تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ:} ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”سال کے بارہ مہینے ہیں، جن میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل ہیں، ذوالقعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور ایک رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے۔“ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إن عدة الشهور……» :۴۶۶۲] مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ کر کے ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ(۳۶)۔
➌ {وَ لَا الْهَدْيَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ:} { ”الْهَدْيَ“ } ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لیے ساتھ لے جاتے تھے۔ اونٹوں کی کوہان کی دائیں طرف تھوڑا سا زخم کر کے مل دیتے، اسے اشعار کہتے ہیں اور گلے میں ایک جوتا یا پٹا ڈال دیتے۔ { ”الْقَلَآىِٕدَ“ } یہ {” قِلاَدَةٌ “} کی جمع ہے، جس سے مراد وہ پٹا یا رسی وغیرہ ہے جو پرو کر ہدی (قربانی) کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی تھی۔ چھوٹے جانوروں کا اشعار نہیں کرتے تھے۔ { ”الْقَلَآىِٕدَ“ } کا معنی اگرچہ پٹے ہیں مگر مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں وہ پٹا ڈالا گیا ہو۔ ان سب چیزوں کا ذکر اگرچہ { ”شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ“ } کے ضمن میں آ چکا ہے مگر ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کیا ہے۔
➍ {وَ لَاۤ آٰمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ……:} یعنی وہ لوگ جو مسجد حرام کا قصد کر کے جا رہے ہیں۔ رب کے فضل سے مراد رزق ہے جو تجارت وغیرہ سے کمایا جاتا ہے اور اﷲ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلبِ ثواب کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے، یعنی وہ اﷲ تعالیٰ سے ثواب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں۔ اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے گمان میں اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کو تکلیف مت دو۔ مگر یہ حکم سورۂ توبہ کی آیت (۲۸) سے منسوخ ہو گا۔ اب مشرکین کو حدود حرم میں داخلے کی اجازت نہیں۔ (ابن کثیر، قرطبی)
➎ {وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا:} یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار کرو۔ یہ حکم بیانِ جواز کے لیے ہے، یعنی اب شکار جائز ہے، یہ معنی نہیں کہ اب ضرور ہی شکار کرو، کیونکہ وہ احرام سے پہلے بھی ضروری نہ تھا۔ (ابن کثیر)
➏ {وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ ……:} یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں ۶ ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو۔
➐ {وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ……:} ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام {” الْبِرِّ “} اور برائی کو ترک کرنے کا نام {”التَّقْوٰى“} ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور نہ کرنے کے لیے ایک اصول مقرر فرما دیا ہے جس سے اسلامی معاشرے میں برائی کا سدباب ہو سکتا ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ ایک آدمی نے عرض کی: ”اے اﷲ کے رسول! جب وہ مظلوم ہو، میں اس کی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالم ہو تو پھر اس کی مدد کس طرح کروں؟“ فرمایا: ”اس وقت اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکو۔“ [بخاری، الإکراہ، باب یمین الرجل……: ۶۹۵۲۔ مسلم: ۲۵۸۴]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے پٹے بٹے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال دیئے اور ان کے کوہانوں سے خون نکالا۔ پھر انہیں بیت اللہ روانہ کر دیا۔
[بخاری۔ کتاب المناسک۔ من اشعر وقلد بذی الحلیفۃ ثم احرم۔ مسلم۔ کتاب الحج۔ باب استحباب بعث الھدی الی الحرم]
2۔ سیدنا زویبؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے اور فرماتے اگر ان میں سے کوئی اونٹ چل نہ سکے اور اس کے مرنے کا خطرہ ہو تو اسے ذبح کر دو پھر اپنی جوتی اس کے خون میں آلودہ کر کے اس کے پہلو میں مارو۔ پھر اسے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھائے۔
[مسلم۔ کتاب الحج۔ باب مایفعل بالہدی اذاعطب فی الطریق]
اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے لوگ ایسے ذبح شدہ قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتے ہیں۔
[ترمذی۔ ابواب الحج۔ باب ماجاء اذا عطب بالھدی]
3۔
[بخاري، كتاب المناسك۔ باب ركوب البدن مسلم۔ كتاب الحج۔ باب جواز ركوب البدنة المهداة]
اور مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔ ”معروف طریقہ سے سوار ہو سکتے ہو۔ بشرطیکہ تم سوار ہونے پر مجبور ہوتا آنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔“
[مسلم۔ حواله ايضاً]
[8] احرام خود بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ لہٰذا اگر تم انہیں تنگ کرو گے۔ تو شعائر اللہ کی توہین کے مرتکب ہو گے۔ اگرچہ یہاں امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے آتا ہے لیکن یہاں یہ صیغہ اجازت اور رخصت کے معنوں میں ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کر سکتے ہو جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب تم احرام کھولو تو ضرور شکار کرو یا کیا کرو۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ امر کا صیغہ رخصت اور اجازت کے معنی میں بھی آسکتا ہے۔
[9] کفار مکہ نے مسلمانوں کو حج و عمرہ اور طواف کعبہ سے روک دیا تھا اور یہ رکاوٹ فتح مکہ تک بدستور قائم رہی ماسوائے عمرہ قضا کے۔ پھر جب کافروں اور مسلمانوں میں کوئی جنگ چھڑتی تو کافر قبیلے کافروں ہی کا ساتھ دیتے تھے۔ اور حدیبیہ کے موقع پر ان تمام شعائر اللہ کی توہین کی تھی جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ انہوں نے بیت اللہ جانے کی راہ روکی۔ حرمت والے مہینہ میں لڑائی پر آمادہ ہوئے اور قربانی اور پٹے والے جانوروں کی مطلق پروا نہ کی لہٰذا مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا کہ جو کافر قبیلے قافلوں کی شکل میں حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ بھی مشتعل ہو کر ان کو حج و عمرہ سے روک دیں اور ان کے مال اسباب لوٹ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ایسے خیالات سے بھی منع فرما دیا۔
[10] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہ مطلب ہے کہ جو کافر حج و عمرہ کو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ کافر اور مشرک ہیں تاہم اس وقت وہ نیکی اور تقویٰ کا کام کرنے جا رہے ہیں تو ان کی زندگی میں نیکی اور تقویٰ کا جو حصہ ہے اس میں تمہیں ان کی راہ روکنے کی بجائے ان سے تعاون کرنا چاہیے۔
[سیرۃ النبی۔ ج 1 ص 184، 185 شبلی نعمانی]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کیونکہ موطا مالک، مسند شافعی، مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور اسی طرح، ٹڈی بھی گو خود ہی مرگئی ہو، حلال ہے۔ اس کی دلیل کی حدیث آ رہی ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہی فرماتی ہیں کہ ”صرف بہا ہوا خون حرام ہے۔“ امام شافعی حدیث لائے ہیں کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { ہمارے لیے دو قسم کے مردے اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی اور بیہقی میں بھی بروایت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔
حافظ بیہقی فرماتے ہیں ”عبد الرحمان کے ساتھ ہی اسے اسماعیل بن ادریس اور عبداللہ بھی روایت کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں یہ دونوں بھی ضعیف ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ضعف میں کمی بیشی ہے۔ لیمان بن بلال نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہ ہیں بھی ثقہ لیکن اس روایت کو بعض نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف رکھا ہے۔
یہ روایت ابن مردویہ میں بھی ہے اس میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ ”میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور انہیں پیغام اسلام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے، ایک دن جبکہ میں سخت پیاسا ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے، تھوڑا سا پانی پلا دو، لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا، بلکہ کہا ہم تو تجھے یونہی پیاسا ہی تڑپا تڑپا کر مار ڈالیں گے، میں غمناک ہو کر دھوپ میں تپتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کھردرا کمبل منہ پر ڈال کر اسی سخت گرمی میں میدان میں پڑا رہا، اتفاقاً میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لیے ہوئے اور اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار پینے کی چیز لیے ہوئے میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا، میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا، وہیں آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیاس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف ہی نہیں ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ پیاس ہی نہیں لگی۔“
«لَحْمُ الْخِنزِيرِ» حرام ہے خواہ وہ جنگلی ہو، لفظ «لَحْمُ» شامل ہے اس کے تمام اجزاء کو، جس میں چربی بھی داخل ہے پس ظاہر یہ کی طرح تکلفات کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ دوسری آیت میں سے «أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ» ۱؎ [6-الأنعام:145] لے کر ضمیر کا مرجع خنزیر کو بتلاتے ہیں تاکہ اس کے تمام اجزاء حرمت میں آ جائیں۔ درحقیقت یہ لغت سے بعید ہے مضاف الیہ کی طرف سے ایسے موقعوں پر ضمیر پھرتی ہی نہیں، صرف مضاف ہی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے۔ صاف ظاہر بات یہی ہے کہ لفظ «لَحْمُ» شامل ہے تمام اجزاء کو۔ لغت عرب کا مفہوم اور عام عرف یہی ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر بتوں کی تجارت کی ممانعت کر دی ہے }، پوچھا گیا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردار کی چربی کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟“ وہ کشتیوں پر چڑھائی جاتی ہے، کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں! وہ حرام ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2236]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ابوسفیان نے ہر قل سے کہا ”وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں مردار سے اور خون سے روکتا ہے۔“ ۱؎ [مسند ابی عوانہ:6734]
وہ جانور بھی حرام ہے جس کو ذبح کرنے کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اسے فرض کر دیا وہ اسی کا نام لے کر جانور کو ذبح کرے، پس اگر کوئی اس سے ہٹ جائے اور اس کے نام پاک کے بدلے کسی بت وغیرہ کا نام لے، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو تو یقیناً وہ جانور بالاجماع حرام ہو جائے گا، ہاں جس جانور کے ذبیحہ کے وقت بسم اللہ کہنا رہ جائے، خواہ جان بوجھ کر خواہ بھولے چوکے سے وہ حرام ہے یا حلال؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کا بیان سورۂ انعام میں آئیگا۔
ابوالطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”حضرت آدم کے وقت سے لے کر آج تک یہ چاروں چیزیں حرام رہیں، کس وقت ان میں سے کوئی بھی حلال نہیں ہوئی (١) مردار (٢) خون (٣) سور کا گوشت (٤) اور اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی چیز۔ البتہ بنو اسرائیل کے گناہگاوں کے گناہوں کی وجہ سے بعض غیر حرام چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ وہ دوبارہ حلال کر دی گئیں، لیکن بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو سچا نہ جانا اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ [ابن ابی حاتم] یہ اثر غریب ہے۔
کوفیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اپنے گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت لینے کیلئے آنا شروع ہوئے، اتنے میں جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر یہ منادی کرتے ہوئے وہاں پہنچے کہ ”لوگو یہ گوشت نہ کھانا یہ جانور «مَا اُهِلَّ بِهِ لِغَیْرِ اللهِ» میں شامل ہیں۔“ [ابن ابی حاتم] یہ اثر بھی غریب ہے ہاں اس کی صحت کی شاہد وہ حدیث ہے جو ابوداؤد میں ہے کہ { رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراب کی طرف مقابلہ میں کوچیں کاٹنے سے ممانعت فرما دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2820،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] پھر ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ محمد بن جعفر رحمہ اللہ نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر وقف کیا ہے۔
ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصوں کا کھانا کھانا منع فرما دیا جو آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور ریا کاری کرنا چاہتے ہوں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3754،قال الشيخ الألباني:صحیح]
«مُنْخَنِقَةُ» جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی نے عمداگلا گھونٹ کر گلا مروڑ کر اسے مار ڈالا ہو، خواہ از خود اس کا گلا گھٹ گیا ہو۔ مثلاً اپنے کھوٹنے میں بندھا ہوا ہے اور بھاگنے لگا، پھندا گلے میں پڑ گیا اور کھچ کھچاؤ کرتا ہوا مر گیا پس یہ حرام ہے۔
«مَوْقُوْدَةٌ» وہ ہے جس جانور کو کسی نے ضرب لگائی، لکڑی وغیرہ ایسی چیز سے جو دھاری دار نہیں لیکن اسی سے وہ مر گیا، تو وہ بھی حرام ہے، جاہلیت میں یہ بھی دستور تھا کہ جانور کولٹھ سے مار ڈالتے اور پھر کھاتے۔ لیکن قرآن نے ایسے جانور کو حرام بتایا۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جسے دھار اور نوک سے شکار کیا ہو اور اس میں جسے چوڑائی کی جانب سے لگا ہو فرق کیا۔ اول کو حلال اور دوسرے کو حرام۔ فقہاء کے نزدیک بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ جب کسی زخم کرنے والی چیز نے شکار کو صدمہ تو پہنچایا لیکن وہ مرا ہے اس کے بوجھ اور چوڑائی کی طرف سے تو آیا یہ جانور حلال ہے یا حرام۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس میں دونوں قول ہیں، ایک تو حرام ہونا اوپر والی حدیث کو سامنے رکھ کر۔ دوسرے حلال کرنا کتے کے شکار کی حلت کو مدنظر رکھ کر۔ اس مسئلہ کی پوری تفصیل ملاحظہ ہو۔
اسی طرح سیدنا عدی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صحیح حدیثیں بھی عام ہی ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھیوں نے امام صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے اور متاخرین نے اس کی صحت کی ہے، جیسے نووی اور رافعی رحمہ اللہ مگر میں کہتا ہوں کہ گو یوں کہا جاتا ہے لیکن امام صاحب کے کلام سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا۔ ملاحظہ ہو کتاب الام اور مختصر ان دونوں میں جو کلام ہے وہ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔
پس دونوں فریقوں نے اس کی توجیہہ کر کے دونوں جانب علی الاطلاق ایک قول کہہ دیا۔ ہم تو بصد مشکل صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس بحث میں حلال ہونے کے قول کی حکایت کچھ قدرے قلیل زخم کا ہونا بھی ہے۔ گو ان دونوں میں سے کسی کی تصریح نہیں، اور وہ کسی کی مضبوط رائے، ابن الصباح نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حلال ہونے کا قول نقل کیا ہے اور دوسرا کوئی قول ان سے نقل نہیں کیا اور امام ابن جریر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں اس قوت کو سلمان فارسی، ابوہریرہ، سعد بن وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے لیکن یہ بہت غریب ہے اور دراصل ان بزرگوں سے صراحت کے ساتھ یہ اقوال نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف اپنا تصرف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے، مزنی نے روایت کیا ہے اور یہی مشہور ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اور یہی قول ٹھیک ہونے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ اصولی قواعد اور احکام شرعی کے مطابق یہی جاری ہے۔
جیسے کہ جمہور علماء اصول و فروغ کا فرمان ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ تبع جو شہد کی نبیذ سے ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5585]
اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کو کتے کے شکار کے مسئلہ سے دور کا تعلق بھی نہیں، اس لیے کہ سائل نے ذبح کرنے کے ایک آلے کی نسبت سوال کیا تھا۔ ان کا سوال اس چیز کی نسبت نہ تھا، جس سے ذبح کیا جائے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کر لیا اور فرمایا: { سوائے دانت اور ناخن کے اور میں تمہیں بتاؤں کہ انکے سوا کیوں؟ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5498]
اور یہ قاعدہ ہے کہ مستثنیٰ کی دلالت جنس مستثنیٰ منہ پر ہوا کرتی ہے، ورنہ متصل نہیں مانا جا سکتا، پس ثابت ہوا کہ سوال آلہ ذبح کا ہی تھا تو اب کوئی دلالت تمہارے قول پر باقی نہیں رہی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے جملے کو دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ { جو چیز خون بہا دے اور اس پر نام اللہ بھی لیا گیا ہو، اسے کھا لو }۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ذبح کر لو۔ پس اس جملہ سے دو حکم ایک ساتھ معلوم ہوتے ہیں، ذبح کرنے کے آلہ کا حکم بھی اور خود ذبیحہ کا حکم بھی اور یہ کہ اس جانور کا خون کسی آلہ سے بہانا ضروری ہے، جو دانت اور ناخن کے سوا ہو۔ ایک مسلک تو یہ ہے۔
جیسے کہ ظہار کے وقت آزادگی گردن جو مطلق ہے محمول کی جاتی ہے قتل کی آزادگی گردن پر جو مقید ہے ایمان کے ساتھ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرورت شکار کے اس مسئلہ میں ہے یہ دلیل ان لوگوں پر یقیناً بہت بڑی حجت ہے جو اس قاعدہ کی اصل کو مانتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں اس قاعدے کے مسلم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو وہ اسے تسلیم کریں ورنہ کوئی پختہ جواب دیں۔
علاوہ ازیں فریق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس شکار کو کتے نے بوجہ اپنے ثقل کے مار ڈالا ہے اور یہ ثابت ہے کہ تیر جب اپنی چوڑائی سے لگ کر شکار کو مار ڈالے تو وہ حرام ہو جاتا ہے پس اس پر قیاس کر کے کتے کا یہ شکار بھی حرام ہو گیا کیونکہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں شکار کے آلات ہیں اور دونوں نے اپنے بوجھ اور زور سے شکار کی جان لی ہے اور آیت کا عموم اس کے معارض نہیں ہو سکتا کیونکہ عموم پر قیاس مقدم ہے جیسا کہ چاروں اماموں اور جمہور کا مذہب ہے۔ یہ مسلک بھی بہت اچھا ہے
اولاً تو یہ کہ شارع نے اس آیت کا حکم شکار کی حالت میں معتبر مانا ہے۔ کیونکہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا { اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگا ہے تو وہ لٹھ مارا ہوا ہے اسے نہ کھاؤ }۔
جہاں تک ہمارا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ لٹھ سے اور مار سے مرا ہوا تو شکار کی حالت میں معتبر ہو اور سینگ اور ٹکر لگا ہوا معتبر نہ ہو۔ پس جس صورت میں اس وقت بحث ہو رہی ہے اس جانور کو حلال کہنا اجماع کو توڑنا ہوگا، جسے کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا بلکہ اکثر علماء اسے ممنوع بتاتے ہیں۔
ایک تقریر اسی مسئلہ میں اور بھی گوش گزار کر لیجئے کہ اس طرح کا شکار میتہ کے حکم میں ہے، پس جس وجہ سے مردار حرام ہے، وہی وجہ یہاں بھی ہے تو یہ بھی اسی قیاس سے حلال نہیں۔ ایک اور وجہ بھی سنئے کہ حرمت کی آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ» [5-المائدہ:3] الخ، بالکل محکم ہے، اس میں کسی طرح نسخ کا دخل نہیں، نہ کوئی تخصیص ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح آیت تحلیل بھی محکم ہی ہونی چاہیئے۔
یعنی فرمان باری تعالیٰ آیت «يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ» ۱؎ [5-المائدہ:4] ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کیلئے حلال کیا ہے تو کہدے کہ تمام طیب چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں ‘۔
جب دونوں آیتیں محکم اور غیر منسوخ ہیں تو یقیناً ان میں تعارض نہ ہونا چاہیئے لہٰذا حدیث کو اس کی وضاحت کیلئے سمجھنا چاہیئے اور تیر کا واقعہ اسی کی شہادت دیتا ہے، جس میں یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت میں یہ صورت واضح طور پر شامل ہے کہ آنی اور دھار تیزی کی طرف سے زخم کرے تو جانور حلال ہو گا، کیونکہ وہ (طیبات) میں آگیا۔
ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ آیت تحریم میں کون سی صورت شامل ہے۔ یعنی وہ صورت جس میں جانور کی موت تیر کی چوڑائی کی چوٹ سے ہوئی ہے، وہ حرام ہو گیا جسے کھایا نہیں جائے گا۔ اس لیے کہ وہ «وقیذ» ہے اور «وقیذ» آیت تحریم کا ایک فرد ہے، ٹھیک اسی طرح اگر شکاری کتے نے جانور کو اپنے دباؤ زور بوجہ اور سخت پکڑ کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو وہ «نطیح» ہے یا «فطیح» یعنی ٹکر اور سینگ لگے ہوئے کے حکم میں ہے اور حلال نہیں، ہاں اگر اسے مجروح کیا ہے تو وہ آیت تحلیل کے حکم میں ہے اور یقیناً حلال ہے۔
دیکھئیے چونکہ کتے کے شکار میں یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے وہ اپنے کئے ہوئے شکار میں سے کچھ کھا لے، اس لیے یہ حکم صراحت کے ساتھ الگ بیان فرما دیا اور ارشاد ہوا کہ{ اگر وہ خود کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ، ممکن ہے کہ اس نے خود اپنے لیے ہی شکار کو روکا ہو}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1929] یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے اور یہ صورت اکثر حضرات کے نزدیک آیت تحلیل کے عموم سے مخصوص ہے اور ان کا قول ہے کہ جس شکار کو کتا کھا لے اس کا کھانا حلال نہیں۔
امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم بھی اپنے قدیم قول میں اسی طرف گئے ہیں اور قول جدید میں دونوں قولوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جیسے کہ امام ابو منصور بن صباغ وغیرہ نے کہا ہے۔
ابوداؤد میں قوی سند سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام تو نے لے لیا ہو تو کھا لے، گو اس نے بھی اس میں سے کھا لیا ہو اور کھا لے اس چیز کو جسے تیرا ہاتھ تیری طرف لوٹا لائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:حدیث2852،قال الشيخ الألباني:-منکر] نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔
تفسیر ابن جریر میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا، اس نے شکار کو پکڑا اور اس کا کچھ گوشت کھا لیا تو اسے اختیار ہے کہ باقی جانور یہ اپنے کھانے کے کام میں لے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11214] اس میں اتنی علت ہے کہ یہ موقوفاً سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے قول سے مروی ہے، جمہور نے سیدنا عدی رضی اللہ عنہ والی حدیث کو اس پر مقدم کیا ہے اور ابوثعبلہ وغیرہ کی حدیث کو ضعیف بتایا ہے۔
اب رہے شکاری پرند تو امام شافعی رحمة الله نے صاف کہا ہے کہ یہ کتے کے حکم میں ہیں۔ تو اگر یہ شکار میں سے کچھ کھا لیں تو شکار کا کھانا جمہور کے نزدیک تو حرام ہے اور دیگر کے نزدیک حلال ہے، ہاں مزنی کا مختار یہ ہے کہ گوشکاری پرندوں نے شکار کا گوشت کھا لیا ہو تاہم وہ حرام نہیں۔
یہی مذہب ابوحنیفہ اور احمد رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ اس لیے کہ پرندوں کو کتوں کی طرح مار پیٹ کر سدھا بھی نہیں سکتے اور وہ تعلیم حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے کھائے نہیں، یہاں بات معاف ہے اور اس لیے بھی کہ نص کتے کے بارے میں وارد ہوئی ہے پرندوں کے بارے میں نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تُحِلُّوا شعائر الله}؛ أي: محرَّماته التي أمركم بتعظيمها وعدم فعلها؛ فالنهي يشمَل النهي عن فعلها والنهي عن اعتقاد حِلِّها؛ فهو يشمل النهي عن فعل القبيح وعن اعتقاده، ويدخل في ذلك النهي عن محرَّمات الإحرام ومحرَّمات الحرم، ويدخُل في ذلك ما نصَّ عليه بقولِهِ: {ولا الشَّهْرَ الحرام}؛ أي: لا تنتهكوه بالقتال فيه وغيره من أنواع الظلم؛ كما قال تعالى: {إنَّ عدَّة الشُّهورِ عند الله اثنا عشَرَ شهراً في كتاب الله يوم خَلَقَ السمواتِ والأرضَ منها أربعةٌ حُرُمٌ ذلك الدِّين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم}.
والجمهور من العلماء على أنَّ القتال في الأشهر الحُرُم منسوخٌ بقوله تعالى: {فإذا انْسَلَخَ الأشهرُ الحُرُم فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم}، وغير ذلك من العمومات التي فيها الأمرُ بقتال الكفار مطلقاً والوعيدُ في التخلُّف عن قتالهم مطلقاً، وبأنَّ النبي - صلى الله عليه وسلم - قاتل أهل الطائف في ذي القعدة، وهو من الأشهر الحرم.
وقال آخرون: إن النهي عن القتال في الأشهر الحُرُم غير منسوخ لهذه الآية وغيرها مما فيه النهي عن ذلك بخصوصه، وحملوا النُّصوص المطلقة الواردة على ذلك وقالوا: المُطْلَق يُحْمَل على المقيَّد. وفصَّل بعضهم فقال: لا يجوز ابتداء القتال في الأشهر الحرم، وأمَّا استدامتُهُ وتكميلُه إذا كان أوله في غيرها؛ فإنه يجوز، وحملوا قتال النبي - صلى الله عليه وسلم - لأهل الطائف على ذلك؛ لأنَّ أول قتالهم في حنين في شوَّال.
وكل هذا في القتال الذي ليس المقصود منه الدفع، فأمَّا قتال الدفع إذا ابتدأ الكفار المسلمين بالقتال؛ فإنه يجوز للمسلمين القتال دفعاً عن أنفسهم في الشهر الحرام وغيره بإجماع العلماء.
وقوله: {ولا الهديَ ولا القلائد}؛ أي: ولا تُحِلُّوا الهدي الذي يُهدى إلى بيت الله في حجٍّ أو عمرة أو غيرهما من نَعَم وغيرها؛ فلا تصدُّوه عن الوصول إلى مَحِلِّه، ولا تأخذوه بسرقة أو غيرها، ولا تقصِّروا به أو تحمِّلوه مالا يطيق خوفاً من تلفه قبل وصوله إلى مَحِلِّه، بل عظِّموه وعظِّموا من جاء به. {ولا القلائد}: هذا نوع خاص من أنواع الهدي، وهو الهدي الذي يُفْتَلُ له قلائد أو عُرىً، فيجعل في أعناقه؛ إظهاراً لشعائر الله، وحملاً للناس على الاقتداء، وتعليماً لهم للسنة، وليُعْرَفَ أنه هديٌ فَيُحْتَرم، ولهذا كان تقليد الهدي من السنن والشعائر المسنونة.
{ولا آمِّينَ البيتَ الحرام}؛ أي: قاصدين له، {يبتغون فضلاً من ربِّهم ورضواناً}؛ أي: من قَصَدَ هذا البيت الحرام، وقَصْدُهُ فضلُ الله بالتجارة والمكاسب المباحة، أو قصدُهُ رضوانُ الله بحجِّهِ وعمرتِهِ والطواف به والصلاة وغيرها من أنواع العبادات؛ فلا تتعرَّضوا له بسوءٍ ولا تُهينوه، بل أكرِموه وعظِّموا الوافدين الزائرين لبيت ربِّكم. ودخل في هذا الأمرِ الأمرُ بتأمين الطرق الموصلة إلى بيت الله، وجعل القاصدين له مطمئنِّين مستريحين غير خائفين على أنفسهم من القتل فما دونهَ ولا على أموالهم من المَكْس والنَّهب ونحو ذلك. وهذه الآية الكريمة مخصوصة بقوله تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا إنَّما المشرِكون نَجَسٌ فلا يَقْرَبوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا}؛ فالمشرِكُ لا يمكَّنُ من الدخول إلى الحرم. والتخصيص في هذه الآية بالنهي عن التعرُّض لمن قَصَدَ البيت ابتغاء فضل الله أو رضوانه يدلُّ على أنَّ مَن قَصَدَهُ لِيُلْحِدَ فيه بالمعاصي؛ فإنَّ من تمام احترام الحرم صدَّ مَن هذه حاله عن الإفساد ببيت الله؛ كما قال تعالى: {ومَن يُرِدْ فيه بإلحادٍ بظُلمٍ نُذِقْهُ من عذابٍ أليم}.
ولما نهاهم عن الصيد في حال الإحرام؛ قال: {وإذا حللتُم فاصْطادوا}؛ أي: إذا حللتم من الإحرام بالحجِّ والعمرة، [وخرجتم من الحرم]؛ حلَّ لكم الاصطياد، وزال ذلك التحريم، والأمر بعد التحريم يَرُدُّ الأشياء إلى ما كانت عليه من قبل.
{ولا يَجْرِمَنَّكُم شَنآنُ قوم أن صدُّوكم عن المسجد الحرام أن تعتدوا}؛ أي: لا يحملنَّكم بغض قوم وعداوتهم واعتداؤهم عليكم حيث صدُّوكم عن المسجد على الاعتداء عليهم طلباً للاشتفاء منهم؛ فإنَّ العبد عليه أن يلتزمَ أمر الله ويسلك طريق العدل، ولو جُنِيَ عليه أو ظُلِمَ واعْتُدِيَ عليه؛ فلا يَحِلُّ له أن يكذِبَ على من كذب عليه أو يخون مَن خانه.
{وتعاوَنوا على البِرِّ والتَّقوى}؛ أي: ليُعِنْ بعضكم بعضاً على البرِّ، وهو اسم جامع لكل ما يحبُّه الله ويرضاه من الأعمال الظاهرة والباطنة من حقوق الله وحقوق الآدميين، والتقوى في هذا الموضع اسم جامع لِتَرْكِ كلِّ ما يكرهه الله ورسوله من الأعمال الظاهرة والباطنة، وكل خصلة من خصال الخير المأمور بفعلها، أو خصلةٍ من خصال الشرِّ المأمور بتركها؛ فإن العبد مأمورٌ بفعلها بنفسه وبمعاونة غيره من إخوانه المؤمنين عليها بكلِّ قول يَبعث عليها وينشِّطُ لها وبكل فعل كذلك. {ولا تعاونَوا على الإثم}: وهو التَّجَرِّي على المعاصي التي يأثم صاحبُها ويُحَرَّجُ، {والعدوان}: وهو التعدِّي على الخلق في دمائهم وأموالهم وأعراضهم؛ فكلُّ معصية وظلم يجب على العبد كفُّ نفسِهِ عنه، ثم إعانة غيره على تركه.
{واتقوا الله إن الله شديدُ العقاب}: على من عصاه وتجرَّأ على محارِمِه؛ فاحذروا المحارمَ؛ لئلا يحلَّ بكم عقابُه العاجل والآجل.