشش میں رہے گا کہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکاتا رہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2812]
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ اس سے مایوس ہو گئے کہ مسلمانوں سے مل جل کر رہیں، کیونکہ احکام اسلام نے ان دونوں جماعتوں میں بہت کچھ تفاوت ڈال دیا۔ اسی لیے حکم ربانی ہو رہا ہے کہ مومن صبر کریں، ثابت قدم رہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، کفار کی مخالفت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کی کچھ پرواہ نہ کریں، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کرے گا اور دنیا و آخرت میں انہیں بلند و بالا رکھے گا۔
پھر اپنی زبردست بہترین اعلیٰ اور افضل تر نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ میں نے تمہارا دین ہر طرح اور ہر حیثیت سے کامل و مکمل کر دیا، تمہیں اس دین کے سوا کسی دین کی احتیاج نہیں ‘۔
جیسے فرمان باری ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا» ۱؎ [6-الأنعام:115] یعنی ’ تیرے رب کا کلمہ پورا ہوا، جو خبریں دینے میں سچا ہے اور حکم و منع میں عدل والا ہے ‘۔ دین کو کامل کرنا تم پر اپنی نعمت کو بھرپور کرنا ہے چونکہ میں خود تمہارے اس دین اسلام پر خوش ہوں، اس لیے تم بھی اسی پر راضی رہو، یہی دین اللہ کا پسندیدہ، اسی کو دے کر اس نے اپنی افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے اور اپنی اشرف کتاب نازل فرمائی ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی، اس کے بعد حلال و حرام کا کوئی حکم نہیں اترا، اس حج سے لوٹ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔“
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس آخری حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھی، ہم جا رہے تھے اتنے میں جبرائیل علیہ السلام کی تجلی ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر جھک پڑے وحی اترنی شروع ہوئی، اونٹنی وحی کے بوجھ کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ میں نے اسی وقت اپنی چادر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اڑھادی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11085:مرسل و ضعیف]۔
ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اس کے بعد اکیاسی دن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات رہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11086:مرسل و ضعیف]
{ حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سچ ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11087:ضعیف]
اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ { اسلام غربت اور انجان پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب انجان ہو جائے گا، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:145،146]
ایک اور روایت میں ہے کہ کعب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے، عید کا دن بھی تھا اور جمعہ کا دن بھی۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3044،قال الشيخ الألباني:-صحیح]۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے۔“ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے منبر پر اس پوری آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ”جمعہ کے دن عرفے کو یہ اتری یہ ہے۔“ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:457/2:ضعیف] سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں کھڑے ہوئے تھے۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:6916:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن ہی مکہ سے نکلے اور پیر والے دن ہی مدینے میں تشریف لائے، یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11113:ضعیف]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے، پیر والے دن نبی بنائے گئے، پیر والے دن ہجرت کے ارادے سے نکلے، پیر کے روز ہی مدینے پہنچے اور پیر کے دن ہی فوت کئے گئے، حجر اسود بھی پیر کے دن واقع ہوا۔ ۱؎ [مسند احمد:277/1:ضعیف] اس میں سورۃ المائدہ کا پیر کے دن اترنا مذکور نہیں، میرا خیال یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہوگا دو عیدوں کے دن یہ آیت اتری تو دو کیلئے بھی لفظ اثنین ہے، اور پیر کے دن کو بھی اثنین کہتے ہیں اس لیے راوی کو شبہ سا ہوگیا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بالکل صحیح اور بے شک و شبہ قول یہی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن جمعہ کو اتری ہے، امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب اور امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب اور امیر المؤمنین سیدنا امیر معاویہ بن سفیان اور ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے اور اسی کو شعبی، قتادہ، شہیر وغیرہ ائمہ اور علماء رحمہ اللہ علیہم نے کہا ہے، یہی مختار قول ابن جریر اور طبری رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔
پھر فرماتا ہے، ’ جو شخص ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کے استعمال کی طرف مجبور و بے بس ہو جائے تو وہ ایسے اضطرار کی حالت میں انہیں کام لا سکتا ہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے ‘۔ وہ جانتا ہے کہ اس بندے نے اس کی حد نہیں توڑی لیکن بے بسی اور اضطرار کے موقعہ پر اس نے یہ کیا ہے تو اللہ سے معاف فرما دے گا۔
صحیح ابن حبان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کو اپنی دی ہوئی رخصتوں پر بندوں کا عمل کرنا ایسا بھاتا ہے جیسے اپنی نافرمانی سے رک جانا۔“ ۱؎ [صحیح ابن حبان:2742:قال الشيخ الألباني:صحیح]
اسی لیے فقہاء کہتے ہیں کہ بعض صورتوں میں مردار کا کھانا واجب ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک شخص کی بھوک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب مرا چاہتا ہے کہ کبھی جائز ہو جاتا ہے اور کبھی مباح، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ بھوک کے وقت جبکہ حلال چیز میسر نہ ہو تو حرام صرف اتنا ہی کھا سکتا ہے کہ جان بچ جائے یا پیٹ بھر سکتا ہے بلکہ ساتھ بھی رکھ سکتا ہے، اس کے تفصیلی بیان کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں۔
اس مسئلہ میں جب بھوکا شخص جس کے اوپر اضطرار کی حالت ہے، مردار اور دوسرے کا کھانا اور حالت احرام میں شکار تینوں چیزیں موجود پائے تو کیا وہ مردار کھا لے؟ یہ حالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کر لے اور اپنی آسانی کی حالت میں اس کی جزا یعنی فدیہ ادا کر دے یا دوسرے کی چیز بلا اجازت کھا لے اور اپنی آسانی کے وقت اسے وہ واپس کر دے، اس میں دو قول ہیں امام شافعی رحمہ اللہ سے دونوں مروی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مردار کھانے کی یہ شرط جو عوام میں مشہور ہے کہ جب تین دن کا فاقہ ہو جائے تو حلال ہوتا ہے یہ بالکل غلط ہے بلکہ جب اضطرار، بے قراری اور مجبوری حالت میں ہو، اس کیلئے مردار کھانا حلال ہو جاتا ہے۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسی جگہ رہتے ہیں کہ آئے دن ہمیں فقر و فاقہ کی نوبت آ جاتی ہے، تو ہمارے لیے مردار کا کھا لینا کیا جائز ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب صبح شام نہ ملے اور نہ کوئی سبزی ملے تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:218/5:حسن بالشواهد] اس حدیث کی ایک سند میں ارسال بھی ہے، لیکن مسند والی مرفوع حدیث کی اسناد شرط شیخین پر صحیح ہے۔
{ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حرام کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب تک کہ تو اپنے بچوں کو دودھ سے شکم سیر نہ کر سکے اور جب تک ان کا سامان نہ آ جائے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11129:مرسل و ضعیف]
{ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال حرام کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { کل پاکیزہ چیزیں حلال اور کل خبیث چیزیں حرام ہاں جب کہ ان کی طرف محتاج ہو جائے تو انہیں کھا سکتا ہے جب تک کہ ان سے غنی نہ ہو جائے } اس نے پھر دریافت کیا کہ ”وہ محتاجی کون سی جس میں میرے لیے وہ حرام چیز حلال ہوئے اور وہ غنی ہونا کون سا جس میں مجھے اس سے رک جانا چاہئے؟“ فرمایا: { جبکہ تو صرف رات کو اپنے بال بچوں کو دودھ سے آسودہ کر سکتا ہو تو تو حرام چیز سے پرہیز کر } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11131:ضعیف]
ابوداؤد میں ہے { سیدنا نجیع عامری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ”ہمارے لیے مردار کا کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہیں کھانے کو کیا ملتا ہے؟ } اس نے کہا ”صبح کو صرف ایک پیالہ دودھ اور شام کو بھی صرف ایک پیالہ دودھ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا { یہی ہے اور کون سی بھوک ہو گی؟ } } ۱؎ [سنن ابوداود:3817،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پس اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مردار کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ صبح شام ایک ایک پیالہ دودھ کا انہیں ناکافی تھا، بھوک باقی رہتی تھی، اس لیے ان پر مردہ حلال کر دیا گیا، تاکہ وہ پیٹ بھر لیا کریں، اسی کو دلیل بنا کر بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اضطرار کے وقت مردار کو پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے، صرف جان بچ جائے اتنا ہی کھانا جائز ہو، یہ حد ٹھیک نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے تمام قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تمہارے پاس اور کچھ کھانے کو ہے جو تمہیں کافی ہو؟ } جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر تم کھا سکتے ہو }۔ اس کے بعد اونٹنی والے سے ملاقات ہوئی اور جب اسے یہ علم ہوا تو اس نے کہا پھر تم نے اسے ذبح کر کے کھا کیوں نہ لیا؟ اس بزرگ صحابی نے جواب دیا کہ شرم معلوم ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3816،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر ارشاد ہوا ہے کہ یہ حرام بوقت اضطرار اس کیلئے مباح ہے جو کسی گناہ کی طرف میلان نہ رکھتا ہو، اس کیلئے اسے مباح کر کے دوسرے سے خاموشی ہے، جیسے سورۃ البقرہ میں ہے آیت «فَـمَنِ اضْـطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَـيْهِ نَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [2۔ البقرہ:173] ’یعنی وہ شخص بے قرار کیا جائے سوائے باغی اور حد سے گزرنے والے کے پس اس پر کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے‘۔
اس آیت سے یہ استدعا کیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ کی کسی نافرمانی کا سفر کر رہا ہے، اسے شریعت کی رخصتوں میں سے کوئی رخصت حاصل نہیں، اس لیے کہ رخصتیں گناہوں سے حاصل نہیں ہوتیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا الذي حوَّلنا الله عليه في قوله: {إلاَّ ما يُتلى عليكم}. واعلم أن الله تبارك وتعالى لا يحرِّم ما يحرِّم إلاَّ صيانةً لعباده وحمايةً لهم من الضرر الموجود في المحرَّمات، وقد يبين للعبادِ ذلك وقد لا يبين، فأخبر أنه حرَّم {الميتة}، والمراد بالميتة ما فُقدت حياته بغير ذكاة شرعيَّة؛ فإنَّها تحرُم لضررها، وهو احتقان الدم في جوفها ولحمها المضرِّ بآكلها، وكثيراً ما تموت بعلةٍ تكون سبباً لهلاكها فتضرُّ بالآكل، ويستثنى من ذلك مَيْتَةُ الجراد والسمك؛ فإنه حلال، {والدَّمُ}؛ أي: المسفوح؛ كما قُيِّدَ في الآية الأخرى، {ولحمُ الخنزير}: وذلك شامل لجميع أجزائِهِ، وإنما نصَّ الله عليه من بين سائر الخبائث من السباع؛ لأنَّ طائفة من أهل الكتاب من النصارى يزعمون أن الله أحلَّه لهم؛ أي: فلا تغترُّوا بهم، بل هو محرَّم من جملة الخبائث، {وما أُهِلَّ لغيرِ الله به}؛ أي: ذُكر عليه اسم غير الله [تعالى] من الأصنام والأولياء والكواكب وغير ذلك من المخلوقين؛ فكما أن ذِكر الله تعالى يطيِّبُ الذبيحةَ؛ فذِكْرُ اسم غيره عليها يفيدها خبثاً معنوياً؛ لأنه شركٌ بالله تعالى، {والمنخنقةُ}؛ أي: الميتة بخنق بيدٍ أو حبل أو إدخالها رأسها بشيءٍ ضيِّق فتعجز عن إخراجِهِ حتى تموت، {والموقوذةُ}؛ أي: الميتة بسبب الضَّرب بعصا أو حصى أو خشبة أو هَدْم شيءٍ عليها بقصد أو بغير قصد، {والمتردِّية}؛ أي: الساقطة من علوٍّ؛ كجبل أو جدار أو سطح ونحوه فتموت بذلك، {والنَّطيحة}: وهي التي تنطَحُها غيرُها فتموت، {وما أكل السَّبُع}: من ذئب أو أسدٍ أو نمرٍ أو من الطيور التي تفترس الصُّيود؛ فإنها إذا ماتت بسبب أكل السبع؛ فإنها لا تحلُّ. وقوله: {إلَّا ما ذَكَّيْتُم}: راجعٌ لهذه المسائل من منخنقةٍ وموقوذةٍ ومتردِّيةٍ ونطيحةٍ وأكيلة سبع إذا ذُكِّيت وفيها حياةٌ مستقرَّة لتتحقق الذَّكاة فيها. ولهذا قال الفقهاء: لو أبان السَّبُع أو غيرُه حشوتَها أو قطع حلقومها؛ كان وجود حياتها كعدمِها ؛ لعدم فائدة الذَّكاة فيها. وبعضُهم لم يعتبر فيها إلا وجود الحياة؛ فإذا ذكَّاها وفيها حياةٌ؛ حلَّت، ولو كانت مبانة الحشوةِ، وهو ظاهر الآية الكريمة.
{وأن تستقسموا بالأزلام}؛ أي: وحرم عليكم الاستقسام بالأزلام، ومعنى الاستقسام طلبُ ما يُقسم لكم ويُقْدَر بها، وهي قداح ثلاثة كانت تستعمل في الجاهلية، مكتوب على أحدها افعل، وعلى الثاني لا تفعل، والثالث غُفْلٌ لا كتابة فيه؛ فإذا همَّ أحدُهم بسفر أو عرس أو نحوهما؛ أجال تلك القداح المتساويةَ في الجرم، ثم أخرج واحداً منها؛ فإن خرج المكتوب عليه افعل؛ مضى في أمره، وإن ظهر المكتوب عليه لا تفعل؛ لم يفعل ولم يمض في شأنه، وإن ظهر الآخر الذي لا شيء عليه؛ أعادها حتى يخرجَ أحدُ القدحين فيعمل به، فحرّمه الله عليهم الذي في هذه الصورة وما يشبهه، وعوَّضهم عنه بالاستخارة لربِّهم في جميع أمورهم.
{ذلكم فِسْقٌ}: الإشارة لكل ما تقدَّم من المحرَّمات التي حرَّمها الله صيانةً لعباده وأنها فسقٌ؛ أي: خروج عن طاعته إلى طاعة الشيطان.
ثم امتن على عباده بقوله:
{الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}.
واليوم المشار إليه يوم عرفة؛ إذ أتمَّ الله دينهَ ونَصَرَ عبدَه ورسولَه وانخذلَ أهل الشِّرك انخذالاً بليغاً بعدما كانوا حريصين على ردِّ المؤمنين عن دينهم طامعين في ذلك، فلما رأوا عزَّ الإسلام وانتصاره وظهوره؛ يئسوا كلَّ اليأس من المؤمنين أن يرجِعوا إلى دينهم، وصاروا يخافون منهم ويَخْشَون، ولهذا في هذه السنة التي حجَّ فيها النبي - صلى الله عليه وسلم - سنة عشر حجة الوداع لم يحج فيها مشرك ولم يطف بالبيت عريان. ولهذا قال: {فلا تَخْشَوْهم واخشونِ}؛ أي: فلا تخشوا المشركين واخشوا الله الذي نصركم عليهم وخذلهم وردَّ كيدهم في نحورهم. {اليوم أكملتُ لكم دينكم}؛ بتمام النصر وتكميل الشرائع الظاهرة والباطنة الأصول والفروع.
ولهذا كان الكتاب والسُّنة كافيينِ كلَّ الكفاية في أحكام الدين وأصوله وفروعه؛ فكلُّ متكلِّف يزعم أنه لا بدَّ للناس في معرفة عقائدهم وأحكامهم إلى علوم غير علم الكتاب والسُّنة من علم الكلام وغيره؛ فهو جاهلٌ مبطلٌ في دعواه، قد زعم أنَّ الدِّين لا يكمل إلا بما قاله ودعا إليه، وهذا من أعظم الظلم والتجهيل لله ولرسوله، {وأتممتُ عليكم نعمتي}: الظاهرةَ والباطنةَ، {ورضيتُ لكم الإسلامَ ديناً}؛ أي: اخترتُه واصطفيتُه لكم ديناً كما ارتضيتُكم له؛ فقوموا به شكراً لربِّكم واحمدوا الذي منَّ عليكم بأفضل الأديان وأشرفها وأكملها، {فمن اضْطُرَّ}؛ أي: ألجأته الضرورة إلى أكل شيء من المحرمات السابقة في قوله: {حُرِّمت عليكم الميتة} {في مَخْمَصَةٍ}؛ أي: مجاعة، {غير متجانفِ}؛ أي: مائل إلى إثمٍ: بأن لا يأكل حتَّى يضطرَّ، ولا يزيد في الأكل على كفايته. {فإنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}؛ حيث أباح له الأكل في هذه الحال، ورحمه بما يُقيم به بُنْيَتَهُ من غير نقص يلحقه في دينه.