تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ ……:} شکاری جانور سے ہر وہ درندہ اور پرندہ مراد ہے جسے شکار کے لیے رکھا اور سدھایا جاتا ہے، مثلاً کتا، چیتا، باز اور شکرا وغیرہ اور اس کے ”سدھائے ہوئے “ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ شکار پر چھوڑا جائے تو اسے اپنے مالک کے لیے پکڑ کر رکھے، اگر وہ خود شکار پکڑ کر کھانے لگے تو وہ شکار کھانا درست نہیں اور یہی معنی {”مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ“} کے ہیں۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑو اور اﷲ کا نام لو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑے اسے کھا لو۔“ میں نے کہا: ”خواہ وہ اسے قتل کر دے؟“ فرمایا: ”خواہ وہ اسے قتل کر دے، بشرطیکہ قتل میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں سے نہ ہو، کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اﷲ کا نام لیا ہے، کسی دوسرے پر نہیں لیا۔“ [بخاری، الذبائح والصید، باب صید المعراض: ۵۴۷۶۔ مسلم: 1929/1]
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم اپنا کتا چھوڑو اور وہ تمھارے لیے پکڑ کر رکھے اور اسے زندہ پا لو تو اسے ذبح کر لو اور اگر تم اسے پاؤ کہ اس نے قتل کر دیا ہے لیکن اسے خود نہیں کھایا تو پھر تم اسے کھا لو، کیونکہ کتے کا اسے پکڑنا ہی ذبح کرنا ہے۔“ [بخاری، الذبائح والصید، باب التسمیۃ علی الصید: ۵۴۷۵۔ مسلم: 1929/6]
➌ {وَ اتَّقُوا اللّٰهَ:} یعنی اگر حلال ہونے کی کوئی شرط کم ہے تو شکار کھانے کے شوق میں اﷲ سے بے خوف ہو کر اسے مت کھاؤ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو تو ان کا کیا ہوا شکار کھا لو۔“
[مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم اپنا تیر چھوڑو تو بسم اللہ کہہ لو۔“
[مسلم۔ ايضاً]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم تیر چھوڑو اور شکار غائب ہو جائے تو جب ملے اسے کھا سکتے ہو بشرطیکہ سڑ نہ جائے۔“
[مسلم۔ کتاب الصید و الذبائح، باب اذاغاب عنہ الصید ثم وجدہ]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم شکار پر تیر چھوڑو۔ پھر اس شکار کو ایک یا دو دن کے بعد پاؤ۔ پھر دیکھو کہ اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں تو اسے کھا سکتے ہو۔ اور اگر وہ شکار پانی میں گر پڑا ہو تو اسے مت کھاؤ۔“
[بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الصید اذا غاب عنہ یومین اوثلاثہ]
5۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری (پھینک کر شکار کرنے) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اس کے ذریعہ شکار نہ کیا جائے۔
[بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الخذف والبندقۃ۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اباحۃ مایستعان بہ علی الاصطیاد]
6۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کر دیا ہے لہٰذا جب تم کسی جاندار کو مارو یا ذبح کرو تو احسن طریقہ سے مارو (یعنی اپنی چھری وغیرہ کو خوب تیز کر لو۔ تاکہ اس مذبوحہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو)“
[مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الامر باحسان الذبح والقتل]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئیے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں ‘۔ سورۃ الأعراف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ «وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ”قبیلہ طائی کے دو شخصوں عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہو چکا اب حلال کیا ہے؟ اس پر یہ آیت اتری۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں۔“ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں عبد الله بن لهيعة ضعیف ہے]
’ اور تمہارے لیے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے ‘ مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شِکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین ائمہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”شکاری سدھائے ہوئے کتے، باز، چیتے، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جا سکتا ہو“ اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:548/9] کہ ”پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کر لے، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے۔“
لیکن مجاہد رحمة الله سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں آیت «وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ» ۱؎ [5-المائدہ:4] پڑھا ہے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”باز وغیرہ پرند جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھا لو ورنہ نہ کھاؤ“، لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے۔
امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کر لیا ہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں، گدھا، عورت اور سیاہ کتا۔ اس پر ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شیطان ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:510]
شکاری حیوانات کو جوارح اس لیے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو، جیسے عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ جَرَحَ اَهْلَهُ خَیْراً» یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کر لی اور عرب کہتے ہیں «فُلاَنٌ لَاَّ جَارِحَ لَهُ» شخص کا کوئی کماؤ نہیں، قرآن میں بھی لفظ جرح کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے فرمان ہے آیت «وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [6-الأنعام:60] یعنی ’ دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے ‘۔
اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس امت کے قتل کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ان سے ہمارے لیے کیا فائدہ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور «بِسْمِ اللَّـهِ» بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھا لے } }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ { مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں }، ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ”میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا، ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ { اسے بھی باقی نہ چھوڑو }، ”میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا۔“
اب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جس امت کے قتل کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لیے حلال بھی ہے یا نہیں؟ اس پر آیت «يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ» الخ، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:311/2:ضعیف]
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے «مُکَلِّبِیْنَ» کا لفظ ممکن ہے کہ «عَلَّمْـتُمْ» کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ «جَوَارِح» یعنی مقتول کا حال ہو۔ یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں، اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہو گا۔
جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔
اسی لیے فرمایا ’ تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھا رکھا ہے ‘ یعنی جب تم چھوڑو، جائے، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لیے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو، اس نے خود اپنے لیے اسے شکار نہ کیا ہو۔
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو، اس پر اجماع ہے۔
دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں کہ { جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لیے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لیے کہ کتے کا اسے شکار کر لینا ہی اس کا ذبیحہ ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5484]
اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ { اگر اس نے کھا لیا ہو تو پھر اسے نہ کھا، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:5487]
یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی رحمہ اللہ کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھا لے تو وہ مطلق حرام ہو جاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔
اسی کی طرف امام شافعی رحمة الله اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھا لیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے } }۔
اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا سلمان سے سننامعلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ سلمان کا قول نقل کرتے ہیں یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں۔
انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے؟ فرمایا: { اسے بھی تو کھا سکتا ہے }، پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کر سکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مر جائے تو بھی؟ فرمایا { بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو }، انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لیے کیسا ہے؟ فرمایا { تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2857،قال الشيخ الألباني:حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر] یہ حدیث نسائی میں بھی ہے
ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں اور حدیث میں ہے کہ { تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لیے کھیلے تو اسے کھا لے، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھا لیا ہو فرمایا: { ہاں پھر بھی } }۔
ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھا لیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔ کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔ ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھا لیا تو بقیہ حلال۔ پہلی بات پر محمول ہے عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔ یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔
استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارہ میں یہ وضاحت کرے تو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» یہ وضاحت لوگوں نے کرلی۔
پھر فرمایا: { جسے کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھا لے میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہو فرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو } میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں؟ تو؟ فرمایا: { پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے }۔ میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کون سا حلال ہے؟ فرمایا { جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھا لے } }۔ ۱؎ [ضعیف]
وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہو گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جیسے کہ عدی اور ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے ۱؎ [صحیح بخاری:5478] اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا شرط ہے۔ جمہور کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔“ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ» پڑھنا ہے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابوسلمہ کے ربیبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ { اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5376]
صحیح بخاری شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں؟ تو کیا ہم اسے کھالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھا لو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5507]
مسند میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کر دو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہو جاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آ جائے کہدے «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» } }۔ ۱؎ [مسند احمد:143/6:حسن بالشواهد] یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3264،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جابربن صبیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی رحمہ اللہ کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» کہہ لیا کرتے میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے خالد بن امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھاتے ہوئے دیکھا کہ اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہیں پڑھی، یہاں تک کہ جب آخر میں پہنچا تو بولا «بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلِہُ وَ اٰخِرِہُ» ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہا جب تک اس نے «بِسْمِ اللَّـهِ» نہ کہہ لی، پھر تو شیطان نے قے کرکے سارا کھانا اپنے پیٹ سے نکال دیا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3768،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی رحمہ اللہ علیہم تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔
مسند، ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ { ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور «بِسْمِ اللَّـهِ» کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3764،قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {يسألونك ماذا أُحِلَّ لهم}: من الأطعمة، {قل أُحِلَّ لكم الطَّيباتُ}: وهي كلُّ ما فيه نفعٌ أو لَذَّةٌ من غير ضررٍ بالبدن ولا بالعقل، فدخل في ذلك جميع الحبوب والثمار التي في القرى والبراري، ودخل في ذلك جميع حيوانات البحر وجميع حيوانات البرِّ؛ إلا ما استثناه الشارع كالسباع والخبائث منها. ولهذا دلَّت الآية بمفهومها على تحريم الخبائث؛ كما صرَّح به في قوله تعالى: {ويُحِلُّ لهم الطَّيِّبات ويحرِّمُ عليهم الخبائثَ}، {وما علَّمْتُم من الجوارح}؛ أي: وأُحِلَّ لكم ما عَلَّمْتُم من الجوارح ... إلى آخر الآية.
دلَّت هذه الآية على أمور:
أحدها: لطف الله بعبادِهِ ورحمته لهم حيثُ وسَّع عليهم طرق الحلال، وأباح لهم ما لم يُذَكُّوه مما صادته الجوارح، والمراد بالجوارح الكلاب والفهود والصقر ونحو ذلك مما يصيد بنابه أو بمخلبه.
الثاني: أنه يشترط أن تكون معلَّمة بما يُعَدُّ في العرف تعليماً؛ بأن يسترسل إذا أرسل، وينزجر إذا زجر، وإذا أمسك لم يأكل، ولهذا قال: {تعلِّمونهن مما علَّمكم الله فكلوا مما أمْسَكْنَ عليكم}؛ أي: أمسكن من الصيد لأجلكم، وما أكل منه الجارح؛ فإنَّه لا يعلم أنه أمسكه على صاحبه، ولعلَّه أن يكون أمسكه على نفسه.
الثالث: اشتراط أن يجرحه الكلب أو الطير ونحوهما؛ لقوله: {من الجوارح}؛ مع ما تقدم من تحريم المنخنقة؛ فلو خنقه الكلب أو غيره أو قتله بثقله؛ لم يُبَحْ، هذا بناء على أن الجوارح اللاتي يجرحن الصيد بأنيابها أو مخالبها، والمشهور أن الجوارح بمعنى الكواسب؛ أي: المحصِّلات للصيد والمدركات له، فلا يكون فيها على هذا دلالة. والله أعلم.
الرابع: جواز اقتناء كلب الصيد؛ كما ورد في الحديث الصحيح ، مع أنَّ اقتناء الكلب محرَّم؛ لأن من لازم إباحة صيده وتعليمه جواز اقتنائه.
الخامس: طهارة ما أصابه فمُ الكلب من الصيدِ؛ لأن الله أباحه ولم يذكر له غسلاً، فدلَّ على طهارته.
السادس: فيه فضيلةُ العلم، وأنَّ الجارح المعلَّم بسبب العلم يُباح صيده والجاهل بالتعليم لا يُباح صيده.
السابع: أنَّ الاشتغال بتعليم الكلب أو الطير أو نحوهما ليس مذموماً وليس من العَبَث والباطل، بل هو أمرٌ مقصودٌ؛ لأنَّه وسيلة لحِلِّ صيده والانتفاع به.
الثامن: فيه حجة لمن أباح بيع كلب الصيد؛ قال: لأنه قد لا يحصُل له إلا بذلك.
التاسع: فيه اشتراط التسمية عند إرسال الجارح، وأنَّه إن لم يسمِّ الله متعمداً؛ لم يُبَحْ ما قتل الجارح.
العاشر: أنه يجوز أكل ما صاده الجارح، سواء قتله الجارح أم لا، وأنه إن أدركه صاحبه وفيه حياة مستقرة؛ فإنه لا يباح إلا بها.
ثمَّ حثَّ تعالى على تقواه وحذَّر من إتيان الحساب في يوم القيامة، وأنَّ ذلك أمر قد دنا واقترب، فقال: {واتَّقوا الله إنَّ الله سريعُ الحساب}.