تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {بِالْعُقُوْدِ:} یہ {” عَقْدٌ “} کی جمع ہے جس کا معنی گرہ لگانا ہے، عہد و پیمان کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ وہ بھی گرہ کی طرح پختہ کیا جاتا ہے، مراد شریعت کے احکام ہیں۔ دوسری جگہ عقد کو عہد سے بھی تعبیر کیا ہے، فرمایا: «وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ» [البقرۃ: ۴۰] ”اور تم میرا عہد پورا کرو۔“ اس میں آپس کے عہد و پیمان بھی شامل ہیں۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے، اس کے بعد نیچے اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ (کبیر، ابن کثیر)
➌ {اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ: ”بَهِيْمَةُ“ } سے مراد درندوں کو چھوڑ کر باقی چوپائے ہیں، وہ سب حلال ہیں، خواہ پالتو ہوں یا وحشی، مثلاً ہرن، نیل گائے وغیرہ، سوائے ان کے جن کا نام لے کر قرآن یا حدیث میں حرام کہا گیا ہے، مثلاً گدھا وغیرہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ(۱۷۳) { ”الْاَنْعَامِ“ } سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۲ تا ۱۴۴)۔
➍ {اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ:} اس کی تفسیر اسی سورت کی آیت (۳) میں آ رہی ہے۔
➎ {غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ: ”حُرُمٌ“} یہ {”حَرَامٌ “} کی جمع ہے، جس نے عمرہ یا حج کا احرام باندھا ہو، اسی طرح جو شخص مکہ کی حدود حرم میں ہو، خواہ احرام نہ باندھا ہو، اس حالت میں شکار بھی ممنوع ہے اور شکار کرنے والے کی کسی طریقے سے مدد کی بھی ممانعت آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۹۵، ۹۶) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو بھی حرم قرار دیا، اس کی حدود میں بھی شکار منع ہے۔ [بخاری، فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ: ۱۸۶۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اکل کل ذی ناب من السباع۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب تحریم اکل ذی ناب]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شکاری پرندے کو حرام قرار دیا جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے۔
[حواله ايضاً]
[3] یعنی اس سورۃ کی تیسری آیت میں بیان ہوں گے۔
[بخاری کتاب الجہاد۔ باب اسم الفرس والحمار]
پھر جس طرح احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں بھی شکار کرنا حرام اور ممنوع ہے فرق صرف یہ ہے کہ حرم مکہ میں کسی وقت بھی شکار نہیں کیا جا سکتا خواہ کوئی احرام کی حالت میں ہو یا نہ ہو۔ جبکہ احرام باندھنے والا احرام کھولنے کے بعد حرم مکہ کے علاوہ دوسرے مقامات سے شکار کر سکتا ہے اور جس طرح احرام کی چند ایک پابندیاں ہیں اسی طرح حرم مکہ کی بھی ہیں۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ حج کی آیت نمبر 25 کا حاشیہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔“
خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» کے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» ہے۔
ایک روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ ”جہاں کہیں لفظ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا» ہے، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا“، یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بے دلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔
اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو بجز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ آیت «ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ» ۱؎ [58-المجادلہ:13]، لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا۔
پس حقیقتاً کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورۃ الأنفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کے باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے باقی سب کو ہے، جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں ”عقود سے مراد عہد ہیں۔“ ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے پڑھو آیت «وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» [13-الرعد:25] تک۔“
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ چھ عہد ہیں، اللہ کا عہد، آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد، شرکت کا عہد، تجارت کا عہد، نکاح کا عہد اور قسمیہ وعدہ۔“
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ”پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔“ امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے۔
صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ { جب وہ شخصوں نے خرید و فروخت کرلی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2111]
یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خرید و فروخت پورے ہوچکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہو جانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ مویشی چوپائے تمہارے لیے حلال کئے گئے ہیں ‘ یعنی اونٹ، گائے، بکری۔ ابوالحسن، قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے۔“ سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ”جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔“
ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر چاہو کھا لو، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذیبحہ ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2827،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں۔
ابوداؤد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2828،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوئے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“
پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا فرمان آیت «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدہ:3] ہے یعنی تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر منسوب و مشہور کی جائے اور جو گلا گھونٹنے سے مر جائے، کسی ضرب سے مر جائے، اونچی جگہ سے گر کر مر جائے اور کسی ٹکر لگنے سے مر جائے، جسے درندہ کھانے لگے پس یہ بھی گو مویشیوں چوپایوں میں سے ہیں لیکن ان وجوہ سے وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس کے بعد فرمایا ’ لیکن جس کو ذبح کر ڈالو ‘۔
جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لیے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا۔ پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ ’ چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا ‘۔
بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔ مراد انعام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کرلیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سے احرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے ’ ہم نے تمہارے لیے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو ‘۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے، اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔
جیسے ارشاد ہے آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ» ۱؎ [2-البقرۃ:217] ’ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) لوگ تم سے حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کا حکم پوچھتے ہیں تم ان سے کہو کہ ان میں لڑائی کرنا گناہ ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا» ۱؎ [9-التوبة:36] ’ مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے ‘۔
صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الودع میں فرمایا: { زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آگیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3197] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے۔
ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:5] یعنی ’ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ ‘ اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گزر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گزر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر رحمہ اللہ تو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔“
آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لیے امن و امان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔“ اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہو سکتی۔
پھر فرمایا کہ ’ «ھَدْی» اور «قَلاَئِد» کی بے حرمتی بھی مت کرو ‘۔ یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لیے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تاکہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لیے اللہ کی راہ کے لیے وقف ہو چکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔
بعض سلف کا فرمان ہے کہ ”تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔“
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2804،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔“
پھر فرماتا ہے ’ جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو ‘۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضا مندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔
بعض کا قول ہے کہ ”اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔“ جیسے اس آیت میں ہے «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ» [2-البقرۃ:198] یعنی ’ زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ‘۔
«رِضْوَانْ» سے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”یہ آیت خطیم بن ہند بکری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ ”جو مشرک مسلمانوں کی امان لیے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں ‘۔ فرمان ہے آیت «إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [9-التوبة:18] یعنی ’ اللہ کی مسجد کو تو صرف وہی آباد رکھ سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں ‘۔ پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے۔“
قتادہ رحمة الله فرماتے ہیں آیت «وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ» الخ، منسوخ ہے، جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے، اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ» ۱؎ [9-التوبة:5] ’ مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کر سکتے ہو ‘۔ احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہوگئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہوگا، اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔
گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کیلئے ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض سلف کا قول ہے کہ ”گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہیئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے، عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہ رضی اللہ عنہم واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:478/9:ضعیف و مرسل] اس پر یہ آیت اتری «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا» [5-المائدة:8]۔
«شَنَآنُ» کے معنی بغض کے ہیں بعض عرب اسے «شَنَانْ» بھی کہتے ہیں لیکن کسی قاری کی یہ قرأت مروی نہیں، ہاں عربی شعروں میں «شَنَانْ» بھی آیا ہے۔ جیسے کہ شاعر کہتا ہے ؎ «ومَا الْعَيْشُ إِلَّا مَا تُحِبُّ وَتَشْتَهِي» «وَإِنْ لَامَ فِيهِ ذُو الشَّنَّانِ وفَنَّدَا»
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ «إِثْمِ» ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کر دی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے نکل جانا «عُدْوَانَ» ہے۔
مسند احمد میں ہے { جو مسلمان لوگوں سے ملے جلے اور دین کے حوالے سے ان کی ایذاؤں پر صبر کرے وہ ان مسلمانوں سے بڑے اجر والا ہے، جو نہ لوگوں سے ملے جلے، نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2507،قال الشيخ الألباني:صحیح]
امام ابوبکر بزار رحمہ اللہ اسے بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔“ لیکن میں کہتا ہوں اس کی شاہد یہ صحیح حدیث ہے کہ { جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو بلائے، اسے ان تمام کے بابر ثواب ملے گا جو قیامت تک آئیں گے اور اس کی تابعداری کریں گے۔ لیکن ان کے ثواب میں سے گھٹا کر نہیں اور جو شخص کسی کو برائی کی طرف چلائے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی کو کریں گے۔ ان سب کا جتنا گناہ ہو گا، وہ سارا اس اکیلے کو ہو گا۔ لیکن ان کے گناہ گھٹا کر نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674]
طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے تاکہ اس کی اعانت و امداد کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے وہ یقیناً دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:5367،ضعیف جدا]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا أمر من الله تعالى لعباده المؤمنين بما يقتضيه الإيمان بالوفاء بالعقود؛ أي: بإكمالها وإتمامها وعدم نقضها ونقصها، وهذا شامل للعقود التي بين العبد وبين ربِّه من التزام عبوديته؛ والقيام بها أتم قيام، وعدم الانتقاص من حقوقها شيئاً، والتي بينه وبين الرسول بطاعته واتباعه، والتي بينه وبين الوالدين والأقارب ببرِّهم وصلتهم وعدم قطيعتهم، والتي بينه وبين أصحابه من القيام بحقوق الصحبة في الغنى والفقر واليسر والعسر، والتي بينه وبين الخلق من عقود المعاملات كالبيع والإجارة ونحوهما، وعقود التبرعات كالهبة ونحوها، بل والقيام بحقوق المسلمين التي عقدها الله بينهم في قوله: {إنما المؤمنون إخوة}، [بالتناصر] على الحقِّ والتعاون عليه والتآلف بين المسلمين وعدم التقاطع؛ فهذا الأمر شامل لأصول الدين وفروعه؛ فكلُّها داخلةٌ في العقود التي أمر الله بالقيام بها [ويستدل بهذه الآية أن الأصل في العقود والشروط الإباحة، وأنها تنعقد بما دلَّ عليها من قول أو فعل لإطلاقها].
ثم قال ممتنًّا على عباده: {أحِلَّت لكم}؛ أي: لأجلكم، رحمة بكم، {بهيمة الأنعام}: من الإبل والبقر والغنم، بل ربَّما دَخَلَ في ذلك الوحشي منها والظباء وحمر الوحش ونحوها من الصيود. واستدل بعض الصحابة بهذه الآية على إباحة الجنين الذي يموت في بطن أمِّه بعدما تذبح. {إلَّا ما يُتْلى عليكم}: تحريمُه منها في قوله: {حُرِّمَتْ عليكُم الميتةُ والدَّمُ ولحمُ الخنزير ... } إلى آخر الآية؛ فإن هذه المذكورات وإن كانت من بهيمة الأنعام؛ فإنها محرمة.
ولما كانت إباحة بهيمة الأنعام عامة في جميع الأحوال والأوقات؛ استثنى منها الصيد في حال الإحرام، فقال: {غير مُحِلِّي الصيد وأنتم حُرُم}؛ أي: أحلت لكم بهيمة الأنعام في كلِّ حال؛ إلاَّ حيث كنتم متَّصفين بأنكم غير محلِّي الصيد وأنتم حرم؛ أي: متجرِّئون على قتله في حال الإحرام؛ فإنَّ ذلك لا يحل لكم إذا كان صيداً؛ كالظباء ونحوه، والصيد هو الحيوان المأكول المتوحش. {إنَّ الله يحكُم ما يريدُ}؛ أي: فمهما أراده تعالى؛ حَكَمَ به حكماً موافقاً لحكمتِهِ؛ كما أمركم بالوفاء بالعقود؛ لحصول مصالحكم ودفع المضارِّ عنكم، وأحلَّ لكم بهيمة الأنعام رحمةً بكم، وحرم عليكم ما استثنى منها من ذوات العوارض من الميتة ونحوها صوناً لكم واحتراماً، ومن صيد الإحرام احتراماً للإحرام وإعظاماً.