تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ ہَمَّ قَوۡمٌ اَنۡ یَّبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ فَکَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو۔ جب کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ تمھاری طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں تو اس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرو اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں، انھی پر لوٹا دیا۔ اس لیے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کے خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں۔ کافر، منافقین اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، اس لیے فرمایا: ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْ٘مُؤْمِنُوْنَ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكِّر تعالى عباده المؤمنين بنعمه العظيمة، ويحثُّهم على تذكُّرها بالقلب واللسان، وأنَّهم كما أنَّهم يعدُّون قتلهم لأعدائهم وأخذ أموالهم وبلادهم وسبيهم نعمةً؛ فليعدُّوا أيضاً إنعامه عليهم بكفِّ أيديهم عنهم وردِّ كيدهم في نحورهم نعمةً؛ فإنَّهم الأعداء قد هَمُّوا بأمر، وظنُّوا أنهم قادرون عليه؛ فإذا لم يدركوا بالمؤمنين مقصودهم فهو نصرٌ من الله لعباده المؤمنين؛ ينبغي لهم أن يشكروا الله على ذلك ويعبدوه ويذكروه، وهذا يشمل كلَّ من همَّ بالمؤمنين بشرٍّ من كافر ومنافق وباغٍ، كفَّ الله شرَّه عن المسلمين؛ فإنه داخل في هذه الآية. ثم أمرهم بما يستعينون به على الانتصار على عدوِّهم وعلى جميع أمورهم، فقال: {وعلى الله فليتوكَّل المؤمنون}؛ أي: يعتمدوا عليه في جلب مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، ويتبرؤوا من حولهم وقوَّتهم، ويثقوا بالله تعالى في حصول ما يحبُّون، وعلى حسب إيمانِ العبد يكون توكُّله، وهو من واجبات القلب المتَّفق عليها.