ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجرات (49) — آیت 12

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمان سے بچو، یقینا بعض گمان گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کرو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے، جب کہ وہ مردہ ہو، سو تم اسے نا پسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
En
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا …:} پچھلی آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات خراب کرنے والی ایسی چیزوں سے منع فرمایا تھا جو ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں، یعنی مذاق اڑانا، عیب لگانا اور برے نام سے پکارنا، اب ان تین چیزوں سے منع فرمایا جو دوسرے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انھیں ان کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ ہیں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت۔ یہ تینوں کام انتہائی کمینگی اور بزدلی کے کام ہیں، کیونکہ انھیں کرنے والے میں جرأت ہی نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کے سامنے آ سکے۔ یہ اس سورت کی پانچویں آیت ہے جس کا آغاز { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا } سے ہوا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تینوں کام ایمان اور اس کے دعوے کے منافی ہیں، اس لیے ان سے بچ جاؤ۔
➋ { اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ …:} پہلی بات یہ فرمائی کہ اس چیز سے بچو کہ کسی کے متعلق جو سنو یا دیکھو اس سے اس کے متعلق برا گمان ہی قائم کر لو، بلکہ جہاں تک ہو سکے مومن کے تمام اقوال و اعمال کے متعلق اچھا گمان رکھنے کی کوشش کرو، کیونکہ بعض گمان بالکل بے بنیاد اور گناہ ہوتے ہیں۔ اس لیے زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ اس کا نتیجہ ایسے گمانوں میں پڑ جانا ہے جو گناہ ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بعض گمانوں کو گناہ قرار دیا ہے، سب گمانوں کو نہیں، کیونکہ ظن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ظن غالب ہے، جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہو جائے، اس پر عمل کرنا درست ہے۔ شریعت کے اکثر احکام اس پر مبنی ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلاً عدالتوں کے فیصلے، گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے سے اطلاعات اور خبرِ واحد کے راویوں کی روایات۔ ان سب چیزوں میں غور وفکر، جانچ پڑتال اور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے، مگر اس پر عمل واجب ہے۔ اسے ظن اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی مخالف جانب کا یعنی اس کے درست نہ ہونے کا نہایت ادنیٰ سا امکان رہتا ہے، مثلاً ہو سکتا ہے کہ گواہ کی گواہی درست نہ ہو، اطلاع دینے والا جھوٹ بول رہا ہو، یا راوی کو غلطی لگی ہو، مگر اس امکان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس امکان پر جائیں تو دنیا کا کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔ اس لیے اپنی پوری کوشش کے بعد دلائل سے جو علم حاصل ہو اس پر بھی اگرچہ ظن کا لفظ بول لیا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ علم ہی ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔
ظن کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی وجہ سے دل میں ایک خیال آ کر ٹھہر جاتا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہوتا ہے، اسے شک بھی کہتے ہیں، یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ ہونے کے امکان سے کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے۔ ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے۔ { اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ } (بے شک بعض گمان گناہ ہیں) سے یہی مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: «‏‏‏‏اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [یونس: ۳۶] (بے شک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا) اور اللہ کے فرمان: «‏‏‏‏اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ» [النجم: ۲۳] (یہ لوگ صرف اپنے گمان کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں) میں اسی ظن کا ذکر ہے اور اسی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ] [بخاري، الأدب، باب: «یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…» : ۶۰۶۶] گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔ اسے سب سے جھوٹی بات اس لیے کہا گیا کہ جب کوئی شخص کسی کے متعلق بدگمانی کرتا ہے تو وہ دلیل کے بغیر فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے۔ چونکہ حقیقت میں وہ شخص ایسا نہیں ہوتا، اس لیے اس کے اس فیصلے کو جھوٹ کہا گیا ہے اور سب سے بڑا جھوٹ اس لیے کہ اس نے بغیر کسی قرینے یا سبب کے محض نفس یا شیطان کے کہنے پر اسے براقرار دے لیا، جب کہ اس کے برے ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔
➌ آیت میں ایسے گمان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو بے دلیل ہو، مثلاً ایک آدمی جو ظاہر میں صالح ہے، اس کے عیوب پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہوا ہے، عام مشاہدہ میں وہ عفیف اور امانت دار ہے اور اس کے بددیانت یا گناہ گار ہونے کی کوئی دلیل یا علامت موجود نہیں، اس کے متعلق بدگمانی کرنا حرام ہے۔ ہاں، اگر گمان کرنے کی کوئی واقعی دلیل یا علامت موجود ہے تو اس وقت گمان منع نہیں۔ مثلاً ایک شخص کا اٹھنا بیٹھنا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو چوری یا زنا کے ساتھ معروف ہیں، یا رات کو وہاں پھرتا ہے جہاں اس کا کوئی کام نہیں، اس کے متعلق گمان پیدا ہونا فطری بات ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر گمان سے منع نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا: «اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ» ‏‏‏‏ بہت سے گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں فرمایا: {بَابُ مَا يَجُوْزُ مِنَ الظَّنِّ} وہ گمان جو جائز ہیں۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَظُنُّ فُلاَنًا وَ فُلاَنًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِيْنِنَا شَيْئًا قَالَ اللَّيْثُ كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِيْنَ] [بخاري، الأدب، باب ما یجوز من الظن …: ۶۰۶۷] میں فلاں اور فلاں کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین میں سے کچھ بھی جانتے ہیں۔ لیث نے فرمایا: یہ دونوں آدمی منافق تھے۔ اس جائز گمان سے مراد وہ گمان ہے جس کی علامات یا دلیلیں واضح ہوں۔
➍ جس طرح دوسرے مسلمان کے حق میں بدگمانی کرنا منع ہے اسی طرح خود مسلمان کو بھی لازم ہے کہ ایسے ہر کام سے اجتناب کرے جس سے کسی کے دل میں اس کے متعلق برا گمان پیدا ہو۔ علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صفیہ رضی اللہ عنھا نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ وہ جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا: جلدی نہ کرنا، یہاں تک کہ میں تمھارے ساتھ جاؤں۔ ان کا مکان اسامہ کی حویلی میں تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو آپ کو دو انصاری ملے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آگے بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: [تَعَالَيَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ] ادھر آؤ! یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حیی ہے۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! (بھلا ہم آپ کے متعلق برا گمان کر سکتے ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يُلْقِيَ فِيْ أَنْفُسِكُمَا شَيْئًا] [بخاري، الاعتکاف، باب زیارۃ المرأۃ زوجھا في اعتکافہ: ۲۰۳۸] شیطان انسان میں خون کے پھرنے کی طرح پھرتا ہے، تو میں ڈرا کہ وہ تمھارے دلوں میں کوئی بات ڈال دے۔
➎ { وَ لَا تَجَسَّسُوْا:جَسَّ يَجُسُّ جَسًّا} (ن) کسی چیز کو معلوم کرنے کے لیے ہاتھ سے ٹٹولنا، تجسس، جاسوسی کرنا، خفیہ باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ جاسوسی برے گمان کا لازمی نتیجہ ہے، کیونکہ آدمی جب کسی کے متعلق دل میں برا گمان قائم کر لیتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لیے اس کی جاسوسی کرتا ہے اور اس کے ان عیوب کی ٹوہ میں رہتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال رکھا ہے، تاکہ یہ اپنے گمان کو سچا ثابت کر سکے۔ یہ ایمانی مودّت و اخوت کے سراسر خلاف ہے۔ جب مسلمان بھائی کے ان عیوب پر بھی پردہ ڈالنے کا حکم ہے جو آدمی کو معلوم ہوں تو ان عیوب کی ٹوہ لگانا کیسے جائز ہو سکتا ہے جو محض اس کے گمان کی پیداوار ہیں، یا جن پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ، وَلاَ تَحَسَّسُوْا، وَلاَ تَجَسَّسُوْا، وَلاَ تَنَاجَشُوْا، وَلاَ تَحَاسَدُوْا، وَلاَ تَبَاغَضُوْا، وَلاَ تَدَابَرُوْا، وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا] [بخاري، الفرائض، باب تعلیم الفرائض:۶۰۶۶، ۶۷۲۴] گمان سے بچو! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکے سے (خرید و فروخت میں) بولی بڑھاؤ، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو، نہ ایک دوسرے سے دل میں کینہ رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ قَلْبَهُ! لاَ تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِيْنَ وَلاَ تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ، وَ مَنْ يَتَّبِعِ اللّٰهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِيْ بَيْتِهٖ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۸۰، قال الألباني حسن صحیح] اے ان لوگوں کی جماعت جو اپنی زبان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ہی ان کے چھپے ہوئے عیبوں کا پیچھا کرو، کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اور جس کے عیبوں کا پیچھا اللہ تعالیٰ کرے وہ اسے اس کے گھر میں رسوا کر دے گا۔ بعض اوقات آدمی اصلاح کی نیت سے جاسوسی کرتا ہے، مگر یہ اصلاح کا طریقہ نہیں، اس سے باہمی عداوت پیدا ہوتی ہے اور خرابی بڑھتی ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أوْكِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ] یقینا جب تو لوگوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا تو انھیں خراب کر دے گا یا فرمایا: قریب ہے تو انھیں خراب کر دے۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسی بات تھی جو معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کے ساتھ نفع دیا (کہ انھوں نے بیس سال شام کی امارت کی اور بیس سال پورے عالمِ اسلام پر خلافت کی اور رعایا کو ان سے کوئی خاص شکایت پیدا نہیں ہوئی)۔ [أبوداوٗد، الأدب، باب في النھي عن التجسس: ۴۸۸۸، و قال الألباني صحیح]
➏ جس طرح کوئی دلیل یا قرینہ موجود ہو تو بدگمانی کی گنجائش ہے اسی طرح اسلام کے دشمنوں کی جاسوسی یا امن و امان کی خرابی کا باعث بننے والوں کی جاسوسی بھی جائز ہے، بلکہ مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے حالات سے واقف رہے اور اللہ کی حدود کو پامال کرنے والوں کا سدِباب کرتا رہے، مگر اس کے لیے کسی طرح جائز نہیں کہ محض گمان کی بنا پر تجسس یا کوئی کارروائی کرے۔
➐ { وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا: لَا يَغْتَبْ } (غ، ی، ب) سے باب افتعال ہے: {اِغْتَابَ يَغْتَابُ اِغْتِيَابًا } کسی کے غائب ہونے کی حالت میں اس کی وہ بات کرنا جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟] کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ] تمھارا اپنے بھائی کا ذکر ایسی چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کیا گیا: آپ یہ بتائیں کہ اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيْهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ: ۲۵۸۹] اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ چیز اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔
➑ { اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ:} اس جملے میں غیبت سے کئی طریقوں سے شدید نفرت دلائی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں غیبت کے ساتھ کسی بھائی کی عزت و آبرو تار تار کرنے کو انسان کا گوشت کھانا قرار دیا، پھر کسی دوسرے انسان کا نہیں بلکہ اپنے بھائی کا اور وہ بھی زندہ کا نہیں بلکہ مردہ بھائی کا۔ پھر ایسی شدید قابل نفرت چیز سے محبت کرنے کی عار دلاتے ہوئے پوچھا کہ اتنی گندی اور مکروہ چیز سے تو شدید نفرت ہونی چاہیے تھی، تو کیا تم نفرت کے بجائے اس سے محبت کرتے ہو۔ پھر { اَحَدُكُمْ } فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایک یہ پسند کرتا ہے؟ مطلب یہ کہ لاکھوں کروڑوں میں سے کوئی ایک بھی یہ پسند نہیں کرے گا تو تم میں سے کوئی ایک یہ کام کیوں کرے!؟
➒ { فَكَرِهْتُمُوْهُ:} یعنی اگر تمھارے سامنے یہ چیز پیش کی جائے تو یقینا تم اس سے نفرت کرو گے۔
➓ غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی ہے کہ جس طرح مردہ اپنا گوشت کھانے سے کسی کو ہٹا نہیں سکتا اسی طرح جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔
⓫ جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسے سننا بھی حرام ہے، کیونکہ سننے والا بھی غیبت میں برابر کا شریک ہے، اگر وہ خاموش رہ کر تائید نہ کرے تو غیبت کرنے والے کو اس کام کی جرأت ہو ہی نہیں سکتی۔ دونوں ہی اپنے مردہ بھائی کے گوشت سے لذت حاصل کر رہے ہیں، ایک غیبت کر کے اور دوسرا اسے سن کر۔ اس لیے غیبت سننے سے بھی بہت پرہیز کرنا چاہیے، بلکہ اپنے مسلم بھائی کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے غیبت کرنے والے کو اس سے منع کرنا چاہیے۔
⓬ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اللہ کا ڈر ہی ہے جو ان کاموں سے آدمی کو باز رکھ سکتا ہے جن سے ان آیات میں منع فرمایا گیا ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ اس لیے اللہ سے ڈرو اور ان تمام گناہوں سے توبہ کرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
⓭ نووی نے الاذکار میں غیبت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: خواہ وہ چیز اس کے بدن سے تعلق رکھتی ہو یا دین سے یا دنیا سے، اس کی شکل و صورت کے بارے میں ہو یا اخلاق کے، اس کے مال، اولاد، والدین اور بیوی بچوں کے متعلق ہو یا اس کے لباس، چال ڈھال، بول چال، خندہ پیشانی یا ترش روئی کے متعلق، غرض اس سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کا ذکر جو اسے ناپسند ہو غیبت ہے۔ پھر خواہ یہ ذکر زبان سے کیا جائے یا تحریر سے، اشارے سے ہو یا کنائے سے، تمام صورتوں میں غیبت ہے۔ اشارہ خواہ آنکھ سے ہو یا ہاتھ سے، سر کے ساتھ ہو یا جسم کے کسی حصے کے ساتھ، غیبت میں شامل ہے۔
بدن کی غیبت مثلاً اس کی تنقیص کے لیے اندھا، لنگڑا، کانا، گنجا، ٹھگنا، لمبوترا، کالا، کبڑا یا اس قسم کا کوئی اور لفظ استعمال کرے۔ دین کے بارے میں غیبت یہ ہے کہ اسے فاسق، چور، خائن، ظالم، نمازمیں سست، پلید، ماں باپ کا نافرمان یا بدمعاش وغیرہ کہے۔ دنیا کے بارے میں مثلاً اسے نکما، باتونی، پیٹو وغیرہ کہے۔ اخلاق کے متعلق مثلاً اسے بدخلق، متکبر، ریا کار، جلد باز، بزدل یا سٹریل قرار دے۔ اس کے والد کے متعلق مثلاً جولاہا، موچی، کالا، حبشی وغیرہ کہہ کر اس کی تنقیص کرے۔ پھر زبان، ہاتھ اور جسم کے ساتھ غیبت کی ایک صورت اس کی نقل اتارنا ہے، مثلاً اس کے اٹک اٹک کر بات کرنے یا ناک میں بولنے کی، لنگڑا کر چلنے کی، کبڑا ہونے کی یا چھوٹے قد کا ہونے کی نقل اتارے۔ غرض قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی حرکت جس کا مقصد کسی مسلم بھائی کی تنقیص ہو غیبت ہے اور حرام ہے۔
⓮ بعض اوقات کسی مسلم بھائی کی غیبت جائز بھی ہو جاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کا عیب بیان کیا جا سکتا ہے۔ قاعدہ اس کا یہ ہے کہ جب دین کا کوئی ضروری مقصد اس کے بغیر حاصل نہ ہو سکتا ہو تو اس وقت یہ جائز ہے۔ نووی نے اور ان سے پہلے غزالی نے غیبت کے جواز کے چھ مواقع گنوائے ہیں: (1) ظلم پر فریاد، یعنی مظلوم کو حق ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۴۸] اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا جائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً] [بخاري، الاستقراض، باب استقراض الإبل: ۲۳۹۰] یقینا حق والے کو بات کرنے کی گنجائش ہے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ بادشاہ یا قاضی یا کسی ایسے شخص کے پاس اپنی مظلومیت کا تذکرہ کرے جو اس کی مدد کر سکتا ہو۔ (2) کسی گناہ یا برے کام سے روکنے کے لیے ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو اس کے ساتھ مل کر یا خود اسے روک سکیں۔ اگر مقصد صرف اس کام کرنے والے کی تذلیل ہو تو یہ جائز نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیات و احادیث اس کی دلیل ہیں۔ (3) فتویٰ لینے کے لیے مفتی کے سامنے کسی کا نقص ذکر کرے تو یہ جائز ہے، مثلاً ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنھا نے اپنے خاوند ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا: ابو سفیان بخیل آدمی ہے (مجھے اتنا خرچ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو) تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں؟ آپ نے فرمایا: [خُذِيْ أَنْتِ وَ بَنُوْكِ مَا يَكْفِيْكِ بِالْمَعْرُوْفِ] [بخاري، البیوع، باب من أجری أمر الأمصار…: ۲۲۱۱،۵۳۶۴] تمھارے اور تمھارے بچوں کے لیے جتنا کافی ہو معروف طریقے کے ساتھ لے لیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند رضی اللہ عنھا کو اپنے خاوند کا عیب بیان کرنے پر منع نہیں فرمایا، کیونکہ اس کا مقصد مسئلہ پوچھنا تھا۔
(4) مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے اور انھیں شر سے بچانے کے لیے کسی کی برائی سے آگاہ کرے تو یہ جائز ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے فرمایا: [اِئْذَنُوْا لَهُ، بِئْسَ أَخُو الْعَشِيْرَةِ] [بخاري، الأدب، باب ما یجوز من اغتیاب …: ۶۰۵۴] اسے اجازت دے دو، یہ خاندان کا برا آدمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنھا کو اس شخص کی برائی سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیا۔ مسلمانوں کی خیر خواہی میں اور انھیں شر سے بچانے میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، مثلاً حدیث کے راویوں پر اور مقدمے کے گواہوں پر جرح جائز بلکہ واجب ہے اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ دوسرے جب کوئی شخص کسی کے ساتھ رشتہ کرنے یا امانت رکھنے یا مشارکت کرنے یا ہمسائیگی اختیار کرنے، کاروبار یا کوئی اور معاملہ کرنے کے متعلق مشورہ پوچھے تو صحیح صحیح بات بتا دے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا نے معاویہ اور ابوجہم رضی اللہ عنھما میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَمَّا أَبُوْ جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوْكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِيْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ] [مسلم، الطلاق، المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا: ۱۴۸۰] ابوجہم تو عورتوں کو بہت مارتا ہے اور معاویہ کنگال آدمی ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ اور صحیح مشورہ دینا مومن کا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ] [مسلم، السلام، باب من حق المسلم للمسلم ردّ السلام: 2162/5] اور جب وہ تم سے مشورہ مانگے تو اس کی خیر خواہی کر۔
(5) جو شخص کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی کرتا ہو، لوگوں کو لوٹتا ہو، علانیہ شراب پیتا ہو تو اس کے ان گناہوں کا ذکر جائز ہے جن کو چھپانے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور جن کا ذکر کیا جائے تو اسے برا محسوس ہی نہیں ہوتا، کیونکہ غیبت ان چیزوں کا ذکر ہے جسے وہ ناپسند کرے۔ (6) کوئی شخص کسی لقب کے ساتھ مشہور ہو، اس کے بغیر اس کی پہچان نہ ہوتی ہو اور وہ اسے برا بھی نہ جانتا ہو تو اسے اس لقب سے ذکر کرنا جائز ہے، خواہ اس میں اس کا کوئی نقص ہی بیان ہو رہا ہو، مثلاً اعمش (جس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہوں)، اعرج (لنگڑا)، اصمّ (بہرا) اور اعمیٰ (نابینا) وغیرہ۔ شرط یہ ہے کہ مقصد اس کی تنقیص نہ ہو۔
⓯ قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا» ‏‏‏‏ کہ مسلمان ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ اسی طرح {ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ} سے بھی ظاہر ہے کہ صرف مسلمان کی غیبت ناجائز ہے، کیونکہ کافر ہمارا دینی بھائی نہیں، اس لیے اس کی غیبت میں کوئی گناہ نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 ظن کے معنی ہیں گمان کرنا مطلب ہے کہ اہل خیر واہل اصلاح وتقوی کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بےاصل ہوں اور تہمت وافترا کے ضمن میں آتے ہوں اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے اور حدیث میں اس کو اکذب الحدیث سب سے بڑا جھوٹ کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ایاکم والظن البخاری کتاب الادب باب یا ایھا الذین امنو اجتنبو امنو اجتنبوا کثیرا من الظن صحیح مسلم ورنہ فسق و فجور میں مبتلا لوگوں سے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور ان کے گناہوں پر بدگمانی رکھنا یہ وہ بدگمانی نہیں ہے جسے یہاں گناہ کہا گیا ہے اور اس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے۔ ان الظن القبیح بمن ظاہرہ الخیر لا یجوز وانہ لا حرج فی الظن القبیح بمن ظاہرہ القبیح۔ القرطبی۔ 12۔ 2 یعنی اس ٹوہ میں رہنا کہ کوئی خامی یا عیب معلوم ہوجائے تاکہ اسے بدنام کیا جائے یہ تجسس ہے جو منع ہے اور حدیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کی خامی کوتاہی تمہارے علم میں آجائے تو اس کی پردہ پوشی کرو نہ کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھرو بلکہ جستجو کر کے عیب تلاش کرو آج کل حریت اور آزادی کا بڑا چرچا ہے اسلام نے بھی تجسس سے روک کر انسان کی حریت اور آزدی کو تسلیم کیا ہے لیکن اس وقت تک جب تک وہ کھلے عام بےحیائی کا ارتکاب نہ کرے یا جب تک دوسروں کے لیے ایذا کا باعث نہ ہو مغرب نے مطلق آزادی کا درس دے کر لوگوں کو فساد عام کی اجازت دے دی ہے جس سے معاشرے کا تمام امن و سکون برباد ہوگیا ہے۔ 12۔ 3 غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے کسی کی برائیوں اور گناہوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں ہیں تو وہ بہتان ہے۔ اپنی اپنی جگہ دونوں ہی بڑے جرم ہیں۔ 12۔ 4 یعنی کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا ایسے ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا تو پسند نہیں کرتا۔ لیکن غیبت لوگوں کی نہایت مرغوب غذا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے پرہیز [19] کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور کسی کی عیب [20] جوئی نہ کرو، نہ ہی تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت [21] کرے، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم تو خود اس کام کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرتے ہو۔ اللہ ہر وقت توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔
[19] سوئے ظن سے پرہیز :۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ گمان کرنے سے بچو بلکہ یوں فرمایا کہ زیادہ گمان کرنے سے بچو۔ کیونکہ گمان تو ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت کرنا ہی پڑتا ہے۔ اور اگر ظن و گمان کو عادت بنا لیا جائے تو یہ بہت بری بات ہے کیونکہ اکثر ظن بد ظنی پر مشتمل ہوتے ہیں اور کسی سے سوئے ظن رکھنا بذات خود گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے برعکس اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظنی رکھی جائے تاآنکہ اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جو حسن ظن کو بد ظنی میں تبدیل کر دے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کوئی برا خیال پیدا ہو جائے تو جب تک زبان سے اس کا اظہار نہ کرے وہ قابل مواخذہ نہیں ہے۔ اس آیت میں دراصل اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جس شخص سے ان کا کوئی اختلاف یا جھگڑا ہو اس کی اچھی باتوں میں سے بھی کوئی برا پہلو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی معاملہ میں چار پہلو حسن ظنی کے ہوں اور ایک پہلو بد ظنی پر محمول کیا جا سکتا ہو تو ان کی نظر ہمیشہ بد ظنی کے پہلو کی طرف اٹھے گی۔ ایسے لوگ عموماً عام لوگوں کے متعلق حسن ظن کے بجائے کوئی بری بات ہی سوچنے کے عادی ہوتے ہیں۔
[20] کسی کی ٹوہ لگانے سے پرہیز :۔
تجسس کا تعلق عموماً ایسے افعال سے ہوتا ہے جو یا تو کبھی سرزد ہی نہ ہوئے ہوں اور یا ظاہر نہ ہوئے ہوں۔ مثلاً کسی کی ٹوہ لگائے رکھنا یا کسی کے گھر میں جھانکنا، چوری چھپے کسی کی باتیں سننا، کسی کے خطوط دیکھنا یا درمیان میں ٹیلی فون کی گفتگو سننا وغیرہ۔ سب اسی ذیل میں آتے ہیں۔ جبکہ ایسے کاموں کا مقصد کوئی ایسی بات معلوم کرنا ہو جس سے اسے بدنام اور بے عزت کیا جا سکے۔ ایسی جاسوسی سے ممانعت کا حکم صرف اشخاص کے لئے ہی نہیں اسلامی حکومت کے لئے بھی ہے۔ اسلامی حکومت کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر منظر عام پر لائے اور پھر انہیں سزا دے۔ بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جو برائیاں ظاہر ہو جائیں، طاقت کے ذریعہ ان کا استیصال کرے۔ البتہ وہ کسی مجرم کی تحقیق کے سلسلہ میں ایسے کام کر سکتی ہے۔ اور جو برائیاں ظاہر نہ ہوں بلکہ مخفی یا گھروں کے اندر ہوں تو ان کا علاج جاسوسی نہیں بلکہ ان کی اصلاح تعلیم، وعظ و تلقین، عوام کی اجتماعی تربیت اور ایک پاکیزہ معاشرتی ماحول پیدا کرنے سے کی جائے گی۔
[21] غیبت سے اجتناب :۔
غیبت کی تعریف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جو اسے ناگوار ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو پھر؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اس میں وہ بات پائی جائے تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات موجود نہ ہو تو تو نے اس پر بہتان لگایا“ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ والادب۔ باب تحریم الغیبۃ]
اور یہ تو واضح بات ہے کہ بہتان غیبت سے بھی بڑا جرم ہے اور غیبت خواہ کسی زندہ انسان کی، اس کی پیٹھ پیچھے کی جائے یا کسی فوت شدہ انسان کی، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اس میں کوئی فرق نہیں۔ غیبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا۔ کیونکہ غیبت کرنے والا اس کی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جیسے اسے کاٹ کاٹ کر کھا رہا ہو اور مردہ اس لئے فرمایا کہ جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہیں ہوتا۔
غیبت کی حرمت سے استثناء کی صورتیں :۔
البتہ بعض اہم ضرورتوں کے پیش نظر شریعت نے چند صورتوں کو اس حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ مثلاً:
1۔ مظلوم حاکم کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کر کے ظلم کی فریاد کر سکتا ہے۔ اور اس کی بنیاد سورۃ النساء کی آیت نمبر 148 ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر عدالت کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ مظلوم کو عام لوگوں کے سامنے بلا ضرورت اور تحقیر کی خاطر بھی ظالم کی غیبت کرنا یا اپنے ظلم کی داستان بیان کرنا جائز نہیں۔ پھر جس طرح ایک مظلوم عدالت کے سامنے ظالم کی غیبت بیان کر سکتا ہے۔ اسی طرح استفتاء کی صورت میں مفتی کے سامنے بھی بیان کر سکتا ہے۔
2۔ کسی شخص کے شر سے بچنے کے لئے اپنے مومن بھائی کو اس کے عیب و ثواب سے مطلع کر دینا تاکہ وہ اس کے شر یا اپنے نقصان سے بچ سکے۔ مثلاً کوئی شخص رشتہ کرنا چاہتا ہو، یا کسی سے کاروباری اشتراک کرنا چاہتا ہو یا کسی کے ہمسایہ میں مکان خریدنا چاہتا ہو یا اسے قرضہ دینا یا امانت سونپنا چاہتا ہو اور وہ اپنے کسی دوسرے بھائی سے مشورہ لے۔ تو مشورہ دینے والے کو نہایت دیانتداری سے متعلقہ شخص کے عیب و ثواب بیان کر دینے چاہئیں تاکہ وہ کسی دھوکہ میں نہ رہے اور اس کی بنیاد یہ حدیث ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ میں نے انصار کی ایک عورت سے عقد کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے اس کو دیکھا بھی ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جا اور اسے دیکھ لے اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (عیب) ہوتا ہے“ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب ندب من اراد نکاح امراۃً]
3۔ محدثین کا قانون جرح و تعدیل۔ جس پر تمام ذخیرہ حدیث کی جانچ پرکھ کا انحصار ہے اور جس کے ذریعہ عامۃ المسلمین کو عام گمراہی سے بچانا مقصود ہے۔ اس صورت میں راویوں کے عیب و ثواب بیان کرنا جائز ہی نہیں بلکہ بالاتفاق واجب ہے۔ اور اس کی بنیاد بھی وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہوئی نیز اس سورۃ کی آیت نمبر 6 بھی۔ یعنی فاسق کی خبر کی تحقیق ضروری ہے۔
4۔ ایسے لوگوں کے خلاف علی الاعلان آواز بلند کرنا اور ان کی برائیوں پر تنقید کرنا جو فسق و فجور پھیلا رہے ہیں یا بدعات اور گمراہیوں کی اشاعت کر رہے ہوں۔ یا خلق خدا کو بے دینی اور ظلم و جور کے فتنوں میں مبتلا کر رہے ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مذاق اور عیب گیری کی ممانعت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو بدگمانی کرنے، تہمت رکھنے اپنوں اور غیروں کو خوفزدہ کرنے، خواہ مخواہ کی دہشت دل میں رکھ لینے سے روکتا ہے اور فرماتا ہے کہ بسا اوقات اکثر اس قسم کے گمان بالکل گناہ ہوتے ہیں پس تمہیں اس میں پوری احتیاط چاہیئے۔
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: تیرے مسلمان بھائی کی زبان سے جو کلمہ نکلا ہو جہاں تک تجھ سے ہو سکے اسے بھلائی اور اچھائی پر محمول کر۔‏‏‏‏
ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کرتے ہوئے فرمایا: تو کتنا پاک گھر ہے؟، تو کیسی بڑی حرمت والا ہے؟، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ مومن کی حرمت اس کے مال اور اس کی جان کی حرمت اور اس کے ساتھ نیک گمان کرنے کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بہت بڑی ہے۱؎ [سنن ابن ماجہ:3932،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث صرف ابن ماجہ میں ہی ہے۔
صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بدگمانی سے بچو، گمان سب سے بڑی جھوٹی بات ہے، بھید نہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کی ٹوہ حاصل کرنے کی کوشش میں نہ لگ جایا کرو، حسد بغض اور ایک دوسرے سے منہ پھلانے سے بچو، سب مل کر اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو سہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6066]‏‏‏‏
مسلم وغیرہ میں ہے { ایک دوسرے سے روٹھ کر نہ بیٹھ جایا کرو، ایک دوسرے سے میل جول ترک نہ کر لیا کرو، ایک دوسرے کا حسد بغض نہ کیا کرو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے آپس میں دوسرے کے بھائی بند ہو کر زندگی گزارو۔ کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال اور میل جول چھوڑ دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6564]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے کہ { تین خصلتیں میری امت میں رہ جائیں گی فال لینا، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا، ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ان کا تدارک کیا ہے؟ فرمایا: جب حسد کرے تو استغفار کر لے، جب گمان پیدا ہو تو اسے چھوڑ دے اور یقین نہ کر اور جب شگون لے خواہ نیک نکلے، خواہ بد اپنے کام سے نہ رک اسے پورا کر۱؎ [طبرانی کبیر:3727:ضعیف]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے کہ { ایک شخص کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی ڈاڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں آپ نے فرمایا: ہمیں بھید ٹٹولنے سے منع فرمایا گیا ہے اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو گئی تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں }۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ابوداود:4890،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { عقبہ کے کاتب وحین کے پاس ابولہیثم گئے اور ان سے کہا کہ میرے پڑوس میں کچھ لوگ شرابی ہیں میرا ارادہ ہے کہ میں داروغہ کو بلا کر انہیں گرفتار کرا دوں، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرنا بلکہ انہیں سمجھاؤ بجھاؤ ڈانٹ ڈپٹ کر دو، پھر کچھ دنوں کے بعد آئے اور کہا: وہ باز نہیں آتے اب تو میں ضرور داروغہ کو بلاؤں گا آپ نے فرمایا: افسوس! افسوس! تم ہرگز ہرگز ایسا نہ کرو، سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ داری کرے اسے اتنا ثواب ملے گا جیسے کسی نے زندہ درگور کردہ لڑکی کو بچا لیا۱؎ [سنن ابوداود:4891،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر تو لوگوں کے باطن اور ان کے راز ٹٹولنے کے درپے ہو گا تو، تو انہیں بگاڑ دے گا، یا فرمایا ممکن ہے تو انہیں خراب کر دے۔‏‏‏‏ ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت فائدہ پہنچایا۱؎ [سنن ابوداود:4888،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { امیر اور بادشاہ جب اپنے ماتحتوں اور رعایا کی برائیاں ٹٹولنے لگ جاتا ہے اور گہرا اترنا شروع کر دیتا ہے تو انہیں بگاڑ دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4889،قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]‏‏‏‏
پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو یعنی برائیاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو تاک جھانک نہ کیا کرو۔ اسی سے جاسوس ماخذ ہے «تجسس» کا اطلاق عموماً برائی پر ہوتا ہے اور «تحسس» کا اطلاق بھلائی ڈھونڈنے پر۔ جیسے یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں «يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [12-یوسف:87]‏‏‏‏، بچو تم جاؤ اور یوسف کو ڈھونڈو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، اور کبھی کبھی ان دونوں کا استعمال شر اور برائی میں بھی ہوتا ہے۔
چنانچہ حدیث شریف میں ہے { نہ «تجسس» کرو، نہ «تحسس» کرو، نہ حسد و بغض کرو، نہ منہ موڑو بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ }۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تجسس» کہتے ہیں کسی چیز میں کرید کرنے کو اور «تحسس» کہتے ہیں ان لوگوں کی سرگوشی پر کان لگانے کو جو کسی کو اپنی باتیں سنانا نہ چاہتے ہوں۔ اور «تدابر» کہتے ہیں ایک دوسرے سے رک کر آزردہ ہو کر قطع تعلقات کرنے کو۔
پھر غیبت سے منع فرماتا ہے، ابوداؤد میں ہے { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! غیبت کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ایسی بات کا ذکر کرے جو اسے بری معلوم ہو، تو کہا گیا اگر وہ برائی اس میں ہو جب بھی؟ فرمایا: ہاں! غیبت تو یہی ہے ورنہ بہتان اور تہمت ہے۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { ایک مرتبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ صفیہ تو ایسی ایسی ہیں، مسدد راوی کہتے ہیں یعنی کم قامت، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسی بات کہی ہے کہ سمندر کے پانی میں اگر ملا دی جائے تو اسے بھی بگاڑ دے
{ اور ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی شخص کی کچھ ایسی ہی باتیں بیان کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے پسند نہیں کرتا مجھے چاہے ایسا کرنے میں کوئی بہت بڑا نفع بھی مل جائے۱؎ [سنن ابوداود:4875،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے کہ { ایک بی بی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئیں جب وہ جانے لگیں تو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارے سے کہا کہ یہ بہت پست قامت ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ان کی غیبت کی[تفسیر ابن جریر الطبری:395/11]‏‏‏‏
الغرض غیبت حرام ہے اور اس کی حرمت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ لیکن ہاں شرعی مصلحت کی بنا پر کسی کی ایسی بات کا ذکر کرنا غیبت میں داخل نہیں جیسے جرح و تعدیل نصیحت و خیر خواہی جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاجر شخص کی نسبت فرمایا تھا: یہ بہت برا آدمی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:6054]‏‏‏‏
اور جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: معاویہ مفلس شخص ہے اور ابوالجہم بڑا مارنے پیٹنے والا آدمی ہے۱؎ [صحیح مسلم:1480]‏‏‏‏ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ ان دونوں بزرگوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کا مانگا ڈالا تھا اور بھی جو باتیں اس طرح کی ہوں ان کی تو اجازت ہے باقی اور غیبت حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔
اسی لیے یہاں فرمایا کہ ’ جس طرح تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس سے بہت زیادہ نفرت تمہیں غیبت سے کرنی چاہیئے ‘۔
جیسے حدیث میں ہے { اپنے دئیے ہوئے ہبہ کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے اور فرمایا بری مثال ہمارے لیے لائق نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2622]‏‏‏‏
حجۃ الوداع کے خطبے میں ہے { تمہارے خون مال آبرو تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسی حرمت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:67]‏‏‏‏
ابوداؤد میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کا مال اس کی عزت اور اس کا خون مسلمان پر حرام ہے انسان کو اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی حقارت کرے۱؎ [صحیح مسلم:2564]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { اے وہ لوگو! جن کی زبانیں تو ایمان لا چکیں ہیں لیکن دل ایماندار نہیں ہوئے، تم مسلمانوں کی غیبتیں کرنا چھوڑ دو اور ان کے عیبوں کی کرید نہ کیا کرو، یاد رکھو اگر تم نے ان کے عیب ٹٹولے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پوشیدہ خرابیوں کو ظاہر کر دے گا یہاں تک کہ تم اپنے گھرانے والوں میں بھی بدنام اور رسوا ہو جاؤ گے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4880،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ { اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نشین عورتوں کے کانوں میں بھی اپنی آواز پہنچائی اور اس خطبہ میں اوپر والی حدیث بیان فرمائی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1675:ضعیف]‏‏‏‏
{ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تیری حرمت و عظمت کا کیا ہی کہنا ہے لیکن تجھ سے بھی بہت زیادہ حرمت ایک ایماندار شخص کی اللہ کے نزدیک ہے }۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:5763،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { جس نے کسی مسلمان کی برائی کر کے ایک نوالہ حاصل کیا اسے جہنم کی اتنی ہی غذا کھلائی جائے گی اسی طرح جس نے مسلمانوں کی برائی کرنے پر پوشاک حاصل کی اسے اسی جیسی پوشاک جہنم کی پہنائی جائے گی اور جو شخص کسی دوسرے کی بڑائی دکھانے سنانے کو کھڑا ہوا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھاوے سناوے کے مقام میں کھڑا کر دے گا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4881،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: معراج والی رات میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے ہیں میں نے پوچھا کہ جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتیں لوٹتے تھے }۔ [سنن ابوداود:4878،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { لوگوں کے سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج والی رات میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا جن میں مرد و عورت دونوں تھے کہ فرشتے ان کے پہلوؤں سے گوشت کاٹتے ہیں اور پھر انہیں اس کے کھانے پر مجبور کر رہے ہیں اور وہ اسے چبا رہے ہیں، میرے سوال پر کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طعنہ زن، غیبت گو، چغل خور تھے، انہیں جبراً آج خود ان کا گوشت کھلایا جا رہا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:308/22:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بہت مطول ہے اور ہم نے پوری حدیث سورۃ سبحٰن کی تفسیر میں بیان بھی کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
مسند ابوداؤد طیالسی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تک میں نہ کہوں کوئی افطار نہ کرے، شام کو لوگ آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دیتے اور وہ افطار کرتے، اتنے میں ایک صاحب آئے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! دو عورتوں نے روزہ رکھا تھا جو آپ ہی کے متعلقین میں سے ہیں انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ روزہ کھول لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے دوبارہ عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ روزے سے نہیں ہیں، کیا وہ بھی روزے دار ہو سکتا ہے؟ جو انسانی گوشت کھائے، جاؤ انہیں کہو کہ اگر وہ روزے سے ہیں تو قے کریں۔ چنانچہ انہوں نے قے کی جس میں خون جمے کے لوتھڑے نکلے اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اسی حالت میں مر جاتیں تو آگ کا لقمہ بنتیں۱؎ [مسند طیالسی:2107:ضعیف]‏‏‏‏ اس کی سند ضعیف ہے اور متن بھی غریب ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ { اس شخص نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! ان دونوں عورتوں کی روزے میں بری حالت ہے، مارے پیاس کے مر رہی ہیں اور یہ دوپہر کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی پر اس نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ! وہ تو مر گئی ہوں گی یا تھوڑی دیر میں مر جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ انہیں بلا لاؤ، جب وہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا مٹکا ایک کے سامنے رکھ کر فرمایا: اس میں قے کر، اس نے قے کی تو اس میں پیپ خون جامد وغیرہ نکلی جس سے آدھا مٹکا بھر گیا پھر دوسری سے قے کرائی اس میں بھی یہی چیزیں اور گوشت کے لوتھڑے وغیرہ نکلے اور مٹکا بھر گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دیکھو حلال روزہ رکھے ہوئے تھیں اور حرام کھا رہی تھیں دونوں بیٹھ کر لوگوں کے گوشت کھانے لگی تھیں (‏‏‏‏یعنی غیبت کر رہی تھیں) }۔ ۱؎ [مسند احمد:431/5:ضعیف]‏‏‏‏
مسند حافظ ابو یعلیٰ میں ہے کہ { سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ کہہ چکے، پھر پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تو نے زنا کیا ہے؟، جواب دیا ہاں، فرمایا: جانتا ہے زنا کسے کہتے ہیں؟، جواب دیا، ہاں! جس طرح انسان اپنی حلال عورت کے پاس جاتا ہے اسی طرح میں نے حرام عورت سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تیرا مقصد کیا ہے؟ کہا: یہ کہ آپ مجھے اس گناہ سے پاک کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسی طرح دخول کیا تھا جس طرح سلائی سرمہ دانی میں اور لکڑی کنویں میں؟، کہا: ہاں، یا رسول اللہ!، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے یعنی پتھراؤ کرنے کا حکم دیا چنانچہ یہ رجم کر دئے گئے }۔ [سنن ابوداود:4419،قال الشيخ الألباني:صحيح دون قوله لعله أن]‏‏‏‏
{ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسے دیکھو اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی لیکن اس نے اپنے تئیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ کتے کی طرح پتھراؤ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سنتے ہوئے چلتے رہے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ راستے میں ایک مردہ گدھا پڑا ہوا ہے فرمایا: فلاں فلاں شخص کہاں ہیں؟ وہ سواری سے اتریں اور اس گدھے کا گوشت کھائیں، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے کیا یہ کھانے کے قابل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جو تم نے اپنے بھائی کی بدی بیان کی تھی وہ اس سے بھی زیادہ بری چیز تھی۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ شخص جسے تم نے برا کہا تھا وہ تو اب اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے }، اس کی اسناد صحیح ہے۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:7164:ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نہایت سڑی ہوئی مرداری بو والی ہوا چلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو، یہ بو کس چیز کی ہے؟ یہ بدبو ان کی ہے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں
اور روایت میں ہے کہ { منافقوں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی غیبت کی ہے یہ بدبودار ہوا وہ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:351/3:قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک سفر میں دو شخصوں کے ساتھ تھے جن کی یہ خدمت کرتے تھے اور وہ انہیں کھانا کھلاتے تھے ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ سو گئے تھے اور قافلہ آگے چل پڑا۔ پڑاؤ ڈالنے کے بعد ان دونوں نے دیکھا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نہیں تو اپنے ہاتھوں سے انہیں خیمہ کھڑا کرنا پڑا اور غصہ سے کہا: سلمان تو بس اتنے ہی کام کا ہے کہ پکی پکائی کھا لے اور تیار خیمے میں آ کر آرام کر لے۔ تھوڑی دیر بعد سلمان رضی اللہ عنہ پہنچے ان دونوں کے پاس سالن نہ تھا تو کہا: تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے سالن لے آؤ۔ یہ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے میرے دونوں ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ اگر آپ کے پاس سالن ہو تو دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سالن کا کیا کریں گے؟ انہوں نے تو سالن پا لیا، سلمان واپس گئے اور جا کر ان سے یہ بات کہی وہ اٹھے اور خود حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس تو سالن نہیں، نہ آپ نے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مسلمان کے گوشت کا سالن کھا لیا جبکہ تم نے انہیں یوں کہا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ» ۱؎ [49-الحجرات:12]‏‏‏‏ اس لیے کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور یہ ان کی غیبت کر رہے تھے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:102/6:ضعیف]‏‏‏‏
مختار ابوضیاء میں تقریبًا ایسا ہی واقعہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے اس خادم کا گوشت تمہارے دانتوں میں اٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں، اور ان کا اپنے غلام سے جبکہ وہ سویا ہوا تھا اور ان کا کھانا تیار نہیں کیا تھا صرف اتنا ہی کہنا مروی ہے کہ یہ تو بڑا سونے والا ہے، ان دونوں بزرگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ ہمارے لیے استغفار کریں }۔ ۱؎ [المختارۃ للمقدسی:71/5:حسن]‏‏‏‏
ابو یعلیٰ میں ہے { جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا (‏‏‏‏یعنی اس کی غیبت کی) قیامت کے دن اس کے سامنے وہ گوشت لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جیسے اس کی زندگی میں تو نے اس کا گوشت کھایا تھا اب اس مردے کا گوشت بھی کھا۔ اب یہ چیخے گا چلائے گا ہائے وائے کرے گا اور اسے جبراً وہ مردہ گوشت کھانا پڑے گا۔ } یہ روایت بہت غریب ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کا لحاظ کرو، اس کے احکام بجا لاؤ، اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جاؤ اور اس سے ڈرتے رہا کرو۔ جو اس کی طرف جھکے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو اس پر بھروسہ کرے اس کی طرف رجوع کرے وہ اس پر رحم اور مہربانی فرماتا ہے۔
جمہور علماء کرام فرماتے ہیں غیبت گو کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے اور پھر سے اس گناہ کو نہ کرے پہلے جو کر چکا ہے اس پر نادم ہونا بھی شرط ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی حاصل کر لے۔
بعض کہتے ہیں یہ بھی شرط نہیں اس لیے کہ ممکن ہے اسے خبر ہی نہ ہو اور معافی مانگنے کو جب جائے گا تو اسے اور رنج ہو گا۔ پس اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جن مجلسوں میں اس کی برائی بیان کی تھی ان میں اب اس کی سچی صفائی بیان کرے اور اس برائی کو اپنی طاقت کے مطابق دفع کر دے تو اولاً بدلہ ہو جائے گا۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اس وقت کسی مومن کی حمایت کرے جبکہ کوئی منافق اس کی مذمت بیان کر رہا ہو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو مقرر کر دیتا ہے جو قیامت والے دن اس کے گوشت کو نار جہنم سے بچائے گا اور جو شخص کسی مومن پر کوئی ایسی بات کہے گا جس سے اس کا ارادہ اسے مطعون کرنے کا ہو اسے اللہ تعالیٰ پل صراط پر روک لے گا یہاں تک کہ بدلا ہو جائے }۔ یہ حدیث ابوداؤد میں بھی ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4883،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
ابوداؤد کی ایک اور حدیث میں ہے { جو شخص کسی مسلمان کی بےعزتی ایسی جگہ میں کرے جہاں اس کی آبرو ریزی اور توہین ہوتی ہو تو اسے بھی اللہ تعالیٰ ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کا طالب ہو اور جو مسلمان ایسی جگہ اپنے بھائی کی حمایت کرے اللہ تعالیٰ بھی ایسی جگہ اس کی نصرت کرے گا }۔ [سنن ابوداود:4884،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏