تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ ……:} جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا، ہم آپ کے پاس آئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار سونت لی، جب کہ میں سویا ہوا تھا، میں جاگ پڑا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، مجھ سے کہنے لگا، تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا، اﷲ! تو دیکھو یہ بیٹھا ہے۔“ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا۔ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ ذات الرقاع: ۴۱۳۵]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں پروگرام بنایا کہ ان کے اوپر چکی کا پاٹ گرا دیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کر دیا اور آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے، پھر یاددہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ (المنار، قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ حدیبیہ کے دن جنگ روکنا اللہ کا احسان تھا۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (80) آدمی مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب غافل ہوں تو حملہ کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر قید کر لیا پھر انہیں چھوڑ دیا تو اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی۔
[مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب ھوالذی کف ایدیکم عنھم]
2۔ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کہتے ہیں کہ میرے چچا عامر نے قبیلہ عبلات کے ایک مکرز نامی شخص کو، جو ایک جھول پڑے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ستر مشرکوں کا ساتھی تھا گھیر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکوں کی طرف دیکھا پھر فرمایا: انہیں چھوڑ دو (عہد نامہ حدیبیہ کی بد عہدی کے) گناہ کی ابتدا بھی انہوں نے کی اور تکرار بھی انہی سے ہوئی۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
[مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب غزوہ ذی قرد]
اگرچہ مندرجہ بالا احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ یا اسی کے گرد و پیش حالات کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ تاہم دور نبوی میں کئی بار ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ کبھی کفار مکہ نے جنگ کے ذریعہ اور کبھی یہودیوں نے سازشوں کے ذریعہ اسلام کو ختم کر دینے کی کوششیں کیں۔ پھر کبھی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے مطلع فرما دیا۔ اور کبھی حالات ایسے پیدا کر دیئے کہ کافروں کو حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ ہو سکی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكِّر تعالى عباده المؤمنين بنعمه العظيمة، ويحثُّهم على تذكُّرها بالقلب واللسان، وأنَّهم كما أنَّهم يعدُّون قتلهم لأعدائهم وأخذ أموالهم وبلادهم وسبيهم نعمةً؛ فليعدُّوا أيضاً إنعامه عليهم بكفِّ أيديهم عنهم وردِّ كيدهم في نحورهم نعمةً؛ فإنَّهم الأعداء قد هَمُّوا بأمر، وظنُّوا أنهم قادرون عليه؛ فإذا لم يدركوا بالمؤمنين مقصودهم فهو نصرٌ من الله لعباده المؤمنين؛ ينبغي لهم أن يشكروا الله على ذلك ويعبدوه ويذكروه، وهذا يشمل كلَّ من همَّ بالمؤمنين بشرٍّ من كافر ومنافق وباغٍ، كفَّ الله شرَّه عن المسلمين؛ فإنه داخل في هذه الآية. ثم أمرهم بما يستعينون به على الانتصار على عدوِّهم وعلى جميع أمورهم، فقال: {وعلى الله فليتوكَّل المؤمنون}؛ أي: يعتمدوا عليه في جلب مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، ويتبرؤوا من حولهم وقوَّتهم، ويثقوا بالله تعالى في حصول ما يحبُّون، وعلى حسب إيمانِ العبد يكون توكُّله، وهو من واجبات القلب المتَّفق عليها.