تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ:} یعنی ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ رکھ دیتے، یا اس کے اصل مفہوم کے بجائے کوئی غلط مفہوم نکال لیتے جسے تاویل باطل کہتے ہیں، اپنی اسی خست کی وجہ سے ہیرا پھیری کر کے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کو بدل ڈالا جو تورات میں مذکور تھیں۔ (قرطبی)
➌ {وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ:} یعنی انھوں نے تورات کے بہت سے حصے پر عمل ترک کر دیا، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا، زانی کو سنگسار کرنا، سود کو حرام سمجھنا وغیرہ۔ افسوس اہل کتاب کی طرح مسلمانوں کی اکثریت نے بھی سمع و طاعت کو چھوڑا، نمازیں ضائع کیں، سود کھانے لگے، جہاد چھوڑ بیٹھے، باہمی فرقوں میں بٹ کر اﷲ کی کتاب میں تحریف کی حد تک تاویلیں کرنے لگے، تو نتیجہ بھی وہی ہے جو پہلوں کا تھا، مگر امید افزا بات یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ میں ایسے لوگ قیامت تک رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور حق کی خاطر لڑتے رہیں گے، انھی کو {”عَلَي الْحَقِّ مَنْصُوْرِيْنَ“} کہا گیا ہے۔ [مسلم، الإمارۃ، باب قولہ لا تزال طائفۃ……: ۱۰۳۷، بعد ح: ۱۹۲۳۔ ابن ماجہ: ۱۰]
➍ {” خَآىِٕنَةٍ “} مصدر ہے بر وزن {” عَافِيَةٌ “} بمعنی خیانت یعنی ان سے آئے دن کسی نہ کسی خیانت اور بد عہدی کا ظہور ہوتا رہے گا، یا اسم فاعل ہے کہ خیانت کرنے والی جماعت یا شخصیت یعنی ان میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو خیانت اور بدعہدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے اور آپ کو ہر گز ان کی طرف سے امن نصیب نہیں ہو گا۔ «اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ» یعنی ان میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو کسی خیانت و بد عہدی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ان سے خاص کر عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مراد ہیں، یا وہ لوگ جنھوں نے کفر کے باوجود کسی قسم کی خیانت اور بد عہدی نہیں کی۔ (کبیر)
➎ {فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ:} یعنی ان کی انفرادی خیانتوں اور بد عہدیوں سے درگزر کیجیے نہ کہ ان بد عہدیوں سے جو اجتماعی (یا اجتماعی کے حکم میں) ہوں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ واضح حربی (جو حالت جنگ میں ہوں) قرار پائیں گے، جن کی سر کوبی بہرحال کی جائے گی۔ (المنار) یا یہ کہ جو ان میں سے خیانت کا ارتکاب نہیں کرتے اور اپنے عہد پر قائم ہیں، ان کی دوسری لغزشوں سے در گزر فرمائیں۔ (رازی) ان دونوں صورتوں میں یہ آیت محکم رہے گی، ورنہ اسے قتال (لڑائی) کے حکم والی آیت سے منسوخ سمجھا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۲۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[38] ان دونوں سزاؤں کے مزید نتائج یہ نکلے کہ ان لوگوں نے کتاب اللہ میں تحریف شروع کر دی۔ فلسفیانہ موشگافیاں اور خود غرضانہ تاویلات کے ذریعہ کتاب کی اکثر آیات کا مفہوم ہی بدل ڈالا اور اسے کچھ کا کچھ بنا دیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ یہ بات تو انہوں نے یکسر چھوڑ ہی دی اور اس کے بجائے اپنا سارا زور الفاظ کی گتھیوں کو سلجھانے میں صرف کرنے لگے اور ایسا مطلب اخذ کرنا شروع کیا جو ان کی خواہش کے مطابق ہو۔ [نيز ديكهئے سورة نساء كا حاشيه نمبر 77۔ 1]
[39] یہ چند آدمی عبد اللہ بن سلام اور انہی کا سا راست باز ذہن رکھنے والے کچھ ساتھی تھے۔ ان کے علاوہ جتنے بھی یہودی تھے سب سازشی قسم کے لوگ، بد عہد اور خائن تھے اور موقع بہ موقع مسلمانوں کو ان کی سازشوں، کرتوتوں، بد عہدیوں اور خیانتوں کا از خود ہی پتا چلتا رہتا تھا۔ پھر چونکہ یہودیوں کی اکثریت ایسے ہی بد عہد اور خائن قسم کے لوگوں پر مشتمل تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان کی ہر قابل گرفت بات سے دل گرفتہ ہوں گے تو آپ کو یہ ایک الگ پریشانی لاحق ہو جائے گی لہٰذا ان کی باتوں کو درخور اعتناء سمجھنا چھوڑ دیجئے اور جن جن خیانتوں پر آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان سے محاسبہ نہ کیجئے۔ اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ آپ درگرز اور احسان کی راہ اختیار کیجئے۔ کیونکہ یہی راہ اللہ کو پسند ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن اگر وہ اس عہد و پیمان کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کر دیا تو یقیناً وہ حق سے دور ہو جائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔
چنانچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔
اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھنچ آئیں، ہدایت نصیب ہو جائے اور حق کی طرف آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوخ ہے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فكأنه قيل: ليت شعري! ماذا فعلوا؟ وهل وفوا بما عاهدوا الله عليه أم نكثوا؟ فبيَّن أنهم نقضوا ذلك، فقال: {فبما نَقْضِهِم ميثاقَهم}؛ أي: بسببه عاقبناهم بعدَّة عقوبات:
الأولى: أنّا {لَعَنَّاهم}؛ أي: طردناهم وأبعدناهم من رحمتنا، حيث أغلقوا على أنفسهم أبواب الرحمة، ولم يقوموا بالعهد الذي أخذ عليهم، الذي هو سببها الأعظم.
الثانية: قوله: {وجَعَلْنا قلوبَهم قاسيةً}؛ أي: غليظة لا تُجدي فيها المواعظ ولا تنفعُها الآيات والنُّذر؛ فلا يرغِّبهم تشويقٌ ولا يزعجهم تخويفٌ، وهذا من أعظم العقوبات على العبد؛ أن يكون قلبُه بهذه الصفة التي لا يفيده الهُدى والخيرُ إلاَّ شرًّا.
الثالثة: أنهم يحرِّفون الكلم من بعد مواضعِهِ؛ أي: ابتُلوا بالتغيير والتبديل، فيجعلون للكَلِم الذي أراد الله، معنىً غير ما أراده الله ولا رسوله.
الرابعة: أنَّهم {نَسوا حظًّا مما ذُكِّروا به }؛ فإنَّهم ذُكِّروا بالتوراة وبما أنزل الله على موسى فنسوا حظًّا منه، وهذا شاملٌ لنسيان علمه، وأنهم نسوه وضاع عنهم ولم يوجد كثيرٌ مما أنساهم الله إياه عقوبةً منه لهم، وشاملٌ لنسيان العمل الذي هو الترك، فلم يوفَّقوا للقيام بما أمروا به. ويستدلُّ بهذا على أهل الكتاب بإنكارهم بعض الذي قد ذُكِرَ في كتابهم أو وقع في زمانهم أنه مما نسوه.
الخامسة: الخيانة المستمرَّة التي {لا تزال تطَّلِع على خائنةٍ منهم}؛ أي: خيانةٍ لله ولعباده المؤمنين. ومن أعظم الخيانة منهم كتمهم عن من يَعِظُهم ويُحْسِن فيهم الظنَّ الحقَّ، وإبقاؤهم على كفرهم؛ فهذه خيانة عظيمة.
وهذه الخصال الذميمة حاصلة لكلِّ من اتصف بصفاتهم، فكلُّ من لم يَقُمْ بما أمر الله به وأخذ به عليه الالتزام؛ كان له نصيبٌ من اللَّعنة، وقسوة القلب، والابتلاء بتحريف الكلم، وأنه لا يوفَّق للصواب، ونسيان حظٍّ مما ذُكِّر به، وأنَّه لا بدَّ أن يُبتلى بالخيانة، نسأل الله العافية.
وسمى الله تعالى ما ذُكِّروا به حظًّا؛ لأنَّه هو أعظم الحظوظ، وما عداه؛ فإنَّما هي حظوظ دنيويَّة؛ كما قال تعالى: {فَخَرَجَ على قومه في زينتِهِ قال الذين يريدونَ الحياةَ الدُّنيا يا ليتَ لنا مثل ما أوتي قارونَ إنَّه لذو حَظٍّ عظيم}، وقال في الحظِّ النافع: {وما يُلَقَّاها إلاَّ الذين صَبَروا وما يُلَقَّاها إلا ذو حَظٍّ عظيم}.
وقوله: {إلَّا قليلاً منهم}؛ أي: فإنَّهم وفوا بما عاهدوا الله عليه، فوفَّقهم وهداهُم للصِّراط المستقيم، {فاعفُ عنهم واصْفَحْ}؛ أي: لا تؤاخِذْهم بما يصدُرُ منهم من الأذى الذي يقتضي أن يُعفى عنهم، واصفحْ فإنَّ ذلك من الإحسان. {والله يحبُّ المحسنينَ}: والإحسانُ هو أن تَعْبُدَ الله كأنَّك تراه؛ فإن لم تكن تراه؛ فإنَّه يراك، وفي حقِّ المخلوقين بذل النفع الدينيّ والدنيويّ لهم.