ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 2

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ لَا الۡہَدۡیَ وَ لَا الۡقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیۡنَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رِضۡوَانًا ؕ وَ اِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا ؕ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ۘ وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی کرو اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم کی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں) کی اور نہ حرمت والے گھر کا قصد کرنے والوں کی، جو اپنے رب کا فضل اور خوشنودی تلاش کرتے ہیں، اور جب احرام کھول دو تو شکار کرو، اور کسی قوم کی دشمنی اس لیے کہ انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے روکا، تمھیں اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ حد سے بڑھ جائو، اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ En
مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو نہ ادب والے مہینوں کی نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے قصد سے اپنے رب تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضاجوئی کی نیت سے جا رہے ہوں، ہاں جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیل سکتے ہو، جن لوگوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آماده نہ کرے کہ تم حد سے گزر جاؤ، نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ﻇلم و زیادتی میں مدد نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ {لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ: شَعَآىِٕرَ } یہ { شَعِيْرَةٌ} کی جمع ہے جو { فَعِيْلَةٌ } بمعنی { مُفْعَلَةٌ } ہے، یعنی ہر وہ چیز جس پر نشان لگایا گیا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو، مراد وہ چیزیں ہیں جن کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق ہو اور اس خاص تعلق کی بنا پر ان کی تعظیم کی جاتی ہو۔ بعض نے اسے عام رکھا ہے کہ اس سے مراد اﷲ کے تمام اوامر و نواہی ہیں اور بعض نے حج و عمرہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں مراد لی ہیں۔ { لَا تُحِلُّوْا } کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو اور ان کی بے حرمتی نہ کرو۔
➋ {وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: سال کے بارہ مہینے ہیں، جن میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل ہیں، ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور ایک رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إن عدة الشهور……» ‏‏‏‏:۴۶۶۲] مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کر کے ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ(۳۶)۔
➌ {وَ لَا الْهَدْيَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ:} { الْهَدْيَ } ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔ { الْقَلَآىِٕدَ } یہ { قِلاَدَةٌ } کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی (قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔ { الْقَلَآىِٕدَ } کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ { شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ } کے ضمن میں آ چکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔
➍ {وَ لَاۤ آٰمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ……:} یعنی وہ لوگ جو مسجد حرام کا قصد کر کے جا رہے ہیں۔ رب کے فضل سے مراد رزق ہے جو تجارت وغیرہ سے کمایا جاتا ہے اور اﷲ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلبِ ثواب کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے، یعنی وہ اﷲ تعالیٰ سے ثواب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے گمان میں اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کو تکلیف مت دو۔ مگر یہ حکم سورۂ توبہ کی آیت (۲۸) سے منسوخ ہو گا۔ اب مشرکین کو حدود حرم میں داخلے کی اجازت نہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی)
➎ {وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا:} یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار کرو۔ یہ حکم بیانِ جواز کے لیے ہے، یعنی اب شکار جائز ہے، یہ معنی نہیں کہ اب ضرور ہی شکار کرو، کیونکہ وہ احرام سے پہلے بھی ضروری نہ تھا۔ (ابن کثیر)
➏ {وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ ……:} یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں ۶ ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو۔
➐ {وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ……:} ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام { الْبِرِّ } اور برائی کو ترک کرنے کا نام {التَّقْوٰى} ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور نہ کرنے کے لیے ایک اصول مقرر فرما دیا ہے جس سے اسلامی معاشرے میں برائی کا سدباب ہو سکتا ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک آدمی نے عرض کی: اے اﷲ کے رسول! جب وہ مظلوم ہو، میں اس کی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کس طرح کروں؟ فرمایا: اس وقت اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکو۔ [بخاری، الإکراہ، باب یمین الرجل……: ۶۹۵۲۔ مسلم: ۲۵۸۴]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

2۔ 1 شعائر شعیرۃ کی جمع ہے اس سے مراد حرمات اللہ ہیں (جن کی تعظیم و حرمت اللہ نے مقرر فرمائی ہے) بعض نے اسے عام رکھا ہے اور بعض کے نزدیک یہاں حج و عمرے کے مناسک مراد ہیں یعنی ان کی بےحرمتی اور بےتوقیری نہ کرو۔ اسی طرح حج عمرے کی ادائیگی میں کسی کے درمیان رکاوٹ مت بنو، کہ یہ بےحرمتی ہے۔ 2۔ 2 (اشھر الحرام) مراد حرمت والے چاروں مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) کی حرمت برقرار رکھو اور ان میں قتال مت کرو بعض نے اس سے صرف ایک مہینہ مراد یعنی ماہ ذوالحجہ (حج کا مہینہ) مراد لیا ہے۔ بعض نے اس حکم کو فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ مانا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں دونوں احکام اپنے اپنے دائرے میں ہیں جن میں تعارض نہیں۔ 2۔ 3 ھَدی ' ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لئے ساتھ لے جاتے تھے اور گلے میں پٹہ باندھتے تھے جو کے نشانی کے طور پر ہوتا تھا، مزید تاکید ہے کہ ان جانوروں کسی سے چھینا جائے نہ ان کے حرم تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔ 2۔ 4 یعی حج عمرے کی نیت سے یا تجارت و کاروبار کی غرض سے حرم جانے والوں کو مت روکو اور نہ انہیں تنگ کرو، بعض مفسرین کے نزدیک یہ احکام اس وقت کے ہیں جب مسلمان اور مشرک اکھٹے حج عمرہ کرتے تھے۔ لیکن جب یہ آیت انما المشرکون نجس الخ نازل ہوئی تو مشرکین کی حد تک یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض کے نزدیک یہ آیت محکم یعنی غیر منسوخ ہے اور یہ حکم مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ 2۔ 5 یہاں مراد اباحت یعنی جواز بتلانے کے لئے ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کرنا تمہارے لئے جائز ہے۔ 2۔ 6 یعنی گو تمہیں ان مشرکین نے 6 ہجری میں مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے روکنے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی والا رویہ اختیار مت کرنا۔ دشمن کے ساتھ بھی حلم اور عفو کا سبق دیا جا رہا ہے۔ 2۔ 7 یہ ایک نہایت اہم اصول بیان کردیا گیا ہے جو ایک مسلمان کے لئے قدم قدم پر رہنمائی مہیا کرسکتا ہے، کاش مسلمان اس اصول کو اپنا لیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ اے ایمان والو! اللہ کے شعائر [6] کی بے حرمتی نہ کرو، نہ حرمت والے مہینہ کی، نہ قربانی کی اور نہ پٹے والے جانوروں [7] کی اور نہ ہی ان لوگوں کو (تنگ کرو) جو اپنے پروردگار کی رضا اور اس کے فضل کی تلاش میں بیت اللہ کے حج کے قصد سے جا رہے ہوں۔ اور جب تم احرام کھول دو تو شکار کر سکتے ہو [8] اور دیکھو اگر کسی قوم نے تمہیں مسجد حرام [9] سے روک دیا ہو تو اس کی دشمنی تمہیں ناروا زیادتی پر مشتعل نہ کر دے۔ نیز نیکی اور خدا ترسی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، گناہ [10] اور سرکشی کے کاموں میں نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے
[6] شعائر کا مفہوم:۔
شعائر، شعیرہ کی جمع ہے۔ یعنی امتیازی علامت۔ ہر مذہب اور ہر نظام کی امتیازی علامات کو شعائر کہا جاتا ہے۔ مثلاً اذان نماز با جماعت اور مساجد مسلمانوں کے، گرجا اور صلیب عیسائیوں کے، تلک، زنار، چوٹی اور مندر ہندوؤں کے کیس۔ کڑا اور کرپان سکھوں کے۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کے اور سرکاری جھنڈے، قومی ترانے، فوج اور پولیس کے یونیفارم وغیرہ حکومتوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ جن کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی کئی شعائر ہیں۔
[7] حرمت کے مہینے:۔
اللہ تعالیٰ کے شعائر بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک کے نام اس آیت میں آگئے ہیں۔ ان کی توہین یا بے حرمتی سے انسان گنہگار ہو جاتا ہے۔ ان میں سے سر فہرست حرمت والے مہینہ کا ذکر فرمایا۔ حرمت والے مہینے چار ہیں۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ اور ان کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں اہل عرب لوٹ مار اور لڑائی وغیرہ سے باز رہتے تھے۔ دور جاہلیت میں پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور یہ قبیلے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے انہوں نے آپس میں یہ طے کیا ہوا تھا کہ ان مہینوں میں کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلہ پر چڑھ کر نہ آئے گا۔ دوسرے عرب قبائل ایک دوسرے کو بھی لوٹا کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو بھی۔ ان حرمت والے مہینوں میں وہ اس کام سے بھی باز رہتے تھے اور ان چار مہینوں میں سے ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم کو حرمت والے مہینے قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں لوگ دور دور سے حج کرنے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے اور رجب حرمت والا مہینہ قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینہ میں لوگ بیت اللہ کے لیے نذرانے لایا کرتے تھے اور متولیان کعبہ یہ نذرانے وصول کیا کرتے تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ کعبہ شریف کے اعزاز کی وجہ سے تھا اور متولیان کعبہ، کعبہ کی وجہ سے کئی قسم کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی فائدے اٹھا رہے تھے اور قریش مکہ کے قافلے تو سارا سال ہی بے خوف و خطر سفر کر سکتے تھے۔ ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔
اللہ کے شعائر:۔
یہ سب کچھ چونکہ کعبہ کے اعزاز کی وجہ سے تھا اسی لیے اسلام نے اس جاہلی دستور کو بحال رکھا اور اس لیے بھی کہ یہ ایک باہمی معاہدہ امن تھا جسے اسلام پسند کرتا ہے۔ اسلام میں جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اس کی وصولی کے لیے عمال کو ماہ رجب میں روانہ کیا جایا کرتا تھا۔ اس کی وجہ بھی غالباً یہ ہو کہ اس مہینہ میں لوگ کعبہ کے لیے نذرانہ دینے کے پہلے سے عادی تھے۔ دوسرے نمبر پر ہدی کا ذکر فرمایا یعنی وہ قربانی کے جانور جو قربانی کے لیے کعبہ بھیجے جائیں اور تیسرے نمبر پر قلائد کا ذکر فرمایا۔ یہ سب چیزیں اللہ کے شعائر ہیں قلائد سے مراد وہ پٹے ہیں جو کعبہ بھیجے جانے والے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ڈال دیئے جاتے تھے ان کے علاوہ تمام مناسک حج بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں۔ ان میں سے بالخصوص قربانی کے جانوروں کے ذکر کی مناسبت سے یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں۔
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے پٹے بٹے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال دیئے اور ان کے کوہانوں سے خون نکالا۔ پھر انہیں بیت اللہ روانہ کر دیا۔
[بخاری۔ کتاب المناسک۔ من اشعر وقلد بذی الحلیفۃ ثم احرم۔ مسلم۔ کتاب الحج۔ باب استحباب بعث الھدی الی الحرم]
2۔ سیدنا زویبؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے اور فرماتے اگر ان میں سے کوئی اونٹ چل نہ سکے اور اس کے مرنے کا خطرہ ہو تو اسے ذبح کر دو پھر اپنی جوتی اس کے خون میں آلودہ کر کے اس کے پہلو میں مارو۔ پھر اسے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھائے۔
[مسلم۔ کتاب الحج۔ باب مایفعل بالہدی اذاعطب فی الطریق]
اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے لوگ ایسے ذبح شدہ قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں۔
[ترمذی۔ ابواب الحج۔ باب ماجاء اذا عطب بالھدی]
قربانی کے جانور پر سواری کی اجازت:۔
سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانکے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس پر سوار ہو جا۔“ وہ کہنے لگا ”یہ قربانی کا جانور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے پھر کہہ دیا کہ ”یہ تو قربانی کا اونٹ ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری بار اسے فرمایا ”تجھ پر افسوس! اس پر سوار ہو جا۔“
[بخاري، كتاب المناسك۔ باب ركوب البدن مسلم۔ كتاب الحج۔ باب جواز ركوب البدنة المهداة]
اور مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔ ”معروف طریقہ سے سوار ہو سکتے ہو۔ بشرطیکہ تم سوار ہونے پر مجبور ہوتا آنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔“
[مسلم۔ حواله ايضاً]
[8] احرام خود بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ لہٰذا اگر تم انہیں تنگ کرو گے۔ تو شعائر اللہ کی توہین کے مرتکب ہو گے۔ اگرچہ یہاں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے آتا ہے لیکن یہاں یہ صیغہ اجازت اور رخصت کے معنوں میں ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کر سکتے ہو جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب تم احرام کھولو تو ضرور شکار کرو یا کیا کرو۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ امر کا صیغہ رخصت اور اجازت کے معنی میں بھی آسکتا ہے۔
[9] کفار مکہ نے مسلمانوں کو حج و عمرہ اور طواف کعبہ سے روک دیا تھا اور یہ رکاوٹ فتح مکہ تک بدستور قائم رہی ماسوائے عمرہ قضا کے۔ پھر جب کافروں اور مسلمانوں میں کوئی جنگ چھڑتی تو کافر قبیلے کافروں ہی کا ساتھ دیتے تھے۔ اور حدیبیہ کے موقع پر ان تمام شعائر اللہ کی توہین کی تھی جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ انہوں نے بیت اللہ جانے کی راہ روکی۔ حرمت والے مہینہ میں لڑائی پر آمادہ ہوئے اور قربانی اور پٹے والے جانوروں کی مطلق پروا نہ کی لہٰذا مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا کہ جو کافر قبیلے قافلوں کی شکل میں حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ بھی مشتعل ہو کر ان کو حج و عمرہ سے روک دیں اور ان کے مال اسباب لوٹ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ایسے خیالات سے بھی منع فرما دیا۔
[10] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہ مطلب ہے کہ جو کافر حج و عمرہ کو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ کافر اور مشرک ہیں تاہم اس وقت وہ نیکی اور تقویٰ کا کام کرنے جا رہے ہیں تو ان کی زندگی میں نیکی اور تقویٰ کا جو حصہ ہے اس میں تمہیں ان کی راہ روکنے کی بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے۔
حرف فجار اور حلف الفضول میں آپﷺ کی شمولیت:۔
تاہم اس آیت کا حکم عام ہے یعنی کوئی مسلم ہو یا غیر مسلم اگر وہ نیکی اور تقویٰ کا کام کرتا ہے تو تمہیں اس کا ساتھ دینا چاہیے اور گناہ یا سرکشی کا کام خواہ کوئی مسلمان کر رہا ہو اس سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرنا چاہیے چنانچہ آپ کی بعثت سے پہلے کی بات ہے کہ اہل مکہ بری طرح قبائلی خانہ جنگی کی زد میں آگئے۔ لڑائیوں کے اس لامتناہی سلسلہ نے سینکڑوں گھرانے برباد کر دیئے تھے۔ حرب فجار جو قیس اور قریش کے قبیلوں کے درمیان چھڑی تھی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حصہ لیا اور قریش کا ساتھ دیا تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ یہ لڑائی حرب فجار کے نام سے اس لیے موسوم ہوئی کہ یہ حرمت والے مہینوں میں بھی جاری رہی۔ اس جنگ کے خاتمہ پر بعض صلح پسند طبیعتوں میں اصلاح کی تحریک پیدا ہوئی۔ قریش کے چند معززین عبد اللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے اور معاہدہ ہوا کہ ”ہم میں سے ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے دیا جائے گا۔“ اس معاہدہ کو حلف الفضول کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ جن لوگوں کو ایسے معاہدہ کا خیال آیا تھا ان کے ناموں میں فضل کا مادہ بطور قدر مشترک شامل تھا۔ اس معاہدہ کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا کیونکہ اس وقت کوئی ایسی قوت موجود نہ تھی جو قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ کر سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ ”اگر اس معاہدہ کے مقابلہ میں مجھے سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں نہ لیتا۔ اور اگر آج بھی مجھے کوئی ایسے معاہدہ کے لیے بلائے تو میں حاضر ہوں۔“
[سیرۃ النبی۔ ج 1 ص 184، 185 شبلی نعمانی]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حلال و حرام کی وضاحتیں ٭٭
ان آیتوں میں اللہ ان کا بیان فرما رہا ہے جن کا کھانا اس نے حرام کیا ہے، یہ خبر ان چیزوں کے نہ کھانے کے حکم میں شامل ہے۔ «الْمَيْتَةُ» وہ ہے جو از خود اپنے آپ مر جائے، نہ تو اسے ذبح کیا جائے، نہ شکار کیا جائے۔ اس کا کھانا اس لیے حرام کیا گیا کہ اس کا وہ خون جو مضر ہے اسی میں وہ جاتا ہے، ذبح کرنے سے تو بہہ جاتا ہے اور یہ خون دین اور بدن کو مضر ہے، ہاں یہ یاد رہے ہر مردار حرام ہے مگر مچھلی نہیں۔
کیونکہ موطا مالک، مسند شافعی، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور اسی طرح، ٹڈی بھی گو خود ہی مرگئی ہو، حلال ہے۔ اس کی دلیل کی حدیث آ رہی ہے۔
«دَّمُ» سے مراد «أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا» ۱؎ [6-الأنعام:145]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ خون ہے جو بوقت ذبح بہتا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آیا تلی کھا سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاں، لوگوں نے کہا وہ تو خون ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں صرف وہ خون حرام ہے جو بوقت ذبح بہا ہو۔‏‏‏‏
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہی فرماتی ہیں کہ صرف بہا ہوا خون حرام ہے۔‏‏‏‏ امام شافعی حدیث لائے ہیں کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہمارے لیے دو قسم کے مردے اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی اور بیہقی میں بھی بروایت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔
حافظ بیہقی فرماتے ہیں عبد الرحمان کے ساتھ ہی اسے اسماعیل بن ادریس اور عبداللہ بھی روایت کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں یہ دونوں بھی ضعیف ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ضعف میں کمی بیشی ہے۔ لیمان بن بلال نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہ ہیں بھی ثقہ لیکن اس روایت کو بعض نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف رکھا ہے۔
حافظ ابوزرعہ رازی فرماتے ہیں زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں سدی بن عجلان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ کی طرف بلاؤں اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کروں۔ میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہوگیا، اتفاقاً ایک روز وہ ایک پیالہ خون کا بھر کر میرے سامنے آ بیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھے سے کہنے لگے آؤ سدی تم بھی کھالو میں نے کہا۔ تم غضب کر رہے ہو میں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں، تب تو وہ سب کے سب میری طرف متوجہ ہو گئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ» الخ، پڑھ کر سنا دی۔‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف]‏‏‏‏
یہ روایت ابن مردویہ میں بھی ہے اس میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور انہیں پیغام اسلام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے، ایک دن جبکہ میں سخت پیاسا ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے، تھوڑا سا پانی پلا دو، لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا، بلکہ کہا ہم تو تجھے یونہی پیاسا ہی تڑپا تڑپا کر مار ڈالیں گے، میں غمناک ہو کر دھوپ میں تپتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کھردرا کمبل منہ پر ڈال کر اسی سخت گرمی میں میدان میں پڑا رہا، اتفاقاً میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لیے ہوئے اور اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار پینے کی چیز لیے ہوئے میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا، میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا، وہیں آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیاس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف ہی نہیں ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ پیاس ہی نہیں لگی۔‏‏‏‏
یہ لوگ میرے جاگنے کے بعد آپس میں کہنے لگے کہ آخر تو یہ تمہاری قوم کا سردار ہے، تمہارا مہمان بن کر آیا ہے، اتنی بے رخی بھی ٹھیک نہیں کہ ایک گھونٹ پانی بھی ہم اسے نہ دیں، چنانچہ اب یہ لوگ میرے پاس کچھ لے کر آئے، میں نے کہا اب تو مجھے کوئی حاجت نہیں، مجھے میرے رب نے کھلا پلا دیا، یہ کہہ کر میں نے انہیں اپنا بھرا ہوا پیٹ دکھا دیا، اس کرامت کو دیکھ کر وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی کبیر:8074:ضعیف]‏‏‏‏
اعشی نے اپنے قصیدے میں کیا ہی خواب کہا ہے کہ «وَإِيَّاكَ وَالْمَيْتَاتِ لَا تَقْرَبَنَّهَا» «وَلَا تَأْخُذَنَّ عَظْمًا حَدِيدًا فَتَفْصِدَا» «وَذَا النُّصُبِ الْمَنْصُوبَ لَا تَأْتِيَنَّهُ» «وَلَا تَعْبُدِ الْأَصْنَامَ وَاللَّهَ فَاعْبُدَا» مردار کے قریب بھی نہ ہو اور کسی جانور کی رگ کاٹ کر خون نکال کر نہ پی اور پرستش گاہوں پر چڑھا ہوا نہ کھا اور اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کر، صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کر۔‏‏‏‏
«‏‏‏‏لَحْمُ الْخِنزِيرِ» حرام ہے خواہ وہ جنگلی ہو، لفظ «لَحْمُ» شامل ہے اس کے تمام اجزاء کو، جس میں چربی بھی داخل ہے پس ظاہر یہ کی طرح تکلفات کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ دوسری آیت میں سے «أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145]‏‏‏‏ لے کر ضمیر کا مرجع خنزیر کو بتلاتے ہیں تاکہ اس کے تمام اجزاء حرمت میں آ جائیں۔ درحقیقت یہ لغت سے بعید ہے مضاف الیہ کی طرف سے ایسے موقعوں پر ضمیر پھرتی ہی نہیں، صرف مضاف ہی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے۔ صاف ظاہر بات یہی ہے کہ لفظ «لَحْمُ» شامل ہے تمام اجزاء کو۔ لغت عرب کا مفہوم اور عام عرف یہی ہے۔
صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق { شطرنج کھیلنے والا اپنے ھاتھوں کو سور کے گوشت و خون میں رنگنے والا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2260]‏‏‏‏ خیال کیجئے کہ صرف چھونا بھی شرعاً کس قدر نفرت کے قابل ہے، تو پھر کھانے کیلئے بے حد برا ہونے میں کیا شک رہا؟ اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ لفظ لحم شامل ہے تمام اجزاء کو خواہ چربی ہو خواہ اور۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر بتوں کی تجارت کی ممانعت کر دی ہے }، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردار کی چربی کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ وہ کشتیوں پر چڑھائی جاتی ہے، کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! وہ حرام ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2236]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ابوسفیان نے ہر قل سے کہا وہ (‏‏‏‏نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں مردار سے اور خون سے روکتا ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مسند ابی عوانہ:6734]‏‏‏‏
وہ جانور بھی حرام ہے جس کو ذبح کرنے کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اسے فرض کر دیا وہ اسی کا نام لے کر جانور کو ذبح کرے، پس اگر کوئی اس سے ہٹ جائے اور اس کے نام پاک کے بدلے کسی بت وغیرہ کا نام لے، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو تو یقیناً وہ جانور بالاجماع حرام ہو جائے گا، ہاں جس جانور کے ذبیحہ کے وقت بسم اللہ کہنا رہ جائے، خواہ جان بوجھ کر خواہ بھولے چوکے سے وہ حرام ہے یا حلال؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کا بیان سورۂ انعام میں آئیگا۔
ابوالطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت آدم کے وقت سے لے کر آج تک یہ چاروں چیزیں حرام رہیں، کس وقت ان میں سے کوئی بھی حلال نہیں ہوئی (‏‏‏‏١)‏‏‏‏‏‏‏‏ مردار (‏‏‏‏٢)‏‏‏‏‏‏‏‏ خون (‏‏‏‏٣)‏‏‏‏‏‏‏‏ سور کا گوشت (‏‏‏‏٤)‏‏‏‏‏‏‏‏ اور اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی چیز۔ البتہ بنو اسرائیل کے گناہگاوں کے گناہوں کی وجہ سے بعض غیر حرام چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ وہ دوبارہ حلال کر دی گئیں، لیکن بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو سچا نہ جانا اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ یہ اثر غریب ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوفے کے حاکم تھے اس وقت ابن نائل نامی قبیلہ بنو رباح کا ایک شخص جو شاعر تھا، فرزوق کے دادا غالب کے مقابل ہوا اور یہ شرط ٹھہری کہ دونوں آمنے سامنے ایک ایک سو اونٹوں کی کوچیں کاٹیں گے، چنانچہ کوفے کی پشت پر پانی کی جگہ پر جب ان کے اونٹ آئے تو یہ اپنی تلواریں لے کر کھڑے ہوگئے اور اونٹوں کی کوچیں کاٹنی شروع کیں اور دکھاوے، سناوے اور فخریہ ریاکاری کیلئے دونوں اس میں مشغول ہو گئے۔
کوفیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اپنے گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت لینے کیلئے آنا شروع ہوئے، اتنے میں جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر یہ منادی کرتے ہوئے وہاں پہنچے کہ لوگو یہ گوشت نہ کھانا یہ جانور «مَا اُهِلَّ بِهِ لِغَیْرِ اللهِ» میں شامل ہیں۔‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ یہ اثر بھی غریب ہے ہاں اس کی صحت کی شاہد وہ حدیث ہے جو ابوداؤد میں ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراب کی طرف مقابلہ میں کوچیں کاٹنے سے ممانعت فرما دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2820،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ پھر ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر وقف کیا ہے۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصوں کا کھانا کھانا منع فرما دیا جو آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور ریا کاری کرنا چاہتے ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3754،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
«مُنْخَنِقَةُ» جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی نے عمداگلا گھونٹ کر گلا مروڑ کر اسے مار ڈالا ہو، خواہ از خود اس کا گلا گھٹ گیا ہو۔ مثلاً اپنے کھوٹنے میں بندھا ہوا ہے اور بھاگنے لگا، پھندا گلے میں پڑ گیا اور کھچ کھچاؤ کرتا ہوا مر گیا پس یہ حرام ہے۔
«مَوْقُوْدَةٌ» وہ ہے جس جانور کو کسی نے ضرب لگائی، لکڑی وغیرہ ایسی چیز سے جو دھاری دار نہیں لیکن اسی سے وہ مر گیا، تو وہ بھی حرام ہے، جاہلیت میں یہ بھی دستور تھا کہ جانور کولٹھ سے مار ڈالتے اور پھر کھاتے۔ لیکن قرآن نے ایسے جانور کو حرام بتایا۔
صحیح سند سے مروی ہے کہ { سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں معراض سے شکار کھیلتا ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: { جب تو اسے پھینکے اور وہ جانور کو زخم لگائے تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے تو وہ جانور لٹھ مارے ہوئے کے حکم میں ہے اسے نہ کھا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5476]‏‏‏‏
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جسے دھار اور نوک سے شکار کیا ہو اور اس میں جسے چوڑائی کی جانب سے لگا ہو فرق کیا۔ اول کو حلال اور دوسرے کو حرام۔ فقہاء کے نزدیک بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ جب کسی زخم کرنے والی چیز نے شکار کو صدمہ تو پہنچایا لیکن وہ مرا ہے اس کے بوجھ اور چوڑائی کی طرف سے تو آیا یہ جانور حلال ہے یا حرام۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس میں دونوں قول ہیں، ایک تو حرام ہونا اوپر والی حدیث کو سامنے رکھ کر۔ دوسرے حلال کرنا کتے کے شکار کی حلت کو مدنظر رکھ کر۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل ملاحظہ ہو۔
[فصل]‏‏‏‏ علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور کتے نے اسے اپنی مار سے اور بوجھ سے مار ڈالا، زخمی نہیں کیا تو وہ حلال ہے یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ حلال ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ عام ہیں «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:4]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ جن جانوروں کو روک لیں تم انہیں کھا سکتے ہو ‘۔
اسی طرح سیدنا عدی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح حدیثیں بھی عام ہی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں نے امام صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے اور متاخرین نے اس کی صحت کی ہے، جیسے نووی اور رافعی رحمہ اللہ مگر میں کہتا ہوں کہ گو یوں کہا جاتا ہے لیکن امام صاحب کے کلام سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا۔ ملاحظہ ہو کتاب الام اور مختصر ان دونوں میں جو کلام ہے وہ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔
پس دونوں فریقوں نے اس کی توجیہہ کر کے دونوں جانب علی الاطلاق ایک قول کہہ دیا۔ ہم تو بصد مشکل صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس بحث میں حلال ہونے کے قول کی حکایت کچھ قدرے قلیل زخم کا ہونا بھی ہے۔ گو ان دونوں میں سے کسی کی تصریح نہیں، اور وہ کسی کی مضبوط رائے، ابن الصباح نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حلال ہونے کا قول نقل کیا ہے اور دوسرا کوئی قول ان سے نقل نہیں کیا اور امام ابن جریر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس قوت کو سلمان فارسی، ابوہریرہ، سعد بن وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے لیکن یہ بہت غریب ہے اور دراصل ان بزرگوں سے صراحت کے ساتھ یہ اقوال نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف اپنا تصرف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے، مزنی نے روایت کیا ہے اور یہی مشہور ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اور یہی قول ٹھیک ہونے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ اصولی قواعد اور احکام شرعی کے مطابق یہی جاری ہے۔
ابن الصباغ نے رافع بن خدیج کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ { انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمنوں سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں تو کیا ہم تیز بانس سے ذبح کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جو چیز خون بہائے اور اس کے اوپر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اسے کھا لیا کرو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5503]‏‏‏‏ یہ حدیث گو ایک خاص موقعہ کیلئے ہے لیکن عام الفاظ کا حکم ہوگا۔
جیسے کہ جمہور علماء اصول و فروغ کا فرمان ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ تبع جو شہد کی نبیذ سے ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5585]‏‏‏‏
پس یہاں سوال ہے شہد کی نبیذ سے لیکن جو اب کے الفاظ عام ہیں اور مسئلہ بھی ان سے عام سمجھا گیا، اسی طرح اوپر والی حدیث ہے کہ گو سوال ایک خاص نوعیت میں ذبح کرنے کا ہے لیکن جواب کے الفاظ اسی اور اس کے سوا کی عام نوعیتوں پر مشتمل ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ایک خاص معجزہ ہے کہ الفاظ تھوڑے اور معافی بہت، اسے ذہن میں رکھنے کے بعد اب غور کیجئے کہ کتے کے صدمے سے جو شکار مر جائے یا اس کے بوجھ یا تھپڑ کی وجہ سے شکار کا دم نکل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا خون کسی چیز سے نہیں بہا، پس اس حدیث کے مفہوم کی بناء پر وہ حلال نہیں ہو سکتا۔
اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کو کتے کے شکار کے مسئلہ سے دور کا تعلق بھی نہیں، اس لیے کہ سائل نے ذبح کرنے کے ایک آلے کی نسبت سوال کیا تھا۔ ان کا سوال اس چیز کی نسبت نہ تھا، جس سے ذبح کیا جائے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کر لیا اور فرمایا: { سوائے دانت اور ناخن کے اور میں تمہیں بتاؤں کہ انکے سوا کیوں؟ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5498]‏‏‏‏
اور یہ قاعدہ ہے کہ مستثنیٰ کی دلالت جنس مستثنیٰ منہ پر ہوا کرتی ہے، ورنہ متصل نہیں مانا جا سکتا، پس ثابت ہوا کہ سوال آلہ ذبح کا ہی تھا تو اب کوئی دلالت تمہارے قول پر باقی نہیں رہی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے جملے کو دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ { جو چیز خون بہا دے اور اس پر نام اللہ بھی لیا گیا ہو، اسے کھا لو }۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ذبح کر لو۔ پس اس جملہ سے دو حکم ایک ساتھ معلوم ہوتے ہیں، ذبح کرنے کے آلہ کا حکم بھی اور خود ذبیحہ کا حکم بھی اور یہ کہ اس جانور کا خون کسی آلہ سے بہانا ضروری ہے، جو دانت اور ناخن کے سوا ہو۔ ایک مسلک تو یہ ہے۔
دوسرا مسلک جو مزنی کا ہے وہ یہ کہ تیر کے بارے میں صاف لفظ آچکے کہ اگر وہ اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہے اور جانور مرگیا ہے تو نہ کھاؤ اور اگر اس نے اپنی دھار اور انی سے زخم کیا ہے پھر مرا ہے تو کھا لو اور کتے کے بارے میں علی الاطلاق احکام ہیں۔‏‏‏‏ پس چونکہ موجب یعنی شکار دونوں جگہ ایک ہی ہے تو مطلق کا حکم بھی مقید پر محمول ہو گا گو سبب الگ الگ ہوں۔
جیسے کہ ظہار کے وقت آزادگی گردن جو مطلق ہے محمول کی جاتی ہے قتل کی آزادگی گردن پر جو مقید ہے ایمان کے ساتھ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرورت شکار کے اس مسئلہ میں ہے یہ دلیل ان لوگوں پر یقیناً بہت بڑی حجت ہے جو اس قاعدہ کی اصل کو مانتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں اس قاعدے کے مسلم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو وہ اسے تسلیم کریں ورنہ کوئی پختہ جواب دیں۔
علاوہ ازیں فریق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس شکار کو کتے نے بوجہ اپنے ثقل کے مار ڈالا ہے اور یہ ثابت ہے کہ تیر جب اپنی چوڑائی سے لگ کر شکار کو مار ڈالے تو وہ حرام ہو جاتا ہے پس اس پر قیاس کر کے کتے کا یہ شکار بھی حرام ہو گیا کیونکہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں شکار کے آلات ہیں اور دونوں نے اپنے بوجھ اور زور سے شکار کی جان لی ہے اور آیت کا عموم اس کے معارض نہیں ہو سکتا کیونکہ عموم پر قیاس مقدم ہے جیسا کہ چاروں اماموں اور جمہور کا مذہب ہے۔ یہ مسلک بھی بہت اچھا ہے
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» یعنی ’ شکار کتے جس جانور کو روک رکھیں اس کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے ‘۔ یہ عام نوعیت پر یعنی اسے بھی جسے زخم کیا ہو اور اس کے سوا کو بھی، لیکن جس صورت پر اس وقت بحث ہے وہ یا تو ٹکر لگا ہوا ہے یا اس کے حکم پر یا گلا گھونٹا ہوا ہے یا اس کے حکم میں، بہر صورت اس آیت کی تقدیم ان وجوہ پر ضرور ہو گی۔
اولاً تو یہ کہ شارع نے اس آیت کا حکم شکار کی حالت میں معتبر مانا ہے۔ کیونکہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا { اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگا ہے تو وہ لٹھ مارا ہوا ہے اسے نہ کھاؤ }۔
جہاں تک ہمارا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ لٹھ سے اور مار سے مرا ہوا تو شکار کی حالت میں معتبر ہو اور سینگ اور ٹکر لگا ہوا معتبر نہ ہو۔ پس جس صورت میں اس وقت بحث ہو رہی ہے اس جانور کو حلال کہنا اجماع کو توڑنا ہوگا، جسے کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا بلکہ اکثر علماء اسے ممنوع بتاتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ آیت «فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ» اپنے عموم پر باقی نہیں اور اس پر اجتماع ہے، بلکہ آیت سے مراد صرف حلال حیوان ہیں۔ تو اس کے عام الفاظ سے وہ حیوان جن کا کھانا حرام ہے بالاتفاق نکل گئے اور یہ قاعدہ ہے کہ عموم محفوظ عموم غیر محفوظ پر مقدم ہوتا ہے۔
ایک تقریر اسی مسئلہ میں اور بھی گوش گزار کر لیجئے کہ اس طرح کا شکار میتہ کے حکم میں ہے، پس جس وجہ سے مردار حرام ہے، وہی وجہ یہاں بھی ہے تو یہ بھی اسی قیاس سے حلال نہیں۔ ایک اور وجہ بھی سنئے کہ حرمت کی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ» [5-المائدہ:3]‏‏‏‏ الخ، بالکل محکم ہے، اس میں کسی طرح نسخ کا دخل نہیں، نہ کوئی تخصیص ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح آیت تحلیل بھی محکم ہی ہونی چاہیئے۔
یعنی فرمان باری تعالیٰ آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ» ۱؎ [5-المائدہ:4]‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کیلئے حلال کیا ہے تو کہدے کہ تمام طیب چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں ‘۔
جب دونوں آیتیں محکم اور غیر منسوخ ہیں تو یقیناً ان میں تعارض نہ ہونا چاہیئے لہٰذا حدیث کو اس کی وضاحت کیلئے سمجھنا چاہیئے اور تیر کا واقعہ اسی کی شہادت دیتا ہے، جس میں یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت میں یہ صورت واضح طور پر شامل ہے کہ آنی اور دھار تیزی کی طرف سے زخم کرے تو جانور حلال ہو گا، کیونکہ وہ (‏‏‏‏طیبات)‏‏‏‏‏‏‏‏ میں آگیا۔
ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ آیت تحریم میں کون سی صورت شامل ہے۔ یعنی وہ صورت جس میں جانور کی موت تیر کی چوڑائی کی چوٹ سے ہوئی ہے، وہ حرام ہو گیا جسے کھایا نہیں جائے گا۔ اس لیے کہ وہ «وقیذ» ہے اور «وقیذ» آیت تحریم کا ایک فرد ہے، ٹھیک اسی طرح اگر شکاری کتے نے جانور کو اپنے دباؤ زور بوجہ اور سخت پکڑ کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو وہ «نطیح» ہے یا «فطیح» یعنی ٹکر اور سینگ لگے ہوئے کے حکم میں ہے اور حلال نہیں، ہاں اگر اسے مجروح کیا ہے تو وہ آیت تحلیل کے حکم میں ہے اور یقیناً حلال ہے۔
اس پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر یہی مقصود ہوتا تو کتے کے شکار میں بھی تفصیل بیان کر دی جاتی اور فرما دیا جاتا کہ اگر وہ جانور کو چیرے پھاڑے، زخمی کرے تو حلال اور اگر زخم نہ لگائے تو حرام۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کتے کا بغیر زخمی کئے قتل کرنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کی عادت یہ نہیں بلکہ عادت تو یہ ہے کہ اپنے پنجوں یا کچلیوں سے ہی شکار کو مارے یا دونوں سے، بہت کم کبھی کبھی شاذو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دباؤ اور بوجھ سے شکار کو مار ڈالے، اس لیے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ اس کا حکم بیان کیا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب آیت تحریم میں «مَيْتَةُ، مَوْقُوذَةُ، مُتَرَدِّيَةُ، لنَّطِيحَةُ» کی حرمت موجود ہے تو اس کے جاننے والے کے سامنے اس قسم کے شکار کا حکم بالکل ظاہر، تیر اور معراض میں اس حکم کو اس لیے الگ بیان کر دیا کہ وہ عموماً خطا کر جاتا ہے بالخصوص اس شخص کے ہاتھ سے جو قادر تیر انداز نہ ہو یا نشانے میں خطا کرتا ہو، اس لیے اس کے دونوں حکم تفصیل وار بیان فرما دیئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دیکھئیے چونکہ کتے کے شکار میں یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے وہ اپنے کئے ہوئے شکار میں سے کچھ کھا لے، اس لیے یہ حکم صراحت کے ساتھ الگ بیان فرما دیا اور ارشاد ہوا کہ{ اگر وہ خود کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ، ممکن ہے کہ اس نے خود اپنے لیے ہی شکار کو روکا ہو}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1929]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے اور یہ صورت اکثر حضرات کے نزدیک آیت تحلیل کے عموم سے مخصوص ہے اور ان کا قول ہے کہ جس شکار کو کتا کھا لے اس کا کھانا حلال نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی روایت کیا جاتا ہے۔ حسن، شعبی اور نخعی رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے اور اسی کی طرف ابوحنیفہ، ان کے دونوں اصحاب، احمد بن حنبل اور مشہور روایت میں شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی گئے ہیں۔ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں سیدنا علی، سعد، سلمان، ابوہریرہ، ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ گو کتے نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تاہم اسے کھا لینا جائز ہے، بلکہ سعد، سلمان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم وغیرہ فرماتے ہیں گو کتا آدھا حصہ کھا گیا ہو تاہم اس شکار کا کھا لینا جائز ہے۔
امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی اپنے قدیم قول میں اسی طرف گئے ہیں اور قول جدید میں دونوں قولوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جیسے کہ امام ابو منصور بن صباغ وغیرہ نے کہا ہے۔
ابوداؤد میں قوی سند سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام تو نے لے لیا ہو تو کھا لے، گو اس نے بھی اس میں سے کھا لیا ہو اور کھا لے اس چیز کو جسے تیرا ہاتھ تیری طرف لوٹا لائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:حدیث2852،قال الشيخ الألباني:-منکر]‏‏‏‏ نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا، اس نے شکار کو پکڑا اور اس کا کچھ گوشت کھا لیا تو اسے اختیار ہے کہ باقی جانور یہ اپنے کھانے کے کام میں لے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11214]‏‏‏‏ اس میں اتنی علت ہے کہ یہ موقوفاً سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے، جمہور نے سیدنا عدی رضی اللہ عنہ والی حدیث کو اس پر مقدم کیا ہے اور ابوثعبلہ وغیرہ کی حدیث کو ضعیف بتایا ہے۔
بعض علماء کرام نے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے، جب کتے نے شکار پکڑا اور دیر تک اپنے مالک کا انتظار کیا، جب وہ نہ آیا تو بھوک وغیرہ کے باعث اس نے کچھ کھا لیا اس صورت میں یہ حکم ہے کہ باقی کا گوشت مالک کھا لے کیونکہ ایسی حالت میں یہ ڈر باقی نہیں رہتا کہ شاید کتا ابھی شکار کا سدھارا ہوا نہیں، ممکن ہے اس نے اپنے لیے ہی شکار کیا ہو، بخلاف اس کے کہ کتے نے پکڑتے ہی کھانا شروع کر دیا تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے لیے ہی شکار دبوچا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب رہے شکاری پرند تو امام شافعی رحمة الله نے صاف کہا ہے کہ یہ کتے کے حکم میں ہیں۔ تو اگر یہ شکار میں سے کچھ کھا لیں تو شکار کا کھانا جمہور کے نزدیک تو حرام ہے اور دیگر کے نزدیک حلال ہے، ہاں مزنی کا مختار یہ ہے کہ گوشکاری پرندوں نے شکار کا گوشت کھا لیا ہو تاہم وہ حرام نہیں۔
یہی مذہب ابوحنیفہ اور احمد رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ اس لیے کہ پرندوں کو کتوں کی طرح مار پیٹ کر سدھا بھی نہیں سکتے اور وہ تعلیم حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے کھائے نہیں، یہاں بات معاف ہے اور اس لیے بھی کہ نص کتے کے بارے میں وارد ہوئی ہے پرندوں کے بارے میں نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانعت پر مشتمل ہے، یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے ﴿وَلَا الشَّ٘هْرَ الْحَرَامَ اور نہ ادب کے مہینے کی۔ یعنی حرمت کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا ارتکاب کر کے اس کی ہتک حرمت نہ کرو۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْؔ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؔ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ (التوبۃ: 9؍36) بے شک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینے گنتی میں بارہ ہیں، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں۔ یہی مضبوط دین ہے۔ تم ان مہینوں میں ناحق لڑائی کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔
جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿فَاِذَا انْ٘سَلَ٘خَ الْاَشْ٘هُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْ٘مُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ (التوبۃ: 9؍5) جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو۔اور اس کے علاوہ دیگر آیات جو عموم پر دلالت کرتی ہیں جن میں کفار کے ساتھ مطلق قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس قتال سے پیچھے رہ جانے پر وعید سنائی ہے۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذیقعد کے مہینے میں اہل طائف کے خلاف جنگ کی اور ذی قعد حرام مہینوں میں سے ہے۔
دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی کی ممانعت منسوخ نہیں ہے اس کی دلیل یہی مذکورہ آیت کریمہ ہے۔ جس میں خاص طور پر لڑائی کی ممانعت کی گئی ہے اور انھوں نے اس بارے میں وارد مطلق نصوص کو مقید پر محمول کیا ہے۔
اور بعض علماء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں، البتہ اگر جنگ پہلے سے جاری ہو جبکہ اس کی ابتدا حلال مہینوں میں ہوئی ہو تو حرمت کے مہینوں میں اس کی تکمیل جائز ہے اور انھوں نے اہل طائف کے خلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ کو اسی پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ جنگ کی ابتدا حنین میں ہوئی جو شوال کے مہینے میں ہوئی تھی۔ یہ سب اس جنگ کے بارے میں ہے جس میں مدافعت مقصود نہ ہو۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا معاملہ ہے جبکہ وہ کفار کی طرف سے شروع کی گئی ہو تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔
﴿وَلَا الْهَدْیَ اور نہ قربانی کے جانوروں کی۔ یعنی تم اس ﴿الْهَدْیَ قربانی کو جو حج یا عمرہ یا دیگر ایام میں بیت اللہ کو بھیجی جا رہی ہو، حلال نہ ٹھہرا لو۔ اس کو قربان گاہ تک پہنچنے سے مت روکو۔ نہ اسے چوری وغیرہ کے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ نہ اس کے بارے میں کوتاہی کرو اور نہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لادو۔ مبادا کہ وہ قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی تلف ہو جائے بلکہ اس ہدی کی اور اس کو لانے والے کی تعظیم کرو۔
﴿وَلَا الْقَلَآىِٕدَ اور نہ ان جانوروں کی (جو اللہ کی راہ میں نذر کردیے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں۔ یہ ہدی کی ایک خاص قسم ہے یہ ہدی کا وہ جانور ہے جس کے لیے قلادے وغیرہ تیار کر کے صرف اس لیے اس کی گردن میں ڈالے گئے ہوں تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ کے شعائر ہیں، نیز اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں اور اس سے سنت کی تعلیم بھی مقصود ہے۔ تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے، لہٰذا حرمت کا حامل ہے۔ بنا بریں ہدی کو علامت کے طور پر قلادے وغیرہ پہنانا سنت ہے اور شعائر مسنونہ میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
﴿وَلَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جارہے ہوں۔ یعنی جو بیت اللہ کا قصد رکھتے ہیں ﴿یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا اور اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔ یعنی جو بیت اللہ پہنچنے کا قصد رکھتا ہے اور وہ تجارت اور جائز ذرائع اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا ارادہ لیے ہوئے ہے یا وہ حج، عمرہ، طواف بیت اللہ، نماز اور مختلف انواع کی دیگر عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے ساتھ برائی سے پیش آؤ نہ اس کی اہانت کرو بلکہ اس کی تکریم کرو اور تمھارے رب کے گھر کی زیارت کے لیے جانے والوں کی تعظیم کرو۔ اس حکم میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بیت اللہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پرامن بنایا جائے تاکہ بیت اللہ کو جانے والے بڑے اطمینان سے اللہ کے گھر کو جا سکیں، انھیں راستے میں قتل و غارت اور اپنے اموال کے بارے میں کسی چوری ڈاکے اور کسی ظلم کا خوف نہ ہو۔
اس آیت کریمہ کے عموم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد خاص کرتا ہے ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْ٘مُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰؔذَا (التوبہ: 9؍28) اے ایمان لانے والے لوگو! مشرک تو ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔ لہٰذا مشرک حرم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس آیت کریمہ میں بیت اللہ کی طرف جانے والے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کا قصد رکھنے والے سے تعرض کرنے کی ممانعت کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اس نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتا ہے کہ گناہوں کے ذریعے سے اس کی ہتک حرمت کا ارتکاب کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں فساد پھیلانے سے روکا جائے کیونکہ اسے اس فعل سے روکنا حرم کے احترام کی تکمیل ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِـاِلْحَادٍۭؔ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (الحج: 22؍25) اور جو کوئی اس میں ظلم سے کج روی کرنا چاہے ہم اسے دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کیا ہے اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔ یعنی جب تم حج اور عمرہ کا احرام کھول دو تو تمھارے لیے شکار کرنا جائز ہے اور اب اس کی تحریم ختم ہو گئی ہے۔ تحریم کے بعد کا حکم محرمہ اشیاء کو ان کی اس حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے جو تحریم کے حکم سے پہلے تھی۔
﴿وَلَا یَجْرِمَنَّـكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْؔكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا اور لوگوں کی دشمنی، اس وجہ سے کہ انھوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا، تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے۔ یعنی کسی قوم کا بغض، عداوت اور تم پر ان کا ظلم و تعدی کہ انھوں نے تمھیں مسجد حرام تک جانے سے روکا تھا تمھیں ان پر ظلم و تعدی کرنے پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان سے بدلہ لے کر اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو۔ کیونکہ بندے پر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرنا اور عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنا فرض ہے۔ خواہ اس کے خلاف جرم، ظلم یا زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ جس نے اس پر جھوٹا الزام لگایا، اس پر جھوٹا الزام لگانا اور جس نے اس کے ساتھ خیانت کی، اس کے ساتھ خیانت کرنا کسی حالت میں جائز نہیں۔
﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْـبِرِّ وَالتَّقْوٰى نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ یعنی تم نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ یہاں ﴿ الْـبِرِّ نیکی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور وہ ان پر راضی ہے۔ اس مقام پر تقویٰ ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ترک کرنے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہیں۔ بھلائی کی ہر خصلت جس کے فعل کا حکم یا برائی کی ہر خصلت جسے ترک کرنے کا حکم ہے بندہ خود بھی اس کے فعل پر مامور ہے اور اسے اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ، اپنے قول و فعل کے ذریعے سے جو ان کو اس بھلائی پر آمادہ کرے یا اس میں نشاط پیدا کرے، تعاون کرنے کا حکم ہے۔
﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ اور گناہ پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو اور یہ ان گناہوں پر جسارت ہے جن کے ارتکاب سے انسان گناہ گار اور ناقابل اعتبار ہو جاتا ہے ﴿ وَالْعُدْوَانِ اور نہ زیادتی پر یہ مخلوق کے ساتھ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و ناموس کے بارے میں ظلم اور زیادتی ہے۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر گناہ اور ظلم و تعدی سے اپنے آپ کو بھی روکے اور دوسروں کے ساتھ بھی اس ظلم و تعدی کو ترک کرنے پر تعاون کرے۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جو اس کی نافرمانی کرے گا اور محارم کے ارتکاب کی جسارت کرے گا۔ پس ہتک محارم سے بچو مبادا (ایسا نہ ہو) کہ تم اس کی دنیاوی یا اخروی سزا کے مستحق بن جاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تُحِلُّوا شعائر الله}؛ أي: محرَّماته التي أمركم بتعظيمها وعدم فعلها؛ فالنهي يشمَل النهي عن فعلها والنهي عن اعتقاد حِلِّها؛ فهو يشمل النهي عن فعل القبيح وعن اعتقاده، ويدخل في ذلك النهي عن محرَّمات الإحرام ومحرَّمات الحرم، ويدخُل في ذلك ما نصَّ عليه بقولِهِ: {ولا الشَّهْرَ الحرام}؛ أي: لا تنتهكوه بالقتال فيه وغيره من أنواع الظلم؛ كما قال تعالى: {إنَّ عدَّة الشُّهورِ عند الله اثنا عشَرَ شهراً في كتاب الله يوم خَلَقَ السمواتِ والأرضَ منها أربعةٌ حُرُمٌ ذلك الدِّين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم}.

والجمهور من العلماء على أنَّ القتال في الأشهر الحُرُم منسوخٌ بقوله تعالى: {فإذا انْسَلَخَ الأشهرُ الحُرُم فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم}، وغير ذلك من العمومات التي فيها الأمرُ بقتال الكفار مطلقاً والوعيدُ في التخلُّف عن قتالهم مطلقاً، وبأنَّ النبي - صلى الله عليه وسلم - قاتل أهل الطائف في ذي القعدة، وهو من الأشهر الحرم.

وقال آخرون: إن النهي عن القتال في الأشهر الحُرُم غير منسوخ لهذه الآية وغيرها مما فيه النهي عن ذلك بخصوصه، وحملوا النُّصوص المطلقة الواردة على ذلك وقالوا: المُطْلَق يُحْمَل على المقيَّد. وفصَّل بعضهم فقال: لا يجوز ابتداء القتال في الأشهر الحرم، وأمَّا استدامتُهُ وتكميلُه إذا كان أوله في غيرها؛ فإنه يجوز، وحملوا قتال النبي - صلى الله عليه وسلم - لأهل الطائف على ذلك؛ لأنَّ أول قتالهم في حنين في شوَّال.

وكل هذا في القتال الذي ليس المقصود منه الدفع، فأمَّا قتال الدفع إذا ابتدأ الكفار المسلمين بالقتال؛ فإنه يجوز للمسلمين القتال دفعاً عن أنفسهم في الشهر الحرام وغيره بإجماع العلماء.

وقوله: {ولا الهديَ ولا القلائد}؛ أي: ولا تُحِلُّوا الهدي الذي يُهدى إلى بيت الله في حجٍّ أو عمرة أو غيرهما من نَعَم وغيرها؛ فلا تصدُّوه عن الوصول إلى مَحِلِّه، ولا تأخذوه بسرقة أو غيرها، ولا تقصِّروا به أو تحمِّلوه مالا يطيق خوفاً من تلفه قبل وصوله إلى مَحِلِّه، بل عظِّموه وعظِّموا من جاء به. {ولا القلائد}: هذا نوع خاص من أنواع الهدي، وهو الهدي الذي يُفْتَلُ له قلائد أو عُرىً، فيجعل في أعناقه؛ إظهاراً لشعائر الله، وحملاً للناس على الاقتداء، وتعليماً لهم للسنة، وليُعْرَفَ أنه هديٌ فَيُحْتَرم، ولهذا كان تقليد الهدي من السنن والشعائر المسنونة.

{ولا آمِّينَ البيتَ الحرام}؛ أي: قاصدين له، {يبتغون فضلاً من ربِّهم ورضواناً}؛ أي: من قَصَدَ هذا البيت الحرام، وقَصْدُهُ فضلُ الله بالتجارة والمكاسب المباحة، أو قصدُهُ رضوانُ الله بحجِّهِ وعمرتِهِ والطواف به والصلاة وغيرها من أنواع العبادات؛ فلا تتعرَّضوا له بسوءٍ ولا تُهينوه، بل أكرِموه وعظِّموا الوافدين الزائرين لبيت ربِّكم. ودخل في هذا الأمرِ الأمرُ بتأمين الطرق الموصلة إلى بيت الله، وجعل القاصدين له مطمئنِّين مستريحين غير خائفين على أنفسهم من القتل فما دونهَ ولا على أموالهم من المَكْس والنَّهب ونحو ذلك. وهذه الآية الكريمة مخصوصة بقوله تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا إنَّما المشرِكون نَجَسٌ فلا يَقْرَبوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا}؛ فالمشرِكُ لا يمكَّنُ من الدخول إلى الحرم. والتخصيص في هذه الآية بالنهي عن التعرُّض لمن قَصَدَ البيت ابتغاء فضل الله أو رضوانه يدلُّ على أنَّ مَن قَصَدَهُ لِيُلْحِدَ فيه بالمعاصي؛ فإنَّ من تمام احترام الحرم صدَّ مَن هذه حاله عن الإفساد ببيت الله؛ كما قال تعالى: {ومَن يُرِدْ فيه بإلحادٍ بظُلمٍ نُذِقْهُ من عذابٍ أليم}.

ولما نهاهم عن الصيد في حال الإحرام؛ قال: {وإذا حللتُم فاصْطادوا}؛ أي: إذا حللتم من الإحرام بالحجِّ والعمرة، [وخرجتم من الحرم]؛ حلَّ لكم الاصطياد، وزال ذلك التحريم، والأمر بعد التحريم يَرُدُّ الأشياء إلى ما كانت عليه من قبل.

{ولا يَجْرِمَنَّكُم شَنآنُ قوم أن صدُّوكم عن المسجد الحرام أن تعتدوا}؛ أي: لا يحملنَّكم بغض قوم وعداوتهم واعتداؤهم عليكم حيث صدُّوكم عن المسجد على الاعتداء عليهم طلباً للاشتفاء منهم؛ فإنَّ العبد عليه أن يلتزمَ أمر الله ويسلك طريق العدل، ولو جُنِيَ عليه أو ظُلِمَ واعْتُدِيَ عليه؛ فلا يَحِلُّ له أن يكذِبَ على من كذب عليه أو يخون مَن خانه.

{وتعاوَنوا على البِرِّ والتَّقوى}؛ أي: ليُعِنْ بعضكم بعضاً على البرِّ، وهو اسم جامع لكل ما يحبُّه الله ويرضاه من الأعمال الظاهرة والباطنة من حقوق الله وحقوق الآدميين، والتقوى في هذا الموضع اسم جامع لِتَرْكِ كلِّ ما يكرهه الله ورسوله من الأعمال الظاهرة والباطنة، وكل خصلة من خصال الخير المأمور بفعلها، أو خصلةٍ من خصال الشرِّ المأمور بتركها؛ فإن العبد مأمورٌ بفعلها بنفسه وبمعاونة غيره من إخوانه المؤمنين عليها بكلِّ قول يَبعث عليها وينشِّطُ لها وبكل فعل كذلك. {ولا تعاونَوا على الإثم}: وهو التَّجَرِّي على المعاصي التي يأثم صاحبُها ويُحَرَّجُ، {والعدوان}: وهو التعدِّي على الخلق في دمائهم وأموالهم وأعراضهم؛ فكلُّ معصية وظلم يجب على العبد كفُّ نفسِهِ عنه، ثم إعانة غيره على تركه.

{واتقوا الله إن الله شديدُ العقاب}: على من عصاه وتجرَّأ على محارِمِه؛ فاحذروا المحارمَ؛ لئلا يحلَّ بكم عقابُه العاجل والآجل.