ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 13

فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ لَعَنّٰہُمۡ وَ جَعَلۡنَا قُلُوۡبَہُمۡ قٰسِیَۃً ۚ یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۙ وَ نَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوۡا بِہٖ ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَۃٍ مِّنۡہُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اصۡفَحۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
تو ان کے اپنے عہد کو توڑنے کی وجہ ہی سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ کلام کو اس کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور وہ اس میں سے ایک حصہ بھول گئے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتا رہے گا، سوائے ان کے تھوڑے سے لوگوں کے، سو انھیں معاف کردے اور ان سے درگزر کر۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرمادی اور ان کے دل سخت کر دیئے کہ وه کلام کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے، ان کی ایک نہ ایک خیانت پر تجھے اطلاع ملتی ہی رہے گی ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں پس توانہیں معاف کرتا جا اور درگزر کرتا ره، بےشک اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) ➊ {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ ……:} یعنی انھوں نے اپنے عہد و میثاق کی پاس داری کے بجائے سمع و طاعت کا وہ عہد توڑ دیا، نماز کو ضائع کرنا شروع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔(دیکھیے مریم: ۵۹) زکوٰۃ اور قرض حسنہ (صدقہ وغیرہ) کے بجائے بخل اور کمینگی کی انتہا کو پہنچ گئے اور سود لینا شروع کر دیا، رسولوں اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے اور جہاد کے ساتھ انھیں قوت دینے کے بجائے کتابوں میں تحریف کی اور جہاد میں جانے ہی سے صاف انکار کر دیا، تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جس کے نتیجے میں اﷲ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں میں نفاق بھر گیا۔ { قَسِيَّةٌ } یا { قَاسِيَةٌ} اصل میں اس سکے کو کہتے ہیں جس میں ملاوٹ ہو، یہ {قَسْوَةٌ } سے ہے جس کا معنی شدت اور سختی ہے۔ خالص سونا اور چاندی نرم ہوتے ہیں اور ان میں جتنی ملاوٹ زیادہ ہو اتنا ہی وہ زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، اس تشبیہ کی رعایت سے انھیں { قَاسِيَةٌ } فرمایا۔
➋ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ:} یعنی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ رکھ دیتے، یا اس کے اصل مفہوم کے بجائے کوئی غلط مفہوم نکال لیتے جسے تاویل باطل کہتے ہیں، اپنی اسی خست کی وجہ سے ہیرا پھیری کر کے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کو بدل ڈالا جو تورات میں مذکور تھیں۔ (قرطبی)
➌ {وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ:} یعنی انھوں نے تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، زانی کو سنگسار کرنا، سود کو حرام سمجھنا وغیرہ۔ افسوس اہل کتاب کی طرح مسلمانوں کی اکثریت نے بھی سمع و طاعت کو چھوڑا، نمازیں ضائع کیں، سود کھانے لگے، جہاد چھوڑ بیٹھے، باہمی فرقوں میں بٹ کر اﷲ کی کتاب میں تحریف کی حد تک تاویلیں کرنے لگے، تو نتیجہ بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا، مگر امید افزا بات یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ میں ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور حق کی خاطر لڑتے رہیں گے، انھی کو {عَلَي الْحَقِّ مَنْصُوْرِيْنَ} کہا گیا ہے۔ [مسلم، الإمارۃ، باب قولہ لا تزال طائفۃ……: ۱۰۳۷، بعد ح: ۱۹۲۳۔ ابن ماجہ: ۱۰]
➍ { خَآىِٕنَةٍ } مصدر ہے بر وزن { عَافِيَةٌ } بمعنی خیانت یعنی ان سے آئے دن کسی نہ کسی خیانت اور بد عہدی کا ظہور ہوتا رہے گا، یا اسم فاعل ہے کہ خیانت کرنے والی جماعت یا شخصیت یعنی ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیانت اور بدعہدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور آپ کو ہر گز ان کی طرف سے امن نصیب نہیں ہو گا۔ «‏‏‏‏اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ» یعنی ان میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو کسی خیانت و بد عہدی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ان سے خاص کر عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مراد ہیں، یا وہ لوگ جنھوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت اور بد عہدی نہیں کی۔ (کبیر)
➎ {فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ:} یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اور بد عہدیوں سے درگزر کیجیے نہ کہ ان بد عہدیوں سے جو اجتماعی (یا اجتماعی کے حکم میں) ہوں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضح حربی (جو حالت جنگ میں ہوں) قرار پائیں گے، جن کی سر کوبی بہرحال کی جائے گی۔ (المنار) یا یہ کہ جو ان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں، ان کی دوسری لغزشوں سے در گزر فرمائیں۔ (رازی) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی، ورنہ اسے قتال (لڑائی) کے حکم والی آیت سے منسوخ سمجھا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 یعنی اتنے انتظامات عہد موعید کے باوجود بنو اسرائیل نے عہد شکنی کی کہ جس کی بنا پر کہ وہ لعنت الٰہی کے موجب بنے، اس لعنت کے دینوی نتائج یہ سامنے آئے کہ ایک، ان کے دل سخت کردیئے گئے جس سے ان کے دل اثر پزیری سے محروم ہوگئے اور انبیاء کے وعظ و نصیحت ان کے لیے بےکار ہوگئے، دوسرے یہ کہ وہ کلمات الٰہی میں تحریف کرنے لگ گئے۔ اسی طرح اپنی بدعلت، خود ساختہ مزعومات اور اپنے تاویلات باطلہ کے اثبات کے لیے کلام الٰہی میں تحریف کر ڈالتے ہیں۔ 13۔ 2 یہ تیسرا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں انہیں کوئی رغبت اور دلچسپی نہیں رہی بلکہ بےعملی اور بدعملی ان کا شعار بن گئی اور وہ پستی کے اس مقام پر پہنچ گئے کہ ان کے دل ٹھیک رہے اور نہ ان کی فطرت مستقیم۔ 13۔ 3 یعنی شذر خیانت اور مکر ان کے کردار جزو بن گیا ہے جس کے نمونے ہر وقت آپ کے سامنے آتے رہیں گے۔ 13۔ 4 یہ تھوڑے سے لوگ وہی ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ 13۔ 5 عفو و درگزر کا یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ بعد میں اس کی جگہ حکم دیا گیا (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ) 9:29 ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے ' بعض کے نزدیک عفو و درگزر کا یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ ' یہ بجائے خود ایک اہم حکم ہے، حالات کے مطابق اسے بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس کے بھی بعض دفعہ وہ نتائج حاصل ہوجاتے ہیں جن کے لئے قتال کا حکم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ پھر چونکہ انہوں نے اپنے [37] عہد کو توڑ ڈالا لہذا ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیئے (اب ان کا حال یہ ہے کہ) کتاب اللہ کے کلمات کو ان کے موقع و محل [38] سے بدل ڈالتے ہیں اور جو ہدایات انہیں دی گئی تھیں ان کا اکثر حصہ بھول چکے ہیں۔ اور ماسوائے چند آدمیوں کے آپ کو آئے دن ان کی خیانتوں کا پتہ [39] چلتا رہتا ہے۔ لہذا انہیں معاف کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
[37] بنی اسرائیل کی اپنے عہد کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی:۔
بنی اسرائیل نے اپنے اس مضبوط عہد کی چنداں پروا نہ کی۔ قیام صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ میں غفلت برتی۔ زکوٰۃ کے بجائے بخل کی راہ اختیار کی اور قرضہ حسنہ دینے کی بجائے سود خوری اور حرام خوری شروع کر دی۔ اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا تو درکنار، جی بھر کر ان کی مخالفت کی اور بعض انبیاء کو ناحق قتل بھی کرتے رہے غرض یہ کہ اس عہد کی ایک ایک شق کو توڑنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جس کے عوض ہم نے ان پر لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا اور دوسری سزا یہ دی کہ ان کے دل سخت بنا دیئے جس کی وجہ سے ایک تو راہ حق قبول کرنے سے قاصر ہو گئے دوسرے آپس میں الفت و موانست کے جذبات کے بجائے ان میں خود غرضی، سنگدلی اور باہمی منافرت نے راہ پا لی۔
[38] ان دونوں سزاؤں کے مزید نتائج یہ نکلے کہ ان لوگوں نے کتاب اللہ میں تحریف شروع کر دی۔ فلسفیانہ موشگافیاں اور خود غرضانہ تاویلات کے ذریعہ کتاب کی اکثر آیات کا مفہوم ہی بدل ڈالا اور اسے کچھ کا کچھ بنا دیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ یہ بات تو انہوں نے یکسر چھوڑ ہی دی اور اس کے بجائے اپنا سارا زور الفاظ کی گتھیوں کو سلجھانے میں صرف کرنے لگے اور ایسا مطلب اخذ کرنا شروع کیا جو ان کی خواہش کے مطابق ہو۔ [نيز ديكهئے سورة نساء كا حاشيه نمبر 77۔ 1]
[39] یہ چند آدمی عبد اللہ بن سلام اور انہی کا سا راست باز ذہن رکھنے والے کچھ ساتھی تھے۔ ان کے علاوہ جتنے بھی یہودی تھے سب سازشی قسم کے لوگ، بد عہد اور خائن تھے اور موقع بہ موقع مسلمانوں کو ان کی سازشوں، کرتوتوں، بد عہدیوں اور خیانتوں کا از خود ہی پتا چلتا رہتا تھا۔ پھر چونکہ یہودیوں کی اکثریت ایسے ہی بد عہد اور خائن قسم کے لوگوں پر مشتمل تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان کی ہر قابل گرفت بات سے دل گرفتہ ہوں گے تو آپ کو یہ ایک الگ پریشانی لاحق ہو جائے گی لہٰذا ان کی باتوں کو درخور اعتناء سمجھنا چھوڑ دیجئے اور جن جن خیانتوں پر آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان سے محاسبہ نہ کیجئے۔ اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ آپ درگرز اور احسان کی راہ اختیار کیجئے۔ کیونکہ یہی راہ اللہ کو پسند ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا۔
لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔
چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے چشم پوشی کیجئے ‘، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔‏‏‏‏
اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گویا یوں کہا گیا ہے کہ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّؔیْثَاقَهُمْ تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں۔
(۱) ﴿لَعَنّٰهُمْ ہم نے ان پر لعنت کی۔ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
(۲) ﴿وَجَعَلْنَا قُ٘لُوْبَهُمْ قٰسِیَةً اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں۔
(۳) ﴿یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔
(۴) ﴿وَنَسُوْا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّ٘رُوْا بِهٖ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔
اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔
(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا: ﴿وَلَا تَزَالُ تَ٘طَّ٘لِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنْهُمْ اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں۔
پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں۔
جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا حصہ، نصیبہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰؔلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (القصص: 28؍79) قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (حم السجدۃ: 41؍35)یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِیْلًا مِّؔنْهُمْ تھوڑے آدمیوں کے سوا۔ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَ٘حْ پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں۔ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فكأنه قيل: ليت شعري! ماذا فعلوا؟ وهل وفوا بما عاهدوا الله عليه أم نكثوا؟ فبيَّن أنهم نقضوا ذلك، فقال: {فبما نَقْضِهِم ميثاقَهم}؛ أي: بسببه عاقبناهم بعدَّة عقوبات:

الأولى: أنّا {لَعَنَّاهم}؛ أي: طردناهم وأبعدناهم من رحمتنا، حيث أغلقوا على أنفسهم أبواب الرحمة، ولم يقوموا بالعهد الذي أخذ عليهم، الذي هو سببها الأعظم.

الثانية: قوله: {وجَعَلْنا قلوبَهم قاسيةً}؛ أي: غليظة لا تُجدي فيها المواعظ ولا تنفعُها الآيات والنُّذر؛ فلا يرغِّبهم تشويقٌ ولا يزعجهم تخويفٌ، وهذا من أعظم العقوبات على العبد؛ أن يكون قلبُه بهذه الصفة التي لا يفيده الهُدى والخيرُ إلاَّ شرًّا.

الثالثة: أنهم يحرِّفون الكلم من بعد مواضعِهِ؛ أي: ابتُلوا بالتغيير والتبديل، فيجعلون للكَلِم الذي أراد الله، معنىً غير ما أراده الله ولا رسوله.

الرابعة: أنَّهم {نَسوا حظًّا مما ذُكِّروا به }؛ فإنَّهم ذُكِّروا بالتوراة وبما أنزل الله على موسى فنسوا حظًّا منه، وهذا شاملٌ لنسيان علمه، وأنهم نسوه وضاع عنهم ولم يوجد كثيرٌ مما أنساهم الله إياه عقوبةً منه لهم، وشاملٌ لنسيان العمل الذي هو الترك، فلم يوفَّقوا للقيام بما أمروا به. ويستدلُّ بهذا على أهل الكتاب بإنكارهم بعض الذي قد ذُكِرَ في كتابهم أو وقع في زمانهم أنه مما نسوه.

الخامسة: الخيانة المستمرَّة التي {لا تزال تطَّلِع على خائنةٍ منهم}؛ أي: خيانةٍ لله ولعباده المؤمنين. ومن أعظم الخيانة منهم كتمهم عن من يَعِظُهم ويُحْسِن فيهم الظنَّ الحقَّ، وإبقاؤهم على كفرهم؛ فهذه خيانة عظيمة.

وهذه الخصال الذميمة حاصلة لكلِّ من اتصف بصفاتهم، فكلُّ من لم يَقُمْ بما أمر الله به وأخذ به عليه الالتزام؛ كان له نصيبٌ من اللَّعنة، وقسوة القلب، والابتلاء بتحريف الكلم، وأنه لا يوفَّق للصواب، ونسيان حظٍّ مما ذُكِّر به، وأنَّه لا بدَّ أن يُبتلى بالخيانة، نسأل الله العافية.

وسمى الله تعالى ما ذُكِّروا به حظًّا؛ لأنَّه هو أعظم الحظوظ، وما عداه؛ فإنَّما هي حظوظ دنيويَّة؛ كما قال تعالى: {فَخَرَجَ على قومه في زينتِهِ قال الذين يريدونَ الحياةَ الدُّنيا يا ليتَ لنا مثل ما أوتي قارونَ إنَّه لذو حَظٍّ عظيم}، وقال في الحظِّ النافع: {وما يُلَقَّاها إلاَّ الذين صَبَروا وما يُلَقَّاها إلا ذو حَظٍّ عظيم}.

وقوله: {إلَّا قليلاً منهم}؛ أي: فإنَّهم وفوا بما عاهدوا الله عليه، فوفَّقهم وهداهُم للصِّراط المستقيم، {فاعفُ عنهم واصْفَحْ}؛ أي: لا تؤاخِذْهم بما يصدُرُ منهم من الأذى الذي يقتضي أن يُعفى عنهم، واصفحْ فإنَّ ذلك من الإحسان. {والله يحبُّ المحسنينَ}: والإحسانُ هو أن تَعْبُدَ الله كأنَّك تراه؛ فإن لم تكن تراه؛ فإنَّه يراك، وفي حقِّ المخلوقين بذل النفع الدينيّ والدنيويّ لهم.