تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[34] اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ معیت چار باتوں سے مشروط تھا۔
(1) بنی اسرائیل نماز کو قائم کرتے رہیں (2) زکوٰۃ ادا کرتے رہیں (3) بعد میں جو رسول مبعوث ہوں ان پر ایمان بھی لائیں اور ان کی جان اور مال سے مدد بھی کریں اور (4) لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتے رہیں۔ گویا جو ذمہ داری ان نقیبوں پر ڈالی گئی تھی ان میں سے مذکورہ چار کام سب سے اہم تھے اور ان سے عہد یہ تھا کہ اگر وہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے تو یقیناً اللہ ان کے ساتھ ہو گا اور ان کی ہر معاملہ میں مدد فرمائے گا۔
[35] برائیاں دور کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص نیکی کے مذکورہ بالا بڑے بڑے کاموں میں لگا رہے اس کا ذہن برائیوں کی طرف منتقل ہوتا ہی نہیں اور وہ برائیوں سے بچا رہتا ہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ان سے کچھ برائیاں سرزد ہو بھی جائیں تو وہ ایسی بڑی نیکیوں کے تلے دب جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر گرفت ہی نہیں فرماتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کاجدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یاسخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، سعد بنی خیشمہ اور رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہم اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابوامامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش رضی اللہ عنہم اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے در پے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔
بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے امام مہدی رحمة الله ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آ چکی ہے ان کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا اور ان کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا ہو گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی ۱؎ [سنن ابوداود:4282،قال الشيخ الألباني:صحیح]
لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه أخذ على بني إسرائيل الميثاق الثقيل المؤكَّد، وذكر صفة الميثاق وأجرهم إن قاموا به وإثمهم إن لم يقوموا به، ثم ذَكَر أنَّهم ما قاموا به، وذكَرَ ما عاقبهم به، فقال: {ولقد أخَذَ الله ميثاق بني إسرائيل}؛ أي: عهدهم المؤكد الغليظ، {وبَعَثْنا منهم اثني عشر نقيباً}؛ أي: رئيساً وعريفاً على من تحته؛ ليكون ناظراً عليهم حاثًّا لهم على القيام بما أمروا به مطالباً يدعوهم، {وقال الله}: للنقباء الذين تحمَّلوا من الأعباء ما تحمَّلوا: {إني معكم}؛ أي: بالعون والنصر؛ فإن المعونة بقدر المؤنة. ثم ذكر ما واثقهم عليه فقال: {لئن أقمتُمُ الصلاةَ}: ظاهراً وباطناً بالإتْيان بما يلزمُ وينبغي فيها والمداومة على ذلك، {وآتيتُم الزَّكاة}: لمستحقيها، {وآمنتُم برسلي}: جميعهم، الذين أفضلهم وأكملهم محمد - صلى الله عليه وسلم -. {وعزَّرْتموهم}؛ أي: عظَّمتموهم، وأدَّيتم ما يجبُ لهم من الاحترام والطاعة، {وأقرضتُم الله قرضاً حسناً}: وهو الصدقة والإحسان الصادر عن الصِّدق والإخلاص وطيب المكسب؛ فإذا قمتم بذلك {لأكفِّرَنَّ عنكم سيِّئاتكم ولأدخِلَنَّكُم جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فجمع لهم بين حصول المحبوب بالجنَّة وما فيها من النعيم واندفاع المكروه بتكفير السيئات ودفع ما يترتَّب عليها من العقوبات. {فمَن كَفَرَ بعد ذلك}: العهد والميثاق المؤكَّد بالأيمان والالتزامات المقرون بالترغيب بذِكْر ثوابه، {فقد ضَلَّ سواء السبيل}؛ أي: عن عمدٍ وعلم، فيستحقُّ ما يستحقُّه الضَّالُّون من حرمان الثواب وحصول العقاب.