یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۳﴾
اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
En
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے
En
اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 13) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى:} پچھلی آیات میں جن چھ گناہوں سے منع فرمایا ان کا بنیادی سبب اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھنا ہے۔ جاہلیت میں اپنے قبیلے کی خوبیوں پر فخر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری عام تھی۔ اس کی وجہ سے ہر قبیلے کے شاعر اور خطیب اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کے لیے دوسرے قبیلے کو استہزا، تمسخر اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے، اس کے لیے وہ ان کے عیب تلاش کرتے، جاسوسی کرتے، غیبت، بہتان اور ہجو کا بازار گرم رکھتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی قبیلوں کو بالکل ہی لوگوں کی نگاہوں سے گرا دیا۔ دنیا میں اپنی برتری پر فخر کا باعث کسی خاص قبیلے یا قوم میں پیدا ہونا ہی نہیں رہا، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو اپنے لیے باعثِ فخر اور دوسروں پر برتری کی دلیل قرار دیا گیا۔ چنانچہ رنگ، نسل، وطن اور زبان کی بنا پر نوعِ انسان تقسیم ہوئی اور ہر طبقے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو حقیر قرار دیا، جس کے نتیجے میں بے شمار جنگیں ہوئیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ وطن سے بے وطن ہوئے، غربت، بیماری اور بے آبروئی کا نشانہ بنے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پانچ آیات میں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا “} کے ساتھ خطاب کے بعد یہاں تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا {” يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ “} کہ اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت (آدم و حوا علیھما السلام) سے پیدا کیا ہے، اس لیے انسان ہونے میں تم سب برابر ہو۔ کسی خاص قوم، قبیلے یا ملک میں پیدا ہونے کی وجہ سے، یا کسی رنگ یا زبان کی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، کیونکہ اصل سب کی ایک ہے۔ پھر کسی قوم، ملک یا قبیلے میں پیدا ہونے یا کسی رنگ یا زبان والا ہونے میں کسی کا اپنا کوئی دخل یا اختیار نہیں، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے ان میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت یا عطیہ تو ہو سکتی ہے، جس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، مگر دوسروں پر برتری کا باعث نہیں ہو سکتی، کیونکہ برتری اس چیز میں کامیابی کی بدولت حاصل ہوتی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دے کر دنیا میں بھیجا ہے اور وہ ہے اللہ کا تقویٰ۔ اس لیے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ اس کے بغیر کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر یا آزاد کو غلام پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ ہاں، تقویٰ کے ساتھ فضیلت کی کوئی اور وجہ بھی جمع ہو جائے تو اسے برتری حاصل ہو گی، جیسے کسی کو متقی ہونے کے ساتھ قریشی یا ہاشمی ہونے کا شرف بھی حاصل ہو، یا ایسی قوم کا فرد ہونے کا جو شجاعت یا ذہانت یا کسی اور خوبی میں معروف ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دو آدمی قرآن کی قراء ت میں برابر ہوں تو امامت کے وقت ان میں سے بڑی عمر والے کو جوان پر مقدم کیا جائے گا۔
➋ { وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ: ” شُعُوْبًا “ ”شَعْبٌ“} (شین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، بہت بڑا قبیلہ، جیسے ربیعہ، مضر، اوس اور خزرج وغیرہ۔ یہ ان چھ طبقوں میں سب سے پہلا طبقہ ہے جن میں عرب تقسیم ہوتے ہیں۔ وہ چھ طبقے یہ ہیں: (1) شعب (2) قبیلہ (3) عمارہ (4) بطن (5) فخذ (6) فصیلہ۔ شعب میں کئی قبائل ہوتے ہیں، قبیلہ میں کئی عمائر، عمارہ میں کئی بطون، بطن میں کئی افخاذ، اور فخذ میں کئی فصائل ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب میں خزیمہ شعب، کنانہ قبیلہ، قریش عمارہ، قصی بطن، ہاشم فخذ اور عباس فصیلہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے ایک لفظ دوسرے کی جگہ بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ شعب کا معنی شاخ ہے، اسے شعب اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان سے قبائل کی شاخیں نکلتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان چھ طبقوں میں سے تین کا ذکر آیا ہے، دو کا اس آیت میں اور ایک کا سورئہ معارج میں، فرمایا: «وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِ» [المعارج: ۱۳] ”اور اپنے خاندان کو جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔“ (قرطبی و شنقیطی)
➌ { لِتَعَارَفُوْا:} یعنی قوموں، قبیلوں یا خاندانوں میں تقسیم کا مطلب کسی کی برتری نہیں، بلکہ ہم نے یہ تقسیم تمھاری ایک دوسرے سے پہچان کے لیے بنائی ہے۔ مثلاً عبد اللہ نام کے کئی آدمی ہیں، ان میں سے ایک کی تعیین قریشی، اس کے بعد ہاشمی اور اس کے بعد عباسی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس پہچان ہی کے ذریعے سے آدمی اپنی رشتہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ] [ترمذي، البر والصلۃ، باب ما جاء في تعلیم النسب: ۱۹۷۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، وقال الألباني صحیح] ”اپنے نسب سیکھو، جن کے ذریعے سے تم اپنی رشتہ داریاں ملاؤ، کیونکہ رشتہ داری کو ملانا رشتہ داروں میں محبت، مال میں ثروت اور زندگی میں اضافے کا باعث ہے۔“
➍ { اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِيٌّ، أَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجِعْلاَنِ الَّتِيْ تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ] [أبو داوٗد، الأدب، باب في التفاخر بالأحساب: ۵۱۱۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و قال الألباني صحیح] ”اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس کے آبا و اجداد پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ (آدمی دو ہی قسم کے ہیں) متقی مومن ہے یا بدبخت فاجر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ کچھ آدمی ایسے لوگوں پر اپنا فخر ترک کر دیں گے جو جہنم کے کوئلوں میں سے محض ایک کوئلہ ہیں، یا پھر وہ (فخر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے سامنے پاخانے کے کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے، جو گندگی کو اپنی ناک کے ساتھ دھکیلتے رہتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟] ”لوگوں میں سب سے عزت والا کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ] ”ان میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوْسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيْلِ اللّٰهِ] ”تو سب سے زیادہ عزت والے یوسف علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی کے بیٹے ہیں، دادا بھی نبی ہے اور پردادا اللہ کا خلیل ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِّيْ؟] ”تو پھر تم مجھ سے عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوْا] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لقد کان في یوسف و إخوتہ…» : ۴۶۸۹] ”تو جاہلیت میں جو تم میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں تم سب سے بہتر ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کر لیں۔“ ابونضرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے درمیان والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی] [مسند أحمد: 411/5، ح: ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح] ”اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَ لٰكِنْ يَنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم …: ۳۴ /۲۵۶۴] ”اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا…: ۶۴؍۲۸۶۵] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔“
➎ اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح میں کفو (جوڑ) ہونے کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی شرط معتبر نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس لیے یہ جو مشہور ہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید سے نہیں ہو سکتا، درست نہیں۔ ویسے فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد کو لفظ ”سید“ کے ساتھ خاص کرنا بھی محض رواج ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہونے کے باوجود ابولہب جہنمی ہے اور غلام ہونے کے باوجود بلال رضی اللہ عنہ کے جوتوں کی آواز جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (بطور خادم) سنائی دے رہی ہے اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: [أَبُوْ بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِيْ بِلاَلاً] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب بلال بن رباح …: ۳۷۵۴] ”ابو بکر ہمارا سید ہے اور اس نے ہمارے سید بلال کو آزاد کیا۔“
➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں تقویٰ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ معزز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تو جب کسی کو دلوں کا حال معلوم ہی نہیں تو کوئی کسی پر فخر کیسے کر سکتا ہے اور کسی کو حقیر کیوں جانتا ہے!؟
➋ { وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ: ” شُعُوْبًا “ ”شَعْبٌ“} (شین کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، بہت بڑا قبیلہ، جیسے ربیعہ، مضر، اوس اور خزرج وغیرہ۔ یہ ان چھ طبقوں میں سب سے پہلا طبقہ ہے جن میں عرب تقسیم ہوتے ہیں۔ وہ چھ طبقے یہ ہیں: (1) شعب (2) قبیلہ (3) عمارہ (4) بطن (5) فخذ (6) فصیلہ۔ شعب میں کئی قبائل ہوتے ہیں، قبیلہ میں کئی عمائر، عمارہ میں کئی بطون، بطن میں کئی افخاذ، اور فخذ میں کئی فصائل ہوتے ہیں۔ چنانچہ عرب میں خزیمہ شعب، کنانہ قبیلہ، قریش عمارہ، قصی بطن، ہاشم فخذ اور عباس فصیلہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے ایک لفظ دوسرے کی جگہ بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ شعب کا معنی شاخ ہے، اسے شعب اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان سے قبائل کی شاخیں نکلتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان چھ طبقوں میں سے تین کا ذکر آیا ہے، دو کا اس آیت میں اور ایک کا سورئہ معارج میں، فرمایا: «وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِ» [المعارج: ۱۳] ”اور اپنے خاندان کو جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔“ (قرطبی و شنقیطی)
➌ { لِتَعَارَفُوْا:} یعنی قوموں، قبیلوں یا خاندانوں میں تقسیم کا مطلب کسی کی برتری نہیں، بلکہ ہم نے یہ تقسیم تمھاری ایک دوسرے سے پہچان کے لیے بنائی ہے۔ مثلاً عبد اللہ نام کے کئی آدمی ہیں، ان میں سے ایک کی تعیین قریشی، اس کے بعد ہاشمی اور اس کے بعد عباسی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس پہچان ہی کے ذریعے سے آدمی اپنی رشتہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَعَلَّمُوْا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ] [ترمذي، البر والصلۃ، باب ما جاء في تعلیم النسب: ۱۹۷۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ، وقال الألباني صحیح] ”اپنے نسب سیکھو، جن کے ذریعے سے تم اپنی رشتہ داریاں ملاؤ، کیونکہ رشتہ داری کو ملانا رشتہ داروں میں محبت، مال میں ثروت اور زندگی میں اضافے کا باعث ہے۔“
➍ { اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَ فَاجِرٌ شَقِيٌّ، أَنْتُمْ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُوْنُنَّ أَهْوَنَ عَلَی اللّٰهِ مِنَ الْجِعْلاَنِ الَّتِيْ تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتْنَ] [أبو داوٗد، الأدب، باب في التفاخر بالأحساب: ۵۱۱۶، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و قال الألباني صحیح] ”اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس کے آبا و اجداد پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ (آدمی دو ہی قسم کے ہیں) متقی مومن ہے یا بدبخت فاجر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ کچھ آدمی ایسے لوگوں پر اپنا فخر ترک کر دیں گے جو جہنم کے کوئلوں میں سے محض ایک کوئلہ ہیں، یا پھر وہ (فخر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے سامنے پاخانے کے کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے، جو گندگی کو اپنی ناک کے ساتھ دھکیلتے رہتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: [أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟] ”لوگوں میں سب سے عزت والا کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ] ”ان میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوْسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيْلِ اللّٰهِ] ”تو سب سے زیادہ عزت والے یوسف علیہ السلام ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی کے بیٹے ہیں، دادا بھی نبی ہے اور پردادا اللہ کا خلیل ہے۔“ انھوں نے کہا: ”ہم آپ سے اس کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِّيْ؟] ”تو پھر تم مجھ سے عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلاَمِ إِذَا فَقِهُوْا] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «لقد کان في یوسف و إخوتہ…» : ۴۶۸۹] ”تو جاہلیت میں جو تم میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں تم سب سے بہتر ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کر لیں۔“ ابونضرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے درمیان والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی] [مسند أحمد: 411/5، ح: ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح] ”اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَ لٰكِنْ يَنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم …: ۳۴ /۲۵۶۴] ”اللہ تعالیٰ تمھاری صورتوں اور تمھارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور تمھارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا…: ۶۴؍۲۸۶۵] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔“
➎ اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح میں کفو (جوڑ) ہونے کے لیے اسلام کے علاوہ کوئی شرط معتبر نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس لیے یہ جو مشہور ہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید سے نہیں ہو سکتا، درست نہیں۔ ویسے فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد کو لفظ ”سید“ کے ساتھ خاص کرنا بھی محض رواج ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ہونے کے باوجود ابولہب جہنمی ہے اور غلام ہونے کے باوجود بلال رضی اللہ عنہ کے جوتوں کی آواز جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (بطور خادم) سنائی دے رہی ہے اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: [أَبُوْ بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِيْ بِلاَلاً] [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب بلال بن رباح …: ۳۷۵۴] ”ابو بکر ہمارا سید ہے اور اس نے ہمارے سید بلال کو آزاد کیا۔“
➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں تقویٰ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ معزز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تو جب کسی کو دلوں کا حال معلوم ہی نہیں تو کوئی کسی پر فخر کیسے کر سکتا ہے اور کسی کو حقیر کیوں جانتا ہے!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) سے یعنی تم سب کی اصل ایک ہی ہے ایک ہی مان باپ کی اولاد ہو مطلب ہے کسی کو محض خاندان اور نسب کی بنا پر فخر کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ سب کا نسب حضرت آدم ؑ سے ہی جا کر ملتا ہے۔ 13۔ 2 شعوب شعب کی جمع ہے برادری یا بڑا قبیلہ شعب کے بعد قبیلہ پھر عمارہ پھر بطن پھر فصیلہ اور پھر عشیرہ ہے (فتح القدیر) مطلب یہ ہے کہ مختلف خاندانوں برادریوں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لیے ہے تاکہ آپس میں صلہ رحمی کرسکو اس کا مقصد ایک دوسرے پر برتری کا اظہار نہیں ہے جیسا کہ بدقسمتی سے حسب ونسب کو برتری کی بنیاد بنا لیا گیا ہے حالانکہ اسلام نے آ کر اسے مٹایا تھا اور اسے جاہلیت سے تعبیر کیا تھا۔ 13۔ 3 یعنی اللہ کے ہاں برتری کا معیار خاندان قبیلہ اور نسل ونسب نہیں ہے جو کسی انسان کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ معیار تقوی ہے جس کا اختیار کرنا انسان کے ارادہ اختیار میں ہے یہی آیت ان علماء کی دلیل ہے جو نکاح میں کفائت نسب کو ضروری نہیں سمجھتے اور صرف دین کی بنیاد پر نکاح کو پسند کرتے ہیں۔ ابن کثیر۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری ذاتیں اور قبیلے اس لئے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو (ورنہ) اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت وہی ہے جو تم میں سے زیادہ [22] پرہیزگار ہو۔ بلا شبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔
[22] اقوام کی لڑائی جھگڑوں کی بنیاد اور ان کا سد باب :۔
موجودہ دور میں قوم، وطن، نسل، رنگ اور زبان یہ پانچ خدا یا معبود بنا لئے گئے ہیں۔ انہی میں سے کسی کو بنیاد قرار دے کر پوری انسانیت کو کئی گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ جو آپس میں ہر وقت متحارب اور ایک دوسرے سے لڑتے مرتے رہتے ہیں۔ کسی کو قومیت پر ناز ہے کہ وہ مثلاً جرمن یا انگریز قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئی سفید رنگ کی نسل ہونے پر فخر کرتا ہے۔ کوئی سید اور فاروقی یا صدیقی ہونے پر ناز کرتا ہے۔ گویا ان چیزوں کو تفاخر و تنافر کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ سب انسان ہی آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ یہ آیت ایسے معبودوں یا بالفاظ دیگر فتنہ و فساد اور لامتناہی جنگوں کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔
برتری کی بنیاد صرف تقویٰ ہے :۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو تمہارے قبیلے اور قومیں اس لئے بنائے تھے کہ تم ایک دوسرے سے الگ الگ پہنچانے جا سکو، مثلاً دو شخصوں کا نام زید ہے اور دونوں کے باپ کا نام بکر ہے۔ تو الگ الگ قبیلہ یا برادری سے متعلق ہونے کی وجہ سے ان میں امتیاز ہو جائے، لیکن تم نے یہ کیا ظلم ڈھایا کہ ان چیزوں کو تفاخر و تنافر کا ذریعہ بنالیا۔ کوئی نسل کی بنیاد پر شریف اور اعلیٰ درجہ کا انسان بن بیٹھا اور دوسروں کو حقیر، کمینہ اور ذلیل سمجھنے لگا تو کوئی قوم اور وطن یا رنگ اور زبان کی بنیاد پر بڑا بن بیٹھا ہے۔ ان سب چیزوں کے بجائے اللہ تعالیٰ نے عز و شرف کا معیار تقویٰ قرار دیا۔ یعنی جتنا کوئی شخص گناہوں سے بچنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہو گا۔ اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک معزز و محترم ہو گا۔ اسی مضمون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں، جو نہایت اہم دستوری دفعات پر مشتمل تھا، یوں بیان فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔ کیونکہ تم سبھی آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نسل انسانی کا نکتہ آغاز ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے ‘۔ یعنی آدم علیہ السلام ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حواء علیہا السلام کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔
«شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔
بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔
مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔
«شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔
بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔
مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔
ترمذی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کر سکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1979،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
پھر فرمایا ’ حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے ‘۔
صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے“، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2378]
صحیح مسلم میں ہے { اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
پھر فرمایا ’ حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے ‘۔
صحیح بخاری میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے“، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: ”پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2378]
صحیح مسلم میں ہے { اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2564]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:158/5:ضعیف]
طبرانی میں ہے { مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3547:ضعیف]
مسند بزار میں ہے { تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2043:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:145/4:ضعیف]
ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں }۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/6:ضعیف]
طبرانی میں ہے { مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:3547:ضعیف]
مسند بزار میں ہے { تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2043:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: ”لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: ”میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں“ }۔ ۱؎ [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:145/4:ضعیف]
ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں }۔
مسند احمد میں ہے کہ { نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:432/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے }۔ ۱؎ [مسند احمد:69/6:ضعیف]
اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔
اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔
دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ { انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے }۔
اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔
اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔
دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ { انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے }۔